تبدیلی کا تبادلہ!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عرصہ بعید سے تھوڑا قریب بلکہ عن قریب کی بات ہے کہ ایک ملک تھا ناپرساں، اس کو ناپرساں اس لئے کہا جاتا تھا کہ یہاں کوئی بھی کسی کا پرسانِ حال نہ تھا یہاں تک کہ جس شیر نے بکری کے ساتھ ایک گھاٹ پر پانی پینا تھا خود گھاٹ گھاٹ کا پانی پی کر اندر ہو چکا تھا جبکہ بکری بے چاری ٹینکر کا پانی پیتی اور مرغیاں انڈے گنا کرتی تھی کرنا خدا کا یہ ہوا کہ اس ملک نا پرساں میں اچانک تبدیلی کی ہاہا کار مچ گئی اسی تبدیلی کے زیرِاثر سبزی والے نے بھی ٹینڈے مہنگے کر دیے تھے یہاں تک کہ رنگ گورا کرنے والی کریم کا ریٹ بھی ڈبل ہو گیا تھا جس کی وجہ سے خواتین اور کھسروں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی تھی۔

اسی ملک کے ایک بہت بڑے صاحب جنہیں ملک و قوم کا غم کھائے جا رہا تھا اپنے آفس میں بیٹھے فیس بک پر بابا کی لاڈلی اور ماما کی پرنسس نمبر 1 سے گپ شپ لگا رہے تھے اس کے ساتھ ساتھ آپ جناب اس فکر میں بھی ڈوبے ہوئے تھے کہ اس تبدیلی میں وہ کس طرح سے حصہ ڈالیں؟ یہ خیال آتے ہی پہلے تو ان کا دھیان بڑے لوگوں کی طرف گیا لیکن پھر جلد ہی انگور کھٹے ہیں کہہ کر اس آئیڈیا کو مسترد کر دیا۔ پھر اچانک ان کا دھیان عضو ضعیف مطلب چھوٹے سٹاف کی طرف چلا گیا یہ سوچ آتے ہی انہوں نے پھر نہیں سوچا کیونکہ ان کا اعلیٰ دماغ یہی کہہ رہا تھا کہ یہ غازی یہ میرے (ان کی نظر میں ) بے کار بندے جو دفتر میں بیٹھے آم توڑتے ہیں کیوں نہ ان کو اُٹھا کر ادھر سے ادھر کر دیا جائے۔ مطلب ادھر کا مال ادھر کر کے اسے تبدیلی کا نام دیا جائے۔

یہ سوچ آتے ہی انہوں نے مزید سوچنے کی زحمت کیے بغیر تبادلوں کا ایسا جھکڑ چلایا کہ لوگ باگ آندھی میں اڑنے والے خالی شاپنگ بیگز کی طرح کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا۔

اس طوفان میں اُڑتے ہوئے ایک شاپر نے دوسرے شاپر سے سوال کیا کہ فرض کرو اس طرح کی تبدیلی اگر برازیل میں آتی تو کیا ہونا تھا؟ تو دوسرا شاپر جواب دیتے ہوئے بولا میرے خیال میں ایسی تبدیلی سے برازیل نے بڑا ذلیل ہونا تھا اتنا کہہ کر وہ شاپر دھم سے زمین پر آ گرا۔ اگلے دن اس شاپر نے لکس صابن سے منہ دھویا اور اپنے نئے دفتر کی طرف روانہ ہو گیا۔ اتفاق سے آفس کا گیٹ کھلا ہوا تھا اس لئے وہ بے دھڑک اندر داخل ہو گیا اسے یوں دفتر میں داخل ہوتے دیکھ کر آفس گارڈ دوڑتا ہوا آیا اور اس کو روک کر بولا۔

 او ئے پوڈری! یہ منہ اُٹھا ئے کدھر جا رہے ہو؟ نشہ چھڑانے والا ہسپتال ساتھ والی گلی میں واقعہ ہے گارڈ کی جھاڑ سن کر وہ شاپر ذرا بے مزہ نہ ہوا ( شادی شدہ جو تھا) بلکہ دل ہی دل میں سوچنے لگا یقیناً اسے یہاں بھی گھر جیسا ماحول ملے گا پھر بڑے گارڈ کو مخاطب کرتے ہوئے عاجزی سے بولا جناب میں پوڈری نہیں بلکہ میرا ادھر تبادلہ ہو گیا ہے اس پر گارڈ برا سا منہ بنا کر بڑبڑایا شکل سے تو جناب مفت دوائی لینے والے لگتے ہیں اس کے ساتھ ہی گارڈ اسے لے کر آفس میں چلا گیا وہاں بیٹھے کلرک بادشاہ نے ایک نظر اس بندے کی طرف دیکھا پھر دل ہی دل میں کہنے لگا۔ اللہ خیر کرے ہمارے محکمے پر بھی کیسا وقت آن پڑا ہے۔

ایک اور شاپر ہاتھ میں دوائیوں کا تھیلا پکڑے بے جان قدموں سے بجانب آفس چلا جا رہا تھا بے چارے کی شکل دیکھ کر ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے ابھی رو دے گا۔ ایک اور صاحب تبادے کا نام سن کر اتنے پریشان ہوئے کہ جیسے چرس پیتے ہوئے پکڑے گئے ہوں۔ بے شک ان میں سے کچھ احباب ایسے بھی تھے کہ جن کے بارے میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ کبڑے کو لات راس آ گئی تھی۔ لیکن بہت زیادہ تعداد ایسے لوگوں پر مشتمل تھی کہ جو اس ٹرانسفر پوسٹنگ سے بہت خوار ہوئے تھے۔ ایک اور پردیسی شاپر جب چوتھی دفعہ آفس کے آگے سے گزرے تو گارڈ نے انہیں روک کر پوچھا کہ حضور آپ کو کیا ہوا؟ تو وہ کہنے لگے یار مجھے اپنا آفس نہیں مل رہا اس پر گارڈ جواب دیتے ہوئے بولا۔ کہ سر آپ آفس کے سامنے ہی تو کھڑے ہیں تو وہ سٹپٹاتے ہوئے بولے لیکن کل تو کہیں اور واقعہ تھا۔

ایک اور شاپر سوری بندے سے ملاقات ہوئی جس نے تبادلے کی اطلاع سنتے ہی بطورِ احتجاج اپنی ٹنڈ کروا لی تھی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ حضور آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولے اس کے علاوہ میں اور کر بھی کیا سکتا تھا؟ اس کے بعد انہوں نے محکمے کے لئے اپنی خدمات گنوانی شروع کر دیں اور اتنی زیادہ گنوائیں کہ کہانی سننے والے کی بنا استرے کے ہی ٹنڈ ہو گئی۔ اعلیٰ حضرت محکمے کے لئے اپنی طویل خدمات گنوانے کے بعد بولے افسوس کہ محکمے والوں نے میرے ساتھ وفا نہیں کی پھر کہنے لگے مجھ جیسے کام کا آدمی انہیں ڈھونڈے سے بھی نہ ملے گا پھر آنکھوں میں آنسو بھر کے بولے صد حیف کہ اس تبدیلی نے مجھے ایسی جگہ لا پھینکا ہے کہ جہاں سے نسوار بھی پونے دو کلو میٹر دور سے ملتی ہے اس کے بعد انہوں نے ایک ایسی سرد آہ بھری کہ جس سے آس پاس بیٹھے لوگوں کو زکام ہو گیا اور پھر محکمے کو یاد کر کے چول مارتے ہوئے بولے اگر بے وفاؤں کے سر پر سینگ ہوتے تو میرے محبوب نے بارہ سنگھا ہونا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شاہد مجید جعفری کی دیگر تحریریں
شاہد مجید جعفری کی دیگر تحریریں