انتخاب کی بنیاد پر نسل انسانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماہر نفسیات ڈاکٹر وکٹر فرینکل اپنی شہرہ آفاق کتاب ” Man search for meaning of life“ میں اپنی تحقیق کا نچوڑ بیان کرتے ہوئے تمام انسانی نسل کو مجموعی طور پر دو طرح کے گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک وہ گروہ ہے جس سے تعلق رکھنے والے لوگ فطرت، روایات، معاشرے، ماحول سے شعوری طور پر اپنے عمل، اپنی زندگی اور وجود کے معنی کو اخذ نہیں کرتے اور انہیں اس بات کا شعوری طور پر ادراک نہیں ہوتا کہ انہیں کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔ حتی کہ بعض اوقات یہ تک اخذ نہیں کرتے کہ ان کی اپنی ذاتی خواہش، ضرورت یا چاہت کیا ہے۔ چنانچہ بالعموم یہ دیگر لوگوں کی چاہت اور توقعات پر ہی برسر پیکار رہتے ہیں۔ جو لوگ ان سے چاہتے ہیں یہ کسی بھی قسم کے شعوری فیصلے کے بغیر اسی پر زندگی بسر کرتے ہیں۔

اور دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو اپنی غور و فکر اور ارادہ و اختیار کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے شعوری انتخابات پر اپنی زندگی استوار کرتے ہیں۔ اگرچہ شعوری انتخابات پر مبنی زندگی گزارنے والے تعداد میں بہت کم ہی ہوں لیکن یہ اس بات کا کافی و شافی ثبوت ہے کہ کسی بھی قسم کے حالات و واقعات یا معاملات کے بالمقابل انسان سے سب کچھ چھینا جا سکتا ہے، لیکن سوچ، رد عمل اور رویے کے انتخاب پر اختیار کی طاقت اس سے چھینی نہیں جا سکتی۔

ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ قطع نظر اس بات سے کہ آپ کے ساتھ جو بھی حالات پیش آئیں، یہ ہمیشہ آپ کا انتخاب ہے کہ اس مخصوص صورت حال میں آپ نے کس قسم کے رویے یا رد عمل کو منتخب کیا۔ اور یہ ردعمل اور رویہ ہی آپ کی شخصیت کا تعین کرتا ہے۔ یہ انسان کے اندرونی فیصلے کا نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ کس قسم کا انسان بنے خواہ حالات کیسے ہی درپیش ہوں۔ ۔

فرینکل کی فکر کے مطابق دنیا میں ہر جگہ ان دونوں قسموں کے لوگ موجود ہوتے ہیں اور کوئی بھی قوم مجموعی طور پر ایک ہی جیسے لوگوں پر مبنی نہیں ہوتی۔

اس دریافت کے مطابق انتخابات کی بنیاد پر دوسری قسم کے لوگوں کا گروہ ایک سلجھی ہوئی نسل ہے اور پہلے گروہ پر مبنی نسل الجھی ہوئی نسل ہے۔ اگرچہ دونوں نسلیں دنیا کے ہر خطے، ہر جگہ پر پائی جاتی ہیں لیکن کوئی بھی جگہ یا قوم مکمل طور پر ایک ہی قسم کی نسل انسانی پر مبنی نہیں ہوتی۔

فرینکل کے مطابق دوسری قسم کی نسل سے تعلق رکھنے والے لوگ جو شعوری انتخابات پر زندگی گزارنے کے متحمل ہوتے ہیں وہ ہر طرح کی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے بھی قابل ہوتے ہیں۔ یہی لوگ عمومی طور پر اپنی زندگی اور اپنے وجود کے مقصد کا ادراک حاصل کرتے ہوئے مشکل ترین حالات میں بھی اندرونی طور پر مضبوط رہنے کی صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہی لوگ انسانوں کی مؤثر اورسلجھی ہوئی نسل ہیں جبکہ پہلی قسم کے لوگ عام طور پر مشکل حالات کے بالمقابل بعد آزمائی کی صلاحیت سے عاری رہتے ہیں کیونکہ یہ اپنی زندگی اور ذات کے حقیقی معنی دریافت ہی نہیں کیے ہوئے ہوتے۔ چنانچہ ایسے لوگ وجودیت کے خلا پر مبنی زندگی کے باعث نفسیاتی و بیرونی مسائل سے نبرد آزمائی نہیں کر پارہے ہوتے۔ انہیں صحت مند زندگی گزارنے کے لیے اپنے وجود اور زندگی کے اصل معنی کا شعوری ادراک حاصل کرتے ہوے عمل کے انتخاب کی ضرورت ہوتی ہے۔

مؤثر زندگی کے حصول کے لیے یہ وضع کرنا ضروری ہے کہ ہم کیا ہیں؟ ہماری اصل کیا ہے؟ کیا ہم اندر اور باہر سے ایک ہیں یعنی کیا ہم عمل کو شعوری طور پر اخذ کر کے اپنی فطرت سے ہم آہنگی پر مبنی شعوری زندگی بسر کرتے ہیں یا لا شعوری محرکات پر استوار زندگی؟ ہم کس طرف جا رہے ہیں اور کیوں جا رہے ہیں؟ ہم جس طرف جا رہے ہیں کیا وہ راستہ مسائل پر ہی مبنی رہتا ہے یا مسائل سے نبرد آزمائی پر؟ ہمارا دائرہ عمل اور دائرہ اختیار کیا ہے اور ہم کن دائروں میں گردش کر رہے ہیں؟

کیا ہم اپنے دائرہ عمل اور دائرہ اختیار کے مطابق سر گرم عمل ہیں بھی یا نہیں یا لاشعوری طور پر کسی اور سمت میں گھوم رہے ہیں جس کے نتیجے میں نا حالات بدلتے ہیں، نا مسائل حل ہو پاتے ہیں اور نا ہی ہم آسودگی حاصل کر پاتے ہیں۔ اس دریافت کے نتیجے میں ہم بھی وضع کر سکتے ہیں کہ آخر ہمارا تعلق ہمارے انتخاب کی بنیاد پر انسانوں کی کس نسل سے ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •