کیا جان لیوا زلزلے بھی ہمارے حکمرانوں کے لئے ایک مذاق ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نمازجنازہ میں اگرکسی صاحب کے موبائل فون کی رنگ ٹیون گانے کی صورت میں بج اٹھے، کسی افسردہ ماحول میں کوئی شخص بلند آوازکے ساتھ ہنسنا شروع کردے تو سوچیں تب حاضرین اس شخص کے بارے میں کیا سوچیں اور کیا کچھ کہیں گے؟ ایسا ہی کچھ منگل کے روز ملک بھرمیں ماحول تھا کہ زلزلے نے سب کوہلا کر رکھ دیا، ہنستے بستے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی، چشم تصورسے دیکھیں کہ وہاں کیاقیامت ٹوٹی ہو گی؟ دکھ کی اس گھڑی میں اگر کسی حکومتی ذمہ دارفرد کی ہنسی نہ رُک رہی ہو اور وہ اس زلزلے کو بھی لطیفہ بنا کر مخالفین پرتنقید کررہا ہو تو پھرسوچیں کہ ایسے فرد کو ہم کیا نام دیں؟

اب تک یقیناً آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میں بات محترمہ فردوس عاشق اعوان کی کررہا ہوں جب زمین نے کروٹ لی توبجائے اس کے کہ محترمہ سنجیدگی اورذمہ داری کامظاہرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعاکرتیں، انہوں نے اس پربھی اپنے خاص انداز میں بات کرناشروع کردی۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تقریب کے دوران جان لیوا زلزلے کی تباہ کاریوں اور عوامی تکلیف یکسر نظر انداز کرتے ہوئے کہا ”جب کوئی تبدیلی آتی ہے تو نیچے بے تابی ہوتی ہے تو یہ تبدیلی کی نشانی ہے کہ زمین نے بھی کروٹ لی ہے کہ اسے بھی اتنی جلدی تبدیلی قبول نہیں“۔ یہ جملے کہتے ہوئے فردوس عاشق اعوان بالکل خوشگوار موڈ میں تھیں حالانکہ وہ آزاد کشمیر کے تباہ کن زلزلے کا ذکر کررہی تھیں۔

بعض دفعہ کچھ سیاستدان عوامی جذبات کو یوں ٹھیس پہنچاتے ہیں کہ جیسے انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ عوام مریں یا جئیں، عوام تو پہلے ہی ایک زندہ لاش بن چکی ہے کہ جنہیں مہنگائی کی چکی نے یوں پیس دیا ہے کہ جیسے عوام کے بنے آٹے سے حکمرانوں کے پیٹ پلیں گے، ایک طرف معاشی زبوں حالی ہے کہ انسان ہر روز جیب کا حال دیکھ کر سامنے پڑی روٹی کا لقمہ حلق سے نیچے نہیں اتار پاتا کہ اگر یہ روٹی اس نے کھالی تو اس کے بچوں کا کیا ہوگا؟

آپ خود اپنے اردگرد کا جائزہ لے لیں تو آپ کو ہر بندہ خون کے آنسو روتا دکھائی دے گا، تنخواہ دار طبقہ طویل انتظار کے بعد چند روپے لینے میں کامیاب ہوتاہے مگر وہ بھی ادھار سے چلنے والے کچن کے حساب کتاب میں خرچ ہو جاتے ہیں، گاڑی اور موٹرسائیکل کی ٹینکی خالی پڑی ہے تو بس پر دینے کے لیے کرایہ نہیں، فاقہ کشی سے چلنے کی سکت نہیں تو سفید پوشی بھیک مانگنے سے روکتی ہے، جب حالات کا اتنا جبر ہو توپھر لوگوں کو دل کے ہی دورے پڑتے ہیں کہ شاید اب موت ہی ان کے مسائل کا واحد حل ہے، مر جائیں کہ چین آئے لیکن مرکے بھی چین نہ آیا توکدھرجائیں گے؟

کوئی تو ایسا ہوگا جو حکمرانوں کو عوامی تکلیف سے آگاہی دے گا؟ یا وہ اقتدار کے نشے میں اتنے مدہوش ہوچکے ہیں کہ انہیں عوامی تکلیف کا احساس تک نہیں اور اب بے حسی کی اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ انہیں عذاب الہیٰ بھی مذاق لگتاہے۔ غلطی تسلیم کرلینا ہی انسان کا بڑا پن ہوتاہے، نہ کہ غلطی پر اترانا اور اسے درست ثابت کرنے کے لیے الٹی سیدھی توجہیات نکالنا، محترمہ موصوفہ نے زلزلے کے مذاق کے بعدوضاحتی بیان بھی جاری کیا جسے سن کر انسان ایک دفعہ پھر موصوفہ کومشورہ ہی دے سکتا ہے کہ اگرعوامی جذبات کا احساس نہیں تو جذبات کا مذاق مت بنائیں، زخموں پرمرہم نہیں رکھ سکتیں تو نمک بھی مت چھڑکیں، قرآن پاک کی تلاوت کریں تاکہ آپ کو ایسے واقعات کی اہمیت کا ادراک ہوسکے، آپ کی حکومت، آپ کی سیاست، آپ کی سوچ، حتی کہ آپ کے سب معاملات مذاق ہوسکتے ہیں لیکن یہ زلزلے کوئی مذاق نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •