میرے شہید، میرے غازی، میرے ہیرو!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک بھر میں یوم دفاع اور شہدا کی یاد میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا، شہداء وطن، ہمارے وہ محسن ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کی آخری سانس تک ملک و قوم کے دفاع کی خاطر لہو کا آخری قطرہ بہایا ہے۔ ان کی عظمت کو سلام ہے۔ ان کے لئے سال میں ایک دن کافی نہیں ہے بلکہ وطن کا ہر دن، ہر لمحہ ان کے نام سے شروع اوراختتام پذیر ہونا چاہیے۔ ان وطن کے شہیدوں کے نام پر سکولوں اور اداروں کے نام رکھنے میں بھی کوئی ہرج نہیں ہے لیکن یہ شہداء وطن تو پاکستان ہیں،ان کا نام تو پاکستان نام ہونا چاہیے۔

کون ہے جو کہ ان کی عظمت وشان کوجھٹلا سکتا ہے؟ انہی شہداء وطن کی بے پناہ جرات و بہادری کی بدولت آج ہم وطن میں زندگیوں کو انجوائے کررہے ہیں۔ یہی تو ہیں جن کی وجہ سے ہم آزادی جیسی نعمت سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ دشمن قوتیں، انہی وطن کے بہادروں کی دلیری اور جرات کے جذبوں کو دیکھ کر بھیگی بلی بن چکی ہیں۔ شہیدوں کا وارث ہونا عظیم مرتبہ ہے۔ شہید زندہ ہیں۔ جی ایچ کیو راولپنڈی میں شہیدوں کے وارث موجود تھے، شہداء کے وارثوں کے آنسو کی موتیوں کی لڑی کی طرح ان کے رخسار پر گررہے تھے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کی بیگم صاحبہ سے لے کر ہال میں موجود ہر بندہ وطن پر قربان ہونیوالے شہداء کی یاد میں غم کی ایک تصویر بنا ہواتھا۔ ان سب کے اپنے پیاروں اور محسنوں کے لئے محبت کے جذبات تھے جوکہ وہ کوشش کے باوجود وہ روک نہیں پا رہے تھے۔ شہیدوں کی یاد میں بڑی پروقار تقریب تھی۔ْ معافی چاہتا ہوں، مجھے شہدا ء کے وارثوں کا احترام ہے بلکہ دلی احترام ہے لیکن ہمارے خیال میں وطن پر زندگی قربان کرنیوالوں کے وارث صرف ان کے پیارے نہیں ہوتے بلکہ پوری قوم ہوتی ہے، یوں وہ وطن کے سب شہدا ء ہمارے پیارے اور راج دلارے ہیں۔

ان کی وطن کے لئے بہادری، جرات اور محبتوں کو دیکھ کر سب کی آنکھیں چھم چھم برستی ہیں، اور برسی ہیں۔ یوم شہداء پر بھی پورے ملک میں یہی کیفیت تھی کہ سب شہدا ء کے لئے قوم اپنے اپنے انداز میں خراج تحسین پیش کررہی تھی۔ ہمارے خیال میں یوم دفاع کے موقع پر، ملک بھر کی شہدا ء کے لئے تقریبات میں ہم اپنے فوجی اور سویلین غازیوں کو بھول گے ہیں؟ شہید کی جو موت ہے وہ یقیناً قوم کی حیات لیکن غازیوں بھی قوم کے ہیرو ہوتے ہیں اور ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔

اس صورتحال میں میری تجویز ہوگی، چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ صاحب، ایک دن غازیوں کے نام بھی کریں۔ ان کو اور ان کے وارثوں کو بھی جی ایچ کیو میں اپنا مہمان اسی طرح بنائیں، جیسے شہیدوں کے وارثوں کو بنایا ہے۔ اور ان کو اسی طرح عزت واحترام سے نوازیں، جس طرح شہیدوں کے پیاروں کو نوازا ہے۔ ادھر حکومت بھی غازیوں کے دن کے لئے اسی طرح کی تقریبات کا انعقاد کرے جس طرح یوم دفاع کے موقع پر شہداء وطن کے لئے کیے ہیں۔

وطن کے غازی اپنی کھلی آنکھوں سے قوم کی محبتوں اور نیازمندی کو دیکھیں کہ وہ کس طرح ان کی جرات وبہادری کو خراج تحسین پیش کررہے ہیں۔ غازی ملک وقوم کے یوں ہیرو ہیں کہ آگ میں کود کر نکلے ہیں۔ ان غازیوں میں سے فوجیوں اور سویلین کی ایک بڑی تعداد اپنے جسمانی اعضا سے محروم ہوگی ہے لیکن قربان، ان کے جذبوں پر آج بھی وہ وطن پر قربان ہونے کیلے تیار ملتے ہیں۔ جیتے رہیں، سلامت رہیں، خوشیاں آپ کے قدم چومیں، آپ نے وطن کی خاطر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ہے، دشمن کو للکار کر لڑے، وطن کی خاطر اور پچھاڑ دیا ہے، دشمن کی یلغار کو، اپنی زندگی پر کھیل گئے۔

یہ کالم جوکہ راقم الحروف نے شہیدوں کی عظمت و بہادری سے شروع کیا ہے، اس میں عنصر عباس بخاری کی بات کرنا چاہوں گا۔ عنصرعباس سے ملاقات، جب بھی ہوتی ہے، راقم الحروف کئی سال پیچھے، اس تلخ اور وطن دشمن صورتحال میں چلا جاتا ہوں، جب عنصرعباس بخاری دہشت گردی کی جنگ میں صحافتی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے، اس آگ میں چلا گیا تھا، جہاں ناقابل شناخت لاشیں تو ملتی ہیں لیکن زندگی کے آثار دور دور تک نہیں ملتے۔ عنصر عباس بخاری ڈیرہ اسماعیل خان کا رہائشی اور صحافی تھا، ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک دہشت گردی کا واقعہ ہوا۔ عنصر عباس فوراً دیگر صحافی دوستوں کی طرح ضلعی ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان پہنچا۔ ابھی عنصر عباس نے کوریج کیلے پوزیشن سنبھالی ہی تھی کہ ضلعی ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان، جہاں دہشت گردی کے زخمیوں کو لایا گیا تھا۔ ایک خودکش حملہ آور جوکہ انہی دہشت گردوں کی ساتھی تھی اس نے اپنے آپ کو اڑا لیا، جوکہ موقع پر ہی 34 زندگیوں کو جھلس کر نگلنے کے علاوہ عنصر عباس بخاری کو دیگر گہرے زخموں کے علاوہ دونوں بازوں سے محروم کرگیا۔ بعدازاں ان 34 شہیدوں کی شناخت ہوئی تو ان میں سے 20 شہداء عنصرعباس بخاری کے رشتہ دار تھے۔ یوں عنصرعباس لمحوں کے حادثہ میں ایک ایسے حادثہ سے دوچار ہوگیا، جس کا اندازہ وہی کر سکتا ہے، جو کہ ایسے سانحہ اور کرب سے گزرا ہو۔ عنصر بخاری کے خاندان خاص طور پر یاور بخاری، جوکہ ہمارا کولیگ بھی ہے، اس کی اس مشکل گھڑی میں جو صورتحال تھی، اس کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ عنصر عباس بخاری کی اماں، بابا اور بہنوں اور دیگر رشتہ داروں کی اس سانحہ پر کیا حالت ہوگی؟

کربلا برپا تھا۔ یہ ناقابل بیان اور کرب ناک صورتحال سب غازیوں اور ان کے خاندان پر اس وقت گزرتی ہے، جب وہ زندگی کی آخری بازی بھی لگاچکے ہوتے ہیں۔ شاید میں ٹھیک لکھ رہا ہوں تو غازی ایسی درد ناک تکلیفوں سے بھی گزرتے ہیں کہ رہے نام اللہ کا۔ لیکن وطن کی خاطر آنے والے ہر دکھ اور تکلیف کو عنصر عباس بخاری کی طرح سینہ چوڑا کرکے سہہ جاتے ہیں۔ لوگ ان کو دیکھ کر ہمدردی کرتے ہیں لیکن وہ غازی ہونے پر فخر کرتے ہیں اور ایسی قربانیاں وطن کی خاطر بار بار دینے کا عزم کرتے ہیں۔

غازی عنصر عباس بخاری سے ملیں تو کہیں سے بھی محسوس نہیں ہوتا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں بازوؤں کی قربانی دے کر افسردہ تک بھی ہے۔ وہ راقم الحروف سمیت کسی بھی نوجوان سے بھی زیادہ ہشاش اور بشاش لگتا ہے۔ بندہ ناچیر کو جتنے قوم کے غازیوں سے ملاقات کا اعزاز حاصل ہوا ہے، وہ وطن کی حرمت کی خاطر اور قربانی دینے کے لئے دوبارہ تیار ملتے ہیں۔ وہ قدرت کی طرف سے وطن کے غازی کے رتبہ ملنے پر پرودگار کا شکر اور فخر کرتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس بار بھی یوم دفاع پر قوم کا جذبہ دیدنی تھا، پوری قوم اپنے اپنے انداز میں شہیدوں کے مزاروں پر گئی ہے، ان کے درجات کی بلندی کے لئے خصوصی دعائیں کی ہیں۔ ہم سب کو پھر بھی ان شہیدوں کے مزاروں پر جاتے رہنا چاہیے۔ ان کی قبروں کو مقبروں میں بدل دیں۔ ان کے خاندان کے افراد، بیوی اور بچوں کو وہ عزت وتکریم دیں، پتہ چلے شہیدوں کے وارث آرہے ہیں۔ اسی طرح اپنے اردگرد ایسے وطن کے غازیوں کو ڈھونڈیں، فوج کے ہوں یا سویلین ہمارے وطن کے شیر جوان ہیں۔

یہ غازی ہمارے ہیرو ہیں، ہمارے پاک وطن پر قربان ہوتے ہوتے رہ گئے تھے۔ ان کی جرات اور بہادری کو سلام پیش کریں۔ ان کے لئے وقت نکالیں، ان کو وقت دیں۔ ان کے دکھ بانٹیں، ان کی خوشیوں میں شامل ہوں، ان کے خاندان کو احترام دیں، ان کو اپنا سمجھیں، یہ جذبہ اور احساس اپنے اندر جوان رکھیں کہ ان کی قربانیوں کی بدولت ہمارے پاک وطن کا آج اور کل محفوظ ہوا ہے۔ اپنے سب شہیدوں اور غازیوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے رہا کریں۔

تحریک انصاف کی حکومت ان کے خاندانوں کے لئے زندگی کے ہرشعبہ میں مراعات کا اعلان کرے۔ یہ ان کا حق ہے، ہماری بحیثت قوم ذمہ داری ہی نہیں یہ فرض ہے کہ ان کے لئے خصوصی اقدامات کریں۔ غازیوں کے نام پر سکولوں اور اداروں کے نام رکھیں۔ یہ بھی وطن کے شہدا کی طرح ہمارے ماتھے کا تاج ہیں۔ راقم الحروف کی وطن کے شہداء اور غازیوں کے ییاروں سے استدعا ہوگی، ان کے پیارے پوری قوم کا فخر، ناز اور ہیرو ہیں۔ وہ اپنے جذبات قوم کے ساتھ باٹنتے رہا کریں۔ اپنے دکھ کو ہلکا کیا کریں، اپنے آپ کو شہیدوں اور غازیوں کا وارث ہونے پر فخر کرتے بھی ہیں اور کیا بھی کریں۔ آخر میں آو سب ملکر ہاتھ اٹھائیں اور وطن کے شہدا ء کے درجات کی بلندی اور غازیوں کی صحت وسلامتی کے لئے دعاکریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •