پرویز خٹک فارمولا

پرویز خٹک کو اپنی زندگی کے معرکوں کا معرکہ درپیش ہے۔ خٹک صاحب اپنے فرزندان کے ساتھ اپنی زندگی کے مشکل ترین الیکشن میں کھود چکے ہیں کچھ اس طرح کہ ایک جانب انہیں تحریک انصاف کا چیلنج درپیش ہے اور دوسری جانب ان کے برادر خورد ان کی مخالفت میں کمر کس جے یو آئی کا مورچہ سنبھال چکے ہیں نوشہرہ کی سیاست ذرا مختلف ہے۔ خٹک اور غیر خٹک میں تقسیم اس علاقے میں زیادہ تر خٹک ہی

Read more

انتخابات: کون کتنے پانی میں

نواز شریف آ چکے ہیں اور آتے ہی پاکستانی میڈیا پر چھا گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف نے ایک زبردست پاور شو کیا ہے جس میں موجود لوگ مکمل طور پر چارجڈ اور نواز شریف سے جڑے ہوئے تھے۔ مخالفین کی شدید نفرت کے شکار نواز شریف سے لوگ گہری محبت بھی رکھتے ہیں اور اس کا مظاہرہ جلسے میں نواز شریف کی تقریر کے دوران بار بار ملا۔ اب آگے کیا ہو گا؟ پاکستانی

Read more

خوامخواہ کے مامے

شہزادہ داؤد اور ان کے 19 سالہ بیٹے سلیمان داؤد کی موت کی المناک خبر ہے۔ دونوں باپ بیٹا فادر ڈے پر آبدوز میں سمندر کی گہرائی میں اترے تھے تاکہ مشہور جہاز ٹائٹینک کا ملبہ دیکھ سکیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے ساڑھے سات کروڑ پاکستانی روپے ادا کیے۔ اللہ دونوں باپ بیٹے کو غریق رحمت کرے، ان کی موت المناک ہے۔ دل درد سے بھر آیا ہے۔ میں نے اس کربناک واقعے کے متعلق کوئی پوسٹ نہیں

Read more

پاکستان کھپے

دنیا میں میری آمد کے سانچے کا سال غالباً وہی ہے جب دار کی خشک ٹہنی بھٹو صاحب کا نصیب ٹھہری تھی۔ بچپن جنرل ضیاء کے دور کی نذر ہوا۔ سیاسی شعور کا یہ عالم تھا کہ جب باچا خان فوت ہوئے تو گھر میں سب سے پوچھتا رہا یہ کون صاحب تھے؟ چھ مہینے بعد جنرل ضیاء فوت ہوئے تو بھی کچھ اتا پتہ نہیں تھا کہ یہ صاحب کیونکر ہمارے حکمران بنے تھے؟ عرصہ بعد اس ستم ظریفی

Read more

کہاں سے آئے صدا؟

میری عمر کے لوگ اسی کی دہائی کے اوائل میں سکول داخل ہوئے تھے۔ آپ اس زمانے یا اس سے پہلے طالب علموں کا ایک سروے کر کے دیکھ لیں، ایک اوسط درجے کا طالب علم آپ کو تعلیم کے متعلق اقبال کے یہ دو شعر سنا پائے گا۔ یہ اشعار وہ آٹھویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے یاد کر لیتا تھا۔ گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ شکایت ہے مجھے

Read more

درون خانہ ہنگامے ہیں کیا کیا

کپتان لگ بھگ چار سال پہلے پاکستان کے وزیراعظم بنے تھے۔ کپتان سے پہلے پانچ سال مسلم لیگ نون اور اس سے پہلے اتنے ہی برس پیپلز پارٹی حکمران رہی تھی۔ مشرف نے اس سے پہلے سات برس نکال لئے تھے۔ یہ بجا کہ آج کی دنیا تحقیق اور ترقی کی دنیا ہے۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں ہر روز کچھ نہ کچھ نیا ہوتا ہے کہ کروڑوں اذہان ہر لمحہ کچھ نیا پانے اور کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں۔ اس

Read more

جذباتیت پر مبنی پاپولسٹ پالیٹکس

پنجاب کے ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی حیران کن کامیابی کا مجھے کچھ بھی علم نہیں تھا۔ اسید (میرا بیٹا) اور گلون (بھتیجا) کے ساتھ آبادی سے باہر شام کا چکر لگا رہا تھا کہ واٹس ایپ پر شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز کی استہزائیہ تصاویر موصول ہوئی جن کے نیچے لکھا تھا، ”آپ کو مبارک ہو“ ۔ اس کے بعد ایک بندے کا فون آیا جو حمزہ شہباز کو نہایت نامعقول ناموں سے پکار رہا تھا۔

Read more

میاں افتخار حسین، ایک کوہ گراں

صوبے کا گورنر بلاشبہ ایک بڑا عہدہ اور رتبہ ہے۔ یہ عہدہ صوبے میں وفاق کی علامت سمجھا جاتا ہے اور یوں اصولی طور پر گورنر ایک ایسا بندہ ہونا چاہیے جس کا اپنے صوبے کے عوام کے ساتھ گہرا ربط اور تعلق ہو۔ وہ تاریخ سے آشنا ہو اپنی ثقافت اور روایات سے جڑا ہوا ہو، اس کے دل میں اپنی زبان اور اس کے ادب کا احترام ہو۔ پاکستان میں کچھ عرصہ سے جس طرح کے لوگوں کو

Read more

ماؤزے تنگ کا لانگ مارچ اور ہمارا ڈانس مارچ

لانگ مارچ کی یہ اصطلاح جس نے بھی پاکستانی سیاست میں متعارف کرائی ہے، بڑا ظلم کیا ہے۔ تازہ ترین لانگ مارچ مورخہ 25 مئی کو شروع اور چوبیس گھنٹے کے اندر اندر سامان عبرت بن کر اختتام پذیر ہوا۔ کپتان بنی گالا کو چل دیے، دیگر لیڈران محترمان نے اپنے اپنے قلعوں کا رخ کیا اور سادہ لوح اور نکمے پختون اسلام آباد کی سڑکوں پر بھوک اور پیاس کے مارے رل بھی گئے اور چس بھی نہیں آئی۔

Read more

عمران خان کا فیاض چوہان پر کتا چھوڑنے کا قصہ

عمران خان ایک نہایت ہی شاطر سیاستدان ثابت ہوئے ہیں۔ یہ لفظ ’میں‘ عمران خان کا پسندیدہ ترین لفظ ہے۔ یورپ، امریکہ، برطانیہ، انڈیا وغیرہ وغیرہ کو سب سے زیادہ جاننے کے دعوے کے ساتھ عمران جب میں سے شروع ہونے والا جملہ مکمل کرتا ہے تو اس کے پرستار کھل اٹھتے ہیں۔ میں عرض کر رہا تھا کہ عمران خان نہایت چالاک اور زیرک سیاستدان ثابت ہوا ہے۔ سالہا سال تک عمران کے بارے میں پڑھ اور سن کر ویسے

Read more

غداری کا شاہکار منصوبہ

پاکستانیوں کی جذباتیت، معصومیت اور سادہ لوحی سے فائدہ اٹھانے کے لئے غداری کا شاہکار منصوبہ مارکیٹ میں کامیابی کے ساتھ داخل کر دیا گیا ہے۔ پشتو میں کہتے ہیں کہ جب تک سچ پہنچتا ہے، جھوٹ گاؤں کے گاؤں برباد کر چکا ہوتا ہے۔ پاکستانیوں کا حافظہ کمزور صحیح لیکن کچھ واقعات ذہن پر ہمیشہ کے لئے نقش ہو جاتے ہیں۔ ریمنڈ ڈیوس نے دن دیہاڑے لاہور میں دو پاکستانیوں محمد فہیم اور فیضان حیدر کو قتل کیا تو

Read more

خارجہ پالیسی ہماری آزاد ہے

۔ ۔ ابھی بہت ساری چیزیں تبدیل ہوتا دیکھیں گے ہم۔ ۔ آرمی کو کچھ عرصہ قبل گالیاں دینے والے اب اس کے گن گائیں گے جبکہ ابھی کچھ دن پہلے اس پر دل و جان سے فدا لوگ اس کی ایسی کی تیسی کریں گے۔ کچھ جذباتی لوگ نئے ولولے سے محب وطن بنیں گے اور ہمیں امریکہ کی غلامی کے طعنے دیں گے اس بات سے قطع نظر کہ جانے والے کو لانے والا بھی امریکہ ہی تھا۔

Read more

دئر از نو فری لنچ

سیاست میں کہتے ہیں کہ وقت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ ازل سے تا بہ ابد بہتے وقت میں سے کوئی لمحہ پکڑ کر ایک حقیقی سیاستدان اس پر اپنی سیاسی جدوجہد کی بنیاد رکھتا ہے اور پھر اس کو مستحکم کرتا جاتا ہے۔ اس صبر آزما عمل میں اینٹ سے اینٹ جوڑ کر سیاستدان اس لمحے کے اثرات کو لے کر آگے بڑھتا ہے تاآنکہ وہ لمحہ آ جاتا ہے جب وہ اپنی جدوجہد کے فلک بوس عمارت پر

Read more

سازش ہو رہی ہے

پہلی دفعہ محسوس ہو رہا ہے کہ واقعی کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی سازش ضرور ہو رہی ہے۔ یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے سازش کا جال بچھانے والے نہایت مہارت سے اپنے مقاصد کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کیا سازش ہو رہی ہے؟ اس سوال جواب انتہائی گنجلک ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جو سازش سازش کی گردان ہو رہی ہے، اصل سازش اس کے بالکل برعکس کچھ اور ہے؟ وہ جو سازش کا رونا رو رہے

Read more

بچہ رو رہا ہے، فیڈر دیں یا پھر تھپڑ

سر پر لٹکتی عدم اعتماد کی تلوار نے جیسے عمران خان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں چھین لی ہیں۔ کپتان بھول چکا ہے کہ ایک چیز ہوتی ہے جسے انگریزی میں گریس اور اردو میں غالباً وقار کہتے ہیں۔ فیض صاحب کی روح بھی تڑپ رہی ہوگی کہ عمران خان کے پیروکار جان کی نہیں شان کی بات کرتے ہیں لیکن اس لافانی شعر کے اصل مفہوم سے لامتناہی فاصلے پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ واقعی اقتدار کا ذائقہ منہ کو

Read more

کپتان کی کمزور ریاضی یا گھبراہٹ؟

دو باتوں میں سے ایک یقینی طور پر درست ہے۔ کپتان یا تو گھبرا چکے ہیں اور یا پھر ان کی ریاضی بالکل زیرو ہے۔ کپتان کی سیاسی زندگی کے سرسری جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ بیک وقت دونوں باتوں کے درست ہونے کا امکان موجود ہے۔ مصیبت میں گھبرانا اگر واقعی بڑی مصیبت ہے تو کپتان بڑی مصیبت مول لے چکے ہیں۔ جدید دنیا کی درسگاہوں میں تنازعات کو امکانات میں تبدیل کرنے کا ہنر پڑھایا جاتا ہے۔

Read more

پاکستانی سیاست کے عہد مزاح کا نیا موڑ

دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات سے لگ بھگ دو برس قبل کپتان کا اصل رنگ ظاہر ہونا شروع ہو گیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مشہور فرمان کے مفہوم کی اگر عملی صورت دیکھنی ہو تو کپتان سے بہتر مثال فی زمانہ شاید ہی مل سکے۔ اقتدار، اختیار اور دولت انسان کو تبدیل نہیں کرتے بلکہ اس بے نقاب کرتے ہیں۔ پیسہ کبھی کپتان کی ضرورت نہیں رہا۔ بغیر کوئی کاروبار کیے کپتان نے احساس کمتری میں مبتلا پاکستانی

Read more

شہر میں اک چراغ تھا نہ رہا

محبت، متانت، اخلاص، شرافت اور انسان دوستی کو آپ نے مجسم صورت میں دیکھنا ہے تو پالا گرین کو دیکھئے۔ پالا جیسے معدودے چند کردار ہی ہوتے ہیں جو آپ کو انسانوں کے اس بے پناہ ہجوم میں انسانیت کے درشن کراتے رہتے ہیں۔ آپ پالا سے ملیں تو آپ کو لگے گا جیسے کسی لق و دق صحرا میں آپ کی ملاقات کسی چشمے سے ہوئی ہے۔ پالا نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، وہ زندگی کو خوبصورت سے

Read more

غٹئی (ایک سچی کہانی)۔

خدا جانے نام اس کا کیا تھا لیکن سب اسے غٹئی کہتے تھے۔ غٹئی کا مطلب ہے موٹی یا بڑی۔ موٹی تو وہ بالکل نہیں تھی پھر نہ جانے کیوں اس کا نام غٹئی پڑ گیا۔ شاید وہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی اس لئے والدین نے اسے غٹئی پکارا ہو گا۔ یہی پھر اس کا نام پڑ گیا، ویسے بھی جب حیثیت شکل اور لباس سے جھلکتی ہو تو کسے پڑی ہے کہ حقیقی نام معلوم کرے؟

Read more

بمبوریت: کیلاشہ تہذیب کا مسکن

بمبوریت کی فضاؤں میں جہاں ایک دل موہ لینے والی رواداری ہے وہاں ایک خاص قسم پراسراریت بھی محسوس ہوتی ہے۔ کیلاشہ کمیونٹی عجیب و غریب ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے کسی وسیع و عریض قتل گاہ میں ان لوگوں کا قافلہ بیدردی سے قتل کر دیا گیا ہو اور ان میں سے کچھ بندے اپنی جان بچا کر غاروں میں چھپ گئے ہوں۔ ان چند لوگوں سے یہ نسل دوبارہ چلی ہو اور انہوں نے اپنے اعتقادات، اقدار

Read more

چترال گول، عزت مآب چیف جسٹس اور ہم رعایا

کل چترال گول جا رہے تھے۔ جس ہوٹل میں ہماری رہائش ہے یعنی ’اتالیق بازار چترال‘ سے چترال گول گاڑی میں تقریباً ایک گھنٹے سے کم مسافت پر ہے۔ ایک باریک سی پٹی پر مسلسل اوپر کی طرف چڑھنا پڑتا ہے۔ راستہ اتنا تنگ ہے کہ مخالف سمت سے گاڑی آئے تو دونوں گاڑیوں کو رک کر ایک دوسرے کو راستہ دینا پڑتا ہے۔ ہم دوپہر کوئی ڈھائی بجے چترال گول کے لئے نکلے۔ چترال گول میں وائلڈ لائف والوں

Read more

چترال میں چند دن

چترال کل رات ساڑھے دس بجے مزے لے لے کر پہنچے۔ سرزمین ہی ایسی ہے کہ جگہ جگہ آپ کا دامن کھینچ کر پوچھتی ہے ؛ ’کاہے کو اتنی جلدی صاحب؟‘ ۔ آپ پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو بس دیکھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ ہر گوشے میں بکھرا پڑا بے پناہ حسن آپ کو مبہوت کر کے رکھ دیتا ہے اور آپ کے اندر یہ احساس جاگ اٹھتا ہے کہ پہلے ہی اتنی دیر ہو چکی، اب عجلت کے چکر میں مزید تاخیر نہیں کرنی، ان منظروں کو اپنے اندر جذب کرنے کی ضرورت ہے۔ میرے ساتھ اپنا مختصر کنبہ بھی تھا، اسید کی ماں کو اب سمجھ آ گئی ہے کہ دیر سویر کا مجھ پر زیادہ اثر نہیں ہوتا اور یہ کہ سرشت انسان پر میرا اعتماد غیر متزلزل ہے، اس لئے اب وہ بھی قدرے بے خوف ہو گئی ہے۔

Read more

بے نور راہوں میں ماری گئی نور مقدم

نور مقدم کے لرزہ خیز قتل کی تفصیلات پڑھنا اپنے دل و دماغ کو خاردار تاروں سے گزارنے کے مترادف ہے۔ جتنا پڑھ سکتا تھا، پڑھ لیا، اب مزید پڑھنے کا یارا نہیں۔ رہ رہ کر خیال آتا ہے کہ اس بیچاری لڑکی پر کیا قیامت گزری ہوگی۔ کمرے میں بند جب اس نے خونی درندے کے ہاتھ میں پستول اور چاقو اور اس کی وحشی آنکھوں میں اپنی موت دیکھی ہوگی تو چیخ اس کے گلے میں ہی پھنس

Read more

لیاقت خٹک کی بغاوت اور عمران خان کے ہاتھ سے نکلتا پختونخوا

پچھلے دنوں نوشہرہ میں ضمنی انتخابات سے قبل پرویز خٹک اور ان کے برادر خورد کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کے متعلق ایک کالم میں دونوں بھائیوں کی سیاست کا ایک تقابلی جائزہ پیش کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں بھائیوں کا سیاسی مزاج ایک دوسرے کے بالکل متضاد ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لیاقت خٹک کی سیاست میں موجودگی ان کے بڑے بھائی پرویز خٹک کی مرہون منت ہے۔ لیاقت خٹک کی انتخابات میں ابتدائی کامیابی

Read more

اپنی دہلیز پر مسائل کے انبار اور دور کی سرزمینوں سے آتی صدائیں

لکھنا بھی کسی عذاب سے کم نہیں۔ لوگ لکھنے کو برا بھی نہیں کہتے، عمومی طور پر تحسین بھی کرتے ہیں لیکن ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ لکھا جائے جو سچ ہے اور سچ وہ ہے جو وہ کہتا ہے۔ واقعات اور حالات کے کسی مختلف پہلو پر لکھنے کا مطالب یہ ہیں آپ ایجنٹ ہیں آپ بکاؤ ہیں آپ غدار ہیں آپ غلام ہیں آپ ذہنی مریض ہیں ہر فصل ہمارے ہاں دستیاب پے۔ افغانستان کو رونے والے

Read more

لمحۂ موجود اور جنگلی مرغ

زندگی کو اس کی تمام تر بوقلمونیوں کے ساتھ محسوس کیا۔ انہی دنوں ایک دفعہ میں اپنے بیٹے اسید کے ہمراہ پہاڑ کے دامن میں چہل قدمی کر رہا تھا۔ کسی لمحے میں ماضی کے ایک ناخوشگوار واقعے میں کھو کر لمحۂ موجود سے نکل گیا۔ اسید مجھ سے چند قدم آگے جا رہا تھا، اچانک اسید نے پیچھے دیکھا اور خوشگوار حیرت کے ساتھ میرے دائیں جانب اشارہ کرتے ہوئے یک دم بولا ”اللہ بابا“ ۔ میں نے چونک کر اس طرف دیکھا جہاں اسید میری توجہ مبذول کرانا چاہتا تھا۔

کچھ نہ پا کر میں نے اسید کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ اسید اس طرف بھاگتے ہوئے بولا ”بابا جوڑ زنگلی چرگ وو“ ۔ (بابا شاید جنگلی مرغ تھا) ۔ میں ہر روز اس طرف نکلتا تو خواہش ہوتی کہ کہیں جنگلی مرغ دکھائی دے کیونکہ ایک مقامی بندے نے ہمیں اس جگہ جنگلی مرغوں کی موجودگی کا بتایا تھا۔ لمحۂ موجود میں غیر موجودگی نے مجھے اس منظر سے یکسر محروم کر دیا جس کو دیکھنے کی دلی خواہش آج بھی موجود ہے۔

Read more

کورونا، مفلوج معیشت اور ویکسین

پیر سردار شاہ پبی میں نام ہے نصابی کتابوں اور سٹیشنری کے ایک کاروبار کا۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے پبی میں پیر سردار شاہ کی دکان کا سنتے آئے ہیں۔ پیر صاحب جن کے نام سے یہ دکان پچھلے پچاس سال سے فعال ہے، دنیا سے کئی سال پہلے کوچ کر چکے، کاروبار پیر صاحب کے بیٹے اور پوتے چلا رہے ہیں۔ تیس سے پچاس سال کے درمیان یہ لوگ تہذیب اور شائستگی کا نمونہ ہیں۔ کم گوئی اور عاجزی ان کی شخصیت کا حصہ ہے۔

عرصے سے ان کی دکان پر آنا جانا ہے لیکن کبھی بھی ان کی دکان پر انہیں کسی سے الجھتے نہیں دیکھا۔ چھوٹی سی اس دکان سے ہزاروں لوگوں کی یادیں وابستہ ہیں۔ اگر آپ پبی کے گردونواح میں کسی گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں تو آپ کو اپنی اور اپنے بچوں کی تعلیمی ضروریات کے سلسلے میں پیر سردار شاہ کی دکان سے ضرور واسطہ پڑا ہو گا۔

Read more

جھوٹی امید دلانا جرم کیوں ہے؟

یہ تحریر کچھ دن پہلے لکھی تھی۔ ہمارے معاشرے میں لوگوں کو جھوٹی امیدیں دلانا کوئی مسئلہ نہیں سمجھا جاتا۔ یہی اس تحریر کا مرکزی نکتہ ہے لیکن اس میں مرد کی مظلومیت کا بھی ذکر ہے۔ عورت مارچ سے کوئی مسئلہ نہیں۔ خواتین کے حقوق کے متعلق آگہی اور شعور پیدا کرنا ضروری ہے لیکن تصویر کا دوسرا رخ پیش کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

2005 کے تباہ کن زلزلے کے بعد امدادی سرگرمیوں میں غیر ملکیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ استعداد میری کچھ خاص نہیں تھی، بس تھوڑی بہت انگریزی سمجھ بول لیتا تھا اور زلزلے کی تباہ کاریوں کے متعلق تھوڑا بہت تبصرہ کر لیتا تھا۔ غم زدہ ماحول میں غیر ملکیوں کی امید افزاء باتیں اور ہمارے دکھ درد کو محسوس کر کے کچھ دوا کرنے کی ان کی ادا، دل کو بھلی لگتی تھی۔ یہ لوگ غور سے بات سننے والے تھے، بندے کو محسوس ہوتا کہ لفظ بے معنی نہیں ہوتے، سنے جاتے ہیں اور ان سے فرق پڑتا ہے۔

Read more

ووٹ کو عزت دو: کیا واقعی؟

عمران خان کے شیدائی میرے دوست ناراض ہوئے جاتے ہیں کہ غیر جانبدار اور غیر متعصب ہو کر لکھا کروں۔ تعصب تو خیر بلا ہی بری ہے اور ہر ایک کو خود کو اس سے بچانا چاہیے لیکن یہ غیر جانبداری کیا ہوتی ہے؟ کیونکر غیر جانبدار رہا جا سکتا ہے؟ میری ناقص رائے میں غیر جانبداری کسی بھی متنازع موضوع پر رائے دیتے ہوئے ممکن ہی نہیں اور اگر کوئی اس کا دعویٰ کرتا ہے تو سراسر جھوٹ بولتا

Read more

کیپٹن محمد اقبال سے لیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ تک

یہ سن 86 کی بات ہے، اس وقت غالباً میں تیسری جماعت میں پڑھتا تھا، جب فوج سے پہلا بھرپور تعارف ہوا۔ درسی کتابوں میں پڑھتے اور ٹی وی پر فوج کے متعلق دیکھتے آئے تھے لیکن یکایک ہمارے چھوٹے سے گاؤں کی فضائیں ایک شہید کے نام سے گونج اٹھیں۔ گاؤں کا ایک دلیر سپوت وطن کی مٹی پر قربان ہو گیا تھا۔ سیاچین کی برف پوش چوٹیوں سے سرفروشی کی یہ داستان پاکستان آرمی کے ذریعے ہمارے گاؤں پہنچی لیکن اس سے پہلے یہ انڈیا پہنچ چکی تھی۔ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سفید یخ برف کو اپنے گرم خون کی سرخ دھار فراہم کرتا کیپٹن اقبال دشمن پر اپنی دھاک یوں بٹھا چکا تھا کہ دشمن بھی تعریف کرنے پر مجبور ہوا۔

Read more

اپوزیشن تبدیلی کے لئے سنجیدہ نہیں

یادش بخیر، 2013 کے الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ نے کامیابی حاصل کرکے حکومت بنا لی تھی۔ میاں محمد نواز شریف تیسری دفعہ پاکستان کے وزیراعظم بن گئے تھے۔ ملک کی معاشی صورتحال اتنی خراب تھی کہ کچھ عرصہ سے پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی خبریں تواتر سے آ رہی تھیں۔ یوسف رضا گیلانی میڈیا میں آنے والی خبروں سے اس قدر نالاں ہوئے کہ انہیں کہنا پڑا تھا کہ ملک لمیٹد کمپنی نہیں کہ دیوالیہ ہو جائے۔ یہ بیان

Read more

اکمل لیونے کی ایک بیس سالہ پرانی نظم

اکمل لیونے (اکمل دیوانہ) پشتو کے معروف اور ہر دلعزیز شاعر ہیں۔ مزاحیہ شاعری میں کمال کرتے ہیں۔ ان کا مزاح صرف تفنن طبع کے لئے نہیں ہوتا بلکہ اس کی گہرائی میں ایک سنجیدہ پیغام پوشیدہ ہوتا ہے۔ ان کے اشعار اگر آپ کو ہنسنے پر مجبور کرتے ہیں تو دوسرے ہی لمحے آپ کے احساس پر چابک بھی برساتے ہیں۔ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ مزاح ایک حد درجہ سنجیدہ کام ہے۔ زیر نظر نظم اس بات کا ثبوت ہے۔ نظم بیس سال پہلے لکھی گئی ہے۔ عنوان ہے وزیراعظم۔ آپ لطف اندوز ہوں گے اگر آپ آخر تک پڑھ پائے۔ ویسے تو اس نظم کا ہر شعر تازہ تر ہے لیکن آخری شعر تو کمال کا ہے۔ آخری شعر پڑھنے کے بعد آپ اکمل لیونی کے تخیل اور مستقبل بینی کے قائل ہو جائیں گے۔ ترجمہ پیش خدمت ہے

Read more

شانگلہ گرلز سکول: ملالہ کی اپنی مٹی سے لازوال محبت کا ثبوت

معذرت چاہتا ہوں کہ ایک پرانا زخم کریدنے لگا ہوں۔ اس پرانے زخم سے اٹھے ایک تازہ خوشگوار جھونکے نے آج کا دن یادگار بنا دیا۔ مہاتما بدھا نے کہا تھا، ”میں نے پریشان یا ناخوش لوگوں کی ذہنی کیفیت کا بہ غور جائزہ لیا ہے اور ان کی اذیت میں پنہاں ایک تیز دھار خنجر پایا ہے۔ چونکہ وہ خود میں یہ تیز دھار خنجر دیکھ نہیں پاتے، اس لئے ان کے لئے اپنی تکلیف سے نمٹنا مشکل ہوتا ہے“ ۔ ایسے لوگ اپنے سینے میں پیوست خنجر کو دوسروں کے سینے میں گھونپ کر اپنی تکلیف کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایسے ہی ایک خنجر کا شکار ہوئی ایک چھوٹی سے بچی (جو اب ماشاءاللہ بڑی ہو چکی ہے ) کی ایک ولولہ انگیز کاوش نے آج میرا خون گرما دیا، آنکھوں میں امید کی روشنی بھر دی اور مستقبل امید کا دیا بن کر دل کے نہاں خانوں کو روشن کر گیا۔

Read more

کیا پرویز خٹک وزیراعظم بن سکیں گے؟

پچھلے کئی دنوں سے اس بارے لکھنے کا سوچ رہا تھا۔ سہیل وڑائچ صاحب کی خبر ہے کہ عمران خان کے متبادل کے طور پر پرویز خٹک کا نام زیر غور ہے۔ وڑائچ صاحب نے جب نواز کے لئے ’پارٹی از اوور‘ لکھا تو واقعی نواز کی پارٹی اوور ہوگئی اور دوسری پارٹی شروع۔ وڑائچ صاحب کی خبر نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ میں کوئی صحافی نہیں لیکن پرویز خٹک کی سیاست بچپن سے دیکھتا آیا ہوں۔ سیاست پرویز خٹک

Read more

تازہ ہوا ضروری ہے اس سے پہلے کہ سب کا دم گھٹ جائے

بیس ڈالر کے مشتبہ طور پر جعلی نوٹ سے سگریٹ خریدنے کے جرم میں امریکی سیاہ فام باشندے جارج فلائیڈ کی موت نے پورے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ صرف امریکہ ہی کیا پوری دنیا نے یہ درد محسوس کیا ہے۔ پاکستان میں ہمارے ہسپتالوں میں مریض اگر چہ کورونا کے باعث لقمۂ اجل بن رہے ہیں لیکن ہمارے ڈاکٹرز کا ہمارے ہاتھوں دم گھٹ رہا ہے۔ حکومت نے ڈاکٹرز کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ ہمارا علاج کرتے ڈاکٹرز بلاشبہ ایک عظیم جہاد لڑ رہے ہیں، جس میں ان کا مقابلہ حکومت کی نا اہلی، ہماری جہالت اور بے حسی اور کورونا جیسی وباؤں سے ہے۔ اس کے باوجود ہم اگر جارج فلائیڈ کی موت کا ماتم کرتے ہوئے امریکی مظاہروں پر لکھ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب انسان رنگ و نسل، مذہب، ملک اور قومیت سے اوپر اٹھ کر ایک دوسرے کا درد محسوس کر رہے ہیں۔

Read more

صنم کہتے ہیں تیرے بھی کمر ہے

سیاسی جماعتوں کے لیڈرز معصوم من الخطا ہیں۔ ان کے ورکرز چاہے دنیا زیر و زبر ہوجائے، اپنے لیڈرز پر تنقید خود تو کیا کریں گے اوروں کی حق بات بھی برداشت نہیں کرتے۔ دوسری جماعتوں کی بات ہو تو ان کے پاس دلائل کے انبار ہوتے ہیں، ان کے لیڈرز کی بات کریں تو یہ مینڈکوں کی طرح ٹاں ٹاں کرنے لگتے ہیں۔ اسی رویے کے باعث ہماری سیاسی جماعتیں پنپ نہیں پاتیں اور ان کے لیڈرز خود سر

Read more

دس از ٹائم لِس

۔ انیسویں صدی میں اٹھنے والی ہیضے کی وبا جس نے لاکھوں انسانوں کو لقمہ اجل بنایا تھا، کے تناظر میں لکھی گئی نظم جس کو انیس سو انیس کے سپینش فلو میں دوبارہ شائع کیا گیا تھا، آج کے حالات سے حیرت انگیز مماثلت رکھتی ہے۔ نیوزی لینڈ کے پروفیسر کیون جن سے میں نے فیض پایا ہے کی وال پر یہ نظم نظر سے گزری۔ نظم کا عنوان ہے ’دس از ٹایم لیس‘ ۔ اس نظم کی خالق

Read more

وبا کے دنوں میں امریکہ سے ایک اور خط

کونٹیکٹ (سی۔ او۔ این۔ ٹی۔ اے۔ سی۔ ٹی) یعنی کنفلیکٹ ٹرانسفارمیشن اکراس کلچرز سکول آف انٹرنیشنل ٹریننگ ورمونٹ کا سالانہ ٹریننگ پروگرام ہے۔ اس میں ہر سال دنیا کے مختلف خطوں سے پچاس کے قریب ایسے لوگ بلائے جاتے ہیں جو اپنے معاشروں میں امن کے لئے کام کرتے ہیں۔ ڈاکٹر پالا گرین جن کی عمر اسی سال سے اوپر ہے اس پروگرام کی بانی ہیں۔ ڈاکٹر پالا امریکہ اور امریکہ سے باہر تنازعات کے پر امن حل کے لئے

Read more

وبا کے دنوں میں نیویارک سے ایک دوست کا خط

ہیلو عامر، مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ایک شاندار پاکستانی انجینیر وینٹیلیٹر بنانے میں کامیاب ہوا ہے۔ زبردست۔ مجھے امید ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ وینٹیلیٹرز بنانے کے لئے ذرائع معلوم کرنے میں کامیاب ہوگا کیونکہ زندگیاں بچانے کے لئے وینٹیلیٹرز انتہائی ضروری ہیں۔ امریکہ میں بھی نئے آسان طریقوں سے طبی آلات بنانے کے لئے کچھ لوگ آگے بڑھے ہیں لیکن حکومت حسب معمول پیچھے رہ گئی ہے۔ یہ دیکھنا خوفناک ہے۔ امریکہ نے ناقابل یقین

Read more

برنی سینڈرز کا امریکہ

یہ دو ہزار تیرہ کی ایک اداس شام تھی جب میں برنی سینڈرز کی سٹیٹ ورمونٹ کے ایک شہر بریٹلبرو پہنچا۔ سفر سے کبھی خوف نہیں آیا البتہ گھر سے دوری کے باعث طاری ہونے والی اداسی سے کبھی پیچھا نہ چھڑا سکا۔ احمد ندیم قاسمی صاحب کا ایک بے پناہ شعر ہے وہ اعتماد ہے مجھ کو سرشت انساں پر کسی بھی شہر میں جاؤں غریب شہر نہیں فلاڈلفیا سے روانہ ہوکر نیویارک، کینٹکی اور کئی دیگر ریاستوں سے

Read more

مسئلہ اقتصادی نہیں

ہم لاکھ معیشت معیشت کرتے جائیں ہمارے مسائل کی جڑ اقتصاد میں نہیں بلکہ کہیں اور ہے۔ ابتر معاشی حالات دراصل مسئلہ ہے مسئلے کی وجہ نہیں۔ ساری خرابی سوچ کی ہے۔ جب تک ہم اپنی سوچ میں بنیادی تبدیلیوں کی طرف قدم نہیں بڑھائیں گے ہمارے درد کو شفاء نہیں ملنے والی۔ ہماری اکثریت منتقم مزاج ہے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانا ہمارا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ محنت سے جی چرانا ہماری عادت ہے۔ شارٹ کٹ لینا ہماری فطرت بن

Read more

منظور پشتین کیا کرے؟

ایک طرف تبدیلی کے خمار میں گم ہمارے نوجوان گالیوں کے ذریعے فیسبک پر علمی مباحثے جیت رہے ہیں تو دوسری طرف ایک نوجوان نے ملک کے بام و در ہلا کر رکھ دیے ہیں۔ ہاتھوں میں ہتھکڑی لگی اس کی تصویر نے اپنے گردوپیش میں بے پناہ تحرک پیدا کیا ہے۔ زنجیر سے بندھے ہاتھ، چہرے پر صدیوں کا درد، آنکھوں سے جھانکتا کرب اور ان سب کے بیچ موجود دلوں کو تڑپانے والی مسکراہٹ۔ یہ 25 سالہ نوجوان

Read more

عروج و زوال، عمران خان اور راجر ہارپر

عروج و زوال کی داستانیں اٹھا کر دیکھیں تو ایک بات سب میں مشترک ہے کہ اقوام اور افراد کو بامِ عروج تک پہنچانے والے عناصر ہی ان کو زوال کا مزہ چھکاتی ہیں۔ وہی چیزیں جو آپ کے لئے کامیابی کے اسباب فراہم کرتی ہیں بالآخر آپ کی ناکامی کی ذمہ دار ٹھہرتی ہیں۔ سینکڑوں مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ چرچل نے نپولین کی شخصیت کا گہرائی اور گیرائی سے جائزہ لیتے ہوئے لکھا تھا کہ نپولین کی کامیابی

Read more

نیلسن منڈیلا بننا بچوں کا کھیل نہیں

کہتے ہیں کہ شیر کی بادشاہت سے تنگ آئے گیدڑوں کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ بس بہت ہوگیا چیف صاحب! اب یہ غلامی مزید برداشت نہیں، شیر کا علاج کرنا پڑے گا اور علاج کے لئے دو دو ہاتھ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ گیدڑوں کا ٹولہ وقتِ مقررہ پر شیر کے کچھار کے پاس پہنچا اور شیر کو بہ آوازِ بلند پکارا ’ادھر آ بے! ابے او شیر کے بچے‘ ۔ شیر اس انقلابِ زمانہ پر تھوڑا

Read more

پختونخوا میں وزارتوں کی تبدیلی اور نئی مجوزہ وزارت

تمام پاکستانی اور بالخصوص پنجابی خواتین و حضرات اگر بخل کا مظاہرہ کریں تو الگ بات لیکن حق بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے باسیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا بنتا ہے۔ وہ آفت جو اِن پر پچھلے ڈیڑھ سال سے نازل ہے ہم پختونخوا والے پچھلے ساڑھے سات سال سے بھگت رہے ہیں۔ عظیم شیر شاہ سوری کا تیسرا جنم تو پنجاب میں اب ہوا ہے، خیبر پختونخوا کے کوہ و دمن میں شیر شاہ سوری کی آمد

Read more

مذہبی سیاست سے پسپائی اور آزادی مارچ

یہ جملہ بارہا دہرایا گیا لیکن اس کے اندر موجود سچ اس کی تازگی برقراررکھے ہوئے ہے۔ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ پاکستانی سیاست آئے روز اس جملے کی عکاسی کرتی رہتی ہے۔ عمر بھر مذہب کو اپنی سیاست کا اوڑھنا بچھونا ٹھہرانے والے مولانا فضل الرحمن پیپلز پارٹی کے مطالبات کے سامنے ڈھیر ہوگئے ہیں۔ حکومت گرانے کے مشن میں مولانا مان کر دے چکے کہ حکومت کی ناکامیوں کی طویل فہرست میں سب کچھ ہوگا سوائے

Read more

وزیراعظم شاہ محمود قریشی یا پرویز خٹک؟

فیصل واوڈا بولتے ہیں تو سوچتے نہیں لیکن سیاسی فضاء کے اثرات سے کوئی بھی سیاستدان لاتعلق نہیں رہ سکتا بالخصوص وہ جو کابینہ کا حصہ ہوں اور اقتدار کی راہداریوں میں گزر بسر جن کا معمول ہو۔ شاہ محمود کے متعلق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل میں 48 ممالک کی حمایت کا دعوی کرنے کے بعد عملاً درکار 16 ممالک کی حمایت حاصل نہ کر سکنے کے باعث قرارداد پیش کرنے میں ناکامی کے سوال پر واوڈا نے

Read more

جنگ

مترجم: عامر گمریانی۔ 1965 کی گرمیوں کی ایک خنک رات تھی۔ ہوا بالکل بند تھی، مچھر بہت تھے، چاند نے آسمان میں اپنا آدھا سفر طے کیا تھا۔ میں اپنی چارپائی میں بے چین پہلو بدل رہا تھا، اور بے خواب آنکھوں سے چاند کے منزل کی راہ تک رہا تھا۔ میرے ذہن میں قسم قسم کے بے چین خیالات ایک دوسرے کے آگے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ کبھی گلاب کی باتیں اور کبھی فیاض کی زبانی جنگ کا احوال۔

Read more

نتھ (ارباب رشید احمد خان کا پشتو افسانہ)۔

توت کے درختوں میں کونپلیں نکلنے کو تھیں۔ بہار کے آثار تھے۔ گاؤں گاؤں شادیوں کے شادیانے بج رہے تھے، ہر طرف خوشیاں تھیں لیکن سلطان حجرے کے ایک کونے میں پڑی پھٹی چارپائی پر پڑا غم اور درد کی تصویر بنا ہوا تھا۔ دوپہر کے سائے بس لمبے ہی ہوئے تھے کہ سلطان نے ایک لمبی انگڑائی لی اور چارپائی میں بہ مشکل بیٹھ گیا۔ آج دوپہر تک اس کے نشے کا کوئی بندوبست نہ ہوسکا، کسی کام کاج

Read more

انتقام – پشتو کا ایک افسانہ

ارباب رشید احمد خان کے اس شاہکار افسانے کا پشتو نام ”پتنہ“ ہے۔ پتنہ اور انتقام دو مختلف کیفیات ہیں۔ پتنہ کے لئے اردو کا کوئی موزون لفظ میرے ذہن میں نہ آسکا۔ پتنہ کو ہم تعصب کہہ سکتے ہیں لیکن لفظ تعصب بھی پوری طرح اس لفظ کا احاطہ نہیں کرتا۔ افسانے کی ساخت کے حوالے سے مجھے اردو میں اس کے لئے انتقام نام اچھا لگا۔ انتقام اور تعصب کے حوالے سے پشتو میں اس سے بہتر افسانہ شاید ہی کسی نے لکھا ہو۔ ترجمہ پیش خدمت ہے

Read more

ارباب رشید احمد خان کا افسانہ: قربانی

آسمان پر بجلی اچانک چمکی اور ارد گرد کے تمام قمقمے بجھ گئے۔ گھپ اندھیرے میں گنجے نے تالیاں بجائیں اور بے ساختہ ہنس پڑا۔ تورے نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور نہایت افسوس سے درد بھرے لہجے میں کہا ”عید کی اس مبارک رات کو دیکھو اور ان قمقموں کے اندھیرے کو دیکھو، آخر مسلمانی ہے“، اور پھر ایک لمبی ٹھنڈی آہ بھر کر خاموش بیٹھ گیا۔ تورا چند لمحے خاموش بیٹھا تھا، اسی اثنا میں گنجے نے گھٹنوں

Read more

کرکٹ کا ورلڈ کپ، عمران خان اور حکومتی کارکردگی

آخری خبریں آنے تک خان صاحب کی حکومت ملک کو درپیش مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہو رہی ہے لیکن کچھ یار دوستوں کی تنقید دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے عمران خان قائداعظم کی رحلت کے بعد اس ملک پر مسلط ہوگئے تھے اور تاحال ملک کے تمام مسائل کے ذمہ دار ہیں۔ یہ دلیل کہ خان صاحب کو وقت چاہیے، میرے نزدیک خام ہے کہ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ حقیقی لیڈرز نے مختصر ترین وقت میں کامیابیاں حاصل کیں۔تبدیلی کا آغاز مشکل ہوتا ہے اور بسا اوقات دوررس نتائج حاصل کرنے کے لئے کھٹن اور صبر آزما فیصلے کرنے پڑتے ہیں جو عوام کے لئے ابتدائی طور پر تکلیف دہ ہوتے ہیں لیکن بعد میں دیرپا ریلیف کا باعث بنتے ہیں۔ تو کیا عمران خان کی حکومت کے ابتدائی کٹھن مہینوں کی کوکھ سے عوام کے لئے واقعی کوئی حوصلہ افزا تبدیلی جنم لے گی؟ اس بارے وثوق سے کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ بسا اوقات انتہائی باریکی سے کیے گئے تجزئے بھی یکسر غلظ ثابت ہوتے ہیں، ہمارے تجزیوں (اگر واقعی انہیں تجزئے کہا جا سکتا ہے ) کا کیا ہے، وقت ملا، موبائل اٹھایا اور لکھنا شروع کردیا۔

Read more

سعودیوں کی اس کرم فرمائی کے بدلے پاکستان کیا دے گا؟

ہم چونکہ ازلی بھوکے ہیں، کچھ روٹی کے اور کچھ دولت کے، اس لئے ہم ہر معاملے میں روپوں کو دیکھتے ہیں۔ غریب عوام کو پیٹ کی دوزخ نے کہیں کا نہیں چھوڑا تو امیروں کو ہوسِ زر نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ روپوں کا تذکرہ تو قصۂ پارینہ بن چکا، اب تو ڈالروں کا زمانہ ہے۔ اربوں کھربوں سے کم پر تو ہماری گاڑی رکتی ہی نہیں۔ چاہے ہمارے حکمران ملک سے باہر نکلیں یا کوئی بھٹک کر ہماری طرف آجائے، کشکول ہمارے گلے میں ہوتا ہے، صبح و شام اس پر کپڑا مار کر چمکاتے رہتے ہیں۔ اللہ کے نام پر دے دیں بابا۔ اللہ کے نام پر نہیں تو اپنے نام پر دے دیں، انسانیت کے نام پر بھی چلے گا، کچھ نہیں تو مفت دے دیں، مفت نہیں دینا تو کچھ خدمت کروا کر دے دیں، پر شرط یہ ہے کہ پہلے دینا ہے پھر کروانا ہے، مجھے نوٹ دکھا میرا موڈ بنے۔

Read more

بے بس پختون اور خچر خرخرہ

سترہویں صدی کا زمانہ ہے، اورنگزیب عالمگیر کے اقتدار کا سورج پورے آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے۔ خوشحال خان خٹک اپنے باب کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پہلے شاہجہان اور اب اورنگزیب کے لئے اپنے لوگوں سے نبردآزما ہیں۔ مغل حکومت کے استحکام کے لئے اپنی قوم کے ایک باغی قبیلے کے ساتھ خونی جھڑپیں خوشحال خان کی زندگی کا معمول بن چکی ہیں۔ یہ لڑائی انہیں وراثت میں ملی ہے۔ ان کا باپ ایسی ہی

Read more

دامنِ یار خدا ڈھانپ لے پردہ تیرا

ساہیوال کا دل خراش سانحہ اپنی نوعیت کا پہلا سانحہ نہیں، بھیانک حقیقت یہ ہے کہ یہ آخری بھی نہیں۔ ہم میری مراد ہماری ریاست اگر چاہے تو یہ اس نوعیت آخری سانحہ ضرور ہوسکتا ہے۔ شائد ایسے سانحات رونما ہونا بند ہوجاتے اگر جوان رعنا نقیب اللہ محسود کے قاتل انجام کو پہنچا دئے جاتے۔ راو انوار جیسوں کی پشت پر جب ریاست کی طاقت کھڑی ہوجائے تو پھر کیا کیا جاسکتا ہے؟

Read more

ایک نوٹس اِدھر بھی چیف صاحب

اللہ بھلا کرے میرے دوست سلمان کا جو کبھی کبھار گاڑی لے کر پہنچ جاتا ہے اور ادھر ادھر کسی دوست کے گھر پہنچ کر انہیں بتا دیتے ہیں کہ ابھی زندہ ہیں اور زندہ دل بھی۔ آج شوکت کے گھر پہنچے تو دن خوشگوار گزرا۔ امریکہ پلٹ میرے دوست شوکت کا انکسار خاصے کی چیز ہے۔ ان کا ایک بچہ امریکہ میں ہی قرآن حفظ کر چکا تھا۔ شوکت امریکہ میں کوئی اٹھارہ سال گزار کر وہیں آنکھ کھولنے والے بچوں کو لے کر پاکستان واپس آیا ہے۔ پچھلے چھ سال سے چھ مہینے امریکہ میں کمائی کرتا ہے اور بقایا چھ مہینے پاکستان آکر اسے ہضم کرتا ہے۔

اپنے ہم وطنوں کے دھوکوں سے ہاضمہ خراب ہوتا رہتا ہے اُس کا، لیکن خوش و خرم رہتا ہے۔ ایک دفعہ تو پورا نظام انہضام ہی جواب دے بیٹھا تھا کہ لگنے والا ٹیکہ لاکھوں کا تھا لیکن جلد ہی سنبھل گیا۔ اب تھوڑی عقل آگئی ہے کہ پاکستان میں رہنے کے لئے عقل بہت ضروری ہے، امریکہ میں بے وقوفی سے بھی کام چل جاتا ہے۔ ویسے اصل داد ہماری بھابی، بھتیجوں اور بھتیجی کی بنتی ہے کہ پچھلے چھ سال سے اِدھر ہی ہیں اور کبھی امریکہ کو یاد کرکے شور نہیں مچایا۔

Read more

احساس برتری میں مبتلا خان صاحب

درحقیقت زندگی شروع دن سے ہی مقابلے کا نام ہے۔ اس دنیا میں ہمیں صرف رہنا ہی نہیں، آگے بڑھنا بھی ہوتا ہے اور آگے بڑھنے کے لئے دوسروں کو پیچھے چھوڑنا پڑتا ہے۔ اپنے اہداف اور مقاصد کو حاصل کرنے کے واسطے ہمیں اپنے آپ کو تشویق دینی ہوتی ہے۔ ایک مسلسل جدوجہد جاری رکھنی پڑھتی ہے۔ مسئلہ اس وقت گھمبیر ہوجاتا ہے جب ہماری جنگ خود اپنے آپ سے ہو، ہم اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہیں اور ہم حقیقت میں ہوتے کیا ہیں؟ ایسی صورتحال میں ہم دو میں سے ایک احساس میں پھنس جاتے ہیں ؛ احساسِ برتری یا احساس کمتری۔

کمتر ہونے کا احساس بہت معیوب سمجھا جاتا ہے لیکن درحقیقت کمتری کا احساس اتنا برا نہیں ہوتا بلکہ زندگی میں آگے بڑھنے اور کچھ کر دکھانے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ دنیا کا ہر عظیم آدمی کسی نہ کسی سطح پر کمتری کے احساس کا شکار ہوتا ہے اور یہی اس کی کامیابی کا پوشیدہ راز ہوتا ہے۔

Read more

طاہر داوڑ کا قتل، ریاست اور پختون

طاہر داوڑ کی اندوہناک موت سے اس ملک کے ہر کونے میں ایک طوفان برپا ہونا چاہیے تھا۔ طوفان تو کیا کوئی ارتعاش بھی پیدا نہ سکا۔ یہ اس بھیانک حقیقت کا ثبوت ہے کہ ہم اپنی بربادی کا سفر جلد از جلد طے کرنا چاہتے ہیں۔ جس طرح کے کام ہمارے اردگرد ہورہے ہیں اُن سے اِس بات میں کسی شک و شبے کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ اس دھرتی کے دشمن اس کی بربادی کے لئے پوری

Read more

احتساب کے ذریعے انقلاب کی ایک کہانی

حج کے مبارک عبادت کا احوال سننا اور سنانا دونوں دلچسپی کا باعث ہوتے ہیں۔ وہ جس کا قصہ سنا رہا تھا اُس سے اُس کی ملاقات مقدس سرزمین پر ہوئی تھی اور جو احوال وہ سنا رہا تھا دلچسپی سے خالی ہرگز نہ تھا، یہ اور بات کہ اس کے قہقہے بھرے قصے سے حجاز مقدس کے دلگداز احساسات کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ لہک لہک کر مزے لے لے کر ہمیں ہمارا چہرہ دکھا رہا تھا۔ وہ

Read more

مذہبی اور لبرل انتہا پسندوں کے درمیان پھنسا معتدل طبقہ

میرے دوست ڈاکٹر اکمل بنگش کے نزدیک مسائل دو ہیں

1) لوگ اپنے آپ کو انتہا کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہی انتہا پسندانہ سوچ لئے کچھ مذہبی انتہا پسند بن جاتے ہیں دوسرے اتنے لبرل کہ لبرل ازم کی بنیاد رکھنے والے بابوں سے بھی دو قدم آگے نکل پڑتے ہیں۔ معتدل طبقہ جو حجم میں سب سے زیادہ ہوتا ہے ہمیشہ خاموش رہتا ہے اور متنازعہ صورتحال میں اس کی خاموشی اور بڑھ جاتی ہے۔ اس درمیانی طبقے کی خاموشی سے دونوں انتہاؤں پر موجود طبقات اور طاقتور اور شیردل بن جاتے ہیں، نتیجتاً تنازعہ حل ہونے کے بجائے اور سنگین ہوتا جاتا ہے اور اس سے معاشرہ بگاڑ کا شکار ہوجاتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ معاشرے کی اس بگاڑ کا زیادہ تر نقصان معتدل درمیانی طبقہ ہی اٹھاتا ہے۔

Read more

کشکول اور کامیابی

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟ اس سوال کو دوسرے الفاظ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے ان گنت مسائل کی جڑ کیا ہے؟ آپ میڈیا پر چلنے والے ٹاک شوز اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین یا سوشل میڈیا پر جاری سنجیدہ اور غیر سنجیدہ مباحث دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ روزبروز بگڑتی معیشت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے

Read more

تبدیلی سرکار کا ایک پروانہ ورکر آج کہاں کھڑا ہے؟

کسی بھی نئی سیاسی جماعت کی طرح پاکستان تحریک انصاف کا نقطۂ آغاز بھی تبدیلی کا نعرہ ہی تھا۔ کسی بھی نئی سیاسی جماعت کی بنیاد ہی درحقیقت اس امر کا ثبوت ہے کہ سیاسی میدان میں کوئی خلا موجود ہے جس کا پُر کیا جانا ضروری ہے۔ کچھ چیزیں جو ہورہی ہیں، نہیں ہونی چاہیے اور کچھ چیزیں جو کہ نہیں ہورہی ہیں، ہونی چاہیے، کچھ چیزوں کو جڑ سے اکھاڑنا ہے، کچھ کی بنیاد رکھنی ہے اور کچھ

Read more

ایک استاد کی یاد میں

نام ان کا گل حسن تھا، لوگوں کیلئے وه ایک عام شخص تھے، ان کےشاگردوں کیلئے ایک شفیق استاد، میرے لئے وہ ایک احساس کا نام ہیں ۔ ایک ناقابلِ بیان احساس۔ لفظوں میں اس احساس کو بیان کرنا ممکن نہیں۔ اس احساس کے بطن سے کتنے ہی جزبوں نے زندگی پائی اور میری زندگی کو منور کرتے چلی گئی۔ شائد پانچ برس کا تھا، زہن کے پردے پر ایک موہوم سا نقش آج بھی قائم ہے۔ میرے مرحوم و

Read more

صرف تحریکِ انصاف کے ورکرز اور سپورٹرز کے لئے

تحریک انصاف کے ورکرز اور سپورٹرز سے چند معصومانہ سوالات! ۱) کیا موروثی سیاست ہمارے ملک اور معاشرے کے لئے نقصان دہ ہے؟ ۲) کیا آپ موروثی سیاست کے خلاف ہیں؟ ۳) کیا پاکستان تحریک انصاف اولین دن سے موروثی سیاست کے خلاف جدوجہد کا عزم لئے ہوئے تھی؟ ۴) کیا عمران خان ہمیشہ دو ٹوک انداز میں موروثی سیاست کی مخالفت کرتے آئے ہیں؟ ۵) کیا عمران خان موروثی سیاست کی مخالفت کرنے پر عوام سے ووٹ مانگتے آئے

Read more

زہر میں بجھے ہوئے تیر اور سید طلعت حسین

”ایسے متعصب، یک رخے اور گھٹیا قسم کے شخص سے کیا ہمدردی کی جا سکتی ہے۔ مجھے تو شروع ہی سے یہ زہر لگتا تھا، خبط عظمت میں مبتلا، خودساختہ نرگسیت میں مبتلا، لیکن تب صحافتی سٹینڈرڈ کے حساب سے ٹھیک تھا۔ عمران دشمنی نے باولا بنا دیا۔“ میں نہایت بوجھل دل کے ساتھ مندرجہ بالا کمنٹس نقل کر رہا ہوں۔ یہ ایک صحافی کا اپنے ہم عصر صحافی کے متعلق تبصرہ ہے۔ طلعت حسین صاحب کی دو منٹ کی

Read more

تصور پسندی سے حقیقت پسندی تک کا عمرانی سفر

جنرل ضیاء کے مارشل لاء کے احتتام کے بعد جو جمہوری تماشے نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے درمیان لگے، ان کا منطقی نتیجہ تھا کہ کوئی تیسری قوت اٹھے اور روز بروز وسیع ہوتے سیاسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کرے۔ اسی نقطے سے عمران خان کا ظہور ہوا اور ملک میں تبدیلی کی آوازیں اٹھنی شروع ہوئیں جو ہر چند کہ بلند نہیں تھیں لیکن گاہے گاہے سنائی دیتیں اور اپنی موجودگی کا احساس دلاتیں۔ خان صاحب

Read more

پانچ رابطے؛ انتخابات اور خان صاحب کی زندگی کو لاحق خطرات

جسٹن میرے دوست ہیں۔ جسٹن دنیا میں امن کے متلاشی ہیں اور دنیا کے ہر انسان کے لیے کسی بھی امتیاز کے بغیر امن اور سکون چاہتے ہیں۔ الجیریا، ایتھوپیا اور تنزانیہ سمیت کئی ممالک میں امن اور ترقی کے لئے وہاں کی عوام کے ساتھ مل کر تین سال رضاکارانہ طور پر کام کیا۔ جسٹن کو کرہ ارض کو جنت بنانے کی دیوانگی لاحق ہے۔ تعلق برنی سینڈرز کے سٹیٹ ورمونٹ سے ہے۔ وہی برنی سینڈرز جو یہودی ہیں

Read more

عمران خان کو محنت اور ووٹرز کے اعتماد نے جتایا

عمران خان کیوں جیتے؟ اس ملین ڈالر کوئیسچن کے کا جواب بہ یک وقت سادہ بھی ہے پیچیدہ بھی۔ تحریک انصاف کے حامی بجا طور پر کہہ سکتے ہیں کہ عمران خان کی انتھک جدوجہد، پختونخوا حکومت کی کامیابی، کرپشن سے پاک اور کامیابیوں سے بھرپور ماضی، عوام کا ان پر اعتماد، کرشماتی شخصیت وغیرہ وغیرہ ان کی کامیابی کی وجوہات ہیں۔ جبکہ ان کے مخالفین اس کو اسٹیبلشمنٹ کی کاریگری قرار دیتے ہیں۔ میرے خیال میں دونوں پہلو خان

Read more

کون بنے گا خیبر پختونخوا کا وزیر اعلٰی

ویسے اس تحریر کا عنوان ”کون بنے گا ارب پتی“ بھی ہوسکتا ہے۔ وزیراعلی بننا کروڑ پتی تو کیا ارب پتی بننے کی کنجی ہے۔ ہمارے درویش وزیراعلی (سابقہ) جلسوں میں کہتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ ان کے پاس نہ ذاتی گھر ہے اور نہ گاڑی، یہ الگ بات کہ الیکشن مہم کے دوران ان کے ورکرز نے نوٹ سے ووٹ حاصل کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور یوں اپنے لیڈرز کی اس بات پر مہرِ تصدیق ثبت

Read more

صبحِ بے نور

میرے جیسے پیدائشی امید پرست کے لئے کسی بھی تحریر کا یہ عنوان رکھنا انتہائی تکلیف کا باعث ہے۔ اصولاً اس تحریر کا عنوان صبحِ درخشاں ہونا چاہیے تھا کہ کل میرے ملک کے بیس کروڑ شہری آئندہ پانچ سال کے لئے اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے والے ہیں۔ لیکن کیا کیجئے حقائق اتنے تلخ ہیں کہ فطرت کے اصول کے مطابق کل کا سویرا طلوع تو ہوگا لیکن اجالا؟ وہ اجالا جسے ہمارے شاعر نے داغ داغ کہا تھا،

Read more

کارِ آشیاں بندی

یہ اگر الیکشن ہیں تو لشکر کشی کیا ہوتی ہے؟ باہم متحارب لشکر کے درمیان چند ساعتوں کی لڑائی کو الیکشن کا نام کیسے دیا جا سکتا ہے؟ یہ سوچنے کی کسی کو فرصت نہیں کہ اس وقتی ڈرامے میں ہمارا کیا کچھ داو پر لگا ہوا ہے۔ انتخابات میں اب تک ہمارے ہاتھ کیا لگا؟ ایک دوسرے کا تیاپانچہ کرنے کے لئے بیتاب سیاسی پارٹیاں اور اس کے نام نہاد لیڈرز جن سے عقل و دانش کی کسی بات

Read more

اسکول دو ووٹ لو

پاکستان یوتھ چینج ایڈوکیٹس (پی وائی سی اے)، پاکستان کولییشن فار ایجوکیشن (پی سی ای) اور سباوون ایجوکیشن اکیڈمی نوشہرہ کی جانب سے پبی پریس کلب میں آج صبح گیارہ بجے خیبر پختون خوا میں لڑکیوں کی تعلیم کے متعلق ایک پریس کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاعر و ادیب اور سباوون ایجوکیشن اکیڈمی کے ایم ڈی عامر گمریانی نے کہا کہ پورے ملک کی طرح کے پی کے میں بھی تعلیم کی حالت انتہائی خراب ہے۔

Read more

ہارون بلور کو کس نے قتل کیا؟

حاجی غلام احمد بلور سینیر سیاستدان ہیں۔ سیاست کے کئی نشیب و فراز سے گزرے ہیں لیکن پائے استقلال میں کبھی لرزش نہیں آئی۔ سیاست اے این پی کے پلیٹ فارم سے شروع کی اور ہمیشہ اس جماعت سے وفاداری نبھائی۔ سیاست میں لانے والے اجمل خٹک مرحوم تھے۔ کئی لحاظ سے پاکستان کے شہروں میں سب سے اہم پشاور شہروں میں پچھلے کئی دہائیوں سے اپنا سیاسی مورچہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ چاہے جیتیں یا ہاریں، پشاور کی سیاست ان

Read more

اکیس کروڑ کی چائے اور آٹھ ہزار بچوں کی تعلیم۔

استاد شاگرد سے پوچھتا ہے "تاریخ کی مشہور لڑائیوں کے نام بتاؤ؟”۔ معصوم شاگرد جواب دیتا ہے "امی نے گھر کی باتیں باہر کرنے سے منع کیا ہے” تحریکِ انصاف کے اچھے بچے دنیا جہان کی کرپشن کی داستانیں سناتے تھکتے نہیں۔ پاکستان کے اندر اور باہر جو بھی کرپشن ہوئی ہے، ان کی عقابی نظروں سے چھپ نہ سکی۔ ہر چوک اور چوراہے پر یہ اچھے بچے آپ کو کرپشن کی کہانیوں سے دلوں کے تار چھیڑتے نظر آئیں

Read more

طاقتور قانون کے نشانے پر اور انصاف کا کلہاڑا

مارکیٹ میں پرانے مال کی نئی کھپت آ پہنچی ہے اور ہاتھوں ہاتھ بک رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک فقرہ ہر جگہ دکھائی دے رہا ہے ”پہلی دفعہ کسی طاقتور کو سزا ہوئی ہے“۔ اس مال کے خریداروں کی خوشی دیدنی ہے۔ حالت ایسی ہے جیسے پہلی دفعہ کرکٹ ورلڈکپ جیت کے دوران تھی۔ ایک دوسرے کے منہ میں مٹھائیاں تک ٹھونسی گئیں۔ تین دفعہ اس ملک کے وزیراعظم رہنے والے بندے کو قوم کا پیسہ لوٹنے کے الزام

Read more

ناتجربہ کار پنجاب اور قیادت کا بارِ گراں

پنجاب سے الیکٹیبلز کا سن سن کر کان پک گئے ہیں۔ ہم کے پی کے والے باوجود اس کے کہ پنجاب سے کئی زیادہ گھمبیر مسائل کا شکار ہیں، الیکٹیبلز کو زیادہ لفٹ نہیں کراتے۔ ضیاء کے مارشل لاء کے بعد اب تک جتنے بھی الیکشن ہوئے، پختونوں نے ہمیشہ ہاتھ پاوؤں مارے کہ اس اسیری سے رہائی ملے لیکن بدقسمتی سے ہر دفعہ صیاد نیا جال لے کر آیا اور یوں اسیری ہی نصیب ٹھہری۔ پختونخوا میں ہر قابل

Read more

شوکت خانم کا خط اپنے اکلوتے بیٹے کے نام

عزیز از جان عمی بیٹا بیٹا یہ خط کسی خاموش سی جگہ اکیلے بیٹھ کر غور سے پڑھنا لیکن خبردار اب اس کے لئے کسی مزار یا دربار میں نہ گھس جانا۔ تمہارے آغاجان نے تاکید کی ہے کہ خط پڑھ کر اس پر پوری طرح عمل کرو، ہمیں تمہاری بہت فکر ہو رہی ہے۔ تمہیں تو اپنے آغاجان کی طبیعت کا پتہ ہے وہ کتنی جلدی غصہ ہوجاتے ہیں۔ تمہارے باب میں تو وہ ویسے بھی بہت سخت گیر

Read more

پرویز خٹک تو نوشہرہ والوں کو دریا میں پھینکنے کا اعلان کر بیٹھے ہیں

شعروں سے دل کا معاملہ طشت از بام ہوا تو شاعر کو رسوائی کے دکھ نے آن لیا۔ شعر کا لہجہ البتہ بتاتا ہے کہ شاعر کو دکھ ہر گز نہیں۔ احمد فراز سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ اگر دنیا سے تمام خوبصورت عورتیں اٹھ جائیں تو شاعر حضرات کیا کریں گے؟ فراز نے بے ساختہ جواب دیا کہ اس سے پہلے تمام شاعر اٹھ چکے ہوں گے۔ حسیناؤں کے دنیا سے اٹھنے سے شاعر اٹھیں نہ اٹھیں، احمقوں

Read more

کچھ علاج اس کا بھی

ٹکٹیں ہیں، کتابیں ہیں، انتخابات ہیں، تحریکیں ہیں، عدالتیں ہیں، نگران حکومتیں ہیں، الیکشن کمیشن ہے، احتساب ہے، صف بندیاں ہیں، مذہب ہے، قام پرستی ہے، حب الوطنی ہے، مباحثے ہیں، دلیلیں ہیں، تاویلیں ہیں، جلسے ہیں، جلوس ہیں، تبدیلی ہے، ترقی ہے، رابطے ہیں، الزامات ہیں، فیسبوک ہے اور اکیلے ہم ہیں۔ بندہ کس کس پر لکھے؟ کوئی ایسا گھمسان کا رن نہیں پڑا لیکن یار دوست کہتے ہیں تو مان لیتے ہیں کہ پڑا ہی ہوگا۔ نوشہرہ میں

Read more

الیکشن 2018۔ پرویز خٹک کے حلقے کی صورت حال

مجھے حیرت اس بات کی ہے کہ پچھلے پانچ سال میں تحریک انصاف میں سب سے اہم حیثیت کے حامل، پرویز خٹک کے متعلق مین سٹریم میڈیا میں کوئی ایک بھی صحافی کچھ لکھ کیوں نہیں رہا۔ ایسی بھی کیا بے رخی؟ بات الجھ جائے گی اگر میں وضاحت نہ کروں۔ پرویز خٹک میرے خیال میں پچھلے پانچ سال میں تحریک انصاف میں سب سے اہم بندے اس لئے تھے کہ کچھ کر دکھانے کا عملی میدان اس کے ہاتھ

Read more

نواز شریف بمقابلہ عمران خان

چلیں ایک موازنہ کرتے ہیں۔ عمران خان اور نواز شریف کا۔ ویسے دونوں کا موازنہ کرنا ایسا ہے جیسے سورج کو چراغ دکھانا۔ سورج اور چراغ کا موازنہ کوئی کرے بھی تو کیسے؟ ایک منٹ چیف صاحب! گالی نہیں۔ میری کیا مجال کہ ان دونوں عالی جاؤں میں سے ایک کو چراغ دوسرے کو سورج قرار دوں۔ یہ نیک کام عاشقانِ عمران خان اور دل گرفتگانِ نواز شریف اپنی اپنی سہولت کو مدنظر رکھ کر خود ہی کر دیں تو

Read more

ریشم کے کیڑے اور مخلص سیاسی کارکن

ہمارے شاعر سے کسی نازک بدن، شیریں سخن نے حریری پیرہن مانگا، تو پربت پار کا وہ نادار بندہ ایک بستی کی طرف نکل کر ایک راہ رو سے پوچھتا ہے کہ کیا وہاں کوئی ریشم کے کیڑے پالتا ہے؟ نظم آگے خاموش ہے کہ جب کہنے کو کچھ نہ ہو تو خاموشی ہی بولی بن جاتی ہے۔ امید ہے کہ جواں مرگ مقبول عامر (1954۔ 1990) کو ریشم کے کیڑے پالنے والوں کا پتہ چل گیا ہوگا اور اس

Read more

رؤف کلاسرا راتوں رات بے باک صحافی سے لفافہ خور ہو گئے؟

لطیفہ یاد نہیں کہاں سنا لیکن ہے پرانا۔ ہوتا یوں ہے کہ اپنی ماں کے پاس بیٹھا پانچ چھ سالہ بچہ اچانک پوچھتا ہے۔ “ماں میں اس دنیا میں کیسے آیا؟”۔ ماں اس غیر متوقع سوال پر چونک اٹھتی  ہے لیکن اپنے آپ کو سنبھال کر بچے کو بتاتی ہے کہ اس کے ابا مچھلیاں شکار کرنے دریا پر گئے تھے، وہاں مچھلیوں کے ساتھ آپ کو بھی پکڑ کر گھر لے آئے۔ بچہ نے ماں کی بات کو زیادہ

Read more

کامران بنگش! ٹکٹوں کی لُو میں تازہ ہوا کا جھونکا! 

کسی نے کہا تھا کہ دھرتی ماں پھولوں میں مسکراتی ہے۔ مجھے یہ بات پاکستان میں آنے والے انتخابات کے حوالے سے یاد آئی۔ پھول بونے کا رواج ہمارے ہاں بھلے اتنا مضبوط نہ ہو، پر موجود ضرور ہے۔ انتخابات کا موسم درحقیقت مستقبل کی پیش بندی ہے۔ ہم اگر پھول اگائیں گے تو وطن عزیز خوشبوؤں کا مسکن بن جائے گا۔ اگر ہم کانٹے بونے کی اپنی روش تبدیل نہیں کریں گے تو ہمارا مستقبل لہولہان ہی ہوگا ٹکٹس

Read more

ایک خاندان، 28 قتل اور دو کمسن بہن بھائی

دنیا کے مختلف خطوں سے آئے ہوئے ہم لوگ تین ہفتے گزارنے کے لئے ایک جگہ اکٹھے تھے۔ ہم تقریباً 65 ملکوں کے 90 سے زائد افراد تھے۔ عجیب فضا تھی، پوری دنیا جیسے ایک ہی چھت کے نیچے آگئی تھی۔ گورے، کالے، سانولے مرد اور عورتیں۔ درجنوں زبانیں بولنے والے۔ مسلمان، عیسائی، یہودی، ہندو، سکھ، بدھسٹ، ایتھیسٹ امریکی ریاست ورمونٹ (Vermont) کے چھوٹے سے شہر بیٹل بَرو (Brattleboro) میں اپنے اپنے قصے لئے ہم سب ایک دوسرے کے دکھ

Read more

ایاز صادق، جان میکین اور رؤف کلاسرا

کلاسرا صاحب کے کالمز میرے معمول کا حصہ بن گئے ہیں۔ جان میکین کی ڈاکومنٹری دیکھ کر انہیں ایاز صادق یاد آئے ہیں۔ کینسر سے جنگ میں مبتلا میکین چند مہینوں کا مہمان ہے لیکن زندگی جس اعلی اخلاقی   معیار پر  گزاری ہے اس نے بہت سوں کیلئے میکین کو ایک  قابلِ تقلید مثال بنا دیا ہے۔ ایک لمبی سیاسی کیریئر میں میکین نے اختلاف کو کبھی اخلاقی بنیادوں سے گرنے نہیں دیا۔ دوسری جانب ہمارے معزز سپیکر قومی اسمبلی

Read more

عمران خان، ریحام خان، جناح اور وائسرائے ہند کی بیٹی!

عمران خان کے خلاف لکھنا آسان نہیں اس کیلئے ریحام خان یا عائشہ گلالئی بننا پڑتا ہے۔ ایک بات البتہ دہرائے دیتا ہوں کہ خان صاحب کی پاکستانی سیاست میں موجودگی غنیمت ہے گو کہ خان صاحب ہر گز کوئی مثالی لیڈر نہیں۔ ایک آدمی ہوا کرتے تھے؛ جناح ! بعد میں قوم کی محبت نے قائداعظم بنا دیا۔ سنا ہے اُس کی کردارکشی کی بہت کوشش ہوئی تھی۔ لیکن ہر دفعہ سرخرو ہوئے اور آج تک عزم اور ہمت،

Read more