ایک خودکش بمبار اور ایک ڈاکٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”میں آٹھ منٹ میں زندہ انسان کی کھال کھینچ لیتا ہوں۔“ اس نے بڑے سکون سے مجھے دیکھتے ہوئے صاف الفاظ میں بتایا۔

دوبارہ سے میری ریڑھ کی ہڈی میں سردلہر دوڑتی چلی گئی، کوشش کے باوجود میں اپنے آپ کو پرسکون نہیں رکھ پایا۔ مجھے اپنے دل کی دھڑکن کی آواز محسوس ہورہی تھی۔ میرے دونوں کانوں کے نیچے والے پوربھی دھڑکن کے ساتھ دھک دھک کیے جارہے تھے۔ میری نظروں کے سامنے انٹرنیٹ کی وہ فلم آگئی جسے دیکھ کر کئی دنوں تک میں بے چین اور بے قرار رہا تھا۔ اس فلم میں افغان طالبان کے ایک رکن کو دکھایا گیا تھا جس نے اسلام کے ایک دشمن کے گلے پر تیز دھارچاقو چلا کر کھال کو چاروں طرف گردن کے اوپر سے الگ کرلیا تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے منٹوں میں زندہ انسان کی کھال اس طرح سے کھینچ لی جیسے قصاب بکرے کی کھال کھینچ لیتا ہے۔

میں نے کسی قصاب کو زندہ بکرے کی کھال کھینچتے ہوئے نہیں دیکھا۔ زندہ انسان بغیر کھال کے لٹکا ہوا تڑپ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کا کرب میرے دماغ کے اندر بہت اندر بنے ہوئے بہت بڑے پردے پر بار بار جھماکے کے ساتھ آتا رہا۔ کئی دنوں تک میں سکون کی نیند نہیں سوسکا۔ یہ شخص بھی اسی طرح کا ایک آدمی تھا۔ ایک خودکش بمبار جو عام طور پر چھوٹی عمر کے ہوتے ہیں مگر اس کی عمر زیادہ تھی۔

ہوا یہ کہ سی او ڈی ہلز کی جانب سے ملیر جاتے ہوئے شاہراہ فیصل کے جنکشن سے ملتے ہی سرخ بتی پر میں نے عام طریقہ کار کے خلاف گاڑی روک دی۔ ایک عام شکل و صورت کے خوبصورت سے درمیانہ قد کے آدھی عمر کے آدمی نے کھڑکی کے شیشے پر دستک دی۔ وہ صورت شکل سے شمالی صوبے سے تعلق رکھنے والا معلوم ہوتا تھا۔

میں نے اسے غور سے دیکھا، سفید اور کالی داڑھی کے ساتھ بظاہر وہ ایک سمجھدار، معزز اورسنجیدہ سا آدمی لگا۔ میں نے عادت کے برخلاف سنٹرل لاک کھول کر اسے اگلی نشست پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ السلام علیکم کہہ کر تیزی سے نشست پر بیٹھ گیا تھا۔

”وعلیکم السلام۔ میں ایئرپورٹ جارہا ہوں، آپ کہاں جارہے ہیں؟“ میں نے گاڑی گھماتے ہوئے سوال کیا۔
”تم دنیا کے راستے پر ہو میں اللہ کے راستے پر جارہا ہوں۔“ اس نے بڑے دھیمے لہجے میں پرسکون انداز سے کہا۔
”میں سمجھا نہیں۔“

”ابھی سمجھاتا ہوں، تم گاڑی آہستہ چلاؤ۔“ یہ کہہ کر اس نے اپنے گریبان کے بٹن کھول دیے۔ یہ میرے نجات کا جیکٹ ہے اور شہادت کا راستہ، تمہاری بھی شہادت کا راستہ یہی ہے۔ بہتر ہے کہ کلمہ پڑھ لو اور اللہ کی طرف جانے کی تیاری کرلو۔ اسی کی طرف ہم سب کو لوٹ کے جانا ہے۔ گاڑی آہستہ چلاؤ۔“ اس نے سختی سے کہا۔ پھر بتاتا ہوں کہ ہمیں کہاں پہنچنا ہے۔

سر سے نیچے تک میری ریڑھ کی ہڈی میں ٹھنڈک دوڑتی چلی گئی، میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میرے ساتھ ایسا ہوگا۔ میں نے گاڑی آہستہ کرلی اور اپنے آپ پر قابو پانے کی کوشش کے ساتھ اس کو نظربھر کے دیکھا۔

اس کی شکل پر بلا کا اطمینان تھا۔ درحقیقت وہ دبلاپتلا آدمی تھا مگر خودکش جیکٹ پر چادر اوڑھنے کی وجہ سے وہ تھوڑا وزنی سا لگ رہا تھا۔ میں نے پہلی دفعہ اس کے چہرے پر بھرپورنظر ڈالی، وہ چالیس سال سے زائد کا مضبوط جسم کا مالک تھا۔ چہرے پر نوکیلی داڑھی تھی جس کے زیادہ تر بال سیاہ تھے۔ سرخ و سفید رنگت کے ساتھ چوڑی پیشانی کے نیچے دو بڑی بڑی آنکھیں تھیں جس میں سرمہ لگایا گیا تھا۔ اس کا چہرہ بشاشت سے بھرپور اور جاذب نظر تھا مگر میرے اندر اس کے لئے نفرت کا جوار بھاٹا سا اُبل پڑا۔

اپنے آپ پر قابو پانے کی کوشش کے ساتھ میں نے تقریباً روتے ہوئے کہا کہ ”شہید ہونا اچھی بات ہے اور اگر اللہ کے راستے میں جان چلی جائے تو اس سے اچھی کیا بات ہوسکتی ہے مگر میرے چار بچے ہیں، میرے دو جڑواں بیٹے تو بہت چھوٹے ہیں، میرے مرنے کے بعد ان کا کیا ہوگا۔ کوئی بھی نہیں ہے کہ جو ان کا خیال رکھ سکے، یہ گاڑی وغیرہ میری ضرور ہے مگر میرے جیسے ڈاکٹر کے پاس بچا ہوا کچھ نہیں ہوتا ہے۔ میری بیوی ایک گھریلو عورت ہے۔ میرے بغیر وہ سب لوگ ختم ہوجائیں گے۔ تباہ ہوجائیں گے، برباد ہوجائیں گے۔“ مجھے اپنی لرزتی ہوئی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔

”اچھا تو تم ڈاکٹر ہو۔“

یہ کہہ کر وہ کچھ سوچنے لگا پھر بولا کہ جو اللہ تمہیں شہادت کے لئے چُن رہا ہے تمہیں اس اللہ پر بھروسا نہیں ہے کہ وہ تمہارے بچوں اور بیوی کا خیال رکھے۔ تمہارے خیال میں وہ اتنا بے نیاز ہے کہ اسے تمہارے گھر والوں کی فکر نہیں ہوگی۔ تم کیسے مسلمان ہو۔ ساتھ ہی اس نے کہا کہ ایئرپورٹ کے موڑ سے گاڑی کو واپس شہر کی طرف موڑ کر آہستہ آہستہ چلو، میں تمہیں بتاؤں گا کہ کہاں کھڑا ہونا ہے۔

میرا گلا خشک تھا، جسم پسینے سے شرابور اور دل خوف کے مارے زور زور سے دھڑک رہا تھا، اسے اپنی گاڑی پر بٹھانے کی سنگین حماقت پر جیسے میرے دل و دماغ سے آنسو بہہ رہے تھے۔ آج کل کسی کو بھی لفٹ نہیں دی جاتی ہے خاص کر ناآشنا لوگوں کو۔ کسی پر بھروسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سارے اصول ازبر یاد تھے مجھے مگر میں پھر بھی اسے لفٹ دے بیٹھا۔

مجھے کچھ اندازہ نہیں تھا کہ یہ خودکش مجاہد کس جگہ پر پہنچنا چاہتا ہے۔ کسی اسکول کے سامنے، کسی پولیس اسٹیشن کے ساتھ، رینجرز اور پولیس کی کسی موبائل کے اوپر یا اس کا ٹارگٹ کوئی ایسی مارکیٹ تھی جہاں بے شمار لوگ موت کے گھاٹ اُتر جائیں اور میڈیا کو زبردست پروپیگنڈے کا موقع مل جائے۔ ہر صورت میں میں میری موت یقینی تھی ایسی موت کا نہ میں نے کبھی سوچا تھا اور نہ اس کی تیاری تھی۔ مجھے اپنے ہوش و حواس برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہورہا تھا۔

اب تک ملک بھر میں جتنے بھی خودکش حملے ہوئے ان کا یہی انداز تھا۔ لڑکیوں کے اسکول، پولیس کے تھانے، فائیو اسٹار ہوٹل، غیر ملکی سفارتخانے، پریس کلب، فوجیوں کی تنصیبات، شیعوں، سنیوں اور مزاروں کے مذہبی اجتماعات یا بازار جہاں زیادہ سے زیادہ اموات واقع ہوں۔ میں ان سرگرمیوں سے شدید نفرت کرتا تھا مگر ہم سب ہی بے بس و بے کس تھے اور ہماری طرح سرکار بھی بے بس تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے حکمرانی نام کی کوئی چیز نہیں ہے، پورا ملک دہشت گردوں کی چراگاہ بن کر رہ گیا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •