اختر شیرانی، میو ہسپتال اور این سی اے کی طالبہ


\"????????????????????????????????????\"ستمبر 1948 میں قائداعظم محمد علی جناح سخت علیل تھے اور زیارت کے مقام پر زیر علاج تھے۔ محترمہ فاطمہ جناح اور کرنل الہٰی بخش نے بانی پاکستان کی زندگی کے آخری ایام کے بارے میں لکھا ہے کہ قائد اعظم اہل پاکستان کی سیاسی اخلاقیات اور معاشرتی شعور سے سخت دل شکستہ ہوئے تھے۔ ستمبر 1948 کے آخری ہفتے میں قائداعظم کے اضطراب کی بڑی تصویر کا ایک چھوٹا سا حصہ لاہور کے میو ہسپتال میں بھی دیکھا جا سکتا تھا۔ اردو کے صف اول کے شاعر اختر شیرانی شدید علالت کے باعث میو ہسپتال میں داخل تھے۔ اختر شیرانی نے قائد اعظم کی وفات سے دو روز قبل نو ستمبر 1948 کو انتقال کیا۔ ان کے آخری ایام کے بارے میں ہمارے ادب میں دو اہم حوالے موجود ہیں۔ سعادت حسن منٹو نے گنجے فرشتے میں ’اختر شیرانی سے چند ملاقاتیں’ کے عنوان سے لکھا ۔

\”میں ایک فلمی کہانی لکھنے میں مصروف تھا کہ احمد ندیم قاسمی آئے۔ آپ نے بتایا۔ \”میں نے کسی سے سنا ہے کہ اختر صاحب دو تین روز سے خطرناک طور پر علیل ہیں۔ اور میو ہسپتال میں پڑے ہیں بڑی کسمپرسی کی حالت میں۔ کیا ہم ان کی کوئی مدد کر سکتے ہیں؟\”

ہم سب نے آپس میں مشورہ کیا۔ مسعود پرویز نے ایک راہ نکالی جو یہ تھی کہ ان کی دو تین غزلیں یا نظمیں فلم کے لیے لے لی جائیں اور پرویز پروڈکشنز کی طرف سے پانچ سو روپے بطور معاوضے کے ان کو دے دیئے جائیں۔ بات معقول تھی۔ چنانچہ ہم اسی وقت موٹر میں بیٹھ کر میو ہسپتال پہنچے۔

مریضوں سے ملنے کے لئے ہسپتال میں خاص اوقات مقرر ہیں۔ اس لئے ہمیں وارڈ میں جانے کی اجازت نہ ملی۔ ڈیوٹی پر اس وقت جو ڈاکٹر مقرر تھے۔ ان سے ملے۔ جب آپ کو معلوم ہوا کہ ہم اختر شیرانی سے ملنا چاہتے ہیں۔ تو آپ نے بڑے افسوس ناک لہجے میں کہا۔ \”ان سے ملاقات کا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔\"akhtar\"\”

میں نے پوچھا۔ \”کیوں؟\”

ڈاکٹر نے اسی لہجے میں جواب دیا۔ \”وہ بیہوش ہیں۔ جب سے یہاں آئے ہیں، ان پر غشی طاری ہے۔ یعنی الکوہلک کوما۔

یہ سن کر ہمیں اختر صاحب کو دیکھنے کا اور زیادہ اشتیاق پیدا ہوا۔ ہم نے اس کا اظہار کر دیا۔ ڈاکٹر صاحب اٹھے اور ہمیں وہاں لے گئے جہاں ہمارا رومانی شاعر، سلمیٰ اور عذرا کا خالق بے ہوش پڑا تھا۔ بیڈ کے ارد گرد کپڑا تنا تھا۔ ہم نے دیکھا اختر آنکھیں بند کئے پڑے ہیں۔ لمبے لمبے ناہموار سانس لے رہے ہیں۔ ہونٹ آواز کے ساتھ کھلتے اور بند ہوتے تھے۔ ہم تینوں ان کو اس حالت میں دیکھ کر پژمردہ ہوگئے۔

میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا۔ \”کیا ہم ان کی کوئی مدد کر سکتے ہیں؟\”

ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔ \”ہم امکان بھر کوشش کر چکے ہیں۔ مریض کی حالت بہت نازک ہے گردے اور جگر بالکل کام نہیں کر رہے۔ انتڑیاں بھی جواب دے چکی ہیں۔ ایک صرف دل اچھی حالت میں ہے۔ گھپ اندھیرے میں امید کی بس یہی ایک چھوٹی سی کرن ہے۔\”

جب ہم نے خواہش ظاہر کی کہ ہم اس وقت میں کسی نہ کسی طرح اختر کے کام آنا چاہتے ہیں تو ڈاکٹر صاحب نے کہا۔ \”اچھا تو میں آپ کو ایک دوا کا نام بتاتا ہوں۔ آپ اسے حاصل کرنے کی کوشش کیجئے۔ یہاں پاکستان میں بالکل نایاب ہے ممکن ہے بندوستان میں مل جائے۔\”

ڈاکٹر صاحب سے دوا کا نام لکھوا کر میں فیض صاحب کے پاس پہنچا۔ اور ان کو ساری بات بتائی۔ آپ نے اسی وقت امرتسر ٹیلی فون کرایا۔ اور اپنے اخبار کے ایجنٹ سے کہا کہ وہ دوا حاصل کر کے فوراً لاہور بھجوا دے۔ لیکن دوا نہ ملی مسعود پرویز نے دہلی فون کیا۔ وہاں سے ابھی جواب نہیں آیا تھا کہ اختر صاحب بے ہوشی ہی میں اپنی سلمیٰ اور عذرا کو پیارے ہو گئے\”۔

مرحوم ڈاکٹر داؤد رہبر نے ڈاکٹر اسلم فرخی صاحب کے نام دس فروری 1989 کو ایک خط میں لکھا

\"akhtar2\"\”میرے بھائیوں میں سب سے بڑے ڈاکٹر محمد اسحاق صاحب ہیں۔۔۔۔  جن دنوں اختر کا انتقال ہوا ہے بھائی صاحب لاہور کے میڈیکل کالج میں اناٹومی (علم الابدان) پڑھانے پر مامور تھے۔ اناٹومی کے کورس میں انسانی بدن کے اعضاء کی شناسائی بہم پہنچانے کو لاشیں مہیا کی جاتی ہیں۔ اس کورس کی ضرورت گمنام لاوارث لاشوں سے پوری ہوتی ہے۔۔۔

میو ہسپتال کے مردہ خانے میں پوسٹ مارٹم کے فرائض گاہے گاہے بھائی اسحاق صاحب کے سپرد بھی ہوتے تھے۔ ایک روز ان کا سدھایا ہوا ایک مددگار دوڑا دوڑا آیا اور بولا \”ڈاکٹر صاحب، ذرا میرے ساتھ چلئے ایک میت آپ کو دکھانی ہے\”۔ بھائی صاحب چکرائے کہ خدا خیر کرے۔ میت کے قریب پہنچے تو وہ مددگار بولا، غور سے دیکھئے، میرا خیال ہے کہ یہ اختر شیرانی ہیں۔ بھائی نے سنبھل کر دیکھا تو یقین ہوگیا کہ یہ اختر ہی کی میت ہے۔ یہ مددگار اختر کا شیدائی تھا۔ بولا کہ فوراً اختر کے عزیزوں کو خبر پہنچائی جائے۔

لاش شہر میں کسی سڑک پر پائی گئی تھی، پولیس نے تانگے پر رکھ کر مردہ خانے پہنچائی تھی۔ اناٹومی کے بڑے پروفیسر ڈاکٹر فخرالدین مرحوم تھے۔ بھائی صاحب ان کے ماتحت تھے۔ بھائی صاحب نے ان کو آگاہ کیا اور کہا کہ غضب ہے، ایسا نامی آدمی گمنام ہو کر یہاں پہنچا، اختر کے عزیزوں کو فوراً خبر کی جائے کہ آکر جنازے کا انتظام کرے۔ ڈاکٹر فخرالدین نے فرمایا، اجی یہ شرابی تھا، اس کی لاش کیمیائی جائے اور علم الابدان کی چیر پھاڑ کے لئے استعمال کی جائے، ایسوں کا یہی انجام ہونا چاہئے۔

بھائی صاحب نے کہا آپ صورت حال کی نزاکت کو نہیں سمجھے، جو میں کہتا ہوں وہی کیجئے ورنہ خیر نہیں۔ چنانچہ بھائی صاحب نے ٹونک میں وارثوں کو تار دیا۔۔۔ بھائی صاحب (کے مطابق) حافظ محمود خاں شیرانی مرحوم کے بھانجے فضل الرحمان صاحب کو اطلاع دی گئی۔ اور یہ کہ دو دن کے اندر اندر شیخوپورہ سے اختر کے چند اقارب میت کو لینے میو ہسپتال پہنچ گئے اور میت ان کو دے دی گئی۔۔۔\”

قیاس کیا جا سکتا ہے کہ سعادت حسن منٹو اپنے رفقاء کے ساتھ شیرانی صاحب کی عیادت کے لئے ضرور گئے ہوں گے تاہم اختر شیرانی کے احباب ان کی کی طبی کیفیت کے بارے میں کچھ زیادہ باخبر نہیں تھے۔ اختر شیرانی کے اہل خانہ ٹانک میں مقیم تھے۔ اختر شیرانی کے اپنے والد حافظ محمود شیرانی سے کشیدہ تعلقات کچھ ڈھکے چھپے نہیں تھے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ میو ہسپتال لاہور کے ایک ذمہ دار پروفیسر فخر الدین نے اختر شیرانی کی اخلاقی شہرت سے متاثر ہوکر اپنے پیشہ ورانہ اخلاق کو بالائے طاق رکھ دیا۔

میو ہسپتال لاہور ایک عظیم الشان طبی ادارہ ہے۔ اس ہسپتال نے گزشتہ 140 برس میں لاہور اور گردونواح کے باشندوں کی قابل قدر خدمت \"mayo-hos\"کی ہے۔ اس ہسپتال کے تاریخی کردار سے قطع نظر سوال ہمارے ملک میں طبی پیشے سے منسلک افراد کی اخلاقی اقدار اور پیشہ ورانہ اصول ضابطوں سے غفلت کا ہے۔ اختر شیرانی کا غریب الوطنی میں یوں بے چارگی کی موت کا شکار ہونا ادب اور تہذیب کا بہت بڑا نقصان تھا۔ لیکن گوشت پوست سے بنے انسانوں کے علاج کی ذمہ داری اٹھانے والے ایک شخص کی ذہنی سطح اس قدر پست تھی کہ وہ اکل و شرب سے متعلقہ آبائی تعصبات پر قابو پانے کا بھی اہل نہیں تھا۔

ستمبر 1948 کے بعد سے پاکستان نے ارتقا کی بہت سی منزلیں طے کی ہیں۔ میری نظر میں پاکستان کے طبی شعبے نے ستر کی دہائی کے آخری برسوں میں اپنے بہترین سیاسی اور اخلاقی شعور کا مظاہرہ کیا تھا۔ فوجی آمر ضیا الحق سعودی حکومت کو خوش کرنے کی خاطر حدود قوانین کے تحت سزا یافتہ شہریوں کے ہاتھ کاٹنا چاہتا تھا۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ کوئی ڈاکٹر اس قسم کی سزاؤں کی طبی ذمہ داری نہیں لے گا۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ہمارا کام \”کٹے ہوئے ہاتھ جوڑنا ہے، ہم شہریوں کو اپاہج بنانے کی کارروائی میں فریق نہیں بنیں گے\”۔ چنانچہ پاکستان میں ہاتھ کاٹنے کی کی سزا پر کبھی عمل درآمد نہیں ہوا۔ کسی عدالت نے سنگساری کی سزا کی توثیق نہیں کی۔ ہمیں پاکستان کے ڈاکٹروں، قانون دانوں، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں پر فخر ہے جنہوں نے ضیا جیسے آمر کی مزاحمت کی۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان میں گلی کوچوں کی اخلاقیات درس گاہوں پر اثر انداز ہوئی ہے۔ توہمات کی پرچھائیاں سائنس کی تجربہ گاہوں تک آئی ہیں۔ پرکھوں کے واہمے علاج گاہوں کے در و دیوار تک آ پہنچے ہیں۔ سائنس کی تعلیم کو عقیدے کے ساتھ خلط ملط کرنے سے ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ڈاکٹروں اور انجنیئروں کی ایک بڑی تعداد بنیاد پرست رجحانات کی حامل ہے۔ دہشت گردی کے خلاف فعال ادارے جانتے ہیں کہ دہشت گردوں کے رہنماؤں میں ڈاکٹر اور انجنیئر حضرات کی کیا شرح رہی ہے۔ کسی کے ذاتی خیالات پر پہرا نہیں بٹھایا جا سکتا۔ ہر شخص اپنے عقیدے کے انتخاب میں آزاد ہے۔ لیکن معاشرہ یہ مطالبہ کرتا ہے کہ علاج کرنے والا اپنے ذاتی عقیدے کو ہسپتال کی دہلیز پر چھوڑ کر اندر داخل ہو۔ کسی سکھ ڈاکٹر کو تمباکو نوشی سے متاثر ہونے والے مریض کے ساتھ بدسلوکی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ کسی پولیس آفیسر کو اپنے ذاتی عقیدے کی روشنی میں قانون کی تشریح کا اختیار نہیں۔ انتظامیہ کا کوئی اہلکار امن و امان کے معاملات اپنے عقیدے کی روشنی میں طے نہیں کر سکتا۔ کمرہ جماعت میں استاد کو طالب علم کی مذہبی شناخت پوچھنے کی اجازت نہیں۔\"mayo\"

اختر شیرانی سے متعلقہ واقعات کا حوالہ تب یاد آیا جب ایک محترم عزیزہ کو گزشتہ دنوں میڈیکل سرٹیفکیٹ لینے کے لئے میو ہسپتال جانا پڑا۔ وہ متعلقہ واجبات ادا کرنے کے بعد دو ہفتے تک ہسپتال کی غلام گردشوں میں ماری ماری پھرتی رہیں۔ بالآخر جب وہ ایک ذمہ دار افسر تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں تو ان کا معاملہ لٹکانے کی جو توجیہ پیش کی گئی وہ شرم ساری کی حد تک اخلاق باختہ تھی۔ محترمہ کے لفظوں میں تفصیلات پڑھ لیجئے۔

22 ستمبر (2016) کو میڈیکل سرٹیفیکیٹ کے لئے میو اسپتال جانا ہوا۔  میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کے پی اے نے تمام پروسیجر بتایا۔ کمرہ نمبر 45 میں تمام ٹیسٹس کی پرچیاں بنائی گئیں۔ ٹیسٹ ہوئے۔ کسی بیماری کے آثار نہیں پائے گئے۔ ایگزامینر صاحب نے آنکھوں کے لئے کچھ ادویات بتائیں اور کہا کہ کل آئیے، آپ کو سرٹیفیکیٹ مل جائے گا۔ اب روزانہ ہسپتال جانا معمول بن گیا۔ ہر روز معاملہ ٹالا جاتا رہا۔ بالآخر میں 3 اکتوبر 2016 کو پریشانی کے عالم میں ایم ایس کے کمرے سے باہر انتظار گاہ میں رو پڑی۔ یہاں کسی کے بتانے پر جیسے تیسے ڈائریکٹر محمد تحسین بٹ  کے کمرے تک رسائی ہوئی۔  انہوں نے اگلے دن آنے کو کہا اور یہ بھی یقین دلایا کہ وہ خود اس تاخیر کی انکوائری کریں گے۔ اگلے روز کافی تلخ کلامی کے بعد پی اے نے مجھے ایم ایس امجد شہزاد صاحب سے ملوایا اور وہیں ڈائریکٹر محمد تحسین بٹ صاحب بھی موجود تھے۔ ایگزامینر کو بلا کر تفصیل پوچھی گئی۔ موصوف نے فرمایا کہ \”بی بی آرٹسٹ ہیں۔ آج کل کے نوجوان ڈرگز لیتے ہیں، ان کے خون سے تو ایسا کچھ نہیں ملا مگر آرٹسٹ ذرا  آزاد خیال ہوتے ہیں لہٰذا انہیں مختلف ڈیل کرنا ہوتا ہے۔ ان آزاد خیال لوگوں کو ایچ آئی وی اور دیگر خطرناک بیماریوں کا سامنا رہتا ہے۔ میں بس اچھی طرح جانچ کر رہا ہوں؟“

میں نے اپنے کوائف میں بتا رکھا تھا کہ میں آرٹسٹ ہوں۔ این سی اے کی طالبہ اور کیا بتاتی؟

اس سے پہلے کہ میں غصے میں کچھ کہتی، محمد تحسین بٹ نے ایگزامینر کی بات کاٹ کر کہا \”آپ کا جتنا کام ہے، اتنا کیجئے۔ آپ کب سے لوگوں کی \"hippocrates\"زندگیوں میں دخل دینے لگے، دوسروں کی زندگی کے بارے میں فیصلے دینا آپ کا کام کب سے ہوا؟ ایک میڈیکل سرٹیفکیٹ کے لئے آپ نے خاتون کو اتنا تنگ کیا۔ صرف اس لئے کہ وہ غلطی سے این سی اے میں پڑھ رہی ہے؟ لوگوں کو وعظ  سناتے ہیں اور کام سے بھی غیرحاضر رہتے ہیں۔ آپ سے بعد میں نمٹا جائے گا ابھی اسی وقت سرٹیفیکیٹ ان کے حوالے کیجئے۔” اگلے روز محمد تحسین بٹ نے معذرت کرتے ہوئے سرٹیفیکیٹ مجھے تھما دیا۔ اور آخری بات یہ کہ جب باہر نکل رہی تھی تو صاحب کے پی اے نے \”کسی دن کھانا اکٹھے کھانے\” کی پیش کش کی۔\”

قابل تعریف بات ہے کہ اس ماحول میں ابھی میو ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد تحسین بٹ جیسے افسر موجود ہیں۔ پیشہ ورانہ بداخلاقی کا مظاہرہ کرنے والے اہلکار تو قابل ذکر بھی نہیں۔ محکمہ طب کے اساتذہ اور رہنماؤں سے گزارش کرنی چاہئے کہ عقیدے کی آزادی اپنی جگہ مگر بقراط (Hippocrates ) نے طب کی ایک اخلاقیات مرتب کی تھی۔ ہر ڈاکٹر طب کی سند پاتے ہوئے بقراط کا حلف اٹھاتا ہے۔ اس حلف کا پاس کرنا چاہئے۔ علاج گاہوں کی دیواروں سے مذہبی امتیاز  ہٹانا چاہئے۔ علاج ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ اسے تنگ نظری اور ریاکاری کے تابع نہیں کیا جا سکتا۔

 

Facebook Comments HS

6 thoughts on “اختر شیرانی، میو ہسپتال اور این سی اے کی طالبہ

  • 06/10/2016 at 9:49 شام
    Permalink

    کتنا اچھا ہو اگر اس خاتون کے اساتذہ اور ہم جماعت مل کر ارباب اقتدار سے ملاقات کریں اور تاکید سےان سے مطالبہ کریں کہ اسطرح کی حرکت کرنے والوں کے خلاف کوئی نہ کوئی تادیبی کارروائی ضرور کی جائے۔

  • 06/10/2016 at 9:52 شام
    Permalink

    میری بہن لیاقت نیشنل ھاسپیٹل میں داخل تھیں ـ آخری دن جو باریش ـ دستار و جبہ پہنے ـ ٹخنوں تک سلوار میں اسپیشلسٹ ڈاکٹر نمودار ھوئے وہ اس طرح مخاطب ھوئے ـ
    ” بی بی جی آپ کو کچھ نہیں ـ بلکل ٹھیک ھیں ـ آپ گھر جائیں ـ صبح دو چمچ نہار منہ زیتون کا تیل پی لیا کریں ـ اللہ کو یاد کریں ـ تلاوت کریں …….
    اور پھر ڈاکٹر صاحب میرے بہنوئی سے مخاطب ھوئے ـ
    ” جناب! ،آپ بھی روزہ نماز قائم کریں ـ اور تبلیغ کے لیے وقت نکالیں دس دن کے چلہ پر نکلیں ـ انشااللہ تعالیٰ سب ٹھیک ھوجائے گا ـ ـ ـ پھر وہ مجھے فرمانے لگے ” جی ! صاحب آپ بھی ـ ـ آپ بھی تبلیغ کا ارادہ کریں ـ اللہ غفور و رحیم ھے ـ انشااللہ تعالیٰ مکمل شفا ملے گی ـ ـ ـ ”
    بعد میں مجھے معلوم ھوا کہ وہ ڈاکٹر پاکستان کے وزیر اعظم بوگرہ کے فرزند تھے ـ
    میرے شہر کا ایک ڈاکٹر کسی ابدال کا مرید ھو کر اس کی ذات میں اتنا فنا ھوگیا کہ ایلوپیتھی کو ایک طرف رکھ کر صبح صبح مریضوں پر دم درود کرنے ـ پڑھا ھوا پانی چھڑکنے کے چکر میں لگ گیا ـ ـ ـ
    ابھی جو میڈیکل اتھیکس کا بیڑہ غرق ھوا ھے وہ تو آئے دن ھم دیکھتے رھتے ھیں ـ وہ بیچارہ ایک ٹرانس جینڈر ( ھیجڑہ) ھاسپیٹل میں ڈاکٹروں کی نفرت کا شکار ھوکر ـ ان کے فقرہ بازی ـ ٹوک ـ طعنہ بازی سنتے سنتے مر گیا ـ ـ ـ
    ایک اور رونگٹے کھڑے کرنے والی بات سنیں!
    انیس سؤ ٹھاسی میں حیدرآباد ـ کراچی میں سندھی ـ مہاجر فسادات برپا کروائے گئے ـ اس پس منظر میں حسن مجبتیٰ نے کالم میں لکھا کہ” لیاقت ھاسپیٹل حیدرآباد میں داخل اردو بولنے والے مریضوں کو لگے ماسک ـ نلکیاں ـ ذرپس سندھی ڈاکٹر کھینچ کر ھٹا رھے تھے اور لطیف اباد کے بھٹائی ھاسپیٹل میں یہی حشر اردو بولنے والے ڈاکٹر سندھی بولنے والے مریضوں سے کر رھے تھے …..”

  • 06/10/2016 at 11:32 شام
    Permalink

    ایسے بہتیرے کالم وقفے وقفے سے میڈیا گردوں کی جانب سے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی زینت بنتے رہے ہیں… جنکا مقصد صرف اور صرف سستی شہرت یا پھر غریب مریضوں کو ترجیح دیتے ہوئے ان قلمی طوائفوں کو "پروٹوکول” نہ دینے کے بعد ملنے والی سبق سکھانے کی دھمکی کو عملی جامہ پہنانا ہوتا ہے. لاوارث لاش کے چہرے پہ یہ نہیں لکھا ہوتا کہ وہ کس کی ہے. اور لاہور میں ملنے والی ہر لا وارث لاش کے میڈیکل کالج کے اناٹومی ڈیپارٹمنٹ میں پہنچنے کے بھی باقاعدہ ظابطے ہوتے ہیں.مگر میں یہاں قلمی طوائفوں سے بحث مناسب نہیں سمجھتا لیکن ان سے گوش گزار کرتا چلوں کہ اے حمید ,شورش کاشمیری اور نصرت بھٹو سے لے کر جمیل فخری تک اور ناجانے کتنے ہی مریضوں کا علاج صرف اور صرف مریض ہونے کی بنیاد پہ اس ہسپتال میں کیا گیا اور کیا جاتا رہے گا. میرے پیشے کو مسیحائی کا خطاب قلمی طوائفوں سے مستعار نہیں ملا تھا اس لیے قلم گردی کرتے رہیے اور ہم رنگ’نسل’ذات’مذہب کی تفریق سے بے نیاز اپنے تئیں مسیحائی کی حتی الامکان سعی کرتے رہیں گے اور اس کے لیے ہمیں آپکے قلم کی چنداں ضرورت نہیں.

    • 07/10/2016 at 1:31 صبح
      Permalink

      شکریہ ڈاکٹر ابوبکر۔ آپ نے اپنے لفظوں اور دلائل کے انتخاب سے اپنی شناخت میں مدد دی۔ یقینی طور پر آپ کے قبیلے یعنی تخمی طوائفوں کا مقام قلمی طوائفوں سے بہت بلند شمار کیا جائے گا۔ یہاں سوال یہ نہیں تھا کہ اختر شیرانی کی لاش لاوارث تھی یا نہیں اور نہ لاوارث لاشوں کے انتخاب کا طریقہ کار زیر بحث تھا۔ تاریخ کی گواہی بیان کی گئی تھی کہ ایک برخود غلط اور احساس گناہ میں لتھڑے ہوئے پستہ ذہن شخص (ڈاکٹر فخرالحق) نے مریض کی جائز ذاتی ترجیحات کی بنیاد پر اسے عمومی انسانی احترام سے فروتر گردانا۔ آپ جیسے بزعم خود مسیحا سے طب کے پیشے کے احترام میں کیا اضافہ ہو گا جو قومی زبان میں چند سطور کا درست مالہ و ماعلیہ سمجھنے سے بھی عاجز نظر آتا ہے۔ دعا ہے کہ آپ اپنی خود راستی کی دلدل میں گرتے پڑتے، پائنچے سنبھالتے، جلد اپنے قعر مزلت میں پہنچیں۔ اس کوتاہ راستی سے آپ کے مفروضہ اور حقیقی گناہ کم ہوں گے نیز انسانیت آپ جیسے حجری دماغ سے نجات پائے گی۔

    • 09/10/2016 at 5:56 شام
      Permalink

      ڈاکٹر فخر کے ریمارکس یقینًا ان کے پیشہ ورانہ اخلاقیات کے منافی تھے لیکن اگر انکا ایک ناجائز تبصره ایک کالم کا مستحق ٹھہرا ہے تو منٹو اور شیرانی جیسے حرام اکل وحرام شرب لوگوں کے پھیلائے ہوئے فتنوں پر پورے دفتر قلم بند ہونے چاہئیں

    • 07/10/2016 at 9:19 شام
      Permalink

      حضرت آپ اپنے تئیں اور اپنے الفاظ کے مطابق مذہب کی تفریق سے بے نیاز ضرور مسیحائی کر رہے ہوں گے لیکن آپ نے جو زبان استعمال کی ہے وہ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ آپ کی ،،مسیحائی،، کا میعار کیا ہوگا؟ سنا تو یہی تھا اور دیکھابھی ہے کہ مریض کا آدھا مرض تو ڈاکٹر کی گفتگو سے ہی جاتا رہتا ہے۔ ما شا اللہ آپ کی ،،قلمی طوائفوں،، والی اصطلاح بتا رہی ہے کہ حضور علاج سے پہلے مریضوں سے کیسی اورکیا گفتگو فرماتے ہوں گے؟

Comments are closed.