EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

کامیابی عمر بھر کی ریاضت مانگتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"saeed-afzal\"

کیسے کیسے باکمال لوگ تھے اف میرے خدایا۔ آج پیچھے مڑ کر دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے۔ جادو کی نگری؟ ارے نہیں حقیقت کی دنیا تھی! ابھی کل کی تو بات ہے۔ سیکنڑوں سال نہیں صرف بیس سے پچیس سال پہلے کی بات ہے۔ کیا یہ اتنا بڑا عرصہ ہے کہ باتیں خواب لگیں؟ شاید ہر ایک کو اپنی جوانی اور بچپن کے ہیروز ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔ وہ دنیا میں کہیں بھی چلا جائے، زندگی میں کچھ بھی کر لے وہ ان لوگوں کے طلسم سے باہر نہیں آسکتا جنہوں نے عمر کے اس حصے میں اسے متاثر کیا ہو اور اس کی زندگی پر اثرات ڈالے ہوں۔ کوئی کچھ بھی کہہ لے مجھے آج بھی نازیہ حسن ، مسرت نذیر، منی بیگم ، نور جہاں اور عطااللہ عیسیٰ خیلوی کے گانے پسند ہیں۔ اور یہ وہ گلوکار ہیں جنہیں میں اوا ئل عمری سے سن رہا ہوں۔

ایک دنیا بدل گئی۔ ایک عہد بدل گیا۔ کرکٹ میں ایک سے بڑھ کر ایک بڑا کھلاڑی اپنے جوہر دکھا کر گھر کو چلا گیا لیکن آج بھی سنیل گواسکر ، ویوین رچرڈ، عبدالقادر، ایلن بارڈر، کا سحر طاری ہے۔ ٹی وی پر ڈراموں کا ایک دور تھا۔ ہر روز ایک ڈرامہ۔ پورا ہفتہ اس کی اگلی قسط کا انتظار ،ڈرامے کے انجام پر تبصرے اب کسی ایک ڈرامے کا نام یاد نہیں۔ جو کئی سالوں سے دیکھا ہو اور پی ٹی وی کی صبح کی نشریات کیا کہنے، صرف ایک گھنٹہ تیس منٹ۔ اور انتظار اتنا کہ کارٹون دیکھے بنا سکول جانا نہیں اور کبھی کبھی تو صرف یہ نشریات پوری دیکھنے کے لئے سکول سے چھٹی بھی کر لی جاتی تھی۔ ایک زمانہ اس نشریات کو دیکھنے کے لئے رک جاتا تھا اور اس میں ہوتا کیا تھا ورزش ، کارٹون ، مصوری۔ اور ایک یا دو مزاحیہ خاکے لیکن ان کا چارم ہی کچھ اور تھا۔

ان دنوں جو فلمیں ہٹ ہو ا کرتی تھیں آج شاید کوئی دیکھنا پسند نہ کرے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان فلموں کے ٹکٹ بھی مشکل سے ملا کرتے تھے۔ کبھی کبھی بلیک میں لیکن آج ایسی کون سی فلم ہے کہ جس کے ٹکٹ بلیک میں بکتے ہوں۔ اس وقت کوئی فلم ایکٹر ٹی وی پر آکر کام کرنا اپنی توہین سمجھتا تھا۔ لیکن آج وہ دن بھی ہیں کہ ٹی وی کے بغیر سب ادھورے ہیں نامکمل، کھوکھلے۔ چینل ہی چینل ہیں۔ اشتہار ہی اشتہار ہے۔ لیکن وہ چارم نہیں ہے۔ انٹرنیٹ پر تمام دنیا کے اخبارات تک رسائی ہونے کے باوجود جو اخبار ہاکر گھر میں پھینک کر جاتا ہے اس کو پڑھنے کا اہنا مزا ہے۔

احمد فراز ، منیر نیازی ، قتیل شفائی کیا کیا شاعر تھے۔ کیا رومانس تھا۔ بشری رحمن جس نے پیاسی اور اللہ میاں جی لکھ کے ایک عالم کو دیوانہ کر دیا، رضیہ بٹ جیسی ناول نگار جس کے ناول گلی گلی محلے بکا کرتے تھے اور کون تھا جو ان ناولوں کو پڑھے بغیر جوان ہو گیا ہو۔ اس عظیم خاتون کا انتقال ہوا تو اتنی چھوٹی سی خبر دیکھ کے دل کٹ کر رہ گیا۔ کیا عمر بھر کی یہی کمائی ہے؟

ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا۔ کیسے ہو گا کہاں ہوگا؟ ملنے کے نہیں ہم نایاب ہیں ہم۔ جیسے ابن صفی اور مظہر کلیم کی عمران سیریز کے مقابلے میں کون سا نیا ناول نگار سامنے آیا ہے جس نے کسی نئی سیریز کو متعارف کرایا ہو۔ ناممکن لگتا ہے۔ لکھنے والوں کا سٹیمنا بھی ختم ہو چکا۔ ہر کام میں شارٹ کٹ۔ کھانے میں پاپ کارن۔ میوزک میں پاپ موسیقی ، پھوک ہی پھوک۔ عظمت ریاضت مانگتی ہے۔ بے تحاشا صبر۔ کامیابی ایک دم ٹوٹ کے نہیں بر سا کرتی۔ ایک دن نہیں مدتوں کا سفر ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے