بلوچستان کا شعبہ تعلیم ایک مسائلستان
گزشتہ روز جامعہ بلوچستان کوئٹہ کے سٹی کیمپس میں تمام طلبا تنظیموں کا بلوچستان یونیورسٹی سمیت بلوچستان کے تمام تعلیمی اداروں کے مسائل کے حوالے سے مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جسمیں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے دونوں دھڑوں، پشتون اسٹوڈنٹس کے طلبا تنظیمیں اور دیگر محدود طلبا تنظیمیں شامل تھیں۔ اجلاس کا مقصد جامعہ بلوچستان میں اکیڈمک و دیگر انتظامی بدعنوانی کے خلاف صوبائی سطح پر قائم الائنس کی اجلاس کو یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مداخلت اور ثبوتاژ کرنا اور کیمپس کے اندر انہیں اجلاس کرانے میں روکنے کے رد عمل میں طلبا تنظیموں کا شدید ردعمل سامنے آنا شروع ہو گئے، آل بلوچستان طلبا الائنس کا پالیسی بیان کے مطابق ملک بھر میں کیمپس پالیٹکس اور طلبا یونینز پر غیر اعلانیہ پابندی اور ملکی آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت فریڈم آف اکسپریشن پر قدغن کے خلاف طلبا تحریک چلانے کا اعلان کردیا گیا۔
اگر قوم و ملک کے نوجوان کے سوال کر نے اور سوچنے پہ پابندی ہوگا تو آگے چل کر نوجوان کی یہ نسل کیسے قوم و ملک کی رہبری کرسکتا ہے۔ اسوقت طلبا تنظیموں کا انتہائی سخت گیر موقف سامنے آگیا جسمیں ان کا کہانا ہے جلد ٹویٹر پہ ( ہیش ٹیگ) مہم چلائیں گیں۔ واضح رہے بلوچستان یونیورسٹی کا یہ مسئلہ گزشتہ تین سال سے زائد عرصہ چلتا آرہا ہے کئی بار کیمپس کے اندر تنظیموں کے اسٹینڈ پر یونیورسٹی انتطامیہ کی جانب سے گرفتاری اور تمام طلبا تنظیموں کے سرکردہ رہنماؤں کے کو گرفتار کر کہ اب بھی ان کے خلاف مقدمات چل رہے ہیں۔
اور کچھ رہنماں اب بھی پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ اسوقت ان کے چند مطالبات میں سے چند یہ ہیں جسمیں کہا جا رہا ہے کہ طلبا کے خلاف کو واپس لیا جائے اور طلبا رہنماؤں کی کیمپس میں داخلے پہ پابندی، بے تحاشا فیسوں اضافگی، فورسز کی موجودگی جسمیں طلبا ذہنی خوف میں مبتلا ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ کی ناروا سلوک اور انا کے خلاف طلبا تنظیمٰن مسلسل اپنی اصولی موقف پر قائم ہیں۔
گزشتہ روز پیس آنے والے اجلاس کو انتظامی کی جانب سے منتشر کرنے کے ردعمل میں اُسکا احتجاج زوروں پر ہے۔ اس حوالے سے ہم مختلف تظیموں کے سربراہاں سے ان کی موقف جاننے کی کوشش کی ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ جان بوجھ کر تعلیمی اداروں میں پر امن تعلیمی ماحول کو خراب کرنے کی طرح طرح کے ہتکھنڈے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ماضی میں بھی تعلیمی اداروں میں طلبا یونینز اور تنظیوں کا ایک کلیدی کردار رہا ہے اور تعلیمی اداروں میں ایک دوستانہ ماحول پیدا کرنے کے ہراول دستہ کا کردار رہا ہے۔
کئی دہائیوں سے ہم دیکھتے آرہے کہ بلوچستان میں تعلیمی مسائل کے حوا الے سے ہر آئے دنوں میں طلبا احتجاج پہ ہیں اس سے قبل بلوچستان کے تمام میڈیکل کالجز کے طلبا مہیوں تک کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج کا انوکھا طریقہ اختیار کرتے ہوئے کیمپ میں رضاکار ڈاکٹرز ٹیچرز نے کلاس لیے ہیں۔ صوبے کے تمام شعوبوں ست تعلق رکھنے والے متاثر نظر آرہے ہیں مگر طلبا زیادہ منظم انداز میں اپنی آواز کو پر امن احتجاج کے ذریعے اُٹھا رہے ہیں۔
اٹھارویں ترمیم کے بعد ہا ئر ایجوکیشن صوبوں کے ماتحت ہونا چائیے مگر بلوچستان میں اب بھی یونیورسٹی اور دیگر ادارے جو کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو دینے تھے اب بھی مرکز کے ریموٹ سے چل رہے ہیں بلوچستان یونیورسٹی کے اب بھی گورنر بطور چانسلر ہیں۔ اس سے قبل بھی بلوچستان کے واحد میڈیکل کالج بولان میڈیکل کالج جن کے فارن سیٹوں کو خالی ہونے کی صورت 2015 میں self finances کے خلاف احتجاج کرنے کے بعد اب پھر سے فارن سیٹوں کو ڈویژنل میرٹ کے نشستوں کو اوپن میرٹ کو الاٹ کرنا سپماندہ صوبے کے محنتی طلبا کے ساتھ ایک متعصبانہ سوچ ہے۔
ہر روز نئے حربے سے طلبا کو ذہنی طور پر مفلوج کرنے میں ایک نیا مسئلہ کھڑا کیا جاتا ہے جس سے طلبا ذہن منتشر ہوتا ہے بجائے اپنے اکیڈمک سرگرمیاں جاری رکھیں انہیں احتجاج کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ انہی احتجاجوں اور رویوں کی وجہ سے بولچستان کے طلبا مجبور ہوکر یا تو تعلیم چوڑنے پر مجبور ہوں گے یہ ناراض نوجوان ہوں گے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب ملک میں طلبا یونین پہ پابندی نہیں تھی تو وہ تعلیمی اداروں میں ایک متحرک رول ادا کرتے ہوئے مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ڈھٹ کر لبرل سوچ کو آگے لے جانے کے لیے روشن فکری، لٹریچر، آرٹ اور میوزک کی تعلیمات کے ذریعے سماج میں ذہنی پسماندگی اور مذہبی انتہا پسندی سوچ جیسی گروں کی حوصلہ شکنی کرتے تھے۔
جب 1984 سے طلبا یونین پہ پابندی لگائی گئی آج تک ان کی Spaceکی وجہ سے میں مذہبی جنونیت، عدم برداشت تیزی کے ساتھ معاشرے کو اپنی لپیٹ میں میں لے رہی ہے جن کے منفی اثرات واضح طور پر نظر آرہے ہیں۔ اگر حکومت اور سیاست اسی کا نام ہے کہ کسی بھی مسلے کو سُلجانے کے لیے دوسرا مسئلہ کھڑا کرنا تو بہت بڑی غلطی ثابت ہوگی۔ کسی بھی ویلفئرریاست ایک شفیق ماں اور مہربان والد کی حیثیت رکتھا ہے اگر ان کے بچے یہ محسوس کرنے لگے کہ ہم والدین کی شفقت سے محروم ہوتے جارہے ہیں تو وہ ضرور کوئی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگا اور اسی طرح ایک منتشر سماج میں تبدیل ہوگا بلوچستان کے تعلیمی مسائل کا مثال بھی اسی طرح سے دی جاتی ہے سالہا سال طلبا احتجاج پہ ہیں حکومت کی بجائے اُنکے مسائل پہ توجہ دینے کی ان کو مذید احتجاج کرنے پہ اُکسایا جاتا ہے ان کی احتجاج کو ثبوتاژ کیا جاتا ہے۔
اگر آج سے ریاست، سیاست اور حکومت یہ عہد کریں کہ مشترکہ مفاد عامہ کے لیے ہمیں ایک ہی صفے پہ ہونا ہوگا تو مجھے نہیں لگتا کہ بلوچستان جیسے صوبے کے مسائل حل نہ ہوں مگر المیہ یہی ہے کہ ہم جانتے بھی ہیں کسی ادارے کی سربراہ کی وجہ سے ان کی منتظمین کی وجہ سے ادارے میں خدشات ظاہر ہو رہے ہیں مگر پھر بھی ہم اپنی حقائق سے روگردانی کرتے ہوئے ان کی جائز و ناجائز عمل کو سپورٹ کرتے ہیں یہی مثال بلوچستان یونیورسٹی کے انتظامیہ اور طلبا کے مابین Conflictکی سبب بنتی آرہی ہے۔
بلوچستان یونیورسٹی مدتوں سے مالی و انتظامی بحران کا شکار ہے۔ حال ہی بی بی سی اردو کی بلوچستان یونیورسیٹی کے حوالے سے ایک رپورٹ کے مطابق اسوقت ادارے کی ملازمین کی تنخواہ تک بڑی مشکل سے یونیورسٹی ادا کر سکے۔ اس حوالے سے جامعہ بلوچستان کے ذمہ دار مصف پہ فائز مالی امور کے سربراہ جیہند خان جمالدینی بلوچ نے بھی اپنا موقف بتاتے ہوئے یونیورسٹی کی مالی بحران پر بات کرتے ہوئے کہا کہ (ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان) ایچ، ای، سی کی جانب سے بلوچستان یونیورسیٹی کی گرانٹ کی کھٹوتی کی وجہ سے یونیورسٹی شدید مالی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے۔
HEC کی جانب سے اچانک یونیورسٹی کی بجٹ کم کرنا چھو ٹے صوبے کے لیے بہت بڑی زیادتی ہے۔ دوسری جانب موجودہ وائس چانسلر کی انتظامی امور کو چلانے میں طلبا پچھلے تین سالوں سے مسلسل سراپا احتجاج ہیں اور یہی نشاندہی کرتے آرہے ہیں۔ مگر کسی نے طلبا کے تحفظات کو وزن سے نہیں سُنا گیا وائس چانسلر کی مسلسل طرفداری کرنے پر جامعہ بلوچستان کے مسائل اس نہج پر پہنچ چُکے ہیں۔ گزشتہ سال سے قبل بلوچستان یونیورسٹی میں سمسٹر نظام رائج نہیں تھا۔
جب سے بلوچستان یونیورسٹی میں سمسٹر نظام متعارف کرایا گیا اسی دوران میں فیسوں سو فیصد سے زائد اضافہ اور ہاسٹل سمیت دیگر امتحانی فیسوں میں اضافے سے بلوچستان کے دور دراز اضلاع سے تعلق رکھنے والے غریب والدین پر بوجھ بڑھ گئی شدید پریشانی کی عالم میں مجبور ہوکر ان کے بیھٹے اعلی تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ صوبے کا یہ واحد پبلک جامعہ ہے کہ بلوچستان بھر سے طلبا یہاں زیر تعلیم ہیں۔ اگر یونیورسٹی کی موجودہ مالی بحران کی دوسری پہلو کو دیکھا جائے تو چونکہ تمام جامعات Autonomies (خودمختار) باڈی ہیں وہ اپنی رینیو خود جنریٹ کریں اگر بلوچستان یونیورسٹی کی ایڈمیشن یا دوسرے پالیسی پر دیکھا جائے تو ان کو اس کو اس وقت مالی پوزیشن کا یہ عالم نہیں ہونا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعداد کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اسوقت بلوچستان یونیورسٹی کی ریونیو سر پلس ہونا تھا مگر انتظامیہ کی غفلت اور کرپشن کی وجہ سے بلوچستان یونیورسٹی کو یہ دن دیکھنے پڑھ رہے ہیں۔
اب مزید یہ عمل بلوچستان جیسے پسماند ہ صوبے کے تعلیمی ادارے کے حق میں ہر گز نہیں ہوگا اور نا ہی کمزور بے وسائل اس کا متحمل ہوسکتا ہے۔ آخر کب تک یونیورسٹی اور طلبا اسی طرح معاذآرائی کرتے رہیں گے اور درس و تدریس کے عمل کو اپنی انا کی خاطر اس قوم و ملک کے ایک نسل کو تبائی کے دہانے تک پہچانے میں لڑتے رئیں گے۔ یہ ایک تلخ حقیقت بھی ہے کہ طلبا اور یونیورسٹی کے مابین دوستانہ ماحول کے بغیر کسی بھی تعلیمی ادارہ چل نہیں سکتا۔ اس وقت صوبے کے مفاد میں یہی بہتر ہوگا کی دونوں فریقین ادارے اور صوبے کے غریب طلبا کے عظیم تر مفادات کی خاطر ایک پیج پر ہوکر آپس کے ذاتی نوعیت کے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر جائزہ و اصل مسائل کی طرف توجہ دے کر راستہ نکالیں۔


