شیخ الاسلام علامہ طاہر القادری اور سرگودھے کا بندے مار پیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علامہ طاہر القادری نے سیاست چھوڑنے کا اعلان اس وقت کیا ہے جب انہیں دنیا چھوڑ دینے کا دعویٰ کیے ہوئے پورے پانچ سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ طاہر القادری صاحب نے تریسٹھ برس کی عمر تک پہنچنے سے تقریباً دس سال پہلے اپنے مریدوں کو یہ خوشخبری سنائی تھی کہ ان کی عمر حضورؐ کی عمر 63 برس کے برابر ہو گی۔ ان کا یہ دعویٰ میڈیا تک بھی ریلیز ہوا اور پانچ سال پہلے جب وہ دھرنے کی تیاریوں میں مصروف تھے تو کئی اینکر حکومت وقت کو یہ خوشخبری سنانے میں مصروف تھے کہ مولانا طاہر القادری اپنی عمر پوری کر چکے ہیں۔

جب تریسٹھ برس گزرنے کے بعد بھی ان کا انتقال نہ ہوا اور حکمرانوں کے خلاف ان کی زبان مزید سخت ہوتی گئی تو پھر ٹی وی اینکرز نے یہ بھی کہنا شروع کر دیا کہ علامہ طاہر القادری اپنے دعوے کے مطابق ”زائد المیعاد“ ہو چکے ہیں۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ زائد المیعاد ادویات اور سیاستدان ہمارے معاشرے کے لئے بہت خطرناک ہیں۔

اس طرح جب علامہ طاہر القادری کی ”ایکسپائری ڈیٹ“ پر شور زیادہ ہونا شروع ہوا تھا تو انہوں نے اپنے معتبر مریدوں کے ذریعے انکشاف کر دیا کہ ”پاکستان کی اوورہالنگ“ کے لئے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی حیات میں توسیع لے لی ہے۔ یہ ”ایکسٹینشن“ چونکہ اللہ اور اس کے بندے کا معاملہ تھا اس لئے کسی بھی سیاسی کارکن نے اس پر کوئی صدائے احتجاج بلند نہیں کی بلکہ اسے اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کر لیاگیا۔ البتہ عوام یہ توقع کر رہے تھے کہ طاہر القادری کسی بھی وقت اس ”توسیعی سہولت“ کے ختم ہونے کا اعلان کر کے دنیا چھوڑنے کی خبر دیں گے لیکن فی الحال انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کیا ہے۔ قابل غور پہلو یہ ہے کہ موصوف نے سیاست نہیں ریاست بچاؤ کا نعرہ دیا مگر پہلے ریاست سے دستبردار ہوئے اور اب سیاست کو بھی اللہ حافظ کر دیا۔

علامہ طاہر القادری کا محمد اسحاق سے شیخ الاسلام تک کا سفر بھی بہت دلچسپ ہے اور پھر پاکستان سے کینیڈا تک کا سفر بھی بہت خوفناک سمجھا جاتا ہے۔ علامہ طاہر القادری کے ایک دوست ڈاکٹر باسط ایڈووکیٹ بھی ہیں۔ سپریم کورٹ کے بار روم میں چائے کا کپ پیتے ہوئے انہوں نے ایک دن بتایا کہ میں اور طاہر القادری لاہور کے ایک کالج میں پڑھاتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر باسط کا کہنا تھا کہ علامہ طاہر القادری نے پہلے تعارف کے بعد جو وزٹنگ کارڈ مجھے دیا اس پر علامہ طاہر القادری کے الفاظ تحریر تھے اور پھر اگلے تین ماہ بعد انہوں نے ایک نیا وزٹنگ کارڈ مجھے دیا جس پر علامہ ڈاکٹر طاہر القادری لکھا تھا اور پھر کم و بیش اگلے چھ ماہ کے بعد طاہر القادری صاحب نے جو کارڈ مجھے دیا اس پر شیخ الاسلام علامہ ڈاکٹر طاہر القادری تحریر تھا۔

ڈاکٹر باسط نے بتایا کہ اس بار مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے پوچھ ہی لیا کہ قادری صاحب وزٹنگ کارڈ پر اس تیزی سے ترقی کا کیا راز ہے؟ اس موقع پر طاہر القادری نے برجستہ جواب دیا کہ جو شخص اپنی عزت خود نہیں کرتا باقی لوگ بھی اس کی عزت نہیں کرتے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے اس ”دیسی ساختہ“ شیخ الاسلام نے اپنی عزت خود بڑھانے کے لئے اپنے ناکام دھرنوں کو بھی انقلاب ایران سے جوڑ دیا تھا۔

اسی طرح علامہ طاہر القادری نے کینیڈا میں سیاسی پناہ لینے کا فیصلہ کیا تو سلمان رشدی سے ملاقات کرتے ہوئے کینیڈا پہنچے تھے اور وہاں پر سیاسی پناہ کے لئے انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ میں ایک روشن خیال عالم ہوں اور حال ہی میں میں سلمان رشدی کے ساتھ ہونے والی ملاقات سے پاکستان کے مذہب پسند حلقوں میں بہت غم و غصہ پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے میری جان کو خطرہ ہے۔ طاہر القادری کے اس موقف کے بعد کینیڈین امیگریشن حکام بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ جس ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کے صف اول کے عالم دین کا یہ حال ہے باقی عوام معمولی فائدے کے لئے کس حد تک جا سکتے ہیں؟

علامہ طاہر القادری اور سرگودھا کے پیر وحید کے دعووؤں اورحرکتوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو دونوں میں کچھ زیادہ فرق نظر نہیں آئے گا۔ سرگودھا کے پیروحید نے لوگوں کو مار کر زندہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور 22 لوگوں کو ڈنڈوں کے ساتھ بے دردی سے مار کر زندہ کرنے کا جو تجربہ کیا وہ پچاس فیصد کامیاب رہا کیونکہ پیروحید نے اپنے 22 مریدوں کو کامیابی سے قتل تو کر دیا مگر زندہ کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔ اس طرح نتیجہ پچاس فیصد رہا جبکہ دوسری طرف علامہ طاہر القادری نے اپنے مریدوں کو انقلاب ایران کے خواب دکھائے اور ان کے خون سے انقلاب آنے کے گیت سنائے اور پھر 22 معصوم لوگوں کو اپنی بے مقصد تحریک کا نوالہ بنا دیا۔ جن معصوم لوگوں کو سہانے خواب دکھائے گئے تھے کہ ان کے خون سے ان کا مرشد اقتدار میں آئے گا انہیں انصاف دلانے کے بجائے مرشد متاثرین کو بے یارومددگار چھوڑ کر کینیڈا روانہ ہو گیا۔

علامہ طاہر القادری جب کینیڈا چلے گئے تھے تو راقم نے اس وقت بھی تحریر کیا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کو اگر انصاف دلانا ہے تو پھر علامہ طاہر القادری کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا جائے۔ سیاست چھوڑنے کے اعلان ساتھ ساتھ علامہ صاحب نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کے لئے تاحیات جدوجہد جاری کرنے کا ایک پھس پھسا بیان بھی جاری کیا ہے۔ کیونکہ شریف برادران کی حکومت کو ختم ہوئے ڈیڑھ سال گزر چکا ہے اور اقتدار اس وقت قادری صاحب کے سیاسی کزن کے پاس ہے اس کے باوجود سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ایک بھی مجرم کٹہرے میں نہیں آ سکا۔

میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ علامہ طاہر القادری شہداء کے ورثاء کو ان کے پیاروں کو جنت میں اعلٰی مقام ملنے کی خوشخبری سنا کر مطمئن کر چکے ہوں گے اور دنیا کے دکھاوے کے لئے شہداء کو انصاف دلانے کے نام پر بیانات کی حد تک طاہر القادری کی جنگ جاری ہے۔ پیروحید کے 22 مقتول مرید زندہ نہ ہو سکے اور پیر طاہر القادری کے 22 مقتولین مریدوں کو انصاف نہ مل سکا۔ اس میں مقتولین سے زیادہ پیروں کی بدنیتی اور نا اہلی نظر آ رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 48 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat