باسودے کی مریم ”۔ نوتاریخی پڑھت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”باسودے کی مریم“ اسد محمد خان کانمائندہ افسانہ ہے، جوسب سے پہلے ”فنون“ میں شائع ہوا۔ ان کاپہلا افسانوی وشعری مجموعہ: ”کھڑکی بھرآسمان“ جب 1982 میں منصئہ شہود پرآیاتومذکورہ افسانہ اس مجموعہ کی زینت بنتاہے۔ ”باسودے کی مریم“ ویسے توایک کرداری افسانہ ہے جومریم نامی آیا، جسے ”انابوا“ کہاجاتا ہے، کے گردگھومتاہے۔ مریم جوسلیقہ شعار، ہمدرد، باوفا، باحیا، حب رسول اور حب اہلبیت سے سرشارہے، اس افسانے کامرکزی کردارٹھہرتا ہے۔ مصنف نے کسی خاص، مقتدراوراونچے طبقے کی بجائے نچلے طبقے کا ایک ایساکرداراس افسانے کے مرکزی کردار کے طور پرچناہے جو ایک خاص طبقے، تہذیب وثقافت کانمائندہ ہے۔

متن کو پڑھنے کے ویسے تو کئی طور ہیں، ان میں سے ایک نوتاریخیت بھی ہے۔ نوتاریخیت کوویسے تو متن کی ہیئت اور تکنیک سے کوئی سروکارنہیں، یہ متون میں تاریخی متنیت کی تلاش کادوسرانام ہے۔ نوتاریخیت کا اہم پہلوتہذیبی مادیت ہے، ایسے ثقافتی مطالعات کو ”cultural studies“ کانام اہل انگلستان نے دیاہے جبکہ امریکہ میں اسے نوتاریخیت یا ”New Historicism“ سے موسوم کیاجاتا ہے۔ ان دونوں اصطلاحات میں تھوڑابہت فرق ضرور ہے، مگر طریقہ واردات ایک ہی ہے۔

اس کے تحت ماضی کے مطالعہ سے حال کی پڑھت کا کام لیاجاتاہے۔ تاریخی مادیت کے تحت نمائندہ طبقات کی بجائے حاشیائی طبقات کامطالعہ خاصا اہمیت کاحامل ہے۔ ان طبقات کے مطالعہ سے ہی ماضی کی سیاسی، سماجی، اقتصادی اورمعاشرتی اقدارکامطالعہ، حال سے موازنہ اور ماضی کی روشنی میں حال کی پڑھت کے لیے اہمیت کا حامل ہوتاہے۔

یہ افسانہ پاکستان بننے سے پہلے کے سماج اورتہذیب کا آئینہ دار ہے، جس میں ریمنڈولیمزکی بیان کردہ کلچرکی تینوں حالتیں :حاوی، باقیاتی اور نوخیز کلچر نظرآتاہے۔ اس افسانہ میں جس کلچر اور جس طرح کی تہذیبی اقدار کی بازیافت کی گئی ہے وہ تقسیم سے پہلے کازمانہ ہے۔ اسدمحمد خاں اس ہندومسلم مشترکہ تہذیب کے چشم دیدگواہ ہیں۔ وہ دسمبر 1932 کوبھوپال کے ایک سردار پٹھان گھرانے میں پیدا ہوئے اور 1950 میں کراچی آن آبادہوتے ہیں۔

اٹھارہ، انیس سال تک کی عمر خاصی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اس عمرمیں اردگردکاسماج، اس کی اقدار ذہن پراپنا اثراور ان مٹ نقش ثبت کرچکتی ہیں۔ اسد محمد خاں کا یہ سنہری زمانہ متحدہ برطانوی ہندوستان میں گزرا۔ اس طرح ان کے اس افسانے کو ماضی یعنی بچپنے سے اپنے حال یعنی ادھیڑ عمرکے تہذیبی وثقافتی دور کو پڑھنے اور اس کے آج سے موازنے کی کاوش قراردی جاسکتی ہے۔

اس افسانے کومصنف کی زندگی کے تناظرمیں بھی دیکھا جاسکتا ہے، جونوتاریخیت کاخاص وصف ہے۔ اس طرز سے کئی طرح کے سوانحی ربط ملتے ہیں۔ اسد محمدخاں کاتعلق بھوپال کے سردار پٹھان قبیلے سے ہے۔ اس افسانے میں واحدمتکلم کی ماں پٹھانی اورجاگیردارکی بیٹی ہے، یہ کردار اسد محمد خاں کی والدہ ماجدہ کے قریب تر معلوم پڑتاہے۔ دوسرایہ کہ واحدمتکلم افسانے میں ایک مقام پر جانگیہ پہنے ہم جولیوں کے ساتھ ہاکی کھیلنے میں مگن نظرآتاہے۔ اسدمحمدخاں اقبال خورشید کودیے گئے اپنے ایک مصاحبہ میں بچپن میں ہاکی کھیلنے کے شوق اوریہ کھیل کافی عرصہ کھیلتے رہنے کے اپنے اس شغف سے متعلق ذکرکرچکے ہیں۔

اس افسانے کو نوتاریخیت کے ایک پہلو، تہذیبی مادیت کی کسوٹی پربھی پرکھاجاسکتاہے۔ کلچر یاثقافت کی تینوں سطحیں :حاوی کلچر، باقیاتی اور نوخیز کلچر، کسی نہ کسی طور اس افسانے میں نظرآتے ہیں۔

حاوی کلچرسے مراد:جاگیردارانہ، امرانہ بعدازاں سرمایہ دارانہ، صنعتی اورکارپوریٹ کلچر ہے، جوطاقت، سرمایہ اور جبرواستحصال پرقائم ہے۔ باقیاتی کلچر سے مراد: وہ کلچر جواخلاص، محبت رواداری انسانی رشتوں ناطوں کی تقدیم وتکریم سے جڑا اور ریاکاری سے کوسوں پرے، خدمت خلق کوعظمت جاننے والا ہے۔ یہ طبقہ ایساطبقہ ہے جواپنی غلامی، اپنے استحصال اور بدحالی کا خودآلہ کاربناہوا ہے۔ صابروشاکراورراضی بارضا ہے، اسے باقیاتی اس لیے کہاگیاہے کہ یہ معدوم ہوتاکلچر ہے، اس کلچر کے نمائندہ کردار قصہ پارینہ بنتے چلے جارہے ہیں۔ اسے تقسیم سے پہلے کا ہندمسلم گنگاجمنی اور بھگتی کلچر بھی کہاجاسکتاہے۔ نوخیز کلچر کے کئی روپ ہیں جومادی منفعت سے جڑے جذباتی لگاؤ سے عاری اور عقلیت پر استوار ہے۔ یہاں عقلیت کی مخالفت ہرگزمقصود نہیں، یہاں مرادہررشتے اور تعلق کوعقلی کسوٹی پر پرکھنا، مالی منفعت اور نقصان سے جوڑنا ہے۔

اول الذکر کلچر کے نمائندہ کرداروں اور رویوں کا ذکرکیاجائے تو ان میں واحد متکلم کے ابا اورماں جی نظر آتے ہیں۔ ابا کو مریم نے دودھ پلایاہے اور ان کی دیرینہ خدمت گزار ہیں۔ اس سبب اباجی ان کے قدردان ہیں اوران کی جسمانی اور مالی خدمت کرناچاہتے ہیں مگرزندگی بھرکبھی کچھ کرنہیں پاتے، پاؤں دابنے کی خواہش سے لے کر ان کے ساتھ ممدو کی خبر لینے باسوداجانے، حج پربھیجنے ایسی تمام خدمات سرانجام دینے کی خواہش کی ”بیل منڈھے چڑھتی“ نظرنہیں آتی۔

اس کاظاہری سبب تو مریم کی شخصیت ٹھہرتی ہے، جو قناعت پسندبھی ہے خوددار بھی اور اپنا بوجھ خود آپ اٹھانے کی عادی بھی ہے، مگر تھوڑا غور کریں تو ایک اور پہلو سامنے آتاہے، وہ حاوی کلچر، اس کی ذہنیت، شانِ بے نیازی اور اس کے تعصبات بھی ہیں۔ اباجی کے دل میں مریم کی قدر بھی ہے اوردل ہی دل میں مریم کی خدمت کرنے کی خواہش انگڑائی بھی ضرور لیتی ہے مگر ہاتھ عملی طور پر آگے بڑھتے نظرنہیں آتے۔ ابا جی مریم کے ساتھ باسودے جانے کاسرسری کہتے توہیں مگراصرار نہیں کرتے اور نہ ہی بعدمیں مریم اور ممدوسے اظہارہمدردی نظرآتاہے اور نہ اباجی کا کوئی ایساقدم اٹھتا ہے جو ممدو اورمریم کی خیرخواہی میں ہو۔

بالآخرایک دن مریم خود ہی لٹی پٹی آن کھڑی ہوتی ہیں۔ اماں جی بھی اسی حاوی جاگیردارانہ کلچرکاپروردہ کردارہے، جو خاندانی تفاخرکاشکاربھی ہے، پٹھانی ہے اور جاگیردارکی بیٹی بھی۔ اپنے بیٹے پرلگے چوری کے الزام کوکسی طورقبول کرنے کوتیارنہیں، مریم کی شکایت پراپنے بیٹے کی اصلاح کی بجائے عفیفہ الٹا مریم سے بگڑ بیٹھتی ہیں۔ مریم بغیرتنخواہ کے ملازمہ بلکہ مالکن ہے۔ جوپہلے مفت خدمات انجام دیتی ہیں، بعدازاں اباجی کی ملازمت پر ایک یادو روپے ماہانہ پراکتفاکرتی نظرآتی ہیں۔

افسانہ نگار نے ایک ملازمہ کو مالکن کا رتبہ یاخطاب دیا ہے، کیسی مالکن؟ کہاں کی مالکن؟ یاصرف مالکن کے ٹائیٹل کی آڑ میں استحصال کی ایک نئی راہ نکالی گئی ہے؟ مریم کو مالکن کے کتنے حقوق میسر تھے؟ ماضی میں گھرکی آیایا نوکرکومالک قراردینے کے بیانیے کی موجودہ دورمیں ردتشکیل کی سخت ضرورت ہے۔ میرے ذاتی مشاہدہ میں ہے کہ آج بھی میرے گاؤں میں دوچار کھاتے پیتے گھرانے ایسے ہیں جو اس بیانیے کو ہتھیار کے طور پر برتتے ہوئے پرولتاریہ مزدور طبقے کاخون نچوڑ رہے ہیں۔

نوخیز کلچر جومادیت سے جڑاہے، اپنے تمام تررشتوں ناطوں میں بھی مادی وجودسے توبھرپورلگاؤرکھتاہے، مگرروحانیت اورجذباتی لگاؤسے عاری ہے۔ واحدمتکلم نوخیزکلچرکی علامت کے طورپرسامنے آتاہے، اماں جی اور مریم دونوں ان کی جنتیں ہیں، وہ دونوں کے گوشہ عافیت میں پناہ ڈھونڈھتاہے، مریم سے عیدپرعیدی لینا، محرم پران کے بنے پاپڑ، پکوڑے اورجلیبوں پرہاتھ صاف کرنا اس کاخاص مشغلہ ہے۔ جب تک مریم کاوجود ہے، اس سے کہیں مادی مفاد جڑاہے تو احساسِ قربت اورانس بھی ہے۔

جب مریم ممدوکی خبرلینے باسودے چلی جاتی ہے اورعرصہ دراز تک خیرخبر نہیں ملتی، اس سب کے باوجود واحدمتکلم کے دل ودماغ میں کہیں بھی مریم کے لیے کوئی تڑپ نہیں ملتی۔ جب مریم فوت ہوتی ہے توواحدمتکلم گھرموجودنہ تھے۔ جب گھر لوٹے توماں کی آنکھیں دیرینہ خدمت گزار کی جدائی کے غم میں پھوٹ بہیں اور ”انابوا“ کی موت کی خبرسنائی اس پرواحدمتکلم کاکوئی ردعمل دکھائی نہیں دیتا، باپ کے باربار اصرار کے باوجود وہ مریم کی قبرپرنہیں جاتا۔

” ابانے مجھے حکم دیاکہ میں مریم کی قبرپرہوآؤں۔ میں نہیں گیا، کیوں جاتا، ٹھنڈی مٹی کے ڈھیرکانام تومریم نہیں تھا۔ میں نہیں گیا اباناراض بھی ہوئے میں نہیں گیا“
(باسودے کی مریم)

نوتاریخیت سے جڑے نقادکامنصب متن کے توسط سے اس کی تاریخی متنیت سے سروکارہے، متن کے ذریعے ہی ماضی کی تہذیب کاآج کے دور میں مطالعہ ممکن ہے۔ متن کے توسط سے ہی مصنف کے ذہنی میلانات وتعصبات، شبہات، عقائد، نظریات وافکار، خوف اور بے چینیوں تک رسائی ممکن ہے۔ تاریخ کے سروکار نمائندہ طبقات جب کہ نوتاریخیت کے سروکارحاشیائی طبقات ہیں، جن کوتاریخ نے اپنا موضوع بنانے کے قابل نہیں سمجھایانظراندازکردیاہے۔ نوتاریخیت ایسے متون کو اہمیت دیتی ہے جن میں حاشیائی طبقات کوزیرموضوع لایاگیاہو۔

نوتاریخیت میں تاریخی، غیر تاریخی ادبی وغیرادبی متون برابر اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، ان متون میں سب کچھ بیان نہیں ہوتا، جوبیان ہوا، اس کے درمیان بھی گیپس یاوقفے موجودہیں، یا اس حقیقت کوالٹنے پر ایک اورحقیقت واگزاراورعیاں ہوتی ہے۔ نوتاریخیت کامنصب ان گیپس کوملانا، اور سامنے کی موجودہ حقیقت کو پلٹ کے نئی حقیقت کوپاناہے۔

” باسودے کی مریم“ میں مرکزی اور اہم کردارمریم ہی کاہے، جووفاداربھی ہے سلیقہ شعاربھی اورخدمت گزار بھی، جس کا مسلک انسانیت، خلوص ومحبت ہے۔ مذہب سے اتنا لگاؤہے کہ مسلمان کی بٹیا اورجورو ہے۔ مذہب کے معاملے میں خاص سادگی، نفاست اور خلوص جواسے گنوارپن یاignorance کی حدتک لے جاتا ہے، اس کاخاص وصف اور حسن ہے۔ ایساحسن ہمیں ماضی کے دیہاتی سماج میں، ایسے کئی کرداروں کی صورت نظرآتاہے۔ مریم کی سادگی اور اخلاص واعتقاد ملاحظہ ہو:

”مریم سیدھی سادھی میواتن تھیں۔ میری خالہ سے مرتے دم تک صرف اس لیے خفارہیں کہ عقیقے پران کانام فاطمہ رکھ دیا گیا تھا۔ ’ری دلھن! بی بی پھاطمہ توایکئی تھیں۔ نبی کی سہجادی تھیں، دنیاوآخرت کی باچھا تھیں۔ ہم دوجخ کے کندیں بھلا ان کی بروبری کریں گے۔ توبہ توبہ استگپھار۔‘“
(باسودے کی مریم )

ان کے ہاں مذہب ایک رسمی چیز نظر آتی ہے، علم وعمل کی کمی ہے مگر جتنا بھی عمل ہے پرخلوص ہے، آج کے عہدکی مانند متشدد ہرگزنہیں ہے۔ مریم بچوں اورانسانیت سے اس لیے محبت کرتی ہے کہ وہ اس کے ”حجور“ کے امتی اورمخلوقِ خداہیں۔ اس کے دل میں اپنے ”حجور“ کامکہ مدینہ یاپھراس کے امتیوں کی محبت ہے۔ اس کی آنکھوں میں ہرسچے مسلمان کی طرح ”حجور“ کامکہ مدینہ دیکھنے کاخواب ہے، دراصل یہ خواب ہی اس کی زندگی کامحرک اور مطمئہ نظر ہے۔ وہ اپنی ساری زندگی اس خواب کی تعبیراورتکمیل کے لیے تج دیتی ہیں، جب کسی نے چھیڑا اماں تجھے نہ نماز آتی ہے اور نہ قرآن توحج پرکس لیے جائے گی، تووہ بگڑ کرکہتی ہے :

”رے مسلمان کی بٹیا، مسلمان کی جوروہوں۔ نماج پڑھنا کاہے نئیں آتی رے کلمہ سریپ سن لے، چاروں کل سن لے اورکیاچیے تیرے کو؟ اورکیاچیے؟“
(باسودے کی مریم)

کلمہ بھی ملاحظہ ہوں، موجودہ عہدکے متشدداورپرگھٹن سماج میں اس طرح کوئی بھی اپنی سادگی یا ناخواندگی کے سبب مقدس متون کی قرات کابھولے سے بھی ارتکاب کر بیٹھے تواس پرتوہین مذہب کافتویٰ جڑدیاجائے۔

”کلمہ طیبہ کاوردکرتیں، خدامغفرت کرے کلمہ سریپ بھی جس طرح چاہتیں پڑھتیں :“ لا الاہا ال للانبی جی رسول الاحجورجی رسوالا۔“
(باسودے کی مریم)

مذہب کو رسمی سا لینا، خدا کی عبادت کی بجائے خدا کے بندوں سے محبت پرزوراور ان کی خدمت، ایسے خداکے بندوں کاشیوہ رہا ہے۔ سرائیکی کی ایک لوک حکایت ہے کہ ایک عالم غرورسے سرشار ”کریم کریم“ (خداکاصفاتی نام ) گردانتارہا دوسری طرف کسی جھاڑی میں بیٹھا ایک گنوار شخص جو اپنی کم علمی اورمائیگی کے سبب اس کی زبان ”کریم“ کی درست ادائی سے قاصرتھی، مگر خلوص ومحبت سے سرشار ”کریم“ کی بجائے ”کرینہہ کرینہہ“ (جو خود روصحرائی جھاڑی ہے جس پر چیری کی مانندپھل لگتے ہیں، جنہیں ڈیلھے کہتے ہیں ) پکارتارہا، خدا نے پرغرور اس عالم کو جو ”کریم“ ’کریم ”کی گردان کررہاتھا اس کے غرور کے سبب جہنم واصل کیا اور غلط نام پکارنے والے کی بخشش اس کے خلوص، سچائی، محبت اورسادگی کے سبب کردی۔

مریم پورے خلوص اور خشوع وخضوع کے ساتھ مذہبی تہوارورسوم بجالاتیں، عید ہو یا محرم وہ اپنے کسب میں پوری تھیں۔ محرم کی نویں دسویں کے درمیان نہایت خشوع وخضوع سے تعزیے، سواریاں اوراکھاڑے دیکھتیں اور نہایت عقیدت سے حاضری دیتیں۔ پکوان پکاتیں، بچوں میں بانٹتیں، خودکھاتیں، لڑکوں کو اکٹھاکرکے شہادت نامہ سنتیں اورکلمہ کاوردکرتیں لڑکوں کوحسین کافقیر بناتیں، انہیں خاصے اہتمام کے ساتھ سبز چغے سی کے پہناتیں، مزیدیہ کہ:

”امام حسین کانام لے لے کربین کرتیں، روروکرآنکھ سجا لیتیں اور بین کرتے کرتے گالیوں پراترآتیں، ’رے حرامیوں نے میرے سہجادے کوماردیا۔ رے ناس متوں نے میرے باچھاکوماردیا‘“
(باسودے کی مریم)

اس کے من میں تو ”حجور“ کامکہ مدینہ بساتھا، وہ جو قلیل تنخواہ لیتی رہیں، اسے بھی حج فنڈ کے طور پر جمع کیا۔ جب زادِراہ جمع ہوگیاتو زبان پرتھا: ”خواجہ پیاجراکھولاکوڑیاں“ جب حج فنڈ جمع ہوچکاتو ممدو کی بیماری کاخط پاکر، مذہبی فریضے کی بجائے انسانیت کی خدمت کو ترجیح دی، اس وقت ان میں ایک ممتا جاگی نظر آتی ہے، ویسے تویہ ممتا ہی اس کی شخصیت پر غالب تھی، ”حجورکے سہر مکہ مدینہ“ کو بھی ایک ممتاکی مانند دل میں بسائے ہوئی تھیں، امام حسین کا ذکربھی ممتاکی طرح کرتیں، کلمہ طیبہ کاورد بھی ممتاکی لوری کی طرح، پیار بھرے انداز میں طرح طرح کے انداز سے مصرعے بدل کے بیان کیے جاتیں : ”لا الاہا ال للانبی جی رسول الاحجورجی رسول الا“۔

واحد متکلم، ان کے اباجی اور سارے گھروالوں کے لیے بھی مریم کے ممتا ایسے جذبات تھے، انہی جذبات سے مغلوب اپنا استحصال برداشت کیے ہوئی تھیں، بلکہ اس استحصال پر خود سے آمادہ اور خوش نظرآتیں۔ اس کی ممتا اپنے بطن جنوں : شتاب خاں اور ممدو کے لیے بھی اتنی ہی پرخلوص تھیں، ممدو کی بیماری کا سن کر حج کے منصوبے کو پس پشت ڈال کرممدوکی خبرگیری کوسرپٹ دوڑیں، ممدو جاں برنہ ہوسکا اور جب ”حجور“ کے ”سہر“ جانے کی امید کے تار ٹوٹتے نظرآئے، تو مریم کے کوسے سنیں :

”رے حرامی تیرا ستیاناس جائے اے ممدو! تیری ٹھٹھڑی نکلے۔ اورے بدجناورتیری کبر میں کیڑے پڑیں۔ میرے سب رے پیسے خرچ کرادیئے، اے ری دلہن! میں مکے مدینے کیسے جاؤں گی“
(باسودے کی مریم)

دراصل یہ کوسنے اپنی قسمت کو کوسنے ہیں، مریم کی زندگی تین ستونوں پرقائم تھی، شتاب خاں، ممدو اور اپنے ”حجورکاسہر مکہ مدینہ۔“ ممدو جس کو ناسورتھا اور ڈاکٹروں نے جراحت کے دوران اس کی گال میں ایک کھڑکی سی بنادی تھی اور اس کی زبان باہر سے منہ کے اندر ماہی بے آب کی مانند تڑپتی نظرآتی تھی، اس سے کریہہ اور بدصورتی کی بڑی مثال اور کیاہوسکتی ہے۔ مگر ممتا تو ممتاہی ہے، ماں کے لیے ایسی اولاد محبت خلوص کی زیادہ اور پہلی حق دارٹھہرتی ہے۔

”حجور کے سہرمکہ مدینہ“ سے بھی پہلے، جب ممدو جو اس کی پہلی زندگی کی کرن ہے، وہ اس دنیا میں نہیں رہتاتو پھراپنی دوسری ترجیح: مکہ مدینہ، کی جہت دوبارہ جگاتی ہیں، پیسہ تو سارا ممدو نے خرچ کرادیا، اب دوبارہ حج فنڈ جمع ہونے لگتاہے، جب یہ آرزو پوری ہوتی نہیں پاتیں اور زندگی کا چراغ گل ہوتا نظر آتاہے، تو اپنی جمع پونجی سے کفن دفن اور باقی ماندہ رقم آج کی ترجیحات کے مطابق مسجدومندر کوپیش کرنے کی بجائے انسانیت کووقف کردیتی ہیں۔ وہ باقی ماندہ جمع پونجی اپنی تیسری ترجیح شتاب خاں کو دان کیے جانے کی وصیت کرجاتی ہیں، شتاب خاں بھی تو بیٹا ہے، اس کے باوجود آخری ترجیح کیوں ٹھہرتا ہے؟

وہ ریل وے میں چوکیدار ہے، اور مزے سے زندگی گزار رہا ہے، مریم اس کے گزر بسر سے مطمئن ہے، ورنہ ممتاکی محبت ترجیحات کی محتاج کہاں؟ اس کی محبت ”حجورکے سہر مکہ مدینہ“ اور ممدو، شتاب خاں اور مالکوں کے لیے یکساں تھی، اگر ترجیحات تھیں بھی تو اس کی بھی ایک اپنی خاص منطق تھی، جس کا اوپر ذکر آچکا ہے۔ ایسی بڑھیوں کی ایک خواہش یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے گور گڑھے کاٹھکانہ خود کریں، اس امر کو اعزاز جانا جاتا ہے کہ مرنے والے کا اپنادھن اس کے اپنے کفن دفن کے کام لگا۔ مریم زندگی بھر جوکسی کی محتاج نہ ہوئیں، مرکے ایساکیسے کرسکتی تھیں، اپنے خرچ سے ہی کفن دفن کی وصیت کرگئیں۔

گھرمیں ایک بڑے میاں جی، جو ہیں تو حاوی کلچر سے مگر اس حاوی میں بھی باقیاتی کلچر کا ایک کردار ہیں، ان میں حوصلہ، بردباری مذہبی رواداری اور رکھ رکھاؤ سب کچھ موجود ہے۔ کچھ کچھ وہابی  ہونے کے باوجود گھر میں محرم سے متعلق رسومات سے نہیں روکتے، گھر میں جب یہ سب رسومات اداہوتی ہیں تو ان دکھا اور ان سنا کرکے اپنے معمولات میں مگن رہتے ہیں۔ ایک سال جب عاشورہ پر تقریب نہیں ہوتی تو ان کا ردعمل ملاحظہ ہو:

”بڑے میاں جی بھی، خدا ان پراپنی رحمتوں کاسایہ رکھے کمال بزرگ تھے۔ ظاہر تو یہ کرتے تھے کہ جیسے مریم کی ان باتوں سے خوش نہیں ہیں پر ایک سال مریم باسودے چلی گئیں، ہمارے گھرمیں نہ شہادت نامہ پڑھاگیا نہ ہائے حسین ہوئی نہ ہم فقیر بنے۔ عاشورے پر ہم لڑکے ہاکی کھیلتے رہے۔ عصر کی نماز پڑھ کر دادا میاں گھر لوٹ رہے تھے، ہمیں باڑے میں اودھم مچاتے دیکھاتو لاٹھی ٹیک کرکھڑے ہوگئے، ’اے کرشناٹو! تم حسن حسین کے فقیرہو؟ بڑھیانہیں ہے تو جانگیے پہن کراودھم مچانے لگے۔ یہ نہیں ہوتاکہ آدمیوں کی طرح بیٹھ کر یٰسین شریف پڑھو۔‘“
(باسودے کی مریم)

ممدو کے گال پر ناسور کی جراحت کرتے ڈاکٹروں نے کھڑکی بنادی اور ممدو کافی علاج معالجہ کے باوجود جاں برنہ ہوسکا، یہ دونوں واقعات ماضی کی ناکافی اور کم تر درجے کی طبی سہولیات پردال ہیں۔ آج جو معمولی امراض نظرآتے ہیں، انہیں تاریخ میں موذی، جان لیوا اور وبائی امراض کے نام سے یاد کیاجاتا ہے۔ ملیریا، ہیضہ ایسی ماضی کی موذی امراض آج معمولی امراض ہیں۔ ماضی میں ان امراض نے قوموں کی قومیں صفحہ ہستی سے مٹادیں، آج کی جدید طبی ریسرچ ماضی سے کہیں آگے ہے۔ آج کی جدید طب اور سائنس نے ماضی کے ان موت کے پیامبروں کوشکست سے دوچارکردیا ہے۔

نوتاریخیت کا مسئلہ متون کی قرات ہے، اس کافنی عمل نہیں، ”باسودے کی مریم“ کافنی ہیئتی اورزبان ومحاورے کی روسے جائزہ ہمارے دائرہ کارسے باہر ہے، باسودے کی مریم کا متن ہمیں بجاطور پرماضی سے روشناس کراتا اور ہماراماضی سے رشتہ جوڑتا ہے۔ گرین بلاسٹ (جونوتاریخیت کی اصطلاح کے بانی ہیں ) کے مطابق نوتاریخیت ادبی تنقید کی تھیوری یا ادبی تنقیدکاکوئی اصول یانظریہ نہیں، بلکہ ایک متنی عمل، متنی سرگرمی یامتن کودیکھنے اور پرکھنے کے طریقوں میں سے ایک طور ہے، جس پر ہم نے چل کراس متن کے ماضی کو حال کی روشنی میں بازیافت کرنے اور پرکھنے کی اپنی سی ایک سعی کی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •