نفسیاتی مضبوطی کے ذریعے معیاری زندگی کا حصول کیسے؟ (حصہ اول)۔
ہم زندگی میں جو کچھ بھی عمل یا رویہ اختیار کرتے ہیں اس کے بارے میں عمومی طور پر پایا جانے والا ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ اس کا انحصارہمارے ساتھ پیش آنے والے حالات اور واقعات یا دیگر خارجی عناصر پر مبنی ہوتا ہے۔ اس نقطہ نظر کی بنا پر ہر سوچ اور رویہ، خارجی عوامل پر منتج ہے، یعنی انسان کے ادراک اور عمل کے ذمہ دار بیرونی محرکات و عناصر ہیں۔
آئیون پیولوو ایک روسی سائنس دان نے رویے کی پیداوار پر ایسا ہی ایک نظریہ پیش کیا۔ اس نے جانوروں پر ایک اسٹڈی کے دوران یہ مشاہدہ کیا کہ کھانے کو دیکھ کر فطری طور پر منہ کے اندر پیدا ہونے والا لیکوڈ ایک مخصوص گھنٹی کی آواز پر ہی پیدا ہونا شروع ہو گیا جو مستقل کچھ دنوں تک کھانا پیش کرنے کے ساتھ بجائی جاتی تھی۔ یعنی ماحولیاتی عنصر کے باعث ایک فطری عمل بھی مصنوعی محرک کے ساتھ وابستہ ہو گیا۔ غور کیجیے تو رویے کی سائنس پر پیولوو کی یہ تحقیق ہمیں انسان کے انفرادی اور معاشرتی رویوں پر بہت ہی بہترین معلومات فراہم کرتی ہے اور ہمارے مذکورہ نقطہ نظر کی ایک طرح سے تصدیق فراہم کرتی ہے۔
بہرحال مشاہدہ کیجیے تویہ انسانی رویے اور عمل کی پیداوار کا صرف ایک پہلو ہے جبکہ مجموعی طور پر تو انسان کی ذات فطری ایقان اور رویوں کے ایک سیٹ کی حامل بھی ہوتی ہے لیکن دنیا میں شعور کی آنکھ بیدار ہونے تک یہ ایقان اور رویے بھی بسا اوقات بہت سے ماحولیاتی عناصر سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ مثلاً ایک سادہ سی مثال یہ ہے کہ جھوٹ بولنے پر ہر انسان کو فطری طور پر اس کے ایک اخلاقی برائی ہونے کا ادراک ہوتا ہے لیکن بہت سے ماحولیاتی عناصر کے باعث وہ مخصوص صورت حال میں جھوٹ بولنا سیکھ کر یہ رویہ عملی طور پر اپنا بھی لیتا ہے۔
چنانچہ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ہمارے اندر کچھ ایقان اور ان کی بنا پر رویے ماحولیاتی عناصر کے باعث خراب بھی ہو جاتے ہیں اور کچھ اس بنا پر پیدا بھی ہوتے ہیں۔ بہت سی سوچیں یا رویے ہمیں اپنے بزرگوں سے ملتے ہیں، یا ماحول اور معاشرہ جس میں ہم پروان چڑھتے ہیں، اور بہت سی سوچیں اور رویے ہم خود بھی وضع کر لیتے ہیں کیونکہ ہم فطری طور پر مسائل حل کرنے کا رحجان رکھتے ہیں اور آسانی سے اپنے لیے مددگار اور تباہ کن دونوں قسموں کے خیالات، رویے یا عوامل تخلیق بھی کر لیتے ہیں۔
غرض ہم سوچ اور عوامل دو طرح سے سیکھتے ہیں، وہ تعلیم جو ہماری فطرت اور خدائی رہنمائی کے ذریعے سے ہمارے پاس موجود ہے اور دوسری وہ تعلیم جو ہم کسی بھی بیرونی عنصر یعنی معاشرے یا تعلیم کے دیگر بیرونی ذرائع و محرک سے حاصل کیے ہوئے ہوتے ہیں، جسے پیولوو کے نقطہ نظر سے ”کنڈیشنڈ لرننگ“ کہا جاتا ہے۔ مذکورہ مباحث اور مجموعی مشاہدے کے مطابق ہمارے زیادہ تر رویے اور عوامل جن میں سے بیشتر ہمارے نفسیاتی مسائل کا باعث بھی بنتے ہیں وہ کنڈیشنڈ لرننگ ہی کی پیداوار ہوتے ہیں اور نفسیاتی مضبوطی کے ذریعے سے معیاری زندگی کے حصول کی طرف پہلا اقدام فطرت سے ہم آہنگی، اس پر زندگی کو استوار کر لینا ہے۔
ایسا نہیں کہ معاشرتی یا بیرونی عناصر سے حاصل شدہ تعلیم اور عوامل ہمیشہ غلط ہی ہوں، جیسے تذکرہ کیا کہ انسان کے اندر مسائل کو حل کرنے کے لیے کچھ تخلیق کرنے کا رحجان بھی فطری ہے چنانچہ جب انسان نے معاشرتی و اجتماعی زندگی کی طرف قدم بڑھاے تو بہت سے مسائل کو اپنے فہم و ادراک اور اجتہاد و استنباط کی بنیاد پر حل بھی کیا اور یہ عمل ایک جاری رہنے والی نا گزیر ضرورت بھی ہے کیونکہ وقت اور حالات کے مطابق ہمیں تبدیلی یا موجودہ مسئلے کے حل کی ضرورت بہر حال کہیں نا کہیں پیش آتی ہے اور اسی لیے خدا نے انسان کو ان صلاحیتوں سے بھی نوازہ ہے۔
چنانچہ عقل و فطرت اور اجتہاد کی صلاحیتوں کا اپنے محدود دائرہ میں رہتے ہوے خدائی رہنمائی کے ساتھ ساتھ برسر پیکار رہنا انسانی بقا کے لیے لازم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لا شعوری محرکات، ایقان و عوامل کو تحقیق کے بعد درست انتخابات پر استوار کیا جائے۔ انتخاب کی آزادی اور اس پر ارادہ و اختیار ہی انسان کو در حقیقت ممتاز مقام عطا کرتے ہیں۔ لا شعوری محرکات پر بے سوچے سمجھے جامد زندگی تو جانور بھی گزارتے ہیں اور ان کے لیے مکمل طور پر ایک متعین طرز حیات منتخب ہے جبکہ عمل میں انتخاب پر قدرت ہی انسان کو ممتاز مقام عطا کرتی ہے۔ اسی لیے انسانوں کی بابت یونانی فلسفی سقراط کا کہنا یہ تھا کہ ”The unexamined life is not worth living“ ” بے ساختہ یا بغیر مشاہدہ گزاری جانے والی زندگی جینے کی قابلیت نہیں رکھتی۔“
اور اسی کو ماہر نفسیات ڈاکٹر آئرون ڈی یلوم سائیکو تھراپی پر اپنی ایک ریسرچ میں یوں بیان کرتے ہیں،
"Perhaps the single most important therapeutic credo that I have is that the unexamined life is not worth living۔”
” ایک واحد اعتقاد جو علاج کے لیے میرے پاس سب سے اہم ہے وہ یہی ہے کہ بغیر تجزیہ و تحقیق شعوری انتخاب کے بغیر گزاری زندگی کسی قابل نہیں ہوتی۔“
اسی بات کا اظہار اقبال نے اپنے شعر میں کچھ یوں کہا،
زندگی زندہ دلی کا نام ہے
مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں
اور سیدنا عمر الفاروق رضی اللہ عنہہ نے یوں بیان کیا ”حاسب نفسک قبل ان تحاسب“ یعنی ”قیامت کے دن ججمنٹ سے پہلے اپنے نفس کا احتساب کرو“
چنانچہ جو تعلیمات اور اثرات ہمیں بچپن میں اپنے والدین، بڑوں یا ماحول وغیرہ سے ملے ہیں وہ یقینا ہماری موجودہ سوچ، رویوں، یا عوامل کا سبب ہو سکتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سن شعور تک پہنچنے کے بعد بھی انسان فطری اور غیر فطری، معقول اور غیر معقول ایقان، رویوں اور عوامل میں امتیاز کا علم و ادراک اور اختیار اپنے پاس سرے سے رکھتا ہی نہیں کہ طرز فکر اور رویوں کی اصلاح پر قادر نا ہو۔ قطع نظر اس بات سے کہ یہ رویے اپنائے کیسے گئے، اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اگر یہ سوچیں اور رویے معقول، درست اور فطری نہیں ہیں اور منفی ردعمل کی بنا پر مسائل کا مؤثر حل کرنے سے قاصر ہیں تو ارادہ و اختیار کی طاقت استعمال کرتے ہوے انہیں تبدیل کیا جانا چاہیے تا کہ اپنی زندگی کو فطرت کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے سے اپنے نفسیاتی اور بیرونی مسائل پر مثبت رد عمل کے ذریعے سے قابو پا کر ایک مؤثر شخصیت اور معیاری زندگی کے حصول کو یقینی بنا یا جا سکے۔
طرز فکر، رویوں اور عمل کی اصلاح کے لیے بنیادی نقطہ یہ ہے کہ بیرونی حالات جیسے بھی ہوں ان پر رد عمل کے انتخاب میں انسان کے پاس ارادہ و اختیار موجود ہے اور اسے استعمال کرتے ہوئے درست رد عمل کی پیداوار پر کام کیا جانا ممکن ہے۔ مذہب کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہی وجہ ہے کہ اپنے حالات کے لیے انسان آخرت میں جواب دہ نہیں ہے۔ وہ چیز جس کی جواب دہی پر انسان کو متنبہ کیا گیا ہے وہ محض اس کا رد عمل ہے۔


