دو گاڑیوں کا ایک ڈرائیور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشہور مقولہ ہے کہ ”دو کشتیوں کا مسافر ڈوب جاتا ہے“۔ دو کشتیوں کا مسافر ڈوبتے تو دیکھا ہوگا مگر دو گاڑیوں کا ایک ڈرائیور شاید ہی کسی نے دیکھا ہو۔ دو گاڑیوں کا ڈرائیور کون ہے اس سے پہلے چند سیاسی خبروں پر تبصرہ ہوجائے۔ پہلی سیاسی خبر عمران خان صاحب نے سادگی کی اعلی مثال قائم کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے ساتھ دوستی کی بھی شاندار مثال قائم کردی ہے۔ سعودی ولی عہد نے غریب ملک کے عظیم لیڈر کو اپنا ذاتی جہاز عطا کرکے بھارت کو سیدھے ہاتھ کی دکھا کر الٹے ہاتھ کی ماری ہے۔

یہ سب ایسے ہی ممکن نہیں ہوا ہمارے وزیر خارجہ قریشی صاحب کی دن رات کی محنت اور پسینے کے بعد ممکن ہوا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ سعودی عرب کے تیل کے ذخائر پر حالیہ حملے کے بعد عمران خان نے سعودی عرب کو اپنی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی تھی۔ دوسری سیاسی خبر بلوچستان میں بی این پی مینگل کا کامیاب جلسہ ہے۔ بی این پی مینگل نے کوئٹہ ہاکی گراؤنڈ میں کامیاب جلسہ کرکے حکومت کو واضح پیغام دیا۔ واضح پیغام کیا تھا، نہیں معلوم۔ کون سی حکومت کو دیا گیا، نہیں معلوم۔ بی این پی مینگل کے اس کامیاب جلسہ سے ایک بات ضرور سمجھ آئی ہے وہ یہ کہ بی این پی کی موجودہ سیاست دو گاڑیوں کے ایک ڈرائیور جیسی ہے۔ نہیں سمجھ آیا ناں! آئیے سمجھتے ہیں۔

قارئین سوچ رہے ہوں گے کہ دو گاڑیوں کے ایک ڈرائیور کا بی این پی سے کیا لینا دینا۔ بی این پی کا یقیناً بہت گہرا تعلق ہے۔ ویسے تو بلوچستان کے بہتر سالہ سیاسی دور ( معذرت ) پچاس سالہ سیاسی دور پر نظر دوڑائی جائے تو سارے کا سارا دو گاڑیوں کے ایک ڈرائیور پر مشتمل ہے۔ ویسے کہا جاتا ہے بلوچستان کی سیاست بہت پیچیدہ ہوا کرتی ہے جو آسانی سے سمجھ نہیں آتی۔ مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ بلوچستان میں اگر سیاست کی ہی نفی کی جائے تو غلط نہیں ہوگا۔

بلوچستان میں سیاست سے زیادہ عنایت (سلیکشن) ہوتی ہے جہاں عنایت (سلیکشن) ہو وہاں سیاست کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر فرض کیا جائے کہ بلوچستان میں بھی سیاست ہوتی رہی ہے اور ہورہی ہے تو پھر اس مفروضے کو دو گاڑیوں کا ایک ڈرائیور ہی نام دیا جاسکتا ہے۔ خیر ماضی کے دریچوں میں جھانکنے کا کیا فائدہ اب تو حال کی حالت بھی مختلف نہیں رہی۔ آپ بی این پی مینگل کی سیاست کو ہی دیکھ لیں۔ کل ہی کوئٹہ میں کامیاب جلسہ کیا ہے مگر جلسہ کرنے کا مقصد کیا تھا حکومت یا اپوزیشن؟

بی این پی وفاق میں حکومت کی اتحادی ہے اور بلوچستان میں اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے بلوچستان میں باپ کی حکومت ہے جو وفاق کی مکمل حمایتی ہے بلکہ بلوچستان عوامی پارٹی وفاق میں بھی پی ٹی آئی حکومت کی شدید حمایتی جماعت ہے۔ بی این پی وفاق میں اتحادی جماعت ہوکر وفاقی حکومت کی اتحادی جماعت کی صوبائی حکومت پر تنقید کر رہی ہے۔ سردار مینگل صاحب نے ہاکی گراؤنڈ میں بہت اعلی تقریر کی۔

اختر صاحب کی تقاریر بھی عمران خان کی تقاریر سے بہت مشابہت رکھتی ہیں۔ جیسے خان صاحب جب بھی بیرون ممالک دوروں پر جاتے ہیں تو اپنی حکومت کی پالیسیاں اور کاکردگی بیان کرنے کے بجائے نواز شریف اور زرداری کو نہیں چھوڑوں گا کی باتیں کرکے آتے ہیں بالکل یہی صورتحال اختر مینگل صاحب کی ہے۔ وفاق میں حکومت کے اتحادی ہیں اور بلوچستان میں جلسہ کرکے وہی پرانی باتیں دہرا رہے ہیں کہ چار ووٹوں کے عوض چار ماؤں کے آنسوؤں خریدے ہیں۔ اگر یہ سودا ہے تو یہ سودا میں ہمیشہ کرتا رہوں گا۔ یہ سودا میرے بڑے بھی کرتے آئے ہیں اور میری نسلیں بھی کیا کریں گی۔

اختر صاحب کا مطالبہ ہے کہ لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔ یہ مطالبہ وفاق سے کرنا چاہیے یا صوبائی حکومت سے؟ یقیناً پہلے وفاق سے کرنا چاہیے کیونکہ جن اداروں پر الزام ہے وہ وفاق کے ماتحت ادارے ہیں نہ کہ صوبائی حکومتوں کے۔ پھر بلوچستان میں جلسہ کرکے یہ مطالبہ کس سے کیا جارہا ہے؟ جبکہ وفاق میں تو اختر صاحب خود حکومت کے اتحادی ہیں۔ حکومت کے اتحادی تو جوابدہ ہوتے ہیں نہ کہ مطالبات کرتے ہیں۔

دو گاڑیوں کے ایک ڈرائیور کی مزید وضاحت کی جائے تو مینگل صاحب وفاق میں حکومت کے اتحادی ہیں مگر کوئی وزارت بھی نہیں لیتے۔ کیونکہ وزارت لے لی تو کام کرنا پڑے گا اور ایسی وزارت کے لئے بلوچستان والوں کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔ مگر وفاق میں حکومت کے اتحادی ہونے کا مطلب حکومت سے اپنے معاہدوں پر عمل کرانا مقصود ہے۔ اس اتحاد کی دلیل چھ نکاتی معاہدہ پر عملداری ہے مگر معاہدہ کی مدت کیا ہے شاید کسی کو معلوم نہیں۔

اگر وفاق میں حکومت کا اتحادی رہ کر وزارت نہیں لینی اور احتجاج ہی کرنا ہے تو پھر احتجاج کے لئے اپوزیش بہترین آپشن تھا۔ اب تو شاید پورے پانچ سال اس معاہدے پر امیدیں لگائے ہی گزارنا پڑیں گے۔ یا پھر حکومت کی مدت مکمل ہونے سے پہلے ہی وفاق میں حکومت سے علیحدگی کا اعلان کرکے ایک مرتبہ پھر اسی نعرے پر الیکشن میں اترنا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ لاپتہ افراد کا ایشو واقعی انتہائی سنجیدہ ایشو ہے۔ جس پر وفاق، صوبے اور اداروں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

مگر جو لاپتہ نہیں ہیں ان کے بنیادی مسائل حل کون کرے گا؟ وفاق میں حکومت کا اتحادی ہونے کا فائدہ تو ہونا چاہیے تھا۔ کم از کم جو ابھی تک لاپتہ نہیں ہیں ان لوگوں کے جینے کا سامان تو مہیا کیا جا سکتا تھا۔ جبکہ مینگل صاحب ایک ہی وقت میں دو گاڑیوں کو چلا رہے ہیں۔ ایک گاڑی وفاق میں حکومت کی صورت میں چلائی جا رہی ہے تو دوسری گاڑی صوبے میں اپوزیشن کی صورت میں۔ دیکھنا یہ ہے کہ دو گاڑیوں کا ایک ڈرائیور منزل پر پہنچ پاتا ہے کہ نہیں۔

کیا اپنی کمال مہارت سے دونوں گاڑیوں کے مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچا پائے گا بھی کہ نہیں۔ اگر خدانخواستہ مسافروں کا ڈرائیور سے اعتماد اٹھ گیا تو پھر کیا بنے گا؟ ویسے ایک ڈرائیور کا دو گاڑیاں چلانا بھی بذات خود بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جبکہ مینگل صاحب چلا رہے ہیں وہ بھی ایک ہی وقت میں۔ جب حکومتیں اپنی پانچ سالہ مدت پوری کر رہی ہوں گی تو عوام کے سامنے اپنی کارکردگی پیش کر رہی ہوں گی۔ جو جماعتیں حکومت میں ہیں وہ اپنے ترقیاتی منصوبوں کے تکمیل کی فہرست اور اپنی حکومت کی بہترین کاکردگی عوام کے سامنے پیش کر رہی ہوں گی۔

جبکہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کی ناکام پالیسیوں اور کمزوریوں سے عوام کو آگاہ کر رہی ہوں گی۔ مگر اس وقت ایک ایسی جماعت بھی ہوگی جو حکومت اور اپوزیشن دونوں کا کام کر رہی ہوگی۔ ایک ہی جلسہ میں حکومت پر تنقید بھی کر رہی ہوگی اور اپنے اتحادی ہونے کی وضاحت بھی دے رہی ہوگی۔ اس وقت بلوچستان کے لوگ سمجھ جائیں گے کہ دو گاڑیوں کا ایک ڈرائیور کوئی اور نہیں بی این پی ہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •