ایٹمی جنگ کی دھمکی سے دنیا ڈرتی کیوں نہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ لوگوں سے ہمیشہ سچ بولیں گے، کبھی کچھ چھپائیں گے نہیں اور جو حقیقی صورت حال ہو گی اس کے بارے میں اپنے عوام کو پوری دیانت داری سے آگاہ کرتے رہیں گے۔ اب یوں لگتا ہے کہ اقتدار میں ایک سال مکمل کرتے کرتے ان کی سانس اتنی پھول گئی ہے کہ سچ زبان پر لاتے ہوئے وزیر اعظم کا گلا خشک اور زبان لڑکھڑانے لگتی ہے۔

ابھی تک قوم کو سچ بتانے کی جو تفہیم عام طور سے سامنے آئی ہے وہ سابقہ حکمرانوں کو مسلسل چور قرار دینا لیکن عدالتوں میں کسی بھی مقدمہ میں حتمی شواہد کی عدم موجودگی سرفہرست ہے۔ اس کے علاوہ اقتدار سنبھالتے ہی سچ کا ایک پہلو واضح کرنے کے لئے وزیر اعظم ہاؤس کی بھینسیں اور گاڑیاں فروخت کر کے یہ بتانے کی کوشش کی گئی تھی کہ ایک ایماندار وزیراعظم کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے پس پردہ سابقہ وزرائے اعظم کس قدر ’گھناؤنی عیاشی‘ کرتے تھے کہ دودھ کے لئے بھینسیں بھی پالی گئی تھیں۔ یوں تو عمران خان نے وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا اعلان بھی بڑے زور شور سے کیا تھا لیکن اب اگر کوئی اسے یاد کروانے کی کوشش کرے گا تو پیمرا یا فردوس عاشق اعوان کو اس چینل یا صحافی کے پیچھے لگانے کی نوبت آ سکتی ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت خارجہ پالیسی کو اپنی کامیابی کا شاندار پیمانہ سمجھتی اور قرار دیتی ہے۔ اس کے خیال میں اقتدار سنبھالتے ہی ادائیگیوں کے توازن سے نمٹنے کے لئے عمران خان نے چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے عبوری قرضے اور معاشی ریلیف حاصل کرکے اپنی سفارت کاری اور اہم لیڈروں سے تعلقات کی دھاک جما دی ہے۔ اس کے بعد جولائی کے دوران دورہ امریکہ کو کامیاب خارجہ پالیسی کی معراج قرار دیتے ہوئے، اسلام آباد پہنچ کر عمران خان نے فرمایا تھا کہ انہیں یوں لگ رہا ہے کہ وہ ورلڈ کپ جیت کر واپس آئے ہیں۔ 5 اگست کو مودی حکومت نے آئینی و قانونی اقدامات کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت ختم کردی اور وہاں مقیم لاکھوں لوگوں کو گھروں میں بند کردیا۔ عمران خان نے روز اوّل سے اس معاملہ کو اپنی حکومت کا مسئلہ نمبر 1 قرار دیا اور کہا کہ وہ کشمیریوں کے سفیر بنیں گے اور ہر فورم پر کشمیر کا مقدمہ لے کر جائیں گے۔

دنیا بھر کے فورمز پر کشمیر کا مقدمہ لے کر جانے، کشمیری عوام کے لئے انصاف حاصل کرنے اور مودی حکومت کا فاشسٹ چہرہ عیاں کرنے میں پرجوش عمران خان البتہ اپنے ہی ملک کی پارلیمنٹ پر بھروسہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ملک کے منتخب وزیر اعظم سوالوں کا جواب دینے، مخالفانہ رائے سننے یا موجودہ اپوزیشن سے تعاون کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ کیوں کہ وہ خود کو عقل کل سمجھنے کے گمان میں مبتلا ہونے کے علاوہ یہ فیصلہ صادر کرچکے ہیں کہ مختلف پارٹیوں کے ٹکٹ پر پارلیمنٹ کا رکن بننے والے دیگر نمائندے دراصل چور ہیں جو عوام کو دھوکہ دے کر یا دھاندلی کے ذریعے اپنی چوری چھپانے کے لئے ایوان میں آئے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ تحریک انصاف کی جوابدہی کا عمل بہت کمزور ہے جسے نہایت ڈھٹائی سے اپوزیشن کے باہمی انتشار اور مفاد کی سیاست سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں احتجاج یا اسلام آباد شٹ ڈاؤن کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ ملک اس وقت ایسے احتجاج کا متحمل نہیں ہو سکتا لیکن اگر ایسا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو تحریک انصاف اور عمران خان اس سے بری الذمہ قرار نہیں ہوں گے۔

عمران خان دعوؤں یا نعروں کے ذریعے مشن کشمیر کی کامیابی کا جو امیج بنانا چاہتے ہیں، عملی صورت حال کے بارے میں سامنے آنے والی خبریں اس کا پردہ چاک کرتی ہیں۔ چند روز پہلے وزیر اعظم اور ان کے وزیر خارجہ نے کشمیر کے معاملہ پر بھارت کی مذمت میں 58 ملکوں کی حمایت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن وہ ان خبروں پر تبصرہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں بھارت کے خلاف قرار داد صرف اس لئے جمع نہیں کروائی جا سکی کہ پاکستان مطلوبہ 16 ملکوں کی تائید حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا تھا۔ سچ بولنے کے بارے میں قوم سے کئے گئے وعدے کا تقاضہ تو یہ تھا کہ ان کی حکومت نہ صرف اپنی سفارتی ناکامی کا اعتراف کرتی بلکہ یہ بھی بتاتی کہ کس کس ملک نے کشمیر کے سوال پر بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرنے سے انکار کیا تھا۔ تاکہ ملک کے عوام بھی ان ملکوں کے چہرے دیکھ لیتے جنہیں مسلمانوں کا نمائندہ یا اعلیٰ اسلامی اقدار کی مثال سمجھا جاتا ہے۔

اس کے برعکس نیویارک میں گزشتہ روز ’کونسل آف فارن ریلیشنز‘ کے اجلاس میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے دعویٰ کیا کہ القاعدہ اور طالبان کی عسکری تربیت پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی نے کی تھی۔ اب پاکستانی فوج اپنے ہی وزیر اعظم کی زبان کی لغزش کو درست کرنے کے لئے اپنے ’غیر سرکاری‘ نمائندوں کی خدمات حاصل کرنے پر مجبور ہے جو یہ واضح کر رہے ہیں کہ عمران خان پوری تیاری کے ساتھ نہیں گئے۔ وہ افغانستان کے جہادی گروہوں اور طالبان میں فرق کرنے میں کامیاب نہیں ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے غلط فہمی میں یہ بیان دے دیا ہے۔ پاکستانی صحافی یہ وضاحت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ جس وقت پاکستانی فوج سوویٹ یونین کے خلاف افغان جہاد کی تیاری کر رہی تھی، اس وقت تو القاعدہ قائم ہی نہیں ہوئی تھی جبکہ عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے استفسار کیا ہے کہ ’کسی نے غلطی سے عمران خان کو مودی کی تقریر تو نہیں تھما دی؟‘

ریحام خان کا عمران خان پر طنز تو قابل فہم ہے لیکن اس سوال کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ عمران خان جس مشن کشمیر پر اقوام متحدہ کے دورے پر نیویارک گئے ہوئے ہیں، اس کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان دہشت گردی سے ہر طرح کی لاتعلقی کا اعلان کرے۔ کجا کہ اس کا وزیر اعظم یہ بتا رہا ہے کہ اسے نہیں معلوم کہ اسامہ بن لادن کو مارنے کے لئے امریکی مشن کے بارے میں پاکستانی تحقیقات کا کیا نتیجہ نکلا تھا اور یہ کہ پاکستانی فوج نے القاعدہ اور طالبان کو عسکری تربیت دی تھی۔ بھارتی صحافی اس بیان کو نریندر مودی کے اس دعوے کی تصدیق قرار دے رہے ہیں کہ پاکستان ہی نائن الیون اور ممبئی حملوں میں ملوث دہشت گردوں کا سرپرست تھا۔

 مقبوضہ کشمیر میں بھارتی استبداد اور دہشت گردی کا مقدمہ پیش کرنے کے لئے امریکا جانے والے وزیر اعظم کے لئے یہ کوئی مستحسن صورت حال نہیں۔ وطن میں ان کے بیان کو غلط فہمی اور ناقص معلومات پر مبنی کہا جارہا ہے جبکہ بھارتی میڈیا اسے دہشت گردی کا اعتراف نامہ  بنا کر پیش کررہا ہے۔ ملک یا کشمیر کے بارے میں عمران خان کے خلوص نیت کے بارے میں شبہ نہیں کیا جا سکتا لیکن دنیا کی پیچیدہ سفارت کاری اور بھارت جیسے کائیاں دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے صرف نیک نیتی کافی اثاثہ نہیں ہے۔

اس پر مستزاد یہ کہ پاکستانی وزیر اعظم ایٹمی جنگ کے خطرے کو اب اپنا تکیہ کلام بنا چکے ہیں۔ نیویارک میں بھی انہوں نے واضح کیا ہے کہ کشمیر کی سنگین صورت حال پاکستان کو بھارت کے ساتھ تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے اور جب دو ایٹمی ملک ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے تو یہ وسیع تباہی و بربادی کا سبب بھی بن سکتا ہے جس کے اثرات برصغیر سے باہر تک محسوس کئے جائیں گے۔ عمران خان ایک ایسے وقت میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں ایٹمی جنگ کے اندیشے کی باتیں کررہے ہیں جب کہ عالمی ادارے نے ماحولیات کو سال رواں کا موضوع رکھا ہے اور دنیا کو موسمی تبدیلیوں یا گلوبل وارمنگ سے بچانے کی ترکیبوں اور تجویزوں پر غور کیا جا رہا ہے۔

عمران خان نے تواتر سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جھگڑے میں جوہری تصادم کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ اس لئے یہ قیاس کرنا ممکن نہیں کہ یہ زبان کی لغزش یا غلط معلومات کی بنیاد پر کہی گئی کوئی بات ہے۔ عمران خان کے اس مؤقف سے یہ سمجھنا چاہئے کہ پاکستانی حکومت کشمیر کی صورت حال پر نہ صرف یہ کہ جنگ کے خطرے کو حقیقی سمجھتی ہے بلکہ جوہری تصادم کا خطرہ بھی محسوس کرتی ہے۔  ایٹمی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان دراصل حکومت کی باقاعدہ پالیسی کی ترجمانی کررہے ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت فوج کے ساتھ مثبت اور قریبی اشتراک عمل کا دعویٰ بھی کرتی ہے جس کی تصدیق وقتا ً فوقتاً فوج کے ترجمان بھی کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے یہ سمجھ لینا بھی غلط نہیں ہوگا کہ ایٹمی جنگ کے بارے میں فوج کا بھی وہی مؤقف ہے جس کا اظہار وزیر اعظم نے گزشتہ روز نیویارک میں ایک بار پھر کیا ہے۔

سوال تو صرف یہ ہے کہ کیا یہ حکمت عملی غور و خوض کے بعد اختیار کی گئی ہے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور عسکری اثرات کا جائزہ لے لیا گیا ہے۔ یا یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ دنیا کو جب ایٹمی جنگ کا ڈراوا دیا جائے گا تو وہ اس تباہی سے بچنے کے لئے بھارت کو پاکستانی مؤقف ماننے پرمجبور کردے گی۔ اس قسم کی سوچ کو نرم سے نرم الفاظ میں بھی سنگین سادہ لوحی کہا جائے گا۔ یا تو حکومت صرف اپنے لوگوں کو ڈرانے یا جوش دلانے کے لئے یہ دھمکی استعمال کررہی ہے یا پھر دنیا اس انتباہ کو پاکستان کی گیدڑ بھبکی سمجھ رہی ہے۔

 پاکستانی وزیر اعظم اگر سنجیدگی سے دنیا کو جوہری جنگ کے خطرے سے آگاہ کررہے ہیں تو سوچنا چاہئے کہ دنیا اس پر خوف میں کیوں مبتلا نہیں ہوتی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1275 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali