کتابیں یہاں گل کھلاتی ہیں کیا کیا


\"asif-zahri-2\"میرا دس سالہ شرارتی بیٹا آٹھ منزلہ بک ریک پر چڑھ کر سب سے اوپری خانے سے کامکس اور کہانیوں کی کتابیں اتار رہا تھا، ریک سمیت نیچے آگیا۔ اس کے اردگرد انسائیکلوپیڈیا نے حصار بنا کر بچا لیا مگر رتن ناتھ سرشار ، چارلس ڈکن اور مارگریٹ مشیل ایسے ناراض ہوئے کہ پاس ہی موجود، بیٹی کے پیر میں فرکچر اور بابا یحییٰ خان ، قرۃالعین حیدر اور ٹالسٹائےمیرے سر میں گومڑ ڈال گئے۔ حیدر اور یحییٰ خان نے خود کو خارجی ضرر رسانی تک محدود رکھا لیکن \”ایڈیٹ\” نے چند پرانی تصویروں کو ہوا میں اچھال کر اسم بامسمی ہونے کا ثبوت پیش کر دیا۔ رہی انسائیکلوپیڈیا تو اس نے اپنی فطرت کے مطابق، ماضی کو طشت از بام کرتے ہوئے ، اپنے بطن میں پوشیدہ چند \’نفسیاتی حیاتیات\’ اور \’حیاتیاتی کیمیا\’ پر مشتمل ، بالتصویر اورجذباتی، کتابچہ ہائے کہنہ کی برسرِ عام نمائش لگا دی ۔ ایک جانب بکھری ہوئی کتابیں اور میرے رازہاۓ سربستہ کی افشانی تو دوسری جانب بیٹی کا پیر۔ شدت سے سراج اورنگ آبادی کا مصرع یاد آیا\’ کہ کتاب عقل کی طاق پر جو دھری تھی سو دھری رہی\’ ۔

\”کِتابچہ\” سے یاد آیا کہ بچپن میں کِتابچہ کو میں \”کُتّا بَچہ\” پڑھا کرتا تھا۔ ایک روز دادا مرحوم کے عصاءِ شفقت نے اسے کُتّے کے بچے سے، کِتاب کے بچے میں تبدیل کر دیا۔ لیکن یہ سوال ہنوز تشنہِ عصا رہ گیا کہ قد و قامت اور تقلیبِ جنس کے مابین کیا رشتہ ہوتا ہے؟ نیز کُتے کے بچے کے لیے، اگر ایک بالکل مختلف نوعیت کا لفظ\’ پلا\’ مستعمل ہے تو \’کتابچہ\’ کے لیے یہ طریقہء رائج الوقت کیوں بدل دیا گیا؟ ناقص فہم کے مطابق کُتے کا بچہ اکثر و بیشتر کُتّوں کی معیت میں دیکھا جاتا ہے، جبکہ کسی کتاب کے ساتھ \’کتابچہ\’ کا دُم چھلا لاحق نہیں ہوتا، سوائے پی ایچ ڈی کے مقالوں کے۔ ہاں! کتابوں کے ساتھ مصنف یا مولف کا نام ضرور دیکھا جاتا ہے، لیکن بشکل لاحقہ یا سابقہ نہیں ، بلکہ دونوں، یعنی کتاب اور صاحب کتاب کے درمیان ڈیش ایک حد فاصل کا کام کرتا ہے۔ مزید براں ، ڈیش یا حرف عطف کے بغیر \’کتا پلا\’ کہنے میں سنگینی حالات کا خطرہ قطعی لاحق نہیں ہوتا، لیکن کتاب اور صاحبِ کتاب کے اتصال سے \’ضرب عصا\’ کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کا احساس، ایک روز کہانیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، دوران تقریر یوں ہوا کہ بے خیالی میں دونوں کا ذکر ، نسبتاً تیز رفتاری سے، ایک ہی سانس میں کر گیا۔ بڑے ہی خطرناک نتائج برآمد ہوئے۔ آپ خود ہی ایک سانس میں کتاب اور صاحبِ کتاب کا نام پڑھ کر دیکھیں۔ مثلا: دو شہروں کی کہانی چارلس ڈکن ۔ آگ کا دریا قرۃ العین حیدر ۔ آخری آدمی انتظار حسین۔ علی پور کا ایلی ممتاز مفتی۔ عبداللہ حسین نشیب۔ بانو قدسیہ راجہ گدھ۔ واجدہ تبسم اُترن۔ یہاں تک تو غنیمت تھا، لیکن جیسے ہی سانسیں سنبھال کر آگے کہنا شروع کیا: دوستوسکی ایڈیٹ۔ حاجی بغلول منشی سجاد حسین۔ کرشن چندر گدھے کی واپسی۔ پنجرے کا آدمی رتن سنگھ۔ کاٹھ کا گھوڑا رتن سنگھ۔ پناہ گاہ رتن سنگھ۔ محفل میں موجود ایک، ہردلعزیز، بزرگ اور محترم ادیب ، کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے \”پروفیسر صاحب! کتاب اور صاحبِ کتاب کے درمیان سانس لے لیا کریں ورنہ ہماری سانسیں اکھڑ جاتی ہیں”۔ جملہ ہائے معترضہ سے قطع نظر آج یہ ساری کتابیں فرش پر ڈھیر میرا کچا چِٹھا کھول رہی تھیں۔ لیکن سردست مسئلہ ، مسئلہ بلوچستان ، سانحہ کشمیر اور سقوط بنگالہ کے مانند بیٹی کے پیر کا تھا۔

الغرض مستقبل قریب میں آنے والے انقلابات کو نظر انداز کر کے بیٹی کو گود میں اٹھایا ۔ قدم بڑھائے ہی تھے کہ دوشہروں کی کہانی، لہو کے پھول، وار اینڈ پیس اور Gone With the Wind پیروں سے الجھ کر فکر اقبال پر صاد کر گئے کہ:

دیکھیے اس بحر کی تہ سے اچھلتا ہے کیا

آنے والے انقلابات کو نظر انداز کر کے، ان سب پر دولتیاں جھاڑتے ہوئے جلدی سے ، ہوسپٹل پہنچا۔ انہوں نے بڑے ہی فن کاری سےمیری جیب کاٹ کر، بیٹی کا پیر جوڑ دیا اور تسلی کے لیے مزید چند گھنٹے اسپتال میں ٹھہرنے کا مشورہ ۔ میں بھی ان کے جملوں پر اعتبار کر کے مقدس ہندوستانی گائے بننے پر ہنسی خوشی راضی ہو گیا۔ بہرحال شام ڈھلے بیٹی کو لے کر گھر پہنچا اور بیوی سے ایک کپ چائے کی فرمائش کی لیکن اس کے\’رس گُلے\’ کی طرح پھولے ہوے لب و عارض سے لفظوں کا ایک قطرہ بھی نہ ٹپکا تو مجھے سائیں سائیں کرتی ہوئی خانگی خموشیوں کا احساس ہوا اور چنے کے کھیت کے بجائے اپنے کمرے میں ریک کے قریب لگی رایٹنگ ٹیبل اور کرسی پر بیٹھ گیا۔ ریک کھڑی کر کے کتابیں قرینے سے دوبارہ لگا دی گئی تھیں۔ اتنے میں غصہ ٹپکاتی ہوئی \” رس گُلّی\” دوبارہ کمرے میں داخل ہوئی اور بڑے ہی اہتمام سے چھپا کر رکھی گئی، ایام شباب کی چند پرانی تصویریں میرے چہرے پر دے ماریں ۔ جنہیں ریک کے زمیں بوس ہوتے ہی، \’ایڈیٹ\’ نے اگل کر \”گُلے\” کو رَس سے شرابور کر دیا تھا۔

میں نے معافیاں مانگیں لیکن \”رس گُلی\” رس سے باہر آنے کے بجائے ہنگر اسٹرائک پر آمادہ نظر آئی۔ مجبوراً کچن میں جا کر ، خود چائے بنائی اور امی ابو کے کمرے میں جا بیٹھا۔ امی ایک ہاتھ میں چھڑی دوسرے ہاتھ میں چند کتابیں لیے سر پر آ کھڑی ہوئیں۔ دراصل ان کتابوں کو باقاعدہ سر ڈھانپ کر، میں نے چٹان جیسی انسائیکلوپیڈیا کی آڑ میں چھپا رکھا تھا جو ریک کے گرنے کے سبب ، ساگر کنارے سن باتھ لیتی ہوئی خواتین کی طرح نیم عریاں ہو کر امی کی چھڑی میں بھی خاطر خواہ جوش و جذبہ بیدار کر گئی تھیں۔ مجبورا پھر اپنے کمرے میں پناہ لی اور ایک کتاب کھول کر بیٹھ گیا۔ کھلے ہوئے صفحے پر قدیم ویدک تہذیب کا بیان تھا۔ اس میں رقم ایک جملے پر میری نظر ٹھہر گئی: \”شستر شاستر چہ کوشلم \”۔ اس سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ہتھیاروں اور کتابوں میں یکساں صلاحیت ہوتی ہے۔ مگر کیسے؟اس ایکویشن یا فارمولےکو سمجھنے کی بہت کوشش کی۔ لیکن افہام و تفہیم کی ساری راہیں مسدود تھیں کہ ایک طرف پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے تو دوسری جانب اہل خانہ کتابوں کی فطرت \’چغلیہ\’ کے سبب مجھ سے بدظن۔ چنانچہ\’ شاستر\’ کی مناسبت سے مجھے اپنے پڑوسی شاستری جی یاد آئے اور کتاب بند کر کے ان کے گھر کا رخ کیا۔

موصوف سنسکرت کے پروفیسر ہیں اور انہیں میں پرانے کرم فرماؤں بلکہ \’دھرم فرماؤں\’ میں شمار کرتا ہوں۔ ان کے حضور جا کر عرض کیا کہ شریمان آج میں پانی پت کے میدان سے شکست کھا کر آپ کی شَرَن میں آیا ہوں۔ پہلے کچھ کھلائیے! رات کے کھانے کا انتظام بھی کریے!۔ انہوں نے چٹیل میدان میں اگے ہوئے اکلوتے چھتنار درخت کے مانند اپنی چوٹیا پر دست شفقت اور باقی بنجر علاقے پر کف افسوس پھیرتے ہوئے کہا\”اچھا تو آج آپ پراجِت ہیمو مہاراج ہیں، نشچنت رہیے، مہاراج کی سیوا کرنا توہمارا پَرم کرتَویہ ہے\”۔ آج ان کے استقبال اور خیر مقدم کے انداز سے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ یہ \’خیر مقدم\’ نہیں بلکہ \’تاریخ مقدم\’ ہے۔ ان کے خیر مقدم کو خیر آباد کہہ کر، میز پر سجی ہوئی کھیر کو میں نےمُقدّم سمجھا اور مقدمۃ الجیش کے بطور اسے جانب شکم روانہ کر کے میز پر صف آراء ہوتی ڈشز پر ایک فاتحانہ نگاہ ڈالی اور آزمائش کام ودہن میں مصروف ہو گیا۔ آدھا میدان فتح کرنے کے بعد جب انہماک کچھ کم ہوا تو شستر اور شاستر یعنی علم اور ہتھیار کے درمیان مناسبت والے سوال نے ذہن میں رینگنا شروع کر دیا اور بالآخر میں پوچھ بیٹھا کہ حضرت! آخر دونوں میں کیا یکسانیت ہے؟ آپ خود دیکھیے کہ صاحبِ علم سے اگر کوئی سوال پوچھا جائے تو وہ فورا بڑا سا منہ کھول دیتا ہے لیکن یہی صاحبِ علم حضرات شستر یعنی ہتھیار دیکھتے ہے قوت گویائی سے ہی محروم کیوں ہو جاتے ہیں؟

یہ سوال پوچھنا ہی تھا کہ شاستری جی نے بڑا سا منہ کھول دیا ، جیسے منہ سے\’ شاستر\’ کے بجائے \’شستر\’ اور کتابوں نیز ان سے حاصل شدہ علم کے بجائے توپ نکلنے والی ہو، جو آن کے آن میں بمباری شروع کر دے گی۔ پس منظر میں سیریا میں ہونے والی بمباری کے مناظر ٹی وی پر نشر ہو رہے تھے اور پیش منظر میں شاستری جی کے \’پروچن\’ دھماکے کر رہے تھے ، گویا بم کہیں سیریا میں گرتے لیکن آواز کا منبع و مخرج شاستری جی ہی محسوس ہوتے۔ موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میز پر موجود اشیاء کو میں نےتہہ شکم کرڈالا حتی کہ شاستری جی کے طرفدار، چندسپاہیوں نے بھی اپنے اپنےہتھیار ڈال کرمیرے قید خانہ شکم میں پناہ لے لی۔ میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ سیریا کے باشندوں پر کیا گذر تی ہو گی ان کا سابقہ تو سب سے زیادہ کتابیں شائع کرنے والے، سب سے زیادہ ریسرچ کرنے والے ملک کے علاوہ تین رجسٹرڈ صاحب کتاب ِقوموں سے ہے۔ تب ہی، جس ہوسٹل کا میں وارڈن ہوں، کے ایک سیکورٹی اہلکار نے آکر اطلاع دی کہ\” شاب! شلنڈر کی گاڑی میں ایک شلنڈر کم ہے\”۔ شاستری جی کی چوٹیا \”یار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔ۔ گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی\” کا ایکٹ کرنے میں مصروف تھی، اس لیے انہوں نے سیکورٹی اہلکار کے لفظ \”کم\” کو \”بم\” تصور کر لیا اور صُمّ بُکم عُمی کی مُدّرا میں چلے گئے، اور میں شاستری جی کی بم باری سے محفوظ، \’سلینڈرکم\’ اور \’سلینڈر بم\’ کا جایزہ لینے کے لیے ہوسٹل۔

ہوسٹل سے واپس آ کر پھر اسی \’پناہ گاہ\’ میں پناہ لی۔ کتابوں کی فسادی طبیعت اور چغلیہ فطرت کے علاوہ علوم اور کتابوں کی قاتلانہ تاریخ ذہن میں تازہ ہو گئی۔ یاد آیا کہ عظیم دانشور اور \’ کتاب الحیوان\’ کے مصنف الجرجانی، گرچہ مریض علم و ادب تھے مگر\’ کشتہِ کتاب\’ ٹھہرے۔ مشہور محدث امام مسلم کو اشتہاۓ مطالعہ نے کھجور کی پوری ٹوکری کھلا کر\’ کشتہ خرما\’ ہونے کے باوجود \’کشتگانِ احادیث\’ کی فہرست میں شامل کروا دیا ۔ کشتگانِ کتب کی پشتینی تاریخ پر نگاہ ڈالیے تو پتہ چلےگا کہ کتابوں کی قتل و غارت گری کے سبب کتنے دنوں تک دجلہ اور جمنا مارکسی جھنڈے کی عکاسی کرتے رہے۔ پھر بھی ڈپٹی نذیر احمد اورابن خلدون جیسے لکھاری لکھنے سے باز نہیں آئے، بلکہ ابن خلدون تو اونٹ کی سواری کرتے ہوئے قلم چلا کر بس کنڈکٹر کو بھی شرمندہ ہونے اور ہم جیسوں کو علوم اور کتابوں کی کینہ توزی برداشت کرنے، پر مجبور کر گئے۔ مزید براں، ذرا غور فرمائیے کہ اگر کتابیں نہ ہوتیں تو نہ صرف ہم اور آپ متعدد ایسی مصیبتوں سے محفوظ رہتے بلکہ ہلالی اور صلیبی جنگوں کا نام تک نہ ہوتا۔ یقین نہ آئے تو نصیر احمد ناصؔر کی نظم \” کتابوں میں زندگی تلاش کرنا بے سود ہے\” کا یہ حصہ ملاحظہ فرمائیں:

کتابوں سے نکلتے ہیں حملہ آور

آہنی خورد اور ذرہ بکتر پہنے ہوئے

اور دلوں اور ذہنوں کے ہر گوشے میں پھیل جاتے ہیں

اور افکار کی غارتگری

صدیوں تک جاری رہتی ہے

کتابوں سے پھوٹنے والی جنگیں کبھی ختم نہیں ہوتیں                        (کتابوں میں زندگی تلاش کرنا بے سود ہے)

مذکورہ منفی نتائج سے قطع نظر تصنیف و تالیف اور کتابوں کی ذخیرہ اندوزی کا ایک مثبت پہلو بھی ہے کہ اس کی ذخیرہ اندوزی بیویوں کی زبانوں کو لگام عطا کرتی ہے۔

بیوی کی خاموشی سے والدہ کی ایک نصیحت یاد آ گئی۔ بچپن میں جب کبھی مجھے اینٹ یا پتھر سے مینڈک مارتے دیکھتیں تو کہتیں تھیں کہ مینڈک مت مارا کرو۔ ایسا کرنے سے کانوں میں زخم ہو جاتے ہیں، نیز مسقبل میں تمہیں گونگی بیوی ملے گی۔ شادی کے چند برسوں بعد، بارہا یہ خیال آیا کی اے کاش سارے مینڈک مار دیے ہوتے تو اچھا ہوتا۔ لیکن آج کتابوں کی ریک نے اپنا غصہ دکھا کرحسرتِ دیرینہ کا گویا ازالہ کر دیا۔ اس نسخہ کیمیا کو اپنے قارئین کے بھی گوش گذار کرتا چلوں کہ اگر بچپن میں آپ نے ٹرٹرانے والے ان حشرات الارض کو بخش دیا تھا تو بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اب بھی آپ کے پاس ایک موقع ہے۔ بس میری طرح کتابوں کی ذخیرہ اندوزی شروع کر دیجیے اور اپنی ازلی و ابدی حسرتِ دل کو برگ و بار لاتے ہوئے دیکھیے۔ ہو سکتا ہے اول الذکر واقعہ محض ایک کہانی ہو مگر آخر الذکر تو آزمودہ نسخہ ہے۔ کہانیاں، بالخصوص قدیم کہانیاں ایسی ہی ہوتی تھیں۔ یک رخی۔ اسی لیے ان کے ساتھ\’ مورل آف دی اسٹوری\’ کا اندراج بھی لازمی تصور کیا جاتا تھا۔ مثلا\’ عقلمند کوا\’ کی کہانی۔ جس کے مطابق تپتی جلتی دوپہر میں کوے نے کنکریاں گھڑے میں لا کر ڈالنی شروع کی، تا کہ پیاس بجھا سکے۔ لیکن کہانی کار گرم گرم کنکریوں کے پانی جذب کرنے کے عمل کو بھول گیا۔ بعینہ اتحاد کی طاقت پر کہانی بنُتے ہوئے کہانی کار یہ بھول گیا کہ بندھی ہوئی لکڑیوں کو بوڑھے باپ کے بیٹوں میں سے اگر کوئی توڑنے کی کوشش کرے اور لکڑی کے بجائے گھٹنے کے تڑخنے کی آواز سنائی دے، تب باپ بیٹوں کو کیا نصیحت کرے گا؟ یہی نا، کہ گھٹنے سے لکڑی توڑنے کی کوشش کبھی مت کرنا ورنہ گھٹنا ٹوٹ سکتا ہے۔ سب سے دلچسپ سبق تو کنیڈا سے تشریف لائے ایک دوست نے رامائن کہ کہانی سے اخذ کیا کہ اگر کسی دوسرے کی بیوی کو بھگا لے جانے میں کامیابی مل جائے تو خواہ ملک ہاتھوں سےچلاجائے، خواہ جان گنوانی پڑے، پر بھگا کر لائی گئی، بیوی سے کسی بھی صورت، دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔

اب تک کے ڈسکورس یا وظیفے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ کتابیں سکھاتی ہیں۔ چھپاتی ہیں۔ چغلی کھاتی ہیں۔ لڑاتی ہیں۔ نفاق پیدا کرتی ہیں۔ کچل کر زخمی کر دیتی ہیں۔ کراماً کاتبین سے ساز باز کر کے آپ کی موت کا سبب بن سکتی ہیں۔ غلط نتائج اخذ کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔ اور اگر کتاب شہری زندگی سے متعلق ہو تو \” دوشہروں کی کہانی\” کے مانند، اس سے \”مس گلوٹین\” بھی برآمد ہو سکتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کتابیں بیویوں کو خموشیوں اور شوہر کو خوشیوں کی دولت بھی عطا کرسکتی ہیں۔ غالبا کتابوں کے اسی مثبت پہلو کے سبب معاشرہ، نہ تو ان کی بڑھتی ہوئی تعداد سے متفکر نظر آتا ہے اور نہ ہی ان کے برتھ کنٹرول کے ذرائع پر سنجیدہ۔ نتیجتا ہم سب مصنف یا مولف بن کر یا قاری اور طالب علم کی شکلیں اختیار کر کے، محض چند کتابیں بغل میں دبائے ، اس کی شرانگیزیوں سے محتاط، بیویوں کو دبانے اور کمزوروں کو ستانے کے حیلے تلاش کرتے رہتے ہیں۔ عہد قدیم و جدید کے تقابلی مطالعے سے یہ راز بھی منکشف ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں کتابوں کی شرح افزائش محدود ہونے کے سبب \’شرح انسانیت\’ کی نمو زیادہ تھی۔ آج کتابوں کی شرح افزائش میں بے تحاشا اضافے کے ساتھ \’شرح انسانیت\’ کی رفتار بہت تیزی سے گر رہی ہے، گویا دونوں کے درمیان تناسب معکوس کا رشتہ ہوتا ہے۔ مزید براں، آبا و اجداد کے زمانے میں کتاب کی تاب لا پانا، ہر کس و ناکس کے بس کی بات بھی نہ تھی۔ مصنف برسوں کی جانفشانی کے بعد ایک کتاب تصنیف کرتا، پھر محرر حضرات اس کی متعدد نقول یا کاپیاں تیار کرتے اور مصنف سے اس کی صحت کی سند حاصل کرتے ۔ اتنے طویل اور مشکل مراحل سے گزرنے کے سبب ان کی شر انگیزیاں بھی طول طویل ہوا کرتی تھیں اور مصنف کی شہرت بھی کتاب میں لگی آگ کی طرح پھیلتی تھی۔ چنانچہ متعدد مفکرین نے لفظوں کی حرمت کے ساتھ ساتھ کتابوں کی \’حرامیت\’ کا ذکر بھی بطور خاص کیا ہے۔ مثلا غالؔب کا یہ شعر ملاحظہ ہو:

رگِ سنگ سے ٹپکتا، وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا

جسے دَم سمجھ رہے ہو، یہ اگر کتاب ہوتی

آج فکرِ غالب سے گھبرانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ اس لیے کہ آج کل منصہ شہود پر آنے والی کتابوں میں وہ تاثیر کہاں؟ اب تو راتوں رات کتابیں ذہن و دماغ میں نمو پاکر طباعت کی صلیب پر آویزاں ہو جاتی ہیں، نیز دوسرے ہی دن ردّی کی ٹوکری کی شان میں اضافہ کرنے لگتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی میرے ایک ریسرچ اسکالر زخم مرادابادی کے ساتھ ہوا۔ انہوں نے ایک تھرڈ کلاس افسانہ نگار پر چند مطبوعہ مضامین کو یکجا کیا اور صرف ایک ورق کا مقدمہ یا مضمون لکھ کر صاحبِ کتاب ہونے کا تمغہء تہمت اپنے سینے پر آویزاں کر لیا۔ اس ایک ورق کے مقدمے میں بھی بیس پچیس غلطیاں تھیں جن میں سے بعض پر \’خضابِ سپید\’ پھیر کر ، \’بقلم خود\’ وہ حجام بھی بن گئے۔ طرہ یہ کہ اپنےتمام اساتذہ کو اپنے اس \’نامہ اعمال\’ سے بھی نوازا۔ اس \’ہدیہ گرانبار\’ سے جب انہوں نے مجھے بھی نوازنا چاہا تو میں نے نہایت ادب و احترام سے عرض کیا کہ شامل کتاب سارے مضامین میری نظر سے گذر چکے ہیں، اس لیے ان کو دوبارہ دیکھنے کی بالکل خواہش نہیں ہے۔ البتہ آپ کی تحریر ضرور دیکھنا چاہوں گا۔ اگر ناگوار خاطر نہ گذرے تو آپ پانچ منٹ تشریف رکھیں، بصورت دیگر یہ ایک ورق میں کتاب سے علیحدہ کر لوں؟ طوعا و کرہا وہ اپنی کتاب کے کوئے یار سے نکلنے اور سوئے دار جانے کے مراحل کو محسوس کرنے کی غرض سے بیٹھ گئے۔ مذکورہ تحریر پر ایک نگاہ ڈالنے کے بعد ان سے عرض کیا کہ آپ کی کتاب کا حسن چُھپ اور قبح چَھپ گیا ہے۔ چَھپنے اور چُھپنے سے یاد آیا کہ میرے ایک شاعر اور فلم ڈایرکٹر دوست زماں حبیب سیرت کو چُھپی ہوئی خوبصورتی اور چہرے کے داغ اور \’چیچک کی طباعت\’ کو چَھپی خوبصورتی کہا کرتے ہیں۔ لیکن میری \’گِری\’ ہوئی کتابوں میں چَھپی ہوئی خوبصورتی ہے یا چُھپی ہوئی؟ اسی پس و پیش میں سحر ہوگئی۔

علی الصبح، بیوی بیدار ہوئی تو میری سرخ آنکھوں کو دیکھ کر شاید اسے کچھ ترس آیا۔ ضروریات سے فارغ ہو کر ایک کپ چائے سے سرفراز کیا تو میں نے بھی موقع غنیمت سمجھتے ہوئے\”وار اینڈ پیس\” سے ایک سوکھا ہوا گلاب نکال کر یہ کہتے ہوئے پیش کر دیا کہ یہ ہماری پہلی ملاقات کی نشانی ہے اس طرح طویل محنت اور جانفشانی کے بعد وار پیس میں تبدیل ہوئی اور \’رس گُلی\’ اپنے رس کو خیر آباد بلکہ رس برباد کر کے خشک اور تر و تازہ ہوکر، \’عرق گلا\’ سے مجھے نہال کر گئی۔ حالانکہ وار اینڈ پیس سے برآمد کیا گیا پھول وہ تھا، جو تصویر والی لڑکی نے چند ناگزیر اسباب کی بنا پر ہماری یعنی موجودہ بیوی اور میری شادی کے ملتوی ہونے پر یہ کہتے ہوئے دیا تھا:

اگر تو کشتہ شدی آہ چہ می کردم من۔

لیکن اب، میں بیٹھا ہوا یہ سوچ رہا ہوں کہ کتابوں کے ایک چھوٹے سے ذخیرہ نے اگر اتنا نقصان پہنچایا تو کثرت مطالعہ کے عادی اور اپنے اپنے گھروں میں بڑی بڑی لائبریری مینٹین کرنے والے احباب مثلا ناصر عباس نیر وغیرہ پر کیا کیا گذرتی ہو گی؟ ایسے احباب کے حضور صرف یہ عرض کرسکتا ہوں کہ:

دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو

(ناصر عباس نیر کی نذر کہ وہ بہت پڑھتے ہیں)

 

Facebook Comments HS

ڈاکٹر محمد آصف زہری

ڈاکٹر محمد آصف زہری، دہلی کی جواہر لال یونیورسٹی میں شعبہ لسانیات سے وابستہ ہیں۔

asif-zahri has 3 posts and counting.See all posts by asif-zahri