شاعر کا خط، نامرد دل اور حور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خطوط قدیم زمانہ سے حالات، واقعات اور جذبات کی ترسیل کا ذریعہ ہیں۔ اب خطوط نویسی عنقا ہو گئی ہے۔ برقی پیغامات کا دور ہے جو تما م مرئی اور غیر مرئی حدود پھلانگ کر محبوب کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ نامہ بر کی حاجت نہیں رہی۔ پیغام میں تبدیلی کا امکان اور نہ ہی اس کی رقابت کا خوف۔

دیا ہے دل اگر اس کو، بشر ہے، کیا کہیے
ہوا رقیب، تو ہو، نامہ بر ہے، کیا کہیے

لیکن موت کی سرحد ابھی کوئی بھی قاصدپار نہیں کر سکا۔ شاعروں اور تخلیق کاروں نے اس غبار راہ میں بہت ہاتھ پاؤں چلائے ہیں لیکن حاصل ایک بے انت اداسی اور مایوسی ہے۔ محبوب بحرغم پار کر کے موت کے ساحل سے اس پار چلا جاتا ہے، رنج و الم ادھر چھوڑ جاتا ہے۔ امرتا پریتم نے ساحر لدھیانوی کے نام ”آخری خط“ اس کے مرنے کے بعد لکھا۔ اور چٹھی رساں کے قدموں کے سراغ لیتے ہوئے کہا، ”جب کسی کو خط ڈالنا ممکن نہ ہو تو اس وقت صرف ہوائیں ہی رہ جاتی ہیں جن کے پلو سے کوئی پیغام باندھ دیں۔ کوئی میگھ جیسے کالی داس کا نامہ بر بن گیا تھا، میرا ہر نغمہ میرا ایک خط بن گیا ہے۔“

میگھا اور نغمات تو غالب کے نامہ بر کی طرح رقیب نہیں بن سکتے، امرتا کا پیغام پہنچایاہوگا، جواب نہیں آیا، کیونکہ اس کا محبوب تصوف اور عروس کا قائل ہی نہیں تھا۔

عہد گم گشتہ کی تصویر دکھاتی کیوں ہو
ایک آوارہ منزل کو ستاتی کیوں ہو

میں تصوف کے مراحل کا نہیں ہوں قائل
میری تصویر پہ تم پھول چڑھاتی کیوں ہو

انور مقصود کولیکن بہت سے خطوط فردوس عنبریں سے آئے۔ ان میں سے ایک جنت آشیانی فلسفی شاعر جان ایلیا کی طرف سے ہے۔ یہ خط ندرت کلام کا نادرنمونہ ہے اور اس کی ایک ایک سطر سے لفظی بازی گری کا کمال جھلکتا ہے۔ انہیں یہ گلا ہے کہ یہاں بھی انہیں بھائیوں کے ساتھ ہی رہنے کا کہا گیا تھا۔ ان کی خواہش پرمصطفےٰ زیدی نے انہیں ایک کوارٹر دلوا دیا۔ زیدی تو اس کام کا ماہر ہے اس کی اپنی زندگی بھی ایک دوست کے بنگلے سے متصل ایک کوارٹر میں خوبرو دوست شہنازگل کی مدد سے اختتام پذیر ہوئی تھی۔ وہی کوارٹر جس سے ان کے مرنے کے بعد اسی شوخ کے نام کی کچھ غزلیں اور چند ہزار بے پردہ تصویریں ملیں۔

گھرسے عاشق کے پس مرگ یہ ساماں نکلا

تصویروں کا بریف کیس رقیب لے گیا، غزلیں ہمارے پاس رہ گئیں اور زیدی اکیلے جنت کو پدھارے۔

جنت میں جون کی ملاقات احمد فراز سے ایک شہد کی نہر کے کنارے ہوتی ہے، وہ ان سے امراؤ جان کا پتا پوچھ رہے تھے۔ جنت واقعی ہی جنت ہے سب کچھ ملتا ہے اور وافر بھی۔ زمین پر تو شہد کی بوتل والے بھی پکڑے جاتے ہیں۔ ادھربازار حسن و عشق اجڑ چکے ہیں اور وہاں امراؤ ابھی بھی جلوے بکھیرے ادائیں دکھا رہی ہے۔

وہ مزید لکھتے ہیں، ”جانی! ایک حور ہے جو ہر جمعرات کی شام میرے گھر آلو کا بھرتا پکا کر لے آتی ہے۔ شاعری کا بھی شوق ہے، خود بھی لکھتی ہے۔ مگر جانی! جتنی دیر وہ میرے گھر میں رہتی ہے صرف مشتاق احمد یوسفی کاذکر کرتی ہے۔ اس کوصرف مشتاق احمد یوسفی سے ملنے کا شوق ہے۔“

اس خط کو پڑھ کر ہمیں پتا چلا کہ یوسفی صاحب کیوں کہتے تھے؟

”کوئی کفنی پہنے راہ تکت ہے۔“

ویسے بھی اس حو ر کو شاعری کا شغف ہے اور پکی بات ہے کہ اس نے جون ایلیا کا کلام بھی پڑھ لیا ہوگا۔

حضور موے زیر ناف یہ دل
عجب کمبخت تھا، نامرد نکلا

ہوس کا مجھ میں ایک دوزخ تھا، لیکن
شب اول میں بالکل سرد نکلا

پس حور نے سوچا ہو گا کہ یوسفی ہی بہتر رہے گا۔

جون سر پکڑے اکڑوں بیٹھے ہوے ہیں، نگاہیں زمین پہ جمی ہوئی ہیں۔ حسرتیں دل میں چھپائے بڑ بڑا رہے ہیں۔

کب اس کا وصال چاہیے تھا
بس ایک خیال چاہیے تھا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •