لی مارکیٹ کراچی کے اور دوسرے جیب کترے


\"muhammadیہ تقریبا اس زمانے کی بات ہے جب ہم لی مارکیٹ کراچی کے پاس چاکیواڑہ ہائی اسکول میں ساتویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ گو کہ ہم نے ساتویں جماعت اس کے کئی سال بعد اہنے گاوں کوٹلی لوہاراں کے ہائی اسکول سے پاس کی، اس چند ماہ کے عرصے میں خاصی یادیں اکٹھا ہو گئیں۔ ان میں سے بعض کے نقوش ایسے انمٹ ہیں کہ معمولی سا مہیج پاتے ہی بڑھاپے اور ممکنہ الزھائیمر کی تہوں کو پھاڑ کر باہر نکل آتی ہیں۔

گذشتہ چند دنوں کی خبروں نے چند ایسی ہی یادوں کو سامنے لا کھڑا کیا ہے ذرا ان یادوں کو ترتیب وار بیان کرلیں تو پھر ان خبروں کی طرف آویں گے جو ان کو دوبارہ زندہ کرنے کا سبب ہوئیں۔ خیر تو ہم روزانہ شیرشاہ کالونی سے چاکیواڑہ ہائی اسکول آیا کرتے تھے، اگر گھر سے جلدی نکلنا ہوگیا تو پیدل ہی اور اگر دیر ہوگئی تو بس پکڑلی۔ واپسی بہرحال پیدل ہی ہوا کرتی تھی اور وہ بھی لی مارکیٹ کا ایک چکر لگنے کے بعد۔

واپسی میں لی مارکیٹ کا چکر لگنے کی وجہ یہ تھی کہ لی مارکیٹ سے سبزیاں سستی مل جاتی تھیں اس لئے اماں اکثر پیسے دے دیتی تھیں کہ فلاں فلاں سبزی لے آنا۔ اب کا پتا نہیں کہ ان واقعات پر نصف صدی سے زیادہ کی دھول پڑی ہے، پر اس زمانے میں لی مارکیٹ کے دو پکے سیکشن ہوتے تھے۔ ایک میں مچھلی مارکیٹ تھی اور دوسرے میں گوشت بکتا تھا۔ اور سبزیاں زیادہ تر ایک طرف کچے میدان میں بکتی تھیں۔

تو خیر ایک روز ہم سبزیوں کی تلاش میں لی مارکیٹ کے کھلے میدان میں گھوم رہے تھےکہ ہماری نظر ایک ہجوم پر پڑی۔ مارے تجسس کے \"lee-market\"ہم اسی طرف کو ہو لئے جہاں ایک خاتون ایک مکرانی سبزی فروش پر کسی بات پر برس رہی۔ اب مارکیٹ میں دکانیں اس طرح بے ترتیبی سے ترتیب پائے ہوئے تھیں کہ بس ایک تنگ سا راستہ ہی ہمیں اس طرف کو لے جاسکتا تھا۔ سو ہم اس تنگ سے راستے پر ہو لئے۔

ابھی ہمیں صورتحال کا پوری طرح ادراک ہوا ہی تھا کہ یوں لگا کہ وہ تنگ راستہ کچھ اور تنگ ہو گیا ہے۔ یہ کچھ یوں ہوا کہ آگے چلنے والے صاحب کچھ رک سے گئے اور پیچھے آنے والے صاحب کچھ سر پہ ہی سوار ہو گئے، اور آواز آئی “اڑے وڑی اب چلو نی” یعنی ار ے اب چلو بھی ناں اور اس کے ساتھ ہی ہمیں اپنی قمیص کی اوپر والی جیب میں کسی کی انگلیاں محسوس ہوئیں۔ہمیں کھٹک گئی کہ کچھ ہوگیا۔جلدی سے مڑکے پیچھے والے لمبے تڑنگے مکرانی کی شکل دیکھی اور ایک زقند لگا کے اس ہجوم سے باہر ہوگئے۔

ایک طرف ہوکے جیب ٹٹولی تو پتا چلا کہ ہمارا خدشہ درست تھا۔ پانچ روپے کے جس نوٹ سے ہم نے ضرورت کی سبزیاں خریدنا تھیں غائب تھا۔ اگر آج کا پاکستان ہوتا تو پانچ روپے جیب سے نکل جانا کوئی ایسی بڑی قیامت نہ ہوتی۔ پر ہم بات کر رہے ہیں چون 54پچپن55 کے پاکستان کی۔پھر یہ بھی تھا کہ گھر جاکے کیا منہ دکھائیں گے خاص طور پہ اس صورت میں کہ اماں نےہماری نکر کی جیب میں خاص جیب لگارکھی تھی نوٹ رکھنے کو۔ پر ہونی تو ہوکر ہی رہتی ہے ناں۔

خیر بھلا ہو ان اخباروں اور رسالوں کاجو ہم بے تکان پڑھا کرتے تھے۔ ہم نے اسی وقت کچھ بہانےکہانیاں وغیرہ سوچ لئے، گھروالوں کے \"mullah\" بہلانے کو بھی اور اپنے جیب کترے کو پھسلانے کو بھی۔ دیکھا تو وہ اس وقت ایک اور خاتون سے جھگڑ رہاتھا۔ہم نے موقعہ غنیمت جانا اور مسکین صورت بناکر اس کے پاس پہنچ گئےاور بولے۔”بھائی میری مالکن نے پانچ روپے دئے تھے سبزیاں لانے کو۔ وہ تم نے نکال لئے۔ اب مجھے مار پڑے گی، سارا گھر مارے گا”

اب یہ پتا نہیں کہ اس پر ہماری “کہانی کا اثر ہوا یا وہ فطرتا شریف آدمی تھا یا وہ ہمیں کسی اور “گینگ” کا بندہ سمجھ کے دب گیا یا وہ ہم سے جلدی پیچھا چھڑاکر اس بڑھیا سے “دو دو ہاتھ” کرنا چاہتا تھا جو مسلسل بڑ بڑ کئے جارہی تھی۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور شہادت کی اور درمیانی انگلی میں پکڑ ا ہوا ہمارا پانچ کا نوٹ نکالا ۔ شاید اسی طرح جس طرح کہ اس نےہماری جیب سے نکالا تھا۔ اوراسے ہمارے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولا “وّڑی تم اچھا بچہ ہے اوپر کی جیب میں نوٹ نہ رکھا کرو” ہم نے کہا “جی بھیا” اور نوٹ اچک لیا۔

ایک بارہ تیرہ سال کا لونڈا جس کے نوکر ہونے کی کہانی کی نفی اس کے سادہ مگر صاف کپڑے کررہے ہوں ایک مکرانی جیب کترے کو چکر دے جائے؟ اچھا سوال ہے۔ ہم نے بھی اکثر سوچا ہے اس بارے میں۔ آپ بھی سوچیں پر یہ ہوا۔ ہوسکتا ہے وہ صاحب کسی لمبی مار پر ہوں۔ کہ یہ بھی کہہ گذرے کہ “کبی کسی چیزکی ضرورت ہو توام تمارا بڑا بھائی کی طرح ہے” اس سے بھی کئی مطالب اخذ کئے جاسکتے اورہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ کیا مطلب اخذ کرتے ہیں۔اس کے بعد ہم جب بھی لی مارکیٹ سبزی لینے گئے آنکھیں کھلی رکھ کے گئےکہ ان ذات شریف سے پھر ملاقات نہ ہوجائے۔

جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہمیں اس واقعہ کا یہ فائدہ ہوا کہ ایک تو ہم جیب وغیرہ کے معاملے میں محتاط ہوگئے اوردوسرے ہم کو کچھ جیب کتروں اور انکے انداز کار سے دلچسپی ہوگئی۔ اب ہم جہاں کہیں ہجوم میں بھگدڑ یا پریشانی کی یا آپادھاپی کی کیفیت دیکھتے ہمارے کان کھڑے ہوجاتے۔ اسی لی مارکیٹ کے سامنے والے بس اسٹاپ پر ہم نے جیبیں کٹتی دیکھیں۔ پر بولے نہیں، کہ بولتے تو یہ کہانی آپ کو کون سناتا؟ دوسرے جو بھی ہوتا تھا اتنا آنا فانا ہوتا تھا کہ ہمارے کچھ بولنے سے پہلے وہ کاریگر اپنا کام کرکے یہ جا وہ جا۔

غالبا اسی “تربیت” کا اتر تھا کہ جب ہندوستان کے ایک شہر میں ایک جوہری بازار میں دھماکہ ہوا اور لوگ باگ یہ سمجھے کہ بمبئی جیسا

\"Democratic

ایک اور حملہ ہوگیا تو ہم نے انٹرنیٹ پر ،شاید ٹوٹر پر ہی شور مچا دیا کہ یہ پتاکروکہ جیبیں کتنی کٹیں۔ اب پتا نہیں کہ ہمارا شور کسی نے سنا یا نہیں پر اگلے روز ہی خبر آگئی کہ یہ کارنامہ مقامی جرائم پیشہ لوگوں نے سرانجام دیا تھا۔ اور غالبا یہ اسی تربیت کا اثر ہے کہ جب بھی ہمیں ای میل آتی ہے کہ ریپبلیکنز نے یہ غضب ڈھا دیا تو ہمیں پتا ہوتا ہے کہ اب ہم سے چندہ مانگا جائے گا، اور ہماری جیب کٹے گی۔

سچ تو یہ ہے کہ ہمیں امریکی سیاست دانوں کے اندازکار سے یہ اندازہ ہوا کہ سیاستدان بھی ایک خاص قسم کے جیب کترے ہی ہوتے ہیں- یہ حضرات بھیڑ بھڑکے یا آپا دھاپی کی کیفیت سے بھی فائدہ اٹھا لیتے ہیں پر یہ آپادھاپی اور پریشانی کی کیفیت خود پیدا کردیتے ہیں۔ انکا پہلا کام تو یہ ہوتا ہے کہ “نظریاتی طور پر” قوم کو دو یا تین دھڑوں میں تقسیم کردینا اور اپنے اپنے دھڑے سے الیکشن جیتنے کے نام پر پیسہ بٹورنا۔

اب یہ ہے کہ اگر ڈیموکریٹک پارٹی اقلیتوں اور غریبوں کے حق میں ہے تو ریپبلیکن پارٹی گوروں اور امیروں کا دم بھرتی ہے۔ڈیموکریٹک پارٹی غریبوں کو یہ دم دلاسہ دیتی ہے کہ ہم برسر اقتدارآئیں گے تو ٹیکس بڑہائیں گے، مالدار لوگوں اور بڑی تجارتی فرموں پر، اور اس سے ہونے والی آمدنی سےتمہاری حالت سدھاریں گے۔ اور ریپبلیکن یہ فلسفہ پیش کرتے ہیں کہ اگر مالدار لوگوں اور بڑی فرموں پر ٹیکس لگا تو یہ لوگ ٹیکس دینے سے بچنے کے لئے اپنی بزنسوں میں کمی کردیں گے اور لوگوں کی نوکریاں جاتی رہیں گی۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سب ریپبلیکن امیر ہیں؟ نہیں، امریکا میں امیر لوگ اتنے نہیں کہ پوری کی پوری ریپبلیکن پارٹی امیر ہو۔ \"Trump\"غریب ریپبلیکنز کو یہ ڈراوا دے کر ریپبلیکن رکھا جاتا ہے کہ اگر ہم کو ووٹ نہ دیا تو کالے تم پر حکومت کریں گے۔ عملی طور پر ہوتا یہ ہے کہ بعض اوقات ڈیموکریٹک حکومت ٹیکس کی شرح کم کردیتی ہے جس سے کہ بزنس والوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اوربعض اوقات ریپبلیکن حکومت ٹیکس بڑھا دیتی ہے۔ جس سے کہ غریبوں کا نقصان ہوتا ہے۔ اور عام امریکی، حالات، نظریات اور تقریروں کے چکر میں پھنسے گھن چکر بنے رہتے ہیں۔

ہم نے ہندوستانی، پاکستانی جیب کتروں اور امریکی سیاستدانوں سے جو زیادہ بڑے، کایاں اور پرکار جیب کترے دیکھے ہیں وہ ہیں پاکستانی مولوی اور سیاستدان جوکہ بعض اوقات پوری قوم کی جیب کاٹ جاتے ہیں اور نہ صرف یہ کہ پتا نہیں لگنے دیتے بلکہ ٹسوے بہاتے اور دلاسہ بھی دیتے ہیں ۔ چندے بھی لیتے رہتے ہیں بندے بھی مرواتے رہتے ہیں اور حکومت بھی کرتے رہتے ہیں۔ اگر کہیں زیادہ لوگ سوال کرنے لگیں اور حکومت یا گدی خطرے میں نظر آئے تو فساد کروا دیتے ہیں۔

ہم چونکہ کالے کوسوں دور رہتے ہیں اس لئے ہم سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ ہم پاکستان کے حالات حاضرہ سے باخبر رہیں گے۔ پر بھلا ہو بیگم کا کہ خبریں لگاکر بیٹھ جاتی ہیں اور مجبورا ہمیں بھی کچھ نہ کچھ چگنا پڑ جاتا ہے۔ اس “چگنے” میں ہم نے نوٹ کیا ہےکہ جب بھی حکومت پر کوئی بڑی آفت آتی نظر آتی ہے کوئی فساد ہوجاتا ہے، لوگ مارے جاتے ہیں۔ لوگوں کی توجہ اس طرف ہوجاتی ہے اور اس دوران میں حکومت “افہام و تفہیم” سے معاملہ رفع دفع کرا لیتی ہے۔

مثلا عمران خان نے دھرنا دیا ایک طویل عرصے تک اور یوں لگتا تھا کہ ابکے تو مارے گئے نواز شریف۔ پر ہوا کیا؟ پشاور کے ایک اسکول\"imran-khan-92\" پر حملہ ہوگیا۔ ڈیڑھ سو کے قریب بچے شہید ہوگئے، یعنی قوم کی جیب کٹ گئی۔ لوگ دہشت گردی کا سیاپا کرنے میں جت گئے۔ اور پھر حکومت نے کوئی ایسا جھرلو چلایا کہ عمران خان نے نہ صرف دھرنا چھوڑ دیا بلکہ تقریبا نواز شریف کی زبان بولنے لگے، متحدہ کے خلاف۔ اسی دوران میں متحدہ کے خلاف کارروائی ہوئی۔ اور یوں لگا کہ متحدہ گئی کہ گئی۔ اب پھر متحدہ الیکشن لڑ رہی ہے اور فسادوں کی چھوٹی موٹی خبریں بھی ساتھ ساتھ آتی رہتی ہیں۔اور بھی ہیں مثالیں۔ مثلا ایک وزیر صاحب کو انٹرپول والوں نے دھر لیا۔ لگتا تھا کہ اس بات کو سنبھال نہ پائے گی حکومت۔ اگلے ہی روز ایک فساد ہو چند لوگ مارے گئے۔ اور اسی چکر میں یار لوگ اس وزیر والے واقعے کو بھول گئے۔

بارے کچھ ذکر مولانا حضرات کا بھی ہوجائے۔ جو مولانا حضرات سیاست میں ہیں ان کا ذکر تو سیاستدانوں کے باب میں آہی چکا ہے۔ پر جو مولانا حضرات سیاست میں نہیں ہیں انکی گرفت بھی سیاست پر خاصی گہری ہے۔ اسکا اندازہ اس مثال سے ہوسکتا ہے۔ مولانا عبدالعزیز جوکہ مولانا برقعہ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں کہ جب انکے شاگردوں نے اسلام آباد میں حکومت در حکومت قائم کی اور غیرملکیوں تک کو بھی نہ بخشا تو حکومت نے نوٹس لیا اور یہ حضرت کچھ لوگوں کو مرواکر برقعہ پہن کر بھاگنے کی کوشش میں گرفتار ہوئے۔اور پر چھوٹ بھی گئے۔

جب پشاور کے اسکول پر حملہ ہوا تومولانا نے اس کے مبینہ مجرموں یعنی طالبان کی مدح میں بیان دینا شروع کئے۔ مولانا پر مقدمے بھی بنے اور ان کی گرفتاری کے حکم بھی آئے جن کے جواب میں مولانا نے خود کش بمباروں کی نوید دیدی اور اسکے چند دن کے اندر ہی اندر کچھ شیعہ مسجدوں میں خودکش دھماکے ہو بھی گئےلوگ باگ رودھو کر چپ ہو گئے اور اب کسی کو بھی مولانا کی آج کل کی مصروفیات کی کوئی خبر نہیں۔

مولانا حضرات سے متعلق ایک سوال اکثر ہمارے ذہن میں چکراتا ہے۔ ِیہ حضرات کسی مدرسے میں پڑھ کر یا یونہی وایا بٹھنڈہ سند لےکر \"samiulمولوی بنتے ہین اور بہت کم کے پاس کوئی قابل ذکر آبائی جائیداد ہوتی ہےاس کے باوجود یہ ٹھیک ٹھاک مکانوں میں رہتے ہیں اور اعلی نسل کی گاڑیوں میں گھومتے رہتے ہیں۔ اگر یہ جیبیں نہیں کاٹتے تو قوم کی ایسی کیا خدمت کرتے ہیں جو ایک دم سے اتنے امیر ہوجاتے ہیں؟

کچھ عرصہ ہوا کہیں پڑہا تھا کہ پاکستان کا شمار سب سے سے زیادہ خیرات کرنے والے ملکوں میں ہوتا ہے۔ اگر ہوتا ہے تو پھر ایسی خبریں کیوں آتی ہیں کہ ایک ماں نے بھوک کے ہاتھوں تنگ آکر بچوں سمیت خودکشی کرلی یا ایک باپ نے بےروزگاری کے ہاتھوں تنگ آکر اپنے بچے کو رہن رکھ دیا وغیرہ۔ کہیں ان ضرورتمندوں کی جیبیں ہمارے مولوی لوگ تو نہیں کاٹ لیتے؟ جب ہم ایسی سوچوں میں پھنس جاتے ہیں تو ہمیں وہ مکرانی جیب کترا پیارا لگنے لگتا ہے جس میں اتنی انسانیت تو تھی کہ اس نے ایک غریب بچے پر رحم کھایا اور اسکا چھینا ہوا مال اسے لوٹا دیا۔ ہمارا جی چاہتا ہے کہ ہم پاکستان جاکر اس کے ہاتھ چوم لیں اور پانچ ہزار روپئے نذرانہ پیش کریں۔

Facebook Comments HS