آئینہ مت توڑیں : غیر سنسر شدہ مکمل کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ ایوب خان کی تربیت اور تجربات نے انہیں یس سر اور جی سر سننے کا خوگر بنا رکھا تھا، ان کے نکتہ نظر پر معمولی سی تنقید یا انحراف ان کو چیں بچیں کرنے کے لیے کافی ہوتا تھا، اس کے علاوہ ملکی صحافت کے بارے میں چند ایسے تعصبات بھی تھے جو ان کے رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے تھے۔ اپنے دوسرے اصلاحی منصوبوں کی طرح وہ صحافت کے شعبے کو بھی بزعم خود مثبت خطوط پر منظم کرنے اور سنوارنے کے خواہش مند تھے۔

ان کی اسی خواہش کی تکمیل کے لیے جب سیکرٹری اطلاعات برگیڈئیر ایف آر خان نے پٹاری سے پریس اینڈ پبلی کیشن آرڈیننس کا مسودہ برآمد کر کے کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کیا تو سب نے بڑی خوشدلی سے اس پر آمنا و صدقنا کہا۔ اس وقت کابینہ میں بیشتر وزیر ایسے تھے جنہوں نے بڑے بڑے سول اور ملٹری عہدوں کی پناہ میں زندگی گزاری تھی اور ملک میں ایک ایسا پریس جو ان کی ذات اور وزارت کو ہدف تنقید نہ بنا سکے ان کے لیے انتہائی مرغوب خاطر تھا۔

پاکستان کی صحافت میں اس کو کالے قانون کے طور پہ یاد کیا جاتا ہے اور جب مارشل لاء اٹھا اور نئے آئین کے تحت بنیادی جمہوریت کے نظام کا دور شروع ہوا تو اخبارات نے وہ سر پوش اٹھا کر دے مارا جو مارشل لاء کے دوران انہوں نے مجبورا اپنے اوپر اوڑھ رکھا تھا۔ حکومتی ارکان جو پہلے حفاظتی حصار میں بیٹھے تھے اب کھلم کھلا عوام اور صحافت کی بے رحم سرچ لائٹ کے نیچے آ گئے، اس صورتحال سے صدر ایوب پریشان تھے اور کابینہ میں ان کے بہت سے رفیق بھی بوکھلائے ہوئے تھے۔

اس دوران وزارت اطلاعات کا چارج سنبھالنے کے لیے صدر ایوب کی نگاہ انتخاب ان پہ پڑی، قدرت اللہ شہاب آگے لکھتے ہیں کہ ایک دن حکومت اور کابینہ ارکان کے خلاف حکومت کے رویے کا جائزہ لینے کے لیے صدر ایوب نے گورنر ہاوس مری میں نواب آف کالا باغ اور چند مرکزی وزراء کے ساتھ میٹنگ رکھی تھی، حکومت کے متعلق اخبارات کے رویے پہ گفتگو شروع ہوئی تو نواب آف کالا باغ نے کہا جناب میں نے تو صبح کے وقت اخبارات پڑھنا ہی ترک کر دیا ہے، اخبارات ہمارے اوپر اتنی گندگی اچھالتے ہیں کہ صبح صبح انہیں پڑھ کر بلڈ پریشر بڑھتا اور طبیعت مغنض ہو جاتی ہے اور دن بھر کام ٹھیک نہیں ہوتا۔

قومی پریس پہ کنٹرول مضوط کرنے کے لیے نواب آف کالا باغ سے لے کر ہر وزیر با تدبیر اپنی بساط کے مطابق طرح طرح کے نسخے تجویز کررہا تھا، کراچی اور لاہور کے دو روزناموں کو سانپ کے مثل قرار دیتے ہوئے ان کے زہریلے دانت نکالنے نکالنے کے لیے بھانت بھانت کی تدبیریں اور تجویزیں پیش کی جا رہی تھیں، کسی نے ان کو بھی سرکاری تحویل میں لینے کا مشورہ دیا، صدر ایوب نے بگڑ کر کہا کہ جو پہلے لیے وہ چل نہیں رہے تو اب کون سا تیر مار لیں گے۔

پھر یہ طے پایا کہ ان دونوں اخبارات کو شائع کرنے والی کمپنیوں میں جو سرمایہ لگا ہوا ہے اس کے حصہ داروں کا پتہ لگایا جائے اور حکومت کے منتخب افراد اور ادارے ان کے زیادہ سے زیادہ حصص خرید کر ان کی شہ رگ اپنے ہاتھ میں کر لیں، کچھ عرصہ مختلف تجاویز پہ کام ہوتا رہا اور بلآخر مغربی پاکستان کے گورنر نے پریس اینڈ پبلی کیشن (ویسٹ پاکستان ) ترمیمی آرڈیننس 1963 جاری کر دیا، اسی دوران انہیں بھی ناموزوں شخصیت قرار دے کر وزارت اطلاعات سے فارغ کر دیا گیا۔

اس قانون کا پھندا مختلف ترمیموں کے ساتھ وقتا فوقتا صحافت کے گلے میں پڑا رہا، کچھ لوگوں کو خوش فہمی تھی کہ ایوب کے دور کے بعد یہ کالا قانون بھی اپنی موت آپ مر جائے گا لیکن ہر دور میں یہ امید نقش بر آب ثابت ہوئی، حکومت ایوب خان کی ہو یا یحیی خان یا کسی اور کے دور کی، ہر زمانے کے حکمران اسی قانون کی بیساکھیوں کا سہارا لے کر ارباب عقل و دانش کو برباد اور روشن خیالی اور فہم و فراست کے میناروں کو تاخت و تاراج کرتے رہے ہیں۔

 قدرت اللہ شہاب کا لکھا حرف بہ حرف درست ثابت ہوا جنرل ضیاء برسر اقتدار آئے یا جنرل مشرف، وزیر اعظم بے نظیر بھٹو ہوں یا نواز شریف، بھلے اقتدار کے سنگھاسن پہ وہ عمران خان براجمان ہو جائیں جو خود اعتراف کریں کہ ان کی وزارت عظمی میڈیا کی آزادی کی مرہون منت ہے لیکن اسی میڈیا کو لگام ڈالنے کے لیے نت نئے ہتھکنڈے اختیار کرنے کی سعی کی جاتی رہی ہے، صدر ایوب کی کابینہ کے ارکان کی طرح وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ کے ارکان کو بھی میڈیا کی تنقید ہضم نہیں ہو رہی جس کے خلاف انہوں نے کابینہ کے آخری اجلاس میں فردا فردا میڈیا کو ایسے مطعون کیا کہ وزیر اعظم کے کانوں سے بھی دھواں نکلنے لگا۔

 اطلاعات کے مطابق بعض وزراء نے تو حکومت کی کارکردگی کے خراب تاثر کی وجہ ہی اس بے لگام میڈیا کو قرار دیا جبکہ وزیر اعظم کی ذاتی زندگی کے بارے میں میڈیا کی ہرزہ سرائی کی مثالیں دے کر انہیں اور طیش دلانے کی کوشش کی، اس دوران ایک دو ہوشمندوں نے جذبات کی بجائے استدلال سے کام لینے کی رائے لی لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے، وزیر اعظم صاحب نے جب دریافت کیا کہ اس نا ہنجار میڈیا کو کیسے راہ راست پہ لایا جائے تو جو پہلے ہی باغیوں کو سبق سکھانے کے لیے تیار بیٹھے تھے انہوں نے جھٹ سے میڈیا کے لیے اسپیشل ٹریبیونلز( عدالتیں ) قائم کرنے کی تجویز دے دی، نوے دنوں میں میڈیا سے متعلق شکایات پر فیصلے کے ذریعے احتساب کے کڑے اس مجوزہ نظام کی مدح سرائی میں سب نے واہ واہ کے ڈونگرے برسائے اور معاون خصوصی اطلاعات نے بریفنگ میں قوم کو ان کے تمام مسائل کے حل کی نوید سنا دی۔

پارلیمنٹ میں بل پیش کرنے کا اعلان بھی کیا گیا تاہم اپوزیشن جماعتوں، میڈیا کے اداروں، صحافتی و سماجی تنظیموں، انسانی حقوق کے ملکی و عالمی اداروں اور صحافیوں نے میڈیا کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام کے اس حکومتی فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا، ایک ایسے وقت میں جب حکومتی پالیسیوں اور ایک سالہ کارکردگی کے سبب ملک میں انتشار کی کیفیت بپا ہے بجائے اس کے کہ حکومت اپنے اقدامات اور پالیسیوں پر نظر ثانی کے ذریعے اپنی شبیہہ کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرے اس نے آئینے کو توڑنے کی ٹھان لی ہے جو کسی طور راست اقدام نہیں ہے۔

پاکستان تحریک انصاف صرف ایک سال میں بھول گئی کہ یہ وہی میڈیا ہے جس نے عمران خان کو گزشتہ آٹھ سال سے اس قوم کا نجات دہندہ اور مسیحا بنا کر پیش کیا تھا، بطور اپوزیشن رہنما ان کے پارٹی ترانوں سے لے کر ان کے عزائم کی گونج تک سے لمحہ بہ لمحہ عوام کو با خبر رکھا، ان کی شان میں ایسے قصیدے گائے گئے کہ اپنی ساکھ تک کو داؤ پہ لگا دیا، کل تک جن خبروں، تحریروں، پروگراموں، تبصروں اور تجزیوں پہ تالیاں بجائی جاتی تھیں صرف چند دن میں ہی اب ان پہ ناک بھوں چڑھایا جا رہا ہے۔ ماتھے پہ شکنیں نمودار ہو رہی ہیں، جنہوں نے کپتان کی مدح سرائی میں ابوالفضل اور فیضی کو مات دے دی تھی اب انہیں ؛ اندر؛ کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جو میڈیا کل آنکھ کا تارا تھا وہ آج آنکھ کا شہتیر نظر آنے لگا ہے۔

میڈیا تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے رد عمل کے بعد معاون خصوصی اطلاعات نے اگرچہ یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت فریقین کی مشاورت کے بغیر میڈیا کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام سے متعلق کوئی قدم نہیں اٹھائے گی جو یقینا خوش آئند ہے لیکن حکومت کو ادراک ہونا چاہیے کہ اپنی بقا کی جنگ لڑتے میڈیا کے لیے خصوصی عدالتیں اونٹ کی کمر پہ آخری تنکا ثابت ہوں گی۔ جبکہ میڈیا اور جمہوریت کے لازم و ملزوم ہونے کے لیے تو یہی جملہ کافی ہے۔

Nation and press rise and fall together۔

(ہم سب کے خصوصی طور پر ارسال کردہ تحریر)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •