ضرورت جب گھنگرو باندھ لیتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان کی حکومت صحیح سمت میں رواں دواں ہے، مہنگائی اور غربت کا رونا پیٹنے والے سب کے سب پی ٹی آئی کے سیاسی مخالفین اور مولانا فضل الرحمان کے پیروکار ہیں، اگر معاشی حالات ابتر ہیں تو پھر بتائیے کہ شرح اموات میں اضافہ کیوں نہیں ہوا؟ خود کشیوں کی شرح نواز شریف کے دور سے کیوں نہیں بڑھی؟ آپ کے پاس میرے سوال کا جواب ہے یا نہیں، جواب بھی میں خود ہی دیے دیتا ہوں۔ضرورت آخری منزل پر پہنچ کر گھنگرو باندھ لیتی ہے، میرے علم میں نہیں ہے کہ محکمہ شماریات کی کیا کیا ذمہ داریاں ہیں، اور وہ کن کن شعبوں کے اعداد و شمار جاری کرنے کا ذمہ دار ہے، میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ ،، شعبہ انسانیات،، سے اس ادارے کا دور دور تک بھی واسطہ نہیں۔

گھریلو استعمال کی اشیا ئے ضروریہ کی قیمتوں کے آسمان تک پہنچ جانے کو تو میڈیا دکھاتا ہے مگر کوئی یہ ریسرچ سامنے نہیں لاتا کہ ایک سال کے دوران مزید لاکھوں افراد کے بے روزگار ہوجانے کے بعد لوگ ،، گروسری،، کے لئے پیسے کہاں سے لاتے ہیں؟ وہ گھرانے جہاں کسی ایک کے پاس بھی ملازمت نہیں، ان گھروں کو چلا کون رہا ہے؟

عمران خان کے طرز حکمرانی کو نہ سراہا جانا بھی ان کے ساتھ زیادتی ہوگا، وہ تاریخ کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں، اور تاریخ دنیا کے ہر عظیم حکمران کو سب سے پہلا درس یہ دیتی یے،سب سے ظالم حکمران وہ ہوتے ہیں جو اپنی رعایا کا خیال رکھتے ہیں۔ساری کی ساری حکومت عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دوسری ملاقات پر خوشیوں کے گیت گا رہی ہے، نہ جانے امریکہ سے پاکستان کو کیا ملنے والا ہے ؟ جبکہ ٹرمپ نے مودی کے جلسہ عام میں جس انداز سے شرکت کی اس سے صاف دکھائی دے رہا تھا کہ پاکستان کو اپنے وزیر اعظم کے دوسرے دورہ واشنگٹن سے بھی ،،نئی ہدایات اور نئے احکامات ،،کے سوا کچھ نہ ملے گا۔

کشمیر اس وقت انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ سہی، مگر پاکستان کے اندر ناچتی ہوئی بھوک، افلاس اور بے روزگاری کے دیو سے عوام کو نجات کون دلائے گا، کیا پاکستان میں ونٹی لیٹر پر پڑی ہوئی معیشت امریکی صدر سے ہمارے وزیر اعظم بات چیت کے ایجنڈے میں سر فہرست نہیں ہونا چاہئیے تھی؟ اس ایشو پر تو سرے سے بات ہی نہیں کی جاتی ، حالانکہ ہماری معاشی بد حالی کے براہ راست ذمہ دار امریکہ اور اس کے طفیلی عالمی مالیاتی ادارے ہیں،لیکن انسانیت اور اخلاقیات طاقتوروں کے نصاب میں ہی شامل نہیں ہوتیں۔

 چلیں ، چھوڑیں حقائق کی تلخیوں کو، آپ کو ایک کہانی سناتے ہیں، کہانیاں جن کے کردار تو مر کھپ جاتے ہیں، لیکن ان کہانیوں کا سفر کبھی ختم نہیںہوتا۔ تین افراد پر مشتمل یہ فیملی اچھرے میں پیر غازی روڈ کے دھوبی محلے میں آتے ہی مشہور ہو گئی تھی۔۔گھر کے سربراہ کو لوگ باؤ جی کہتے تھے، شاید اس لئے کہ اس کی لڑاکا بیوی اور بیٹا بھی انہیں باؤ جی ہی کہتے تھے۔جہانگیر کو گھر کی باتیں محلے کے لڑکوں کو سنانے کا چسکا تھا۔وہ بڑے فخر سے بتاتاکہ وہ،، اس بازار،، کی ایک امیر عورت کے بطن سے پیدا ہوا تھا ، جو اپنے کسی عاشق سے شادی کرکے ،، بازار،، سے چلی گئی تھی اور اسے ا سکی خالہ نے گود لے لیا۔ اور اب خالہ بھی اپنے عاشق سے شادی کرکے اسے شریفوں کے محلے میں لے آئی ہے۔

ہم سوچتے تھے چالیس سال کی اس نک چڑھی پر جس کا منہ ہے نہ متھا،باؤ جی عاشق کیسے ہوگئے؟ اور اب روز اس کے ہاتھوں بے عزت بھی ہوتے ہیں اور بولتے بھی نہیں، اس عورت کا خیال تھا کہ شرفاء کے محلے میں سب بچے آوارہ ہیں جو اس کے جہانگیر کو خراب کر دیں گے، جہانگیر جب بھی ادھر ادھر ہوتا وہ عورت سارے بچوں کی شامت لے آتی۔ چھوٹی موٹی گالی تو اس کی زبان پہ سجتی ہی نہ تھی،۔جہانگیر نے پاکستانی چوک کے قریب ایک پرائیویٹ اسکول میں داخلہ تو لے لیا لیکن اپنا پرانا اسکول اور ماحول نہ بھولا۔

وہ اپنے پرانے اسکول کی یونیفارم پہنتا تو اپنا سر بلند کر لیتا، کیونکہ اس دور کے اسکولوں میں یونیفارم کا رواج ہی نہیں تھا،، وقت گزرتا گیا ،اس فیملی نے اس دوران کئی مکان بھی بدلے، لیکن ہمارا جہانگیر سے رابطہ نہ ٹوٹا، یہ بات سب جان چکے تھے کہ جہانگیر کا تعلق ،، اس بازار،، سے ہے، اس کا ایک بھائی اور بھی ہے جو اپنی ،،جنم بھومی ،،میں ہی رہ رہا ہے .ایک دن جہانگیر اخبار ہاتھ میں لئے ہمیں ملنے آگیا. اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا، وہ بہت غصے میں تھا ہمارے سامنے اخبار پھیلاتے ہوئے بولا۔۔ ،،دیکھو اسے اب یہ فلموں میں کام کرے گی، میں اسے قتل کر دوں گا.وہ ایک فلمی اشتہار تھا جس میں ایک لڑکی کا ڈانسنگ پوز چھپا تھا۔

 یہ عشرت چوہدری ہے، میری بہن ہے، ہمارا ایک ہی باپ تھا، میں بے غیرت نہیں کہ اپنی بہن کو فلموں میں کام کرنے دوں،، پھر ایک دن اس نے بتایا کہ وہ اپنی بہن عشرت چوہدری کو سمجھانے کے لئے اس کے گھر گیا تھا، لیکن اسے کسی نے گھر میں گھسنے ہی نہیں دیا۔۔۔ وقت گزرتا گیا، جہانگیر سے ملاقاتین کم کم ہونے لگیں، بہت دنوں بعد ملا تو اس نے انکشاف کیا کہ اس کے دوسرے بھائی نے رکشہ چلانا شروع کر دیا ہے۔

پھر چند مہینوں بعد اس نے اطلاع دی کہ اس کے بھائی نے خود کشی کرلی ہے، وجہ یہ بتائی کہ اس کے بھائی کو انارکلی کی رہائشی ایک شادی شدہ عورت سے پیار ہو گیا تھا، وہ عورت پانچ بچوں کی ماں تھی، اس عورت کے سسرال کو اس عشق کا پتہ چلا تو انہوں نے اس پر پابندیاں لگا دیں ،اور جہانگیر کے بھائی نے دل برداشتہ ہو کر خود کشی کرلی۔ مجھے 1973ء میں کراچی میں نوکری مل گئی اور فلم پیج مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی، ان دنوں عارف وقار پی ٹی وی کراچی میں پروڈیوسر تھے، عارف وقار کو فلم جرنلزم سے بہت لگاؤ تھا۔ میں نے انہیں ملاقات کے لئے کہا تو وہ میرے آفس آ گئے، میں نے پیر الہی بخش کالونی میں ایک مکان کا پورشن کرائے پر لے رکھا تھا۔

عارف کہیں اور رہ رہے تھے، میرے اصرار پر وہ میرے ساتھ ہی شفٹ ہو گئے، میں فلم پیج کی تیاری کے دنوں میں عارف وقار کو مشاورت کے لئے آفس بلا لیا کرتا ، فلم کے لئے ویکلی چار صفحات مختص تھے ،عارف انہی صفحات پر خاموش سے بولتی فلم تک کی تاریخ لکھا کرتے تھے، ایک دن کیا ہوا؟ جہانگیر ایک عورت کے ساتھ ہمارے پاس پہنچ گیا۔۔ یہ وہی عورت تھی جس سے اس کا خود کشی کرنے والا بھائی پیار کرتا تھا، پانچ بچوں کی ماں۔۔ جہانگیر نے بتایا کہ اب وہ دونوں ایک دوسرے سے عشق کرتے ہیں اور یہ اس کے ساتھ گھر سے بھاگ کر کراچی آئی ہے۔

 وہ عورت سارا زیور بھی سمیٹ لائی تھی۔ جسے بیچ بیچ کر وہ دونوں عشق کے تقاضے پورے کر رہے تھے۔۔میں تو تبادلہ کراکے لاہور واپس چلا آیا۔۔ وہ کب تک کراچی میں رہے میرے علم میں نہیں۔پھر کئی سال بعد جہانگیر مجھے رکشہ چلاتے ہوئے ملا ، وہ مجھے اچھرے اور رحمان پورہ کے درمیان اپنے گھر لے گیا۔باؤ جی مر چکے تھے، اس کی ماں کی زبان میں ٹھہراؤ آ چکا تھا،، اس گھر میں بارہ تیرہ سال کی ایک بچی بھی تھی، جس کا تعارف جہانگیر نے اپنی بیٹی کہہ کر کرایا.۔یہ اسی عورت کے بطن سے تھی جو اپنے پانچ بچے چھوڑ کر جہانگیر کے ساتھ کراچی گئی تھی۔۔دونوں نے شادی تو نہیں کی تھی ایک بیٹی پیدا کر لی تھی۔جہانگیر نے اس عورت کے بارے میں بتایا کہ بچی کے جنم کے بعد وہ عورت واپس اپنے شوہر اور بچوں کے پاس لوٹ گئی تھی . جہانگیر اس دن کے بعد پھر کبھی نہیں ملا۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •