کرکٹ کا ورلڈ کپ، عمران خان اور حکومتی کارکردگی

آخری خبریں آنے تک خان صاحب کی حکومت ملک کو درپیش مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہو رہی ہے لیکن کچھ یار دوستوں کی تنقید دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے عمران خان قائداعظم کی رحلت کے بعد اس ملک پر مسلط ہوگئے تھے اور تاحال ملک کے تمام مسائل کے ذمہ دار ہیں۔ یہ دلیل کہ خان صاحب کو وقت چاہیے، میرے نزدیک خام ہے کہ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ حقیقی لیڈرز نے مختصر ترین وقت میں کامیابیاں حاصل کیں۔تبدیلی کا آغاز مشکل ہوتا ہے اور بسا اوقات دوررس نتائج حاصل کرنے کے لئے کھٹن اور صبر آزما فیصلے کرنے پڑتے ہیں جو عوام کے لئے ابتدائی طور پر تکلیف دہ ہوتے ہیں لیکن بعد میں دیرپا ریلیف کا باعث بنتے ہیں۔ تو کیا عمران خان کی حکومت کے ابتدائی کٹھن مہینوں کی کوکھ سے عوام کے لئے واقعی کوئی حوصلہ افزا تبدیلی جنم لے گی؟ اس بارے وثوق سے کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ بسا اوقات انتہائی باریکی سے کیے گئے تجزئے بھی یکسر غلظ ثابت ہوتے ہیں، ہمارے تجزیوں (اگر واقعی انہیں تجزئے کہا جا سکتا ہے ) کا کیا ہے، وقت ملا، موبائل اٹھایا اور لکھنا شروع کردیا۔

Read more

سعودیوں کی اس کرم فرمائی کے بدلے پاکستان کیا دے گا؟

ہم چونکہ ازلی بھوکے ہیں، کچھ روٹی کے اور کچھ دولت کے، اس لئے ہم ہر معاملے میں روپوں کو دیکھتے ہیں۔ غریب عوام کو پیٹ کی دوزخ نے کہیں کا نہیں چھوڑا تو امیروں کو ہوسِ زر نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ روپوں کا تذکرہ تو قصۂ پارینہ بن چکا، اب تو ڈالروں کا زمانہ ہے۔ اربوں کھربوں سے کم پر تو ہماری گاڑی رکتی ہی نہیں۔ چاہے ہمارے حکمران ملک سے باہر نکلیں یا کوئی بھٹک کر ہماری طرف آجائے، کشکول ہمارے گلے میں ہوتا ہے، صبح و شام اس پر کپڑا مار کر چمکاتے رہتے ہیں۔ اللہ کے نام پر دے دیں بابا۔ اللہ کے نام پر نہیں تو اپنے نام پر دے دیں، انسانیت کے نام پر بھی چلے گا، کچھ نہیں تو مفت دے دیں، مفت نہیں دینا تو کچھ خدمت کروا کر دے دیں، پر شرط یہ ہے کہ پہلے دینا ہے پھر کروانا ہے، مجھے نوٹ دکھا میرا موڈ بنے۔

Read more

بے بس پختون اور خچر خرخرہ

سترہویں صدی کا زمانہ ہے، اورنگزیب عالمگیر کے اقتدار کا سورج پورے آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے۔ خوشحال خان خٹک اپنے باب کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پہلے شاہجہان اور اب اورنگزیب کے لئے اپنے لوگوں سے نبردآزما ہیں۔ مغل حکومت کے استحکام کے لئے اپنی قوم کے ایک باغی قبیلے…

Read more

دامنِ یار خدا ڈھانپ لے پردہ تیرا

ساہیوال کا دل خراش سانحہ اپنی نوعیت کا پہلا سانحہ نہیں، بھیانک حقیقت یہ ہے کہ یہ آخری بھی نہیں۔ ہم میری مراد ہماری ریاست اگر چاہے تو یہ اس نوعیت آخری سانحہ ضرور ہوسکتا ہے۔ شائد ایسے سانحات رونما ہونا بند ہوجاتے اگر جوان رعنا نقیب اللہ محسود کے قاتل انجام کو پہنچا دئے جاتے۔ راو انوار جیسوں کی پشت پر جب ریاست کی طاقت کھڑی ہوجائے تو پھر کیا کیا جاسکتا ہے؟

Read more

ایک نوٹس اِدھر بھی چیف صاحب

اللہ بھلا کرے میرے دوست سلمان کا جو کبھی کبھار گاڑی لے کر پہنچ جاتا ہے اور ادھر ادھر کسی دوست کے گھر پہنچ کر انہیں بتا دیتے ہیں کہ ابھی زندہ ہیں اور زندہ دل بھی۔ آج شوکت کے گھر پہنچے تو دن خوشگوار گزرا۔ امریکہ پلٹ میرے دوست شوکت کا انکسار خاصے کی چیز ہے۔ ان کا ایک بچہ امریکہ میں ہی قرآن حفظ کر چکا تھا۔ شوکت امریکہ میں کوئی اٹھارہ سال گزار کر وہیں آنکھ کھولنے والے بچوں کو لے کر پاکستان واپس آیا ہے۔ پچھلے چھ سال سے چھ مہینے امریکہ میں کمائی کرتا ہے اور بقایا چھ مہینے پاکستان آکر اسے ہضم کرتا ہے۔

اپنے ہم وطنوں کے دھوکوں سے ہاضمہ خراب ہوتا رہتا ہے اُس کا، لیکن خوش و خرم رہتا ہے۔ ایک دفعہ تو پورا نظام انہضام ہی جواب دے بیٹھا تھا کہ لگنے والا ٹیکہ لاکھوں کا تھا لیکن جلد ہی سنبھل گیا۔ اب تھوڑی عقل آگئی ہے کہ پاکستان میں رہنے کے لئے عقل بہت ضروری ہے، امریکہ میں بے وقوفی سے بھی کام چل جاتا ہے۔ ویسے اصل داد ہماری بھابی، بھتیجوں اور بھتیجی کی بنتی ہے کہ پچھلے چھ سال سے اِدھر ہی ہیں اور کبھی امریکہ کو یاد کرکے شور نہیں مچایا۔

Read more

احساس برتری میں مبتلا خان صاحب

درحقیقت زندگی شروع دن سے ہی مقابلے کا نام ہے۔ اس دنیا میں ہمیں صرف رہنا ہی نہیں، آگے بڑھنا بھی ہوتا ہے اور آگے بڑھنے کے لئے دوسروں کو پیچھے چھوڑنا پڑتا ہے۔ اپنے اہداف اور مقاصد کو حاصل کرنے کے واسطے ہمیں اپنے آپ کو تشویق دینی ہوتی ہے۔ ایک مسلسل جدوجہد جاری رکھنی پڑھتی ہے۔ مسئلہ اس وقت گھمبیر ہوجاتا ہے جب ہماری جنگ خود اپنے آپ سے ہو، ہم اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہیں اور ہم حقیقت میں ہوتے کیا ہیں؟ ایسی صورتحال میں ہم دو میں سے ایک احساس میں پھنس جاتے ہیں ؛ احساسِ برتری یا احساس کمتری۔

کمتر ہونے کا احساس بہت معیوب سمجھا جاتا ہے لیکن درحقیقت کمتری کا احساس اتنا برا نہیں ہوتا بلکہ زندگی میں آگے بڑھنے اور کچھ کر دکھانے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ دنیا کا ہر عظیم آدمی کسی نہ کسی سطح پر کمتری کے احساس کا شکار ہوتا ہے اور یہی اس کی کامیابی کا پوشیدہ راز ہوتا ہے۔

Read more

طاہر داوڑ کا قتل، ریاست اور پختون

طاہر داوڑ کی اندوہناک موت سے اس ملک کے ہر کونے میں ایک طوفان برپا ہونا چاہیے تھا۔ طوفان تو کیا کوئی ارتعاش بھی پیدا نہ سکا۔ یہ اس بھیانک حقیقت کا ثبوت ہے کہ ہم اپنی بربادی کا سفر جلد از جلد طے کرنا چاہتے ہیں۔ جس طرح کے کام ہمارے اردگرد ہورہے ہیں…

Read more

احتساب کے ذریعے انقلاب کی ایک کہانی

حج کے مبارک عبادت کا احوال سننا اور سنانا دونوں دلچسپی کا باعث ہوتے ہیں۔ وہ جس کا قصہ سنا رہا تھا اُس سے اُس کی ملاقات مقدس سرزمین پر ہوئی تھی اور جو احوال وہ سنا رہا تھا دلچسپی سے خالی ہرگز نہ تھا، یہ اور بات کہ اس کے قہقہے بھرے قصے سے…

Read more

مذہبی اور لبرل انتہا پسندوں کے درمیان پھنسا معتدل طبقہ

میرے دوست ڈاکٹر اکمل بنگش کے نزدیک مسائل دو ہیں

1) لوگ اپنے آپ کو انتہا کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہی انتہا پسندانہ سوچ لئے کچھ مذہبی انتہا پسند بن جاتے ہیں دوسرے اتنے لبرل کہ لبرل ازم کی بنیاد رکھنے والے بابوں سے بھی دو قدم آگے نکل پڑتے ہیں۔ معتدل طبقہ جو حجم میں سب سے زیادہ ہوتا ہے ہمیشہ خاموش رہتا ہے اور متنازعہ صورتحال میں اس کی خاموشی اور بڑھ جاتی ہے۔ اس درمیانی طبقے کی خاموشی سے دونوں انتہاؤں پر موجود طبقات اور طاقتور اور شیردل بن جاتے ہیں، نتیجتاً تنازعہ حل ہونے کے بجائے اور سنگین ہوتا جاتا ہے اور اس سے معاشرہ بگاڑ کا شکار ہوجاتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ معاشرے کی اس بگاڑ کا زیادہ تر نقصان معتدل درمیانی طبقہ ہی اٹھاتا ہے۔

Read more

کشکول اور کامیابی

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟ اس سوال کو دوسرے الفاظ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے ان گنت مسائل کی جڑ کیا ہے؟ آپ میڈیا پر چلنے والے ٹاک شوز اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین یا سوشل میڈیا پر جاری سنجیدہ اور غیر سنجیدہ مباحث دیکھیں تو معلوم…

Read more