عثمان بزدار کی ہار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں جو چیز بغیر تگ ودو یا بغیر جدوجہد کے مل جائے اس کی انسان قدر نہیں کرتا۔ یہی حال ہمارے پنجاب کے وزیراعلیٰ ”سردار“ عثمان بزدار کا ہے۔ عثمان بزدار اپنی زندگی میں پہلی بار رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے اور وزارت اعلیٰ کے منصب تک جا پہنچے۔ وزارت اعلیٰ کیا ہے یہ تو پنجاب کی بادشاہت ہے۔

شریف برادران کی تاریخ دیکھ لیں، 35 برس پنجاب کو قابو میں کرکے پاکستان پر حکومت کرتے رہے۔ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی قدر پوچھنا ہو تو کوئی چودھری پرویز الٰہی سے پوچھے کہ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کا خواب شاید بچپن سے ہی دیکھ لیا تھا اور اس خواب کی تعبیر کے لئے انہوں نے ن لیگ کے ساتھ دہائیوں کی وابستگی چھوڑ دی اور مشرف کے ہاتھ پر بیعت کرکے وزیراعلیٰ پنجاب بن گئے۔ پھر چودھری پرویز الہٰی پنجاب کی تاریخ کے بہترین وزیراعلیٰ ثابت ہوئے۔

بات عثمان بزدار کی ہورہی ہے، 2018 ء کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد مجھ سمیت ہر شخص کی نظریں پنجاب پر تھیں کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا ہما کس کے سر بیٹھتا ہے، کس خوش قسمت کی لاٹری نکلتی ہے۔ پھر ایک دن ٹی وی پر بریکنگ نیوز چلی کہ وزیراعظم عمران خان نے سردار عثمان بزدار کو پنجاب کا وزیراعلیٰ نامزد کردیا ہے۔

خبر کے نشر ہوتے ہی میں ماضی میں کھو گیا کہ میں 1991۔ 93 میں ذکریا یونیورسٹی سے ایم اے ماس کمیونیکیشن کررہا تھا اور عثمان بزادار پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز ڈگری کے طالب علم تھے۔ ہم دونوں کے کلاس روم ساتھ ساتھ تھے۔ ہمارے چیئرمین بھی ایک تھے جن کا نام ڈاکٹر غلام مصطفیٰ چودھری تھا (اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے)، ملاقات ہوتی رہتی تھی۔ میں سوچنے لگا کہ عثمان بزدار بہت کم گو اور شرمیلا سا تھا، کلاس فیلوز کے ساتھ بھی زیادہ اٹھتا بیٹھتا نہیں تھا، کیا عثمان بزدار پنجاب کے مشہور ڈارمہ باز اور شوباز شہباز شریف کی کمی پورا کرسکے گا، بیشک اللہ جسے چاہے عزت دے، خوشی ہوئی کہ چلو جان پہچان والا بندہ ہمارا وزیراعلیٰ بن گیاہے۔

عثمان بزدار کے وزارت اعلیٰ سنبھالنے کے بعد یونیورسٹی کے دوستوں کو شوق پیدا ہوا کہ عثمان بزدار سے ملاقات کی جائے اور مبارکباد کے ساتھ ان کو مفید مشورے بھی دیے جائیں۔ رانا سیف الرحمن نے میری ڈیوٹی لگائی کہ ہم ملتان کے ایم این اے ملک احمد حسین ڈیہٹر کی قیادت میں عثمان بزدار سے ملاقات کررہے ہیں، جن میں ذکریا یونیورسٹی کے دیگر دوست بھی شامل ہوں گے، تم کیونکہ میڈیا سے تعلق رکھتے ہو لہٰذا کچھ ٹپس بناؤ کہ کیسے میڈیا کو ہینڈل کرنا ہے۔

پھر ملاقات کا دن آگیا، ہم سب اکٹھے ہوئے تو ملک احمد حسین ڈیہڑ نے پوچھا کہ ”شاہ جی آپ نے پوائٹنس بنائے ہیں؟“ تو میں نے نا میں جواب دیا اور کہا کہ ”جناب عثمان بزدار جس مقام پر پہنچ گیا ہے اس کو مشورے دینے والے اب بہت لوگ ہیں۔ آپ مشورے دیں گے تو وہ دل تو میں ضرور کہے گا کہ مجھے جاہل سمجھتے ہو کہ مجھے نہیں علم کہ میں نے کیا کرنا ہے۔ اتنے ہی قابل ہوتے تو تم لوگ میری جگہ پر بیٹھے ہوتے۔ اس لئے ہم سب اس سے ملنے جا رہے ہیں اور صرف مبارکباد دیں گے اور دعا کریں گے کہ اللہ اسے کامیاب کرے۔“ مگر ملک صاحب کے اصرار پر میں وہیں بیٹھ کر کچھ ٹپس لکھیں جن میں ایک یہ تھی کہ ”دیہاڑی باز“ صحافیوں سے اجتناب کریں ورنہ رہی سہی عزت بھی جاتی رہے گی مگر آج کل ”دیہاڑی باز صحافی“ ہی ان کے مشیر بنے ہوئے ہیں۔

9اکتوبر 2018 ء کو شام 5 بجے ایوان وزیراعلیٰ میں عثمان بزدار سے ملاقات ہوئی۔ ایک گھنٹہ پرانے دوستوں کو یاد کرتے رہے پھر ملک صاحب نے اپنی طرف سے پوائنٹس والا کاغذ عثمان بزدار کو دیا کہ یہ ہماری میڈیا سے متعلق تجاویز ہیں، مناسب سمجھیں تو عمل کیجیئے گا افاقہ ہوگا۔ مگر عثمان بزدار نے ان میں سے کسی ایک پر بھی عمل نہیں کیا۔ ملاقات کے بعد باہر آئے تو میں نے رانا سیف سے کہا کہ عثمان تو بالکل ویسے کا ویسے ہے، بہت کم گو ہے، شرمیلا پن اب تک نہیں گیا، یہ پنجاب میں شوبازیاں کیسے کرے گا؟

پھر وقت گزرتا گیا عثمان بزدار کی کارکردگی سب کے سامنے آگئی۔ افسوس یہ ہے کہ عثمان بزدار کسی بھی شعبہ میں اپنی ٹیم بنانے میں بری طرح ناکام رہے۔ پنجاب کے سابق وزراء اعلیٰ کے نام یاد کریں اور سوچیں کہ میڈیا ان کے بارے میں بات کرنے سے پہلے سو بار سوچتا تھا، ان کے مقابلے میں عثمان بزدار کہاں کھڑا نظر آتا ہے؟ اپنی کارکردگی اور ڈی جی پی آر کی نا اہلی کے باعث عثمان بزدار اس وقت میڈیا کا سب سے آسان ہدف ہے، جسے میڈیا جب اور جیسے چاہے رگڑ دے۔

میں نے عثمان بزدار کو صرف ایک تجویز دی تھی کہ فوری طور پر اس وقت کے ڈی جی پی آر امجد بھٹی کو تبدیل کردیں، اطہر علی خان بہترین ڈی جی پی آر ثابت ہوں گے۔ یا پھر کوئی باہر سے ڈی جی پی آر لے آئیں کیونکہ ڈی جی پی آر میں جس طرح کے خلیفے بیٹھے ہیں ا ن سے امید نہ رکھیں کہ وہ عثمان بزدار کی عزت میں اضافہ کریں گے اور پھر وقت نے یہ ثابت کردیا۔ میری اس تجویز کو نظرانداز کیا گیا اور پھر امجد بھٹی کے ہوتے ہوئے میڈیا نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو بھرپور تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا، میڈیا کا ”جھاکا“ کھل گیا اور تاحال تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

بہت سی کہانیاں سامنے آچکیں اور مزید بھی آئیں گی۔ میرے علم میں بھی بہت سی خبریں ہیں مگر مروت میں کچھ نہیں کہتاکہ پرانا ساتھی ہے۔ عثمان بزدار کی ہار کو ہم ”اولڈ ذکرین“ اپنی ہار سمجھتے ہیں۔ آج کا دور جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے والا ہے۔ شہباز شریف نے 10 سال پنجاب پر حکومت اس فارمولے کے تحت کی۔ سینئر صحافیوں سے انہوں نے ہمیشہ مشاورت کی اور ان سے ذاتی تعلقات بنائے۔

یہ بات دعوے سے کہی جاسکتی ہے کہ عثمان بزدار کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ لاہور کے بڑے اخبارات کے ایڈیٹرز کون ہیں اور ٹی وی چینلز کے بیورو چیف کون کون سے ہیں؟ عثمان بزدار نے دیہاڑی باز صحافیوں کو اپنے گرد اکٹھا کرلیا جو ہر ملاقات میں ان کے معرکوں کی تعریفوں کے باندھتے رہتے ہیں۔ موصوف اتنا بھی نہیں کرسکے کہ دس، بارہ اچھے بیوروکریٹ ہی منتخب کرکے ان محکموں میں تعینات کردیتے جن محکموں کا تعلق براہ راست سروس سے ہے، عوام کو اور کچھ نہ ملتا کم از کم چند سہولتیں ہی مل جاتی تو کچھ عزت بن جاتی۔

عثمان بزدار کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ میرے نزدیک یہ ہے اس نے کسی بھی شعبہ میں اپنی ٹیم بنانے کی بجائے ایک ہی میرٹ رکھا کہ جس کے نام کے ساتھ بزدار لگا ہو وہی معتبر،

ہرشاخ پر ”بزدار“ بیٹھا ہے
انجام ”پنجاب“ کیا ہوگا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •