آٹو انڈسٹری کا جنازہ تیار ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے استاد اسد امانت علی خان مرحوم کی خواجہ غلام فرید ؒ کی گائی ہوئی ”کافی“ بہت پسند ہے، اوچیاں لمبیاں لال کجھوراں، اس کا ایک مصرعہ تو میں اکثر سنتا اور گنگناتا رہتا ہوں

عزرائیل آیا تے لین سسی دی جان
جان سسی چ نظر نئی آندی او تے لے گیا کیچ دا خان
قسم قرآن اے

جب سے میانوالی کا ”خان“ حکومت میں آیا ہے اس نے تو کیچ کے خان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے جس نے پوری قوم کی ہی جان نکال کر رکھ دی ہے، اب عزرائیل کسی بھی پاکستانی کی جان لینے آتا ہے تو اس کو اس میں جان ہی نظر نہیں آتی ہوگی کیونکہ صرف ایک سال میں ہی میانوالی کے ”خان“ نے 22 کروڑ عوام میں جان رہنے ہی نہیں دی۔

جب سے میانوالی کے ”خان“ کا ”سبز قدم“ حکومت میں پڑا ہے ہر طرف تباہی ہی لایا ہے، ہر کاروبار رفتہ رفتہ بند ہونے کے قر یب پہنچ چکا ہے۔ پاکستان میں دو شعبے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو روزگار فراہم کررہے تھے، ان میں سے ایک پراپرٹی کا روبار تھا اور دوسرا آٹو انڈسٹری کا۔ پراپرٹی کا کاروبار بھی آخری سانسیں لے رہا ہے جبکہ آٹو انڈسٹری بند ہونے کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ ملک بھر میں لاکھوں افراد آٹو انڈسٹری سے وابستہ تھے، حکومت کو آٹو انڈسٹری سے ٹیکس کی مد میں اربوں روپے مل رہے تھے مگر حکومت کی پالیسیوں نے آٹو انڈسٹری کا بھٹہ بٹھا دیا ہے۔

ہرگاڑی کی فروخت پر حکومت کو ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں اربوں روپے کی آمدن ہورہی تھی، یہ ایسی آمدن تھی جس میں حکومت کو کوئی خرچہ نہیں ہوتا تھا بلکہ ٹیکس ہی ملتا تھا۔ 1300 سی سی گاڑی پر فائلر پر ود ہولڈنگ ٹیکس 50 ہزار ہے تو نان فائلر پر ڈیڑھ لاکھ روپے ہے، یہی حساب چھوٹی گاڑیوں کا ہے۔ گاڑیوں کی فروخت سے حکومت اربوں روپے گھر بیٹھے مفت میں پیسے بٹور رہی تھی۔ پھر حکومت نے پہلے نان فائلر کے لئے گاڑی خریدنے پر پابندی لگائی بعد میں اسے ختم کردیا گیا۔ اس کے بعد بجٹ میں ایک ہزار سی سی اور اس سے بڑی سی سی گاڑیوں پر ڈھائی، پانچ اور سات فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کردی۔ رہی سہی کسر ڈالر نے پوری کردی جو کہ میانوالی کے خان کی حکومت آتے ہی آسمان پر چڑھ گیا اور اب تک بلندیوں پر کھڑا ہے جس کے نیچے آنے کے آثار بھی نظر نہیں آرہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک کے بڑے کار مینوفیکچرنگ پلانٹس نے جزوی بندش کا آغاز کر دیا ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق ہنڈا، ٹویوٹا اور ان کے وینڈرز نے کم و بیش 5 ہزار کے لگ بھگ ملازمین جبکہ تجارتی بینکوں نے کم و بیش ڈھائی ہزار کار فنانسنگ سٹاف فارغ کر دیا ہے یا کیا جا رہا ہے۔ ہنڈا، ٹویوٹا نے اپنی پروڈکشن 40 سے 60 فیصد کم کردی ہے۔ ہنڈا اور ٹویوٹا کے پاس بالترتیب 3 ہزار اور 5 ہزار کے لگ بھگ تیار گاڑیاں کھڑی ہیں جس کی وجہ سے انڈس موٹرز ٹیوٹا نے پندرہ روز کے لئے پلانٹ بند کردیا ہے جبکہ اطلاعات ہیں کہ ہنڈا کمپنی اپنا پلانٹ ہفتہ میں دو دن بند رکھتی ہے۔

جو کار پہلے 25 ہزار ڈالرز کی تھی آج بھی 25 ہزار ڈالر کی ہی ہے مگر پہلے وہ پاکستانی کرنسی میں 27 لاکھ کی مل جاتی تھی مگر اب اس کی قیمت 40 لاکھ روپے تک چلی گئی ہے۔ حکومت نے ایک زیادتی یہ بھی کی کہ پہلے کہا گیا کہ 1800 سی سی سے بڑی گاڑی پر دس فیصد ایف ای ڈی لگارہے ہیں مگر پھر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 1700 سی سی پر عائد کردی گئی جس سے ہنڈا سوک کی قیمت یک دم تین لاکھ چالیس ہزار روپے بڑھ گئی۔

ڈیلروں کا خدشہ ہے کہ آٹو انڈسٹری کا بحران 31 دسمبر 2019 ءتک ختم نہ ہو پائے گا بلکہ یہ 2020 ءمیں بھی جاری رہے گا اور 2021 ءمیں بھی جا سکتا ہے۔ آٹوموبیل انڈسٹری کے ملکی پلانٹ بند ہونے کی صورت میں مزید ہزاروں خاندان بیروزگاری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ان حالات میں آٹو انڈسٹری کا زندہ رہنا بہت مشکل لگ رہا ہے۔ آٹو انڈسٹری کی تباہی کی وجہ حکومت پالیسیاں ہیں، قیمتوں میں ہوشربا اضافہ یقینا گاڑیوں کی فروخت پر اثرانداز ہوا ہے مگر سب سے زیادہ نقصان ایف بی آر نے آٹو انڈسٹری کو پہنچایا۔ ایف بی آر نے نئے قوانین لاگو کیے کہ جو شخص 20 لاکھ یا اس سے زائد کی گاڑی یا جائیداد خریدے گا وہ ایف بی آر میں فوری ریٹرن جمع کرائے گا ورنہ سسٹم اس شخص کو ازخود نوٹس جاری کردے گا یہ وہ خوف ہے کہ گاڑیوں کی فروخت میں کمی کا اہم باعث بنا۔

ایسے ایسے شوقین افراد بھی ہیں جو ہر نیا آنے والا ماڈل سب سے پہلے خریدتے تھے، بعض تو 6 ماہ بعد ہی گاڑی تبدیل کرلیتے تھے۔ مگر ایف بی آر کی اس شرط نے سب کو محتاط کردیا۔ لوگوں کے پاس پیسہ بہت ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کروڑوں کی تعداد میں لوگ ٹیکس نیٹ میں نہیں آنا چاہتے، اس لئے اب لوگ نئی گاڑیاں نہیں خرید رہے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ گاڑی خرید کرایف بی آر کے شکنجے میں آجائیں۔ یہی حال دوسرے کاروبار میں ہے جس کی وجہ سے لوگوں نے پیسہ دبا لیا ہے اور معیشت کی گاڑی رینگنے لگی ہے۔

حکومت اگر آٹوانڈسٹری کو بندش اور لاکھوں افراد کو بیروزگاری سے بچانا چاہتی ہے تو اسے فوری طور پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنا ہوگی، سپیئر پارٹس پر عائد ڈیوٹی پر مناسب رعایت دینا ہوگی تاکہ گاڑیوں کی قیمت کچھ کم ہو اور لوگ انہیں خرید سکیں اور ایف بی آر کی جانب سے بھی رعایت دی جائے تاکہ لوگ اپنا سرمایہ مارکیٹ میں پھینکیں اور کاروبار زندگی بحال ہو۔

آٹوانڈسٹری آخری سانسیں لے رہی ہے۔ میانوالی کے خان صاحب نے اگر یہ ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے تورواں سال ہی آٹو انڈسٹری بند ہوجائے گی۔ آٹو انڈسٹری کا جنازہ تیار ہے اور اس کی تدفین کا اعزاز بھی میانوالی کے خان کو دینا چاہیے کیونکہ میانوالی کا خان تو کیچ کے خان سے بھی بڑا ظالم ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •