حجاب اور بشری تقاضے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”اوئے کون ہو تم اٹھو یہاں سے۔ کھڑے ہو جاؤ کیا کر رہے ہو ادھر بیٹھ کر؟ کیا لگتی ہے یہ لڑکی تمہاری؟ بولو بھی، میں بکواس کر رہا ہوں؟“ سبزی مائل وردی میں ملبوس گارڈ ہم دونوں پہ چلا رہا تھا اور ہم ہونقوں کی طرح ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے۔ اس اثناء میں اس کے مزید دو ساتھی اور ارد گرد سے تماش بین لڑکے اکٹھے ہو چکے تھے۔

بالآخر میرے گلے سے خرخراہٹ ہوئی ”ججججناب۔“ ”تم چپ کرو تم سے کوئی پوچھ رہا ہے۔“ میں خاموش ہو گئی۔ آخر کار بھائی نے ہمت کی اور کہا ”جناب ہم دونوں بہن بھائی ہیں۔“ بدقسمتی سے بھائی کا کارڈ پارکنگ کرتے ہوئے کار میں ہی رہ گیا تھا۔ اور ہم اس وقت شدید شرمندگی کا شکار تھے۔ لوگوں کی اندر تک گڑ جانے والی آنکھیں، سر تاپا ہمیں گھور رہی تھیں۔ ادھر سے میری بہن جو انٹرویو دے کر نکلی تو ہمیں یوں دیکھ کر اس کو صورتحال سمجھنے میں ذرا دیر نہ لگی۔ اس نے گارڈز سے بات کی جناب ہم تینوں بہن بھائی ہیں اور آپ کی جامعہ میں داخلے کی غرض سے تشریف لائے ہیں۔

لیکن اتنے بڑے مجمع میں ایک لڑکا اور لڑکی کو ”رنگے ہاتھوں پکڑنے“ والے یہ ”قانون کے رکھوالے“ کس طرح بات کو ختم ہونے دیتے بالآخر ایک فرشتہ صفت گارڈ کا آنا ہوا اور ہماری جان چھوٹی۔ معذرت بھی کی گئی۔ لیکن ایسی معذرت کا کیا جائے جو آپ کی تذلیل کر کے کی جائے۔ خیر یونیورسٹی میں داخلہ ہوا۔ اور ہم نے اپنے قدم پھونک پھونک کر رکھنے کا تہیّہ کر لیا کیونکہ ایسی بے عزتی کے بعد کون چاہے گا کہ وہ بدنام ہو۔ دو سال بڑی احتیاط سے گزرے۔

یونیورسٹی کے اختتامی ایام چل رہے تھے۔ میں اور میرے ایک دوست جو کہ میرے ڈیپارٹمنٹ سے نہیں تھے میری بہن کے ڈیپارٹمنٹ پہنچے اس کا ہنگامی فون آیا کہ لیپ ٹاپ کی ضرورت ہے۔ ہم دونوں گپ شپ کرتے اس کے کلاس روم کے باہر کھڑے ہو گئے۔ میں نے اس کو میسج کیا کہ ”باہر آ کر اپنا بیگ پکڑو۔“ ابھی دو منٹ گزرے ہیں دوسری سائیڈ سے دو گارڈ تشریف لے آئے۔ ”کون ہو تم دونوں؟ ادھر کیا کر رہے ہو۔“ ”جناب ہم یہ لیپ ٹاپ۔“ ”بکواس مت کرو کارڈ دکھاؤ اپنا۔ یہ تمہارا کیا لگتا ہے۔ کس تعلق سے اس کے ساتھ کھڑی ہو، تمہارے ڈیپارٹمنٹ سے ہے؟ ماں باپ کو پتا نہیں ہوتا اور یہ رنگ رلیاں مناتے ہیں۔“ گارڈ تن فن کر رہا ہے اور ہم پھر پہلے کی طرح اس کا منہ دیکھ رہے ہیں۔

اس کے بعد کس طرح سے اپنے ضبط شدہ کارڈ نکلوائے گئے اور کس قدر تذلیل کا سامنا کرنا پڑا یہ الگ داستان ہے۔ یہ تو جامعہ کے اندر کی صورتحال تھی۔ اب ذرا باہر کی سنیے۔ فوڈ سٹریٹ میں کھانے پینے کے پوائنٹس کی بھر مار ہے۔ ایک روز ہم پانچ چھ لڑکیاں کھانے پینے کی غرض سے فوڈ سٹریٹ میں پہنچیں۔ بھوک سے پیٹ میں چوہے اودھم مچا رہے تھے سو کسی نے بھی یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کی کہ اندر کیا صورتحال ہے۔ آؤ دیکھا نہ تاؤ ہم نے ہلہ بول دیا۔

اندر جا کر تو سماں ہی بدلا دیکھا۔ باہر سے بظاہر ایک فوڈ پوائنٹ نظر آنے والی یہ دکان اندر سے چھوٹے چھوٹے کیبنز پر مشتمل تھی۔ جس میں ایک ایک کیبن کے اندر دو دو بینچز تھے اور اس قدر تنگ کہ بقول یوسفی بیچ میں نکاح کی گنجائش بھی نہیں بچتی۔ گھپ اندھیرا جو کہ مصنوعی طور پر کیا گیا تھا۔ زیرو واٹ کے بلب جل رہے تھے اور ہلکی آواز میں رومانوی موسیقی ماحول کو اور ہی رنگ دے رہی تھی۔

اب تک ہمارا یہی خیال تھا کہ جامعہ کے اندر کی سختی طالب علموں کو کشاں کشاں حصولِ علم کے لیے ہی کھینچ لاتی ہوگی۔ لیکن بعد ازاں رفتہ رفتہ کئی بھید کھلے کے یونیورسٹی کے اردگرد ایسے قحبہ خانوں کی بھرمار ہے جو طالب علموں کا گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں ایسی طالبات کی اکثریت ہے جو گھروں سے عبایا اور حجاب کر کے نکلتی ہیں اور یونیورسٹی میں ان کو ”غیر محرم“ نے کبھی دیکھا نہیں ہوتا وہ ایسے ریسٹورینٹس اور فوڈ پوائنٹس پہ آ کر بے جا سختی اور پابندیوں کے اثرات کی مکمل تصویر بن کر سامنے آتی ہیں۔

ان سارے واقعات کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم ایک بار پھر اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔ جامعات میں حجاب یا پردہ لازم کرنے کا قانون حالات میں سدھار نہیں لا سکتا۔ انسان کی فطرت ہے تجسس۔ جس شے سے اس کو روکا جائے اسی کا حصول اس کو بے چین کیے رکھتا ہے۔ آدم و حوا کو جنت سے نکالے جانے کے پیچھے بھی یہ تجسس کا جذبہ ہی تھا۔ طلبہ و طالبات پر اس حد تک پابندیاں لگانا، والدین کا اپنے بچوں پر عصری تقاضوں کو سمجھے بغیر اعتراضات لگانا۔ ان کو صحت مند ذہن کے حامل بنانے کی بجائے ایک بیمار ذہنیت کا معاشرہ تشکیل دینے کی طرف رواں دواں ہے۔ خدارا بشری، عصری اور شخصی تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اپنے بچوں کی تربیت کریں اور ایک صحت مند سوچ کی حامل قوم تیار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •