گلگت بلتستان ۔ غلط فہمیاں اور خدشات


\"aliگلگت بلتستان کے سیاسی محل وقوع کے متعلق ابہام پایا جاتا ہے کہ یہ پاکستان میں ہے کشمیر میں ہے یا ایک آزاد اور خود مختار اکائی ہے۔ جس طرح آپ سب نہیں جانتے ہیں اسی طرح میں بھی نہیں جانتا کہ میں اس کو کہاں شامل سمجھوں اور کہاں نہیں۔گزشتہ دنوں سی پیک نام کے ڈھول پیٹنے کے بعد ہندوستان کے وزیر اعظم نے بھی اس کا ذکر کرنا شروع کیا تو یہاں پر موجود اہل خیر و شر بھی چوکنا ہو گئے اور اب بارے خبریں اور تیزی سے گردش کر رہی ہیں ۔

ہم نے سوچا کہ کیوں نہ اس علاقے کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں اور خدشات کا احاطہ کرکے آپ کی نذر کریں تاکہ آپ خود فیصلہ کریں کہ غلط کیا ہے صحیح کیا ہے۔

اس خطے کے متعلق یہ غلط فہمی ہے کہ یہاں کے لوگوں نے نظریہ پاکستان یا قائد اعظم کی انگریزی میں کی جانے والی تقریروں سے متاثر ہوکر پاکستان سے الحاق کیا۔ ایسی غلط فہمی پھیلانے والوں میں اس خطے کے آج کل کے پڑھے لکھے لوگ ہیں جو اس دور کے لوگوں کی سیاسی بصارت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش میں ایسا کرتے ہیں۔ دراصل یہ ایک فوجی بغاوت تھی جو گلگت شہر میں موجود گلگت سکاؤٹس کے جونیئر کمیشنڈ افسران اور بونجی میں موجود مہاراجہ کشمیر کی فوج کے مسلمان سپاہیوں اور افسران نے کی تھی۔ گلگت سکاؤٹس کی بغاؤت کے محرکات میں سب سے بڑا محرک مقامی افسران کی انگریزوں کے جانے کے بعد بھی اپنے مراعات کے جاری رہنے یا منقتع ہونے کے بارے میں ابہام اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے چینی تھی جس کے بارے میں یہاں موجود مہاراجہ کشمیر کا نمائندہ گورنر گھنسارا سنگھ ان کو مطمعین نہ کرسکا تھا۔ بقول اس وقت کے نائب صوبیدار اور بعد میں گروپ کیپٹن ریٹائرڑ میر زادہ شاہ خان کے مقامی میروں، راجوں اور دیگر اشرافیہ سے تعلق رکھنے والوں کے بیٹوں کو انگریز سرکار سے مفت میں مراعات ملتی تھیں جس میں پولو کھیلنے کے گھوڑے، سائس اور بغیر کام کے تنخواہ شامل تھی جس کے بند ہونے کا زیادہ احتمال تھا کیونکہ مہاراجہ کے پاس نہ وسائل تھے نہ اس کی ضرورت تھی۔ ایسے میں ایک بے چینی پیدا ہوئی جس کو انگریز کمانڈنٹ میجر ولیم براؤن نے مہاراجہ کے خلاف بغاؤت میں بدل دیا۔ حکومت پاکستان نے میجر براؤن کی ان خدمات کے اعتراف ان کو پاکستان کی آزادی کے پچاسویں سالگرہ پر بعد از مرگ ان کی بیوہ کو تمغہ دیکر کیا۔ انگریز نہیں چاہتے تھے کہ ہندوستان اور اشتراکی روس کا زمینی رابطہ ہو، جب مہاراجہ کشمیر نے ۲۶ اکتوبر ۱۹۴۷ کو ہندوستان کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کیا تو ایک ہفتے کے اندر اندر یکم نومبر کو گلگت میں گھنسارا سنگھ کو رخصت کرکے ان دونوں ملکوں کے درمیان زمینی رابظہ منقتع کیا گیا۔ اگر اس میں دیر کی جاتی اورہندوستان کی ائر فورس حرکت میں آتی تو بقول ہندوستان کے وہ ہیمالیائی غلطی نہ ہو پاتی۔گلگت بلتستان کی پاکستان سے الحاق کی دستاویزات مختلف راجوں اور میروں کی طرف سے بھیجے گئے جن کا کوئی جواب نہ آیا اور پاکستان نے اس علاقے کا انتظام آزاد کشمیر کی اپنی ہی بنائی ہوئی حکومت سے ۱۹۴۹؁میں ایک معاہدے کے تحت حاصل کیا جو ابھی تک چل رہاہے۔ گلگت بلتستان کے لوگوں کو غلط فہمی یہ ہے کہ ان کے راجوں اور میروں کی طرف سے بھیجے گئے الحاق کے کاغذات کو پاکستان نے شرف قبولیت بخشی ہے اور وہ پاکستان کے ایسے ہی شہری ہیں جیسے لاہور، کراچی اور دیگر شہروں کے لوگ۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پاکستان کا حصہ بننے کے لئے سب سے پہلے گلگت بلتستان کا ایک نمائندہ فورم ایسے کسی مطالبے کو متفقہ طور پر منظور کرے گا اور پھر پاکستان کی مقننہ اس کو متفقہ طور پر منظور کرے گی تو تب ایسا ممکن ہے۔ یا پھر ریاست پاکستان کے مقننہ کی منظوری سے یہاں ریفرنڈم ہو اور لوگ براہ راست الحاق کریں۔ ورنہ اس غلط فہمی میں جہاں ستر سال گزرے ہیں وہاں مزید سو سال اور بھی گزر سکتے ہیں۔

پاکستان میں یہ غلط فہمی بہت عام ہے کہ گلگت بلتستان کو پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور میں ۲۰۰۹ کےانتظامی حکم نامے کے تحت صوبہ بنا دیا گیا ہے۔ دراصل یہ انتظامی طرز کا صوبہ ہے یا صوبائی طرز انتظام ہے مگر پاکستان کا صوبہ ہرگز نہیں ہے۔ یہاں دیگر صوبوں کی طرح ایک گورنر، وزیر اعلیٰ، کابینہ اور ذیلی محکمے ضرور ہیں لیکن ان سب کو کوئی قانونی اور آئینی تحفظ حاصل نہیں۔ آج جس طرح ایک انتظامی حکم نامےکے تحت ایک صوبائی ڈھانچہ بنایا گیا ہے کل اسی طرح کے ایک اور حکم نامے کے تحت اس ڈھانچے کو ختم بھی کیا جاسکتا ہے۔ البتہ لوگوں کا ایک دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنا دیا جاۓ ۔ عملاً ایسا ممکن اس لئے نظر نہیں آتا ہے کہ پاکستان پوری ریاست کشمیر کو جو پندرہ اگست ۱۹۴۷ ؁ کو موجود تھا مسئلہ کشمیر کے تناظر میں متنازع سمجھتا ہے اور گلگت بلتستان چونکہ اس تاریخ کو ریاست کا حصہ تھا اسلئے پاکستان اس کو بھی متنازع سمجھتا ہے۔ حکومت پاکستان کا اقوام متحدہ میں اپنا موقف ہے کہ ریاست کے کسی بھی حصے کی حیثیت اس مسئلے کے آخری حل تک کسی بھی فریق کو تبدیل کرنے کا اختیار نہیں۔ ایسے میں پاکستان بحیثیت فریق گلگت بلتستان کی حیثیت کو تبدیل کرکے اپنا صوبہ کیسے بنا سکتا ہے؟ ان حقائق کی روشنی میں صوبے والی غلط فہمی کو دور کرنا لازمی ہے۔

اب کچھ خدشات کا بھی ذکر ہو جن سے آۓ دن ہمارا واسطہ پڑتا ہے۔ پہلا خدشہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں پاکستان سے علیحدگی کی ایک منظم تحریک چل رہی ہے یا کچھ ایک سے زیادہ تحریکیں چل رہی ہیں۔ ایک نام بھی لیا جاتا ہے ۔ دراصل یہ ایک علمی بحث تھی جو اس نام کےخالق نے شروع کی تھی جو بعد میں ایک سیاسی مکالمہ بن گیا۔ جب یہ مکالمہ ایک سیاسی تنظیم کی شکل اختیار کرنے لگا تو اس مکالمہ کے ماننے والے ایک صاحب یورپ چلے گئے جہاں سے اس نے اس نام کے خالق سے ہی اختلاف کیا اور اپنی ایک ٹولی بنائی۔ اب ان پر پاکستان کی ایجنسیوں کا الزام یہ ہے کہ وہ ہندوستان کی ایجنسیوں کے لیے پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کرتے ہیں۔ کام کیا کرتے ہیں اس کی تفصیل کبھی بھی نہیں بتائی گئی لیکن ان صاحب کی باتوں سے پتہ چلتاہے کہ وہ ان کو بھی چونا ہی لگا رہے ہیں۔ ایک اور صاحب ہیں جو پاکستان کے ایک سابق بیوروکریٹ کے صاحب زادے ہیں ۔ وہ امریکہ میں مقیم ہیں اور وہاں سے کبھی کبھار کسی موضوع پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ حضرات بھی اپنی ایک راۓ رکھتے ہیں لیکن ان کا سیاسی عمل دخل بالکل بھی نہیں ہے۔ گلگت بلتستان میں چند لوگ انفرادی طور پر یا ان کے قریبی عزیز و اقارب اپنے بیرون ملک مقیم رشتہ داروں کے ہاں میں ہاں تو ملاتے ہیں لیکن یہاں کسی قسم کی علیحدگی کی تحریک کا عوامی سطح پر کوئی وجود نہیں۔  نہ ان صاحبان کا تنظیمی ڈھانچہ ہے نہ ہی ان کی کوئی خاص کارکردگی جس سے ان کی مقبولیت کا اندازہ ہوسکے۔

پاکستان میں اس خطے کے بارے میں سب سے زیادہ پائی جانے والے خدشات میں یہاں پر ایک اسمعٰیلی یا آغا خانی یا آغاخان کی ریاست کے منصوبے یا سازش کی ہے۔ اس بارے میں سب سے زیادہ اسی کی دہائی میں کراچی سے چھپنے والے رسالے ہفتہ وار تکبیر میں  لکھا گیا۔ پاکستان کے پڑھے لکھے اور بالخصوص دائیں بازو کے دانشور اس بات کو دل سے مانتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں ایک اسمعٰیلی ریاست کے قیام کی سازش ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں آغا خان کے ترقیاتی اداروں کی موجودگی ، ان اداروں کے تحت کام کرنے والے لوگ، ہیلی کاپٹر وغیرہ وغیرہ کو ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو ہمارے ہاں پڑھے لکھے اور خاص طور پر اردو اخبارات اور جرائد پڑھنے والے قبول کرتے ہیں۔ اس سلسلے کی آخری بحث قومی ابلاغ عامہ پر آغا خان ا یجوکیشن بورڈ کے قیام کو لیکر ہوئی جس میں جماعت اسلامی نے اس الزام کے علاوہ بھی بہت کچھ کہا اور ملک بھر میں مظاہرے بھی کئے۔ عملاً چونکہ اس خدشے کا بھی کوئی ثبوت سامنے نہیں لایا جا سکا ہے اس لئے اس امکان کو بھی رد کیا سکتا ہے کہ آغا خان خود یا ان کی شہ پر کسی قسم کی تحریک کا امکان موجود ہے۔ اگر ایسی کوئی سازش ہے یا خدشہ ہے تو پاکستان کے با اختیار لوگوں کو چاہیے کہ وہ آغاخان سےبراہ راست بات کریں نہ کہ ایسی باتوں کو جواز بناکران کے ماننے والے غریب لوگوں کا گھیرا تنگ کیا جاۓ۔ آغا خان کے ریاست کے بیانیہ کی بنیاد پر چترال اور غذر میں جو واقعات رونما ہوۓ ہیں وہ انتہائی افسوسناک ہیں جہاں طالبان نے براہ راست حملے شروع کئے ہیں۔

گلگت بلتستان کے لوگوں میں صرف ایک ہی تحریک ہے وہ ہے برابری کے شہری حقوق کی تحریک۔ یہاں کے لوگ چاہتے ہیں کہ ان کو پاکستان کے دیگر شہروں اور صوبوں میں رہنے والے لوگوں کے برابر کے حقوق ملیں۔ ان کے عدالتی، قانونی، معاشی، معاشرتی اور سماجی برابری کے مطالبے کو غداری کہنا انتہائی ظلم ہے اور یہ ظلم اگر جاری رہا تو اس کے نتائج برعکس بھی نکل سکتے ہیں۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں کے لوگوں بنیادی انسانی حقوق دینے اور ان کو دوسروں کے برابر لانے کے لئے قابل عمل راہ تلاش کی جاۓ۔

Facebook Comments HS

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 289 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan

6 thoughts on “گلگت بلتستان ۔ غلط فہمیاں اور خدشات

  • 06/10/2016 at 10:55 صبح
    Permalink

    آغاخان نے ان فضول پہاڑوں میں ریاست بنا کر کیا حاصل کرنا ہے۔ ان کے پیروکاروں کی ایک بہت بڑی تعداد شمالی امریکہ اور یورپ میں ہے۔ اسی لئے پرتگال میں انہوں نے اپنی جماعتی سرگرمیوں کے لئے جگہ خرید لی ہے۔ آغا خان گوادر خرید کر پاکستان کو نہیں دیتا تو آج اقتصادی راہداری کی بڑھکیں مارنے والوں کے لب خاموش ہوتے۔ پاکستان ایک محسن کش قوم ہے۔ انہوں نے اپنے ساتھ اچھا کرنے والوں کو ہمیشہ دھتکارا ہے اور لٹیروں کو اپنا قائد تسلیم کیا ہے۔

    علی احمد جان اٹینشن سیکنگ ڈس آرڈر کا شکار ہے۔ سستی شراب کے نشے میں دھت ہو کر یہ بھی بائیں بازو کا جماعت اسلامی بن جاتا ہے۔

    • 06/10/2016 at 12:05 شام
      Permalink

      Bahi Jan. is baat me koi shak nahi hai ki Karachi se chapne wale risala TAkbeer me is k baarey me bahut muwaad shaya ho raha tha. Me ye nahi kehta k Aga Khan Yahan pe koi state bana rahe hain. Ye me b janta hun k sab jhoot hai laiken logo k liye ye baat kabil gor ho gai thi k waqi me aisa to nahi hai. Isliye ye risale aur jariday chapey ja rahe the. Iski ek waja ye b ho sakti thi k yahan pe huqooq k liye awaz uthne walun ki aksairyat Aga Khaniyun ki thi aur doosrey mahzab k manne walun ko ye samjaya jja raha ho k agar aisa huwa to Aga Khani State ban jayega, aur is tarah logo ko huqooq k is jedo jehed me piche rakhna tha. Me ne khud kai tehreeron ko 2000 in risalun k andar padha hai.

  • 06/10/2016 at 1:55 شام
    Permalink

    خان اچکزئی صاحب
    خوشی ہوئی کہ ایک اچکزئی کو گلگت اور آغا خان صاحب میں دلچسپی لیتے دیکھ کر۔ میں نے بھی انتہائی سلیس اردو میں یہی کہا ہے کہ ایسی بات نظر نہیں آتی اگر ایسی کوئی بات ہے بھی تو اس کا تعلق ریاست کے اداروں سے ہے عوام کو تنگ نہ کیا جاۓ۔ میرے نزدیک یہ سب سے بڑی غلط فہمی ہے جوموجود ہے۔
    رہی بات آپ کے کمنٹس کے آخری لائن کی تو میں کیا جواب دوں ایسے شخص کو جس کو اپنا چہرہ دیکھانے کی بھی جرات نہیں۔

  • 06/10/2016 at 2:35 شام
    Permalink

    Nice article kako, you have covered all slants specially revealing myths about GB history-the separation moments from Pakistan and Ismailee state. Do one thing, don’t be so defensive let people to comment, the trend shows that majority of readers are supporting your ideas, if someone disagree, your supports are replying on your behalf

  • 07/10/2016 at 12:05 صبح
    Permalink

    Jinab bahisyat gilgit baltistan k ek shehri k mey ap ko bata dung ki gilgit baltistan ki azadi khalis islami bazryati bunyad par larhi gai thi yahi wajah he ki hum ny baghair kisi sharat k pak fovt ko alhaq ka khat likha. Magr is k baad pak govt ki tarf sey jo kotahian hui. Woh ek alag kahani he aur aapsey kisi tak had mutafiq hung.hamara mutaliba bilkul yahi hey ki hamein pakistan mey barabar ki shehriyat qoumi idaron mey numaindgi aur taleemi mawaqe frahm kia jae

  • 19/09/2022 at 2:11 شام
    Permalink

    ریاستیں ایک دو دنوں میں نہیں بنتیں۔ اسکے لیے منظم منصوبہ بندی اور مسلسل تحریک کی ضرورت ھوتی ہے جو کہ اس خطے میں جاری ہے بلکہ اپنے آخری مراحل میں ھے۔ باقی آغاخانیوں پر نہ کسی نے حملہ کیا ہے اور نہ ہی وہ مظلوم ہیں۔ آپ کا یہ پروپیگنڈہ صرف انسے ہمدردی پیدا کرنے اور آغاخان سٹیٹ کیخلاف مزاحم قوتوں کو دھوکے میں رکھ کر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش ھے۔

Comments are closed.