رانگ نمبر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انگریزی زبان کا ایک محاورہ ہے ”two wrongs never make one right“ یعنی دو غلطیاں کبھی بھی ایک صحیح کی صورت میں نہیں ڈھل سکتیں۔ موئے فرنگیوں کی زبان سے ہمارا کیا واسطہ کہ وہ تو سدا سے ہمارے دشمن رہے ہیں۔ ان کی زبان کے محاوروں کے بالمقابل ہمیں نئے نئے محاورے تراشنے چاہئیں۔ اب مذکورہ بالا محاورے کو ہی لے لیں۔ اس محاورے کے مقابلے میں ہم نے جو نئی ترکیب نکالی ہے اس کے مطابق اگر ایک فرد یا ادارہ کوئی غلط کام کرتا ہے تو ہم اپنے سرزرد ہونے والے غلط کام کو اس سے جواز فراہم کر سکتے ہیں۔

ایک غلطی کو دوسری غلطی سے جواز فراہم کرنے کی نادر ترکیب کا استعمال دھڑلے اور پوری ڈھٹائی سے مملکت خدا میں ہو رہا ہے۔ اپنی غلطی یا کوتاہی پر کسی شرمساری اور خجالت کہ بجائے ہم فوراً دوسروں کی خامیوں کی نشاندہی کرکے اپنے فرض سے عہدہ براہ ہونے کی وہ گھٹیا اور سطحی حرکت کرتے ہیں جس میں شاید ہی کوئی ہمارا ہم پلہ ہو۔ اس رویے کا اظہار بلا تعطل حکومتی سطح پر کیا جا رہا ہے۔ وفاقی سطح سے لے کر صوبائی اور ضلعی لیول تک بد انتظامی اور ابتری اس کا شاخسانہ ہے۔

سندھ میں برسر اقتدار پاکستان پیپلز پارٹی کو ہی لے لیں۔ اس پارٹی کے دور اقتدار میں سندھ کے باسیوں کو کن انگاروں پر لوٹنا پڑتا ہے وہ یہاں کے ابتر حالات سے واضح ہے۔ یہاں بیڈ گورننس کس نہج تک پہنچ چکا ہے اس کا اندازہ پوری حکومتی مشینری کا عضو معطل بن جانا ہے۔ اس حکومت کے وزیروں اور مشیروں سے جب چبھتے ہوئے سوالات پوچھے جاتے ہیں اور ان کی بیڈ گورننس پر انہیں ہدف تنقید بنایا جاتا ہے تو جھٹ سے ان کی پٹاری سے ایک جواب نکلتا ہے کہ قومی میڈیا سندھ حکومت کے ساتھ تعصب برتتا ہے ورنہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں بھی حالات برتر ہیں۔

اگر پی پی پی حکومت کے نمائندوں کی اس تاویل کو مان بھی لیا جائے کہ دوسرے صوبوں میں بد انتظامی اور بد نظمی عروج پر ہے تو اس سے سندھ میں حکومتی بد انتظامی کو کس طرح سند مل جاتی ہے کہ وہ اپنی اس روش پر قائم رہیں اور حکومتی امور کو بگاڑ کا کچھ اس طرح شکار ہونے دیں کہ جس کے باعث سندھ کے باسیوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ جائے۔ سندھ جس بد حالی کا شکار ہے اس کی میڈیا میں کوریج سے زیادہ یہاں کے باسیوں کی زندگی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

سندھ کے شہروں میں انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم اور دوسرے شعبے زبوں حالی کا شکار ہیں لیکن سندھ حکومت کے وزراء کو یہ پھبتی کسنے سے فرصت نہیں ملتی کہ پنجاب و خیبرپختونخواہ میں کون سا دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ اب ان عقل و دانش سے بھرے ان ذہنوں سے کوئی یہ پوچھے کہ پی پی کے گیارہ سالہ دور اقتدار میں سندھ کی قسمت میں ایسے کون سے سرخاب کے پر لگ چکے ہیں کہ آپ اس پر فخر سے اتراتے پھریں۔ سندھ کے دارالحکومت کراچی کو دیکھ لیں تو آپ کے طرز حکمرانی کے پھیکے رنگ پورے منظر نامے کو داغدار کر دیں گے۔

کچرے کے ڈھیر، تعفن زدہ ماحول، سیوریج کا پانی، پانی کی کمیابی، ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں، تعلیمی اداروں کی ناگفتہ بہ صورت حال، صحت کی سہولتوں کی عدم دستیابی تو دیگ کے چند دانے ہیں وگرنہ یہاں تو پوری دیگ ہی ایسے بد ذائقہ دانوں سے بھری پڑی ہے۔ سندھ کے حکمران جہاں سیر ہیں تو ان کے بالمقابل وفاق اور پنجاب و خیبرپختونخواہ میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف سوا سیر۔ تبدیلی سرکار کے پاس دنیا جہاں کی باتیں اور قصے کہانیاں ہیں جس سے وہ سماعتوں کی سمع خراشی کرتے رہتے ہیں۔

تبدیلی کیا آئی؟ وہ دن بدن خراب ہوتی معیشت اور انتظامی امور میں پی ٹی آئی حکومت کی ناتجربہ کاری اور بد انتظامی سے عیاں ہے۔ سندھ حکومت کو کوسنے والے پنجاب کی حالت پر بھی نظر دوڑائیں جہاں اچھی حکمرانی ایک جنس نایاب بن چکی ہے۔ فقط ڈینگی کی یلغار کو ہی لے لیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس خطرے کے تدارک کے لیے کوئی پیش بندی نہیں کی گئی تھی اور نا ہی اس سے مقابلے کے لیے صوبائی حکومت ہنگامی بنیادوں پر اقدامات سے لیس نظر آتی ہے۔

خیبرپختونخواہ کی حکومت کی شرمساری کے لیے فقط بی آر ٹی پشاور کا منصوبہ ہی کافی ہے۔ اگر غیرت و شرم کسی جنس کا نام ہے تو وہ کم از کم خیبر پختونخواہ کی حکومت کے اعمال نامے میں نہیں پائی جاتی۔ ایک بی آر ٹی منصوبے کی بیل ہی ان سے منڈھے نہیں چڑھ رہی تو پھر کون ان سے پورے صوبے کی مانگ ستاروں سے بھر دینے کی توقعات لگائے۔ کے پی صوبائی حکومت کے وزراء جب سندھ کی صوبائی حکومت کی ناقص طرز حکمرانی پر طعن و تشنیع کے تیر برساتے ہیں تو اس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ یا تو ان کے دیدوں میں شرم و حیا کا پانی سوکھ گیا ہے یا پھر کو تاہ قامت افراد کو ٹولہ ہے جنہیں فقط جھنڈے والی گاڑیوں اور سرکاری پروٹوکول کے رعب و طمطراق سے واسطہ ہے کیونکہ حکمرانی اگر کسی شے کا نام ہے تو وہ ان کے ہاں عنقا ہے۔

سندھ سے لے کر پنجاب، خیبرپختونخواہ اور وفاق میں عجیب سورماؤں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں کہ جو حریفوں پر پل پڑنے میں تو حد درجہ مستعد اور چوکس ہیں لیکن جب ان کے پایہ تخت کے نیچے نگاہ دوڑائی جائے تو ویرانیوں اور بربادیوں نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ ان کے اقتدار کے روشن چراغوں تلے اندھیروں اور وحشتوں کا راج ہے جس میں خلق خدا اپنے دکھوں اور تکلیفوں کے مداوے کے لیے در در پر ٹکریں مار رہی ہے جب کے ان کے حکمران ایک دوسرے کو طعنے اور کوسنے کے مشغلے سے ان کے غم غلط کرنے کی نا بکار کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ وفاق اور صوبوں میں حکمران جماعتوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ فرد اور حکومتیں دوسروں کی خامیوں پر نہیں اپنی خوبیوں پر ترقی کرتی ہیں لیکن جب کوئی دوسرے کے رانگ سے اپنے رانگ کو جواز فراہم کرے تو پھر سمجھیں یہ رانگ نمبر ہے اور ہماری بدقسمتی ٹھہری کہ اس قوم سے ہر بار رانگ نمبر ڈائل ہو جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •