نامردی، اداکارہ میرا کی انگلش اور جدید میڈیکل سائنس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نالائق تو خیر ہم شروع سے ہی تھے تھے۔ اور سکول کے دنوں میں ظاہر ہے ایسے لوگوں کو فراغت ہی فراغت ہوتی ہے۔ ہمارے سکول کے دور میں وقت گزاری کا ایک ذریعہ مجمع باز تھے۔ اور اکثر جگہوں یہاں پر کچھ لوگوں کے اسانی سے اکٹھا ہونے کی امید ہوتی تھی نظر اتے تھے۔ کچھ سریا موڑ کر دکھاتے تھے۔ کچھ کڑے میں سے گزر کر کچھ دوسرے جسمانی کرتب۔ لیکن یہ تو صرف توجہ حاصل کرنے کا طریقہ تھا۔ کرتب کے دوران باتوں باتوں میں اپنی دوائی بیچنے کے لئے ماحول ہموار کرتے رہتے تھے۔ گفتگو انتہائی لچھے دار ہوتی اور فقرے جاندار۔ لوگ کہتے ہیں، شادی کر لو سنت ہے ان سے پوچھو فرض کون پورے کرے گا۔ فیصل آباد میں اتنا آٹا نہیں بکتا جتنی نامردی کی دوائی بکتی ہے۔ ساتھ ساتھ جزوی بیماریوں کا ذکر بھی چلتا رہتا۔ اصل کامیابی مجمع باز کی یہی ہوتی کہ وہ سننے والوں کو بیمار ہونے کا کتنا یقین دلا سکتا ہے۔ ایک دفعہ سننے والوں کو اپنے کمزور ہونے کا یقین ہوگیا۔ پھر ان کی اشک شوئی کا سامان بیچنا بہت آسان ہوجاتا۔ پھر دوائی کی تعریف میں ایسے ایسے نادر جملے بولے جاتے جو کہ ظاہر ہے لکھے نہیں جا سکتے۔ دروغ بر گردن راوی اب کچھ علماء سے منسوب ہے کہ وہ اس کا نقشہ بھی کھینچ دیتے ہیں۔ نوجوانوں کے ساتھ کچھ بوڑھے بھی مجمع میں ہوتے تھے۔ جو کہ اپنی عید شبرات رنگیں کرنے کا خواب دیکھ رہے ہوتے تھے۔ لیکن سب کے سامنے دوائی کیسے خریدتے۔ لیکن اس کا بھی حل بھی موجود تھا۔ گھٹنوں کے جوڑوں کا درد ٹھیک کرنا بھی اسی دوائی کے جملہ فرائض میں شامل ہوتا جو کہ بزرگوں کا ہمیشہ سے ایک عالمگیر اور آفاقی مسئلہ رہا ہے اور گاہک بھی زیادہ تر انہی میں سے ہوتے۔

طالب علموں کی جیب میں ایک تو پیسے نہیں ہوتے تھے۔ دوسرے ظاہر ہے جملہ سہولیات بھی ان کو میسر نہیں ہوتی تھیں۔ تھوڑے بڑے ہوئے تو دوا خانوں کے باہر لٹکے بورڈ دعوتِ نظارہ دیتے۔ خریدو جوانی کہ ہم بیچتے ہیں۔ مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔ جیسے جملے پڑھنے کو ملتے ساتھ ہی کچھ امید افزا اعلانات بھی لکھے ملتے۔ جریان احتلام سرعت انزال نامردی کا شرطیہ علاج۔ عورتوں کے پوشیدہ امراض میں لیکوریا کا ذکر سر فہرست ہوتا۔

عورتوں کا ابادی میں تناسب اگر پچاس فیصد بھی فرض کر لیا جائے۔ تو اتنی بڑی مارکیٹ کو خالی چھوڑنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ اور ان سب بیماریوں کی وجہ اکثر بچپن کی غلط کاریوں کو ٹھہرایا گیا ہوتا۔ جس کی وجہ سے ناپختہ ذہنوں کے لیے ان فرضی بیماریوں پر یقین کرنا آسان بھی ہوتا اور یقینی بھی۔ اور ناپختہ ہی کیا ہمارے یہاں تو پختہ ذہن بھی جنسی یا نفسیاتی سائنس سے اتنی ہی واقفیت رکھتے ہیں۔ جتنی میرا انگلش سے۔ اور اس میں حقیقت پسند ہو کر دیکھا جائے تو شاید قصور وار کوئی بھی نہیں ۔

نفسیاتی سائنس کے بارے کہا جاتا یہ علاج کا قدیم ترین آرٹ ہے۔ جو کہ اگہی میں سب سے پیچھے ہے۔ پہلا بڑا دماغ جس نے جنس پر اور جنسی نفیسات پر کام کیا وہ متنازع نام بلاشبہ سگمنڈ فرائڈ کا ہی ہے۔ اس کے بعد ایڈلر، کریپلین، ینگ اور دوسرے بہت سے نام ہیں۔ جنہوں نے ثابت کیا کہ بہت سی بیماریاں صرف ہماری ذہنی اختراع اور فنکشنل ڈس آرڈر ہیں۔ اور ہمارا دماغ ہمارے ساتھ کیا کیا کھیل کھیلتا ہے۔ جیسے جب ہم خوف کا شکار ہوتے ہیں۔

تو ہماری دل کی دھڑکن خودبخود تیز ہو جاتی ہے۔ ہونٹ خشک ہو جاتے ہیں۔ اور ہمارا پورا جسم ایک دباؤ کی کیفیت میں آ جاتا ہے۔ ظاہر ہے خوف تو صرف ایک ذہنی کیفیت ہے۔ لیکن جسم پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ اس ایک مثال سے سمجھ آ سکتی ہے۔ بالکل ایسے ہی جب کوئی جوان لڑکا کسی خوبصورت لڑکی کو دیکھتا ہے۔ تو جو کیفیت اس لڑکی کو دیکھتے ہی لڑکے کی ہوتی ہے۔ وہ نیورو ٹرانسمیٹر اور ہارمونز کے زیر اثر ہی ہوتی ہے۔

لیکن اثر انداز اس کے پورے جسم پر ہوتی ہے۔ اب جدید میڈیکل سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ بچپن میں سب کچھ فطری ہوتا ہے۔ بچہ جیسے پیدا ہوتے ہی ماں کا دودھ پینا سیکھ جاتا ہے۔ پیشاب پاخانہ خودبخود آ جاتا ہے۔ وقت آنے پر چلنا بولنا شروع کر دیتا ہے۔ ایسے ہی بڑے ہونے کے ساتھ جسم پر بال آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ بلوغت کے ساتھ ہارمونز اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔ لڑکیوں میں نسوانی حسن نمایاں ہونا شروع ہو جاتا ہے اور مخصوص ایام شروع ہوجاتے ہیں۔

بچے کی امد اور اس کی غذا کا انتظام ہو رہا ہے۔ لڑکوں میں ٹیسٹوسٹیرون نامی ہارمون اپنا کام شروع کر دیتا ہے۔ سپرم بننا شروع ہو جاتے ہیں جس سے اس کے اعضا میں تناؤ شروع ہوجاتا ہے۔ دماغ میں جنسی خیالات ہیجان پیدا کر دیتے ہیں۔ سپرم ایک خاص حد تک سٹور ہوتے ہیں۔ باقی اوور فلو کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ جس کو حکیم حضرات نے بیماری باور کرا کے اپنی روزی روٹی کا انتظام کیا ہوا ہے۔ جنسی خیالات اور خواہش کی شدت کسی وقت اس پر زیادہ حاوی ہوتی ہے۔ تو وہ خود لذتی کے عمل میں سے گزرتا ہے۔ جو کہ بالکل فطری ہے۔ لیکن ہمارے لڑکپن میں یہ وہم، خوف اور احساسِ گناہ بٹھا دیا جاتا ہے کہ ہم اس سے نامرد ہو گئے ہیں۔ اور مادہ تولید ہمارے ہڈیوں کے گودے سے بنتا ہے مطلب، آپ گئے کام سے۔

مادہ تولید نہ تو خون سے بنتا ہے اور نہ ہی ہڈیوں کے گودے سے۔

حقیقت یہ ہے کہ سپرم (یعنی مردانہ جنسی خلیے ) ہل ٹیسٹیکلز خصیوں میں بنتے ہیں جبکہ باقی ماندہ مائع پروسٹیٹ گلینڈ اور seminal vesicles میں بنتا ہے۔ اس مائع میں سپرم کے لیے نیوٹریشن ہوتی ہے۔ اب اس میں ہڈیوں کا گودا یا خون کہاں سے آگیا۔ اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ منی کے اخراج سے (خواہ وہ جنسی عمل کی وجہ سے ہو یا مشت زنی کی وجہ سے ) صحت پر کسی قسم کا کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔ یہ ہے آپ کے کام کی اور ذہن نشین کرنے والی پہلی بات۔

جنسی علم کی ایک بدقسمتی یہ بھی رہی ہے ہے۔ کہ علماء، جہلا سے استفادہ کرتے نظر آتے ہیں۔ علی عباس جلالپوری سے فلسفے کا کون سا طالب علم واقف نہیں۔ ان کی کتاب جنسیاتی مطالعے کو پڑھ کر دیکھ لیجئیے۔ ویسے ہے پڑھنے والی کتاب۔ اس میں ایک عربی شعر کا ترجمہ ہے۔ عربی شاعر کہتا ہے کہ میرے محبوب کا سینہ اتنا خوبصورت ہے۔ کہ دور سے آ رہا ہے تو دیکھ کر یوں لگتا ہے۔ جیسے دو چکور دانہ چگ رہے ہوں۔ سوری موضوع سے بھٹک گیا۔ یہ شعر ہے ہی ایسا کسی کو بھی گمراہ کر سکتا ہے

اب “ہم سب” کے مدیران کا پارہ ہائی ہونا شروع ہو گیا ہوگا۔ تو بچو ہم مضمون کو مختصر کرتے ہیں۔ نامردی نامی کوئی بھی بیماری جوانی میں نہیں پائی جاتی۔ بشرطیکہ پیدائشی کوئی مسئلہ نہ ہو۔ یا ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں ریڑھ کی ہڈی وغیرہ پر کوئی چوٹ نہ لگ جائے۔ اپ لوگ شادی کریں۔ موج کریں۔ سب توہمات ذہن سے نکال دیں۔ بڈھوں کے لئے جو سب پچاس سال کی عمر میں بائیس سال کا بننے کا خواب دیکھنا نہیں چھوڑتے۔ ہم الگ سے مضمون لکھیں گے۔ ابھی اتنا بتا دیتے ہیں۔ چالیس سال کی عمر میں بندہ پیٹرول سے گیس پر شفٹ ہو جاتا ہے۔ اور پچاس کی عمر میں گاڑی دھکا سٹارٹ ہو جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •