اسلام کی تجربہ گاہ میں یہ “ملیچھ” پاکستانی ایسے ہی مرتے رہیں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے دیکھا کہ ایک ہوسٹل کے دروازے پہ پولیس کھڑی ہے اور ایک نوجوان ہندو لڑکی نمرتا کی بے بس لاش پنکھے سے جُھول رہی ہے۔ انتہائی ڈھٹائی اور بے حیائی سے قتل کو خود کشی سمجھا جا رہا ہے۔ پھر یوں ہوا کہ میں چشم تصور سے اس عظیم اسلامی مملکت کے سبز ہلالی پرچم کا اقلیتوں کے لئے مخصوص سفید حصہ سکڑتے سکڑتے ختم ہوتے یا خاکم بدہن سرخ رنگ میں ڈھلتے دیکھنے لگا۔ عدم برداشت اور مذہبی ٹھیکیداری سے پاکستانی پرچم کا سفید حصہ ایک ایسی کھڑکی میں تبدیل ہوگیا جہاں جلد یا بدیر ہر اقلیتی نمرتا کو چھلانگ لگانی پڑتی ہے۔

میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر کے ہاتھ میں صلاح الدین کی پولیس تشدد سے موت کی تصدیق والی پوسٹ مارٹم رپورٹ ہے۔ اس زیر حراست مجہول نہتے ملزم کو ایک بندوق بردار ریاستی ادارے نے فوری اور سستی ”سزا“ دے کر ماں جیسی ریاست کو سرخرو کیا تھا۔

میں نے دیکھا کہ لاڑکانہ کے اسپتال کے باہر ایک بچہ اپنی ماں کی گود میں آخری ہچکی لے رہا ہے۔ جان نکلنے کو بے تاب ہے مگر جسم ساتھ چھوڑنے کو راضی نہیں۔ اپنے جگر گوشے کے درد اور اٹکی سانس کی تکلیف سے اس کی دکھیاری ماں چیخ رہی ہے۔

میں نے دیکھا کہ قصور میں کچھ بچوں کی مٹی کے نیچے سے مسخ شدہ لاشیں نکل رہی ہیں اور ماں باپ اپنے گمشدہ پیاروں کو کپڑوں کے ٹکڑوں سے پہچاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میرے وطن تیرے دامان تار تار کی خیر۔

میں نے دیکھا کہ اچانک ایک موٹر سائیکل سامنے سے گزرتا ہے۔ جس پہ باپ اور چچا ایمبولینس کے دو ہزار روپے نہ ہونے کے باعث اپنے بیٹے کی لاش گھر لے کے جا رہے ہیں کہ ٹریفک کے حادثہ میں گر کر دم توڑ دیتے ہیں اور اب لوگ تین لاشیں گھر کی طرف روانہ کر رہے ہیں۔ وہ جو تاریک راہوں پہ مارے گئے۔

میں نے دیکھا کہ شہر خوباں کی مرصع و مسجع شاہراہ دستور پر پیوند زدہ سبز آئین کے 8 سے 28 تک آرٹیکلز سولہ سنگھار کیے جھانجھریں چھنکاتے پھر رہے ہیں۔ وہ عفت مآب آرٹیکلز جو اس تیرہ بخت مخلوق کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی تہمت اٹھائے ہوئے ہیں جن کی زندگی اس دھرتی پر ہمیشہ شرمندگی اور درندگی کے درمیان پھنسی رہتی ہے۔

اور مذکورہ بالا سنہرے واقعات سے نظریں چرا کر جب اچانک میں نے ٹی وی سکرین کی طرف دیکھا تو مارے صدمے اور بے بسی کے دیکھتا ہی چلا گیا۔

دیکھا کہ ٹیلی ویژن پر ”ریاست مدینہ“ کے ہردلعزیز وزیراعظم فرما رہے ہیں کہ ”ہم سعودی عرب کی سالمیت اور خود مختاری کے لئے تعاون جاری رکھیں گے۔“

پھر میں نے دیکھا، سمجھا اور جانا کہ تاریک راہوں میں مارے جانے والے یہ حرماں نصیب سیاہ مقدر تو محض تاریخ کا ”چھان بورا“ ہوتے ہیں۔ صرف اپنے معاشروں کا چلتا پھرتا صدقہ۔ ذلتوں کے مارے لوگ۔ نادرا کے جاری کردہ شناختی چیتھڑے سے زیادہ جن کی کوئی اوقات نہیں۔ کوئی حیثیت نہیں۔ یہ ”ملیچھ“ پاکستانی ایسے ہی مرتے رہیں گے۔ ملک یونہی چلتا رہے گا اور من حیث القوم ہم یونہی ”سربلند“ ہوتے رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •