نیم دانشور کا سستا منہ اور مہنگا ماسک

خواتین و حضرات یہاں دیکھوں وہاں دیکھوں جہاں دیکھوں میں کیا دیکھوں کہ ہر کس و نا کس۔ یہاں تک کہ بے کس نے بھی اپنے منہ کو رنگ برنگ کپڑوں سے ڈھانپ رکھا ہے۔ اب تو نوبت ایں جا رسید کہ بعض خواتین نے کپڑوں کے ساتھ ساتھ میچنگ ماسک بھی پہننا شروع کر دیے ہیں۔ مارکیٹ میں مہنگے سستے ہر قسم کے ماسک موجود ہیں۔ آہستہ آہستہ ماسک سٹیٹس سمبل بنتا جا رہا ہے معاشرے میں مہنگے ماسک

Read more

تبدیلی کا تبادلہ!

عرصہ بعید سے تھوڑا قریب بلکہ عن قریب کی بات ہے کہ ایک ملک تھا ناپرساں، اس کو ناپرساں اس لئے کہا جاتا تھا کہ یہاں کوئی بھی کسی کا پرسانِ حال نہ تھا یہاں تک کہ جس شیر نے بکری کے ساتھ ایک گھاٹ پر پانی پینا تھا خود گھاٹ گھاٹ کا پانی پی کر اندر ہو چکا تھا جبکہ بکری بے چاری ٹینکر کا پانی پیتی اور مرغیاں انڈے گنا کرتی تھی کرنا خدا کا یہ ہوا کہ

Read more

پارلیمنٹ ہاؤس، دیوار ِ گریہ اور ” حضرت مولانا “

  قصہ منقول ہے کہ ایک دن پارلیمنٹ ہاؤس کے سکیورٹی گارڈ نے اپنےچیف کو اطلاع دی کہ رات کی تاریکی میں جب یہ علاقہ مشعلِ افرنگ سے بقعہ نور بنا ہوتا ہے تو ایسے میں ایک مردِ با ریش شائبہ درویش جس نے چہرے کو چار خانے کے عمامے سے ڈھانپا ہوتا ہے شکل اس کی جی کو جلاتی ہے اور نگہ بلند نہیں، تنگ نظر آتی ہے، گاہے چلا آتا ہے جان ہماری کو آن کھاتا ہے وہ

Read more