شہباز شریف کو نواز شریف سے خصوصی ملاقات کی اجازت ملنے پر ڈیل کی چہ مگوئیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل تک سابق وزیراعظم نواز شریف پر جیل میں سختیاں کی جا رہی تھیں، پھر پیر کے روز اچانک انہیں خاندانی افراد اور سیاسی رہنماوں سے ملاقاتیں کرنے کی خصوصی اجازت دے دی گئی۔ مبصرین سوال کر رہے ہیں کہ کیا یہ ڈیل ہونے کا اشارہ ہے؟

تفصیلات کے مطابق کوٹ لکھپت جیل میں قید نواز شریف سے اہل خانہ کی ملاقات کیلئے جمعرات جبکہ حمزہ شہباز کے لئے ہفتے کا دن مختص ہے تاہم شہباز شریف نے خصوصی اجازت کے بعد گزشتہ روز نوازشریف اور حمزہ شہباز سے ملاقات کی۔

شریف برادران کے درمیان خصوصی ملاقات کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں کی جارہی ہیں اور اس ملاقات کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا حکومت نے شہباز شریف کی نواز شریف سے خصوصی ملاقات کروائی ہے؟ کچھ لوگوں کی رائے میں شہباز شریف اور دیگر کو نواز شریف سے ملاقات کیلئے خصوصی اجازت دے کر خود حکومت نے ڈیل کا اشارہ دے دیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے حمزہ شہباز کے ہمراہ نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کی جس میں مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شہباز شریف کے علاوہ لیگل ٹیم کے اراکین نے بھی نواز شریف سے جیل میں ملاقات کی۔ بتایا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران شہباز شریف نے پارٹی قائد نواز شریف کو جے یوآئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی ملاقات اور پارٹی کی سی ای سی کا اجلاس طلب کرنے کے حوالے سے آگاہ کیا۔

ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے نواز شریف کو مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت خاندان کے دیگر افراد کے کیسز کے حوالے سے بھی آگاہ کیا اورمختلف امور پر رہنمائی لی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پارٹی کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال اور مرکزی رہنما خواجہ آصف بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نواز شریف نے شہباز شریف کو ہدایت کی کہ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت کی تیاریاں کی جائیں۔ نواز شریف کی ہدایات سننے کے بعد شہباز شریف نے کہا کہ سوچ لیں، اس اقدام کے بعد واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ جس پر نواز شریف نے جواب دیا کہ سب سوچ لیا ہے، مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دینے کی تیاریاں کی جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •