اپوزیشن کی بصیرت کا امتحان

جو کہتے تھے کہ ہم نے جمہوریت کے دوام کی خاطر تحریک انصاف کے اس مینڈیٹ کو بھی تسلیم کر لیا جسے دل مانتا تھا اور نہ ذہن، جو ماضی کی دو حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت کے بھی پانچ سال پورے کرنے کے حامی تھے، جو کسی طور حکومت کو گرانے کا گناہ اپنے…

Read more

بلاول بھٹو کی افطاری ، کچھ اندر کی باتیں

ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے پرویز مشرف کی آمریت کے ڈسے جلا وطن سیاستدانوں نواز شریف اور شہید بے نظیر بھٹو نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا تو مئی 2006میں میثاق جمہوریت کے نام سے ایسی تاریخی دستاویز کو وجود بخشا جس نے نہ صرف ملک میں آمریت کے آگے بند باندھ دیا…

Read more

شہباز شریف جو کرتے ہیں بھائی کی مرضی سے کرتے ہیں

العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا یافتہ سابق وزیراعظم نواز شریف طبی بنیادوں پہ چھ ہفتے کی ضمانت کا عرصہ جاتی امرا میں گزارنے کے بعد دوبارہ کوٹ لکھپت جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ چکے ہیں۔ ان چھ ہفتوں میں نہ صرف شریف میڈیکل سنٹر سے چیک اپ، ٹیسٹ اور ڈاکٹروں کے بورڈز سے…

Read more

پاکستانیو! گھبرانا نہیں

گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ملکی معیشت اور مہنگائی کے حوالے سے بحث جاری تھی کہ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے فرمایا کہ ابھی تو مہنگائی اور بڑھے گی اور عوام کی چیخیں مزید بلند ہوں گی تو کمیٹی کے شرکاء ان کی طرف حیرانی سے دیکھنے…

Read more

ناقابل اشاعت کالم: نواز شریف، اپنا اپنا ظرف

پہلا منظر : 27 دسمبر 2007۔ عام انتخابات سے قبل اس دن صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے میں بھی مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کی جہلم سے راولپنڈی کی طرف رواں دواں انتخابی ریلی کے ہمراہ تھا۔ ریلی ابھی راولپنڈی کے ایک گنجان بازار میں داخل ہی ہوئی تھی کہ نواز شریف کو اپنی سب سے بڑی انتخابی حریف محترمہ بے نظیر بھٹو پہ لیاقت باغ میں قاتلانہ حملے کی اطلاع مل گئی۔ نواز شریف نے فوری طور پہ ریلی منسوخ کرتے ہوئے راولپنڈی جنرل اسپتال کا رخ کیا۔

ہم بھی ان کے پیچھے بھاگتے ہوئے اسپتال پہنچے جہاں پیپلز پارٹی کے کارکنان اور رہنماؤں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ نواز شریف کو سیکیورٹی خطرات کے باعث متعلقہ اداروں کی طرف سے اسپتال سے فوری جانے کی ایڈوائس کی گئی تاہم انہوں نے جانے سے انکار کر دیا۔ اسی دوران ڈاکٹروں نے عالم اسلام کی عظیم لیڈر بے نظیر بھٹو کی شہادت کی تصدیق کی تو ہم نے دھاڑیں مارتے جیالوں کے ساتھ نواز شریف کو بھی ہچکیاں لیتے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ نواز شریف نے غم سے نڈھال پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو نہ صرف دلاسہ دیا بلکہ وہیں کھڑے انہوں نے شہید بی بی کے قتل کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کا وعدہ بھی کیا۔

Read more

ساہیوال: دنیا میں ایسے آنکھوں میں دھول بھی نہیں جھونکتے

بچوں کی پتھرائی ہوئی آنکھیں اور ان کے کپڑوں پہ اپنے ہی ماں باپ کے خون کے چھینٹے ہمارے معاشرے کی وہ بھیانک تصویر ہے جس سے ہم لاکھ منہ موڑیں لیکن یہ تلخ حقیقت ہمارے لاشعور سے کبھی مندمل نہیں ہوگی۔ سینکڑوں زرخیز ذہنوں کو جنم دینے والے میرے آبائی شہر ساہیوال کے نام نے شہرت بھی پائی تو ایسی کہ ہماری اجتماعی جہالت کو بیچ چوراہے میں ننگا کردیا۔ ہماری تہذیب پہ وہ طمانچہ مارا کہ جس کو جتنا بھی سہلائیں درد ختم ہونے والا نہیں۔ ہمارے ضمیر پہ وہ بوجھ ڈال دیا جسے تاحیات اب سہنا ہوگا۔

جو مذہب ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دے۔ اس کے ماننے والے تیرہ سالہ معصوم اریبہ اور اس کے والدین کو اس سفاکی سے پلک جھپکنے کی دیر میں چیونٹی کی طرح مسل دیں تو بچ جانے والے بچوں عمیر۔ منیبہ اور ہادیہ کوہم کیسے جان کی حرمت کا درس دے پائیں گے۔ گورنر پنجاب چوہدی سرورنے بجا فرمایا کہ ایسے واقعات دنیا بھر میں رونما ہوتے ہیں لیکن کاش وہ قوم کو یہ بھاشن دینے سے پہلے ایسے واقعات کے رونما ہونے کے بعد ان مہذب معاشروں کے رد عمل سے بھی آگاہ کر دیتے جہاں ان جیسا کوئی حکومتی عہدیدار ایسی دیدہ دلیری سے متاثرین کے زخموں پہ نمک نہیں چھڑکتا۔

Read more

آصف زرداری سے ٹرین چھوٹ چکی

صرف چار ماہ قبل اگست 2018ء کی بات ہے۔ ملک میں صدارتی انتخاب کے لیے جوڑ توڑ عروج پہ تھا، ترپ کا پتا پاکستان پیپلز پارٹی بلکہ سب پہ بھاری کے نعرے پہ خوش ہونے والے آصف علی زرداری کے ہاتھ میں تھا جو سینیٹ الیکشن میں جوڑ توڑ کے ذریعے مسلم لیگ ن کا…

Read more

خود احتسابی، بھولئے گا مت

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے وعدے کے مطابق حکومت کی سو دن کی کارکردگی عوام کے سامنے پیش کردی جو یقیناً بڑے دل گردے کا کام ہے، خود اعتمادی اور خود احتسابی کے اس نادر اقدام پہ انہیں بہت سخت سست بھی سننا پڑیں ، یہاں تک کہ حکومت کی سو دن کی کارکردگی…

Read more

وہ بائیس منٹ جنہوں نے نواز شریف کو چپ کروا دیا ہے

گزشتہ کچھ عرصے سے ہر کوئی یہ جاننے کی خواہش رکھتا ہے کہ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ دینے والے نواز شریف آخر خاموش کیوں ہیں۔ لندن سے اپنے والد کے ساتھ آ کر جیل میں قید رہنے والی ان کی بیٹی مریم نواز نے بھی اب لب کیوں سی لئے ہیں۔ پہلے تو ہرکسی کو باپ بیٹی کی خاموشی کی وجہ محترمہ کلثوم نواز کی رحلت معلوم ہوتی تھی اس لیے کسی نے کریدنے کی بھی کوشش نہیں کی۔ پھر مسلم لیگ ن کی طرف سے کہا گیا کہ میاں نواز شریف سخت صدمے سے دوچار ہیں اس لیے وہ اپنی مرحومہ اہلیہ کے چالیسویں کے بعد سیاسی سرگرمیاں شروع کریں گے۔

وہ وقت بھی گزر گیا پھر بھی نواز شریف نے چپ کاروزہ توڑا اور نہ ہی مریم نواز کا ٹوئٹر ہینڈل ایکٹو ہوا۔ یوں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ کسی نے نواز شریف اور مریم نواز کی خاموشی کو این آر او کا نام دیا تو کسی نے اسے ڈیل کا نام دیا۔ کوئی اسے مصلحت پکارنے لگا تو کسی نے اسے خود احتسابی سے تعبیرکیا۔ حکومتی وزراء نے این آر او کے تاثرکو تقویت دینے کے لئے ایسے بیانات دینا شروع کر دیے جس پہ باپ بیٹی کی پر اسرار خاموشی مہر تصدیق ثبت کرتی نظر آئی۔

Read more

ناقابل اشاعت کالم: اپوزیشن کی سیاست میں جمہوریت مقدم یا ذاتی مفادات؟

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف زرداری نے گزشتہ دنوں موجودہ حکومت کو سلیکٹ اور نا اہل قرار دے کر تمام جماعتوں کو اس کے خلاف قرارداد لانے اور اسے ہٹانے کا غیر معمولی بیان دے کر ملکی سیاست میں ارتعاش پیدا کر دیا۔ آصف زرداری نے یہ بھی فرمایا کہ ان کے خلاف…

Read more