سراج الحق نے اپنے ماموں سے جہادِ کشمیر میں استعمال ہونے والی بندوق مانگ لی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے اپنے ماموں سے جہادِ کشمیر میں استعمال ہونے والی نانا کی بندوق مانگ لی۔

اسلام آباد میں ہونے والی نیشنل پارلیمنٹینرز کانفرنس برائے کشمیر میں اظہار خیال کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آج جب کانفرنس میں شرکت کے لیے لاہور سے اسلام آباد آرہا تھا تو راستے میں ماموں سے فون کرکے پوچھا کہ جہاد کشمیر میں استعمال ہونے والی نانا کی بندوق موجود ہے؟ جس پر بتایا کہ وہ موجود ہے۔

سراج الحق نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر قابض بھارتی فوج کے مظالم کی داستان طویل سے طویل تر ہوتی جارہی ہے اور مودی سرکار کی جانب سے آج 45 روز بھی وادی میں کرفیو نافذ ہے، وقت بہت تیزی سے گزرتا جارہا ہے اب سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت سے آگے بڑھ کرکچھ کرنے کا وقت ہے۔

سراج الحق نے کہا کہ کشمیر میں قیامت برپا ہے اور ہم آج بھی ایئر کنڈیشن ہال میں بیٹھ کر صرف آنسو بہا رہے ہیں، کشمیری مسلمان زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں، وہاں سیکڑوں مسلمان لڑکیو ں کو اغوا کرلیا گیا ہے، شیر خوار بچے، بزرگ اور بیمار افرادبھوک سے بلک رہے ہیں لیکن ان کی دہائیاں سننے والا کوئی نہیں۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا، کشمیر ہماری نظریاتی، سیاسی، معاشی شہ رگ ہے، موجودہ حکومت نے سفارتی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اٹھایا اور عالمی رہنماؤں سے بات کی مگر یہ ظالم دنیا کبھی مظلوم کا ساتھ نہیں دے گی، اس لیے اگر اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر ایک اور قرارداد بھی منظور ہوجائے تو یہ معاملہ حل ہونے والا نہیں ہے، ہمیں اب عملی اقدامات کرنے ہوں گے، قبائلی عوام نے کشمیریوں کا بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 8 لاکھ بھارتی فوج سے لڑنے کو تیار ہیں۔

سینیٹر سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں بھی کچھ عناصر ڈر وخوف کی فضا بنارہے ہیں، بزدل لوگ کہہ رہے ہیں کہ پہلے معیشت بہتر کرلو، اقتصادی طور پر مضبوط ہو جاؤ، ان لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ کشمیری 72 سال سے اپنے حق کے لیے لڑ رہے ہیں، آج بھی ان کی آزادی کے لیے جدو جہد جاری ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •