جنگ ستمبر کی یادیں اور آج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

الطاف حسین قریشی پاکستانی تاریخ کا چلتا پھرتا ایک ایسا ذخیرہ ہے کہ جس سے جتنا بھی استفادہ بھی کیا جائے محسوس پھر بھی یہ ہوتا ہے کہ ابھی تو اسی سمندر کا لمس ہی محسوس ہوا ہے۔ گہرائی میں ابھی نہ جانے کیا کیا پنہاں ہے۔ اسی لئے ان کے متعلق ایک گراں قدر کتاب ”الطاف صحافت“ تحریر کی گئی ہے۔ جبکہ الطاف حسین قریشی نے جنگ ستمبر کی یادوں میں ایک ایسی کتاب تخلیق کی ہے کہ جو خون کو آج بھی جوش دلا دیتی ہے۔ کتاب کا عنوان ”جنگ ستمبر کی یادیں“ ہے۔

ستمبر 1965 ؁ء کی جنگ ایک ایسا معرکہ تھا کہ جس میں اگر قوم کے حوصلے پست ہو جاتے تو ایسی صورت میں بھارت سے برابری کی سطح پر گفتگو کی خواہش کبھی انگرائی نہ لے سکتی۔ اس جنگ کے دوران اپنے مشاہدات کو بیان کرتے ہوئے الطاف حسین قریشی نے محاظ جنگ سے لے کر عوام تک جذبہ حریت کو بیدار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا تھا کہ قلم کا کردار تلوار کو مضبوط رکھنے کے لئے کلیدی اہمیت رکھتا ہے ورنہ تلوار بھی زنگ آلود ہو جاتی ہے۔

ان تحریروں پر مشتمل تاریخ کو مرتب کر کے ہم جیسے طالب علموں کے لئے یہ کتاب پیش کی اور اس کتاب کی تقریب رونمائی میں اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں مجھے بھی اس تقریب کے منتظم پاکستان ہاؤس نے گزارشات پیش کرنے کی دعوت دی۔ پاکستان ہاؤس کے کرتا دھرتا سابق چیئرمین جوائن چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل احسان ہیں۔ جبکہ وہاں پر سابق وفاقی وزیر اعجاز الحق، پاک فضائیہ کے سابق سربراہ ایئر چیف مارشل کلیم سعادت، رانا اطہر، ایئر کموڈور خالد رشید، ڈاکٹر طلعت یعقوب جیسے افراد نے بھی خیالات کا اظہار کیا۔

سامعین نے جبار مرزا اور بیگ راج جیسے احباب موجود تھے۔ اپنی گفتگو کا آغاز کتاب کے باب ”معرکہ باٹا پور“ کے ایک پیرے سے کیا کہ جس میں پاکستانی افواج کی بے مثل دلیری اور پایۂ استقلال کو بیان کرتے ہوئے تحریر ہے کہ ”9 بج رہے ہیں اک اک لمحہ صدیوں پر محیط ہے بھارت کے دو بریگیڈ سامنے ہیں جن کے پیچھے پوری ڈویثرن کا سازو سامان ہے۔ اس بکتر بند ڈویثرن کو روکنے کے لئے ہماری چند کمپنی سر دھڑ کی بازی لگا رہی ہیں۔

سمندری کی لہروں کی طرح بھارتی فوج آگے بڑھ رہی ہے اور پیچھے ہٹ رہی ہے۔ کسی آن ٹینک پل پر پہنچنے والے ہیں۔ ادھر مزاحمت میں کوئی کمی نہیں لیکن تعداد اور اسلحہ کی قلت آخر کب تک ٹھہرے گی۔ ایک طرف سے گونج دار نعرے تکبیر بلند ہوتا ہے۔ پاکستانی فوجی بجلی بنے ہوئے ہیں جو گرتے اور گر کر اٹھتے ہیں۔ لڑائی نازک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ پاکستانی فوجی خود سے بالکل بے خبر ہیں ان کے سر میں ایک ہی سودا سمایا ہوا ہے پل پر دشمن کا قبضہ نہیں ہونے دیں گے “۔

کیا جذبہ تھا اور اس جذبے کی پشت پر پوری قوم کھڑی تھی کہ جو دعاؤں کے ساتھ ساتھ وطن عزیز کے دفاع کے لئے لڑنے مرنے پر بھی مکمل طور پر آمادہ تھے۔ ایوب خان ایک فوجی آمر تھے لیکن ان میں کم از کم اتنی رعونت نہیں تھی کہ وہ ایسے نازک مرحلے پر بھی صرف حزب اختلاف کو ہی کوستے رہتے اور حزب اختلاف سے رابطہ نہ کرتے۔ اور نہ ہی حزب اختلاف نے اس وقت سیاسی چپقلش کو کوئی اہمیت دی بلکہ ایوب خان اور حزب اختلاف دفاع وطن کی خاطر ایک صفحے پر آ گئے۔

کشمیر میں جاری موجودہ حالات نے کشمیریوں پر نہ صرف کے آزادی و خود مختاری کی خواہش پر کاری ضرب لگائی ہے بلکہ ان میں عزت نفس کی پامالی کا بھی احساس بری طرح جاگزیر ہو گیا ہے۔ لیکن بد قسمتی کا عنصر اتنا نمایاں ہے کہ اس کڑے وقت میں بھی جب ہم سفارتی طور پر بھی تنہا رہ گئے ہیں حکومت ما سوائے سیاسی تلخی میں اضافہ کرنے کے اور کوئی کام سر انجام نہیں دے رہی۔ یا دینے کی صلاحیت ہی قطعاً نہیں رکھتی۔ ان حالات میں بھی حزب اختلاف پر ماسوائے جگت بازیوں کے اور کوئی کام روبہ عمل نہیں کیا جا رہا۔

اتنے اہم معاملے پر اب تک وزیر اعظم عمران خان کو حزب اختلاف کے چوٹی کے رہنماؤں کے براہ راست مشاورت کا عمل جاری کر دینا چاہیے تھا جب 1998 ؁ء میں نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کیے تو اس وقت بھی سیاسی درجہ حرارت بہت زیادہ تھا مگر فوراً محترمہ بینظیر بھٹو سے رابطہ کیا گیا کہ سیاسی اختلافات قومی مفادات کے سامنے سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتے۔ جذبہ آج بھی یہی ہونا چاہیے۔ حزب اختلاف کی جانب سے تمام تر نا انصافیوں کے باوجود عمران حکومت کے قیام کے وقت سے ہی قومی معاملات پر بہتر رویہ دیکھنے کو ملا تھا جس کا سب سے بڑا ثبوت شہباز شریف کی جانب سے حکومت کو میثاق معیشت کی دعوت تھا مگر اس دعوت کو بھی ہنسی ٹھٹھے میں اڑا دیا گیا۔

اور اب جو معیشت کا حال ہے اس پر رونا وہ بھی رو رہے ہیں جو آج بھی حکومت کی تعریف میں رطب السان رہتے ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ معیشت کی کشتی کتنے بھنور میں ہے۔ قومی معاملات ور معیشت پر ایک زبردست مؤقف نواز شریف نے اس وقت بھی اختیار کیا تھا کہ جب مشرف آمریت اپنے انجام کو پہنچ گئی تھی تو اس وقت نواز شریف نے 25 سالہ میثاق پاکستان کی تجویز دی تھی۔ مگر اس پر بھی سوائے سوقیانہ پن کے اور کچھ نہ ہوا تھا جبکہ جب وہ خود اقتدار میں آئے تو اس وقت کی حزب اختلاف نے ایسا کرنے کا کوئی موقع ہی فراہم نہ کیا۔

معیشت کی کشتی اس وقت تک بھنور میں ہی رہے گی جب تک ان لوگوں کو سبق سکھانے کی پالیسی تبدیل نہیں ہوتی کہ جنہوں نے قوم کے لئے بہت کچھ بچا لیا تھا۔ شاہد خاقان عباسی اس کی زندہ مثال ہیں۔ میرے ایک مغربی سفارتکار دوست نے مجھے کہا کہ جب شاہد خاقان عباسی کے ایل این جی معاہدے کی تفصیلات ہمارے سامنے آئی تو ہم حیران رہ گئے کہ اتنی سستی گیس کیسے خرید لی گئی۔ جبکہ ہم اس کے مقابلے میں مہنگی گیس خرید رہے ہیں۔ میرے استفسار پر انہوں نے کہا کہ ہماری قیمت خرید اور معاہدے کی تمام تفصیلات سرکاری ویب سائٹ پر موجود ہیں۔

لیکن اس کے باوجود شاہد خاقان عباسی قید ہے۔ میں نے انہیں ایک دوسرے سفارتکار سے اپنی اس دن کی گفتگو سنائی جس دن رانا ثناء اللہ واٹس اپ کا نشانہ بنے۔ ان دونوں صاحبان کا صرف ایک مسئلہ ہے کہ ان کی زبانی آئین کی بالا دستی کے لئے مسلسل چلتی رہی۔ لہٰذا بند کر دی گئی۔ باقی کس نے اربوں بچائے کون پنجاب کو دہشت گردوں سے بچاتے بچاتے خود مسائل کا شکار ہو گیا۔ اس کی کس کو پرواہ ہے۔ سامعین سے مخاطب ہوتے ہوئے آخر میں کہا کہ ”جنگ ستمبر کی یادیں“ یہ یاد کراتی ہے کہ اس وقت کے فوجی آمر کی ذہنی سطح بھی آج کے تخت نشیوں سے بہتر تھی۔ کم از کم ایسے حالات میں ہی حزب اختلاف تک تو پہنچ گئے تھے۔ یہاں تو صرف الزام، الزام اور الزام دھرا رکھا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •