وزیراعظم شاہ محمود قریشی یا پرویز خٹک؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فیصل واوڈا بولتے ہیں تو سوچتے نہیں لیکن سیاسی فضاء کے اثرات سے کوئی بھی سیاستدان لاتعلق نہیں رہ سکتا بالخصوص وہ جو کابینہ کا حصہ ہوں اور اقتدار کی راہداریوں میں گزر بسر جن کا معمول ہو۔ شاہ محمود کے متعلق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل میں 48 ممالک کی حمایت کا دعوی کرنے کے بعد عملاً درکار 16 ممالک کی حمایت حاصل نہ کر سکنے کے باعث قرارداد پیش کرنے میں ناکامی کے سوال پر واوڈا نے بغیر کسی لگی لپٹی کے کہا کہ شاہ محمود کو کابینہ میں جواب دینا پڑے گا۔

واوڈا تحریک انصاف کی چھتری سے براہ راست کابینہ پہنچے ہیں، اس کی اتنی ہمت نہیں یا دوسرے لفظوں میں اتنی عقل تو واوڈا میں ہوگی کہ چادر دیکھ کر پاوں پھیلائے جاتے ہیں۔ اس سوال پر ایسے دو ٹوک جواب سے پتہ چلتا ہے کہ عمران خان کے متبادل کے طور پر شاہ محمود کو پیش کرنا صرف میڈیائی لہروں کی پیداوار نہیں بلکہ بات اقتدار کے غلام گردشوں میں بھی گردش کر رہی ہے۔ واوڈا جیسے جذباتی کردار ایسی صورتحال میں گریس مارکس حاصل کرنے کے چکر میں ہوتے ہیں کہ وفاداری بشرطِ بے قراری اصل موقع ہے۔

عمران خان کی جگہ خود کو رکھ کر سوچیں تو بعید نہیں کہ خان صاحب ان دنوں سوچتے ہوں کہ کن جھمیلوں میں پڑ گیا۔ کہاں وہ پوری قوم کا غیر متنازعہ ہیرو اور کہاں یہ وزیراعظم جس کو دو ٹکے کے ہمارے جیسے لوگ صبح و شام تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ قائداعظم کے بعد اگر کسی کو اس ملک میں حقیقی شہرت ملی تو وہ عمران خان ہی تھے۔ شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر کے بعد اس شہرت میں بے پناہ احترام بھی شامل ہوگیا۔ خان صاحب کا مسئلہ یہ تھا کہ انہوں نے اقتدار کی نزاکتوں کو کبھی لفٹ نہیں کرائی۔

نواز شریف اور زرداری سمیت تمام سیاستدانوں کو بری طرح انڈر اسٹیمیٹ کیا۔ انہیں گمان نہیں یقین تھا کہ کسی طرح وہ ایک واری وزیراعظم بن گئے تو زرداری اور نواز شریف سے بہرحال بہتر حکمران ثابت ہوں گے۔ وہ بھول گئے کہ زرداری اور نواز شریف کی پشت پر مضبوط سیاسی جماعتیں ہیں جن میں ہر نوع کے ہزاروں چھوٹے بڑے لیڈرز شامل ہیں۔ یہ سیاستدان لاکھ برے اور بدعنوان صحیح لیکن ان کے پاس سالہا سال کا تجربہ ہے۔ یہ جانتے ہیں کہ عوام کو کس طرح ڈیل کرنا ہے، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کیسے چلنا ہے، سرمایہ داروں کو کیسے راضی کرنا ہے، کھانا کیسے ہے لگانا کیسے ہے، علاقائی اور بین الاقوامی امور سے کیسے نمٹنا ہے۔

اب زلفی بخاری کیونکر شاہد خاقان کا متبادل ہو سکتا ہے؟ شبلی فراز کیسے رضا ربانی کی جگہ لے سکتا ہے؟ اسد عمر نے زندگی بھر جتنے جلسوں سے خطاب کیا، اسحاق ڈار نے بین الاقوامی سطح پر ان سے کہیں زیادہ مالیاتی امور کی میٹنگز نمٹائی ہیں۔ زرتاج گل فیشن میں بھلے شیریں رحمان کی ہم پلہ ہو لیکن سیاسی فہم و فراست میں ان کا کیا موازنہ؟ مراد سعید اور احسن اقبال کیسے برابر ہو سکتے ہیں؟

خان صاحب کا دوسرا مسئلہ سیاست کو سوشل ورک کا میدان سمجھنا تھا۔ کینسر ہسپتال اگر چہ ایک عظیم کارنامہ ہے لیکن یہ ایک سپر ہیرو کے ساتھ لوگوں کی محبت کے باعث ممکن ہوا۔ سیاست کے سینے میں دل نہیں مفادات ہوتے ہیں اور یہ بات پوری دنیا کی سیاست پر صادق آتی ہے۔ خان صاحب نے سوچ رکھا تھا کہ وزیراعظم بن کر وہ جدھر کا رخ کریں گے، دنیا اُن پر نوازشات کی بارش کر ے گی۔ امریکہ ہو کہ برطانیہ، جاپان ہو کہ سعودی عرب، چائنہ ہو یا انڈیا، دنیا جہاں کے حکمران ان سے اُس عقیدت اور محبت سے ملیں گے جس کو انہوں نے زندگی بھر انجوائے کیا۔ اب ان پر یہ حقیقت کھل رہی ہے کہ دنیا ان کی کرشماتی شخصیت کے سحر کو نہیں اپنے مفادات کو لفٹ کراتی ہے۔

اب اس حقیقت میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے الیکشن میں اپنا کردار ادا کیا بلکہ خان صاحب کو اقتدار میں لانے کے لئے اس دفعہ ماضی سے زیادہ کھل کر سامنے آئی۔ گاڑی چل نہیں پا رہی اور خان صاحب کی طرح ان کے پیچھے کھڑی ہونے والی قوتوں کو بھی احساس ہو رہا ہے کہ سیاسی عدم استحکام ملک کو تباہی کے بھنور میں دھکیل رہا ہے۔ وہ تبدیلی جس کا چرچا کیا گیا آتی دکھائی نہیں دے رہی تو ان ہاؤس تبدیلی کی باتیں ہونے لگیں ہیں۔

شاہ محمود جنہوں نے ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں اپنا داؤ کھیل کر بھٹو بننے کی کوشش کی تھی، ہمیشہ سے ایسے موقعے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ کشتی جب ڈوبنے لگتی ہے تو سامان اتارا کرتے ہیں۔ سامان ہلکا کرنے کی ایسی کوئی بھی کوشش شاہ محمود کو راس آئے گی۔ وزیراعظم بننا ہر سیاستدان کی آرزو ہوتی ہے اور شاہ محمود جیسوں کی تو کچھ زیادہ، لیکن کیا ایسی کسی کوشش کی صورت میں شاہ محمود ہی واحد امیدوار ہیں؟ نوشہرہ کی سیاسی فضاء میں کچھ اور باتیں ہورہی ہیں اور پرویز خٹک کے نزدیک پائے جانے والے حلقے بڑے خواب دیکھنے لگے ہیں۔

خٹک صاحب میدانِ سیاست کے تجربہ کار شہسوار ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ اقتدار کے بے رحم کھیل میں کب کون سا شارٹ کھیلنا ہے۔ وہ ہمیشہ سے مقتدر حلقوں کے قریب رہے ہیں اور کوئی تعجب نہیں کہ خاموشی سے یہ بازی جیت جائیں۔ خٹک صاحب میڈیا کی چکاچوند سے دور رہتے ہیں اور کمال مہارت اور خاموشی کے ساتھ اپنی بساط بچھاتے ہیں، در پردہ ہمہ وقت اپنی کوئی نہ کوئی چال چلتے رہتے ہیں۔ ان کے ساتھیوں کے چہروں کی لالی بتا رہی ہے کہ خٹک صاحب کوئی ماسٹر سٹروک کھیل چکے ہیں یا کھیلنے والے ہیں۔

چھوٹے صوبے سے وزیراعظم کا نعرہ نہایت ہی خوش نما ہے اور مناسب موقع پر یہ نعرہ بلند کرنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔ خٹک صاحب وزیراعظم بن گئے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، کہ اتنوں کو بھگتا ہے ایک یہ بھی صحیح لیکن خدانخواستہ انہوں نے بی آر ٹی جیسا کوئی منصوبہ ملکی سطح پر بنانے کا فیصلہ کیا تو ہماری کون سی نسل اس کو فعال دیکھنے کی سعادت حاصل کرے گی؟

۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •