مذہبی سیاست سے پسپائی اور آزادی مارچ

یہ جملہ بارہا دہرایا گیا لیکن اس کے اندر موجود سچ اس کی تازگی برقراررکھے ہوئے ہے۔ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ پاکستانی سیاست آئے روز اس جملے کی عکاسی کرتی رہتی ہے۔ عمر بھر مذہب کو اپنی سیاست کا اوڑھنا بچھونا ٹھہرانے والے مولانا فضل الرحمن پیپلز پارٹی کے مطالبات کے سامنے…

Read more

وزیراعظم شاہ محمود قریشی یا پرویز خٹک؟

فیصل واوڈا بولتے ہیں تو سوچتے نہیں لیکن سیاسی فضاء کے اثرات سے کوئی بھی سیاستدان لاتعلق نہیں رہ سکتا بالخصوص وہ جو کابینہ کا حصہ ہوں اور اقتدار کی راہداریوں میں گزر بسر جن کا معمول ہو۔ شاہ محمود کے متعلق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل میں 48 ممالک کی حمایت کا دعوی…

Read more

جنگ

مترجم: عامر گمریانی۔ 1965 کی گرمیوں کی ایک خنک رات تھی۔ ہوا بالکل بند تھی، مچھر بہت تھے، چاند نے آسمان میں اپنا آدھا سفر طے کیا تھا۔ میں اپنی چارپائی میں بے چین پہلو بدل رہا تھا، اور بے خواب آنکھوں سے چاند کے منزل کی راہ تک رہا تھا۔ میرے ذہن میں قسم…

Read more

نتھ (ارباب رشید احمد خان کا پشتو افسانہ)۔

توت کے درختوں میں کونپلیں نکلنے کو تھیں۔ بہار کے آثار تھے۔ گاؤں گاؤں شادیوں کے شادیانے بج رہے تھے، ہر طرف خوشیاں تھیں لیکن سلطان حجرے کے ایک کونے میں پڑی پھٹی چارپائی پر پڑا غم اور درد کی تصویر بنا ہوا تھا۔ دوپہر کے سائے بس لمبے ہی ہوئے تھے کہ سلطان نے…

Read more

انتقام – پشتو کا ایک افسانہ

ارباب رشید احمد خان کے اس شاہکار افسانے کا پشتو نام ”پتنہ“ ہے۔ پتنہ اور انتقام دو مختلف کیفیات ہیں۔ پتنہ کے لئے اردو کا کوئی موزون لفظ میرے ذہن میں نہ آسکا۔ پتنہ کو ہم تعصب کہہ سکتے ہیں لیکن لفظ تعصب بھی پوری طرح اس لفظ کا احاطہ نہیں کرتا۔ افسانے کی ساخت کے حوالے سے مجھے اردو میں اس کے لئے انتقام نام اچھا لگا۔ انتقام اور تعصب کے حوالے سے پشتو میں اس سے بہتر افسانہ شاید ہی کسی نے لکھا ہو۔ ترجمہ پیش خدمت ہے

Read more

ارباب رشید احمد خان کا افسانہ: قربانی

آسمان پر بجلی اچانک چمکی اور ارد گرد کے تمام قمقمے بجھ گئے۔ گھپ اندھیرے میں گنجے نے تالیاں بجائیں اور بے ساختہ ہنس پڑا۔ تورے نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور نہایت افسوس سے درد بھرے لہجے میں کہا ”عید کی اس مبارک رات کو دیکھو اور ان قمقموں کے اندھیرے کو دیکھو، آخر…

Read more

کرکٹ کا ورلڈ کپ، عمران خان اور حکومتی کارکردگی

آخری خبریں آنے تک خان صاحب کی حکومت ملک کو درپیش مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہو رہی ہے لیکن کچھ یار دوستوں کی تنقید دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے عمران خان قائداعظم کی رحلت کے بعد اس ملک پر مسلط ہوگئے تھے اور تاحال ملک کے تمام مسائل کے ذمہ دار ہیں۔ یہ دلیل کہ خان صاحب کو وقت چاہیے، میرے نزدیک خام ہے کہ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ حقیقی لیڈرز نے مختصر ترین وقت میں کامیابیاں حاصل کیں۔تبدیلی کا آغاز مشکل ہوتا ہے اور بسا اوقات دوررس نتائج حاصل کرنے کے لئے کھٹن اور صبر آزما فیصلے کرنے پڑتے ہیں جو عوام کے لئے ابتدائی طور پر تکلیف دہ ہوتے ہیں لیکن بعد میں دیرپا ریلیف کا باعث بنتے ہیں۔ تو کیا عمران خان کی حکومت کے ابتدائی کٹھن مہینوں کی کوکھ سے عوام کے لئے واقعی کوئی حوصلہ افزا تبدیلی جنم لے گی؟ اس بارے وثوق سے کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ بسا اوقات انتہائی باریکی سے کیے گئے تجزئے بھی یکسر غلظ ثابت ہوتے ہیں، ہمارے تجزیوں (اگر واقعی انہیں تجزئے کہا جا سکتا ہے ) کا کیا ہے، وقت ملا، موبائل اٹھایا اور لکھنا شروع کردیا۔

Read more

سعودیوں کی اس کرم فرمائی کے بدلے پاکستان کیا دے گا؟

ہم چونکہ ازلی بھوکے ہیں، کچھ روٹی کے اور کچھ دولت کے، اس لئے ہم ہر معاملے میں روپوں کو دیکھتے ہیں۔ غریب عوام کو پیٹ کی دوزخ نے کہیں کا نہیں چھوڑا تو امیروں کو ہوسِ زر نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ روپوں کا تذکرہ تو قصۂ پارینہ بن چکا، اب تو ڈالروں کا زمانہ ہے۔ اربوں کھربوں سے کم پر تو ہماری گاڑی رکتی ہی نہیں۔ چاہے ہمارے حکمران ملک سے باہر نکلیں یا کوئی بھٹک کر ہماری طرف آجائے، کشکول ہمارے گلے میں ہوتا ہے، صبح و شام اس پر کپڑا مار کر چمکاتے رہتے ہیں۔ اللہ کے نام پر دے دیں بابا۔ اللہ کے نام پر نہیں تو اپنے نام پر دے دیں، انسانیت کے نام پر بھی چلے گا، کچھ نہیں تو مفت دے دیں، مفت نہیں دینا تو کچھ خدمت کروا کر دے دیں، پر شرط یہ ہے کہ پہلے دینا ہے پھر کروانا ہے، مجھے نوٹ دکھا میرا موڈ بنے۔

Read more

بے بس پختون اور خچر خرخرہ

سترہویں صدی کا زمانہ ہے، اورنگزیب عالمگیر کے اقتدار کا سورج پورے آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے۔ خوشحال خان خٹک اپنے باب کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پہلے شاہجہان اور اب اورنگزیب کے لئے اپنے لوگوں سے نبردآزما ہیں۔ مغل حکومت کے استحکام کے لئے اپنی قوم کے ایک باغی قبیلے…

Read more

دامنِ یار خدا ڈھانپ لے پردہ تیرا

ساہیوال کا دل خراش سانحہ اپنی نوعیت کا پہلا سانحہ نہیں، بھیانک حقیقت یہ ہے کہ یہ آخری بھی نہیں۔ ہم میری مراد ہماری ریاست اگر چاہے تو یہ اس نوعیت آخری سانحہ ضرور ہوسکتا ہے۔ شائد ایسے سانحات رونما ہونا بند ہوجاتے اگر جوان رعنا نقیب اللہ محسود کے قاتل انجام کو پہنچا دئے جاتے۔ راو انوار جیسوں کی پشت پر جب ریاست کی طاقت کھڑی ہوجائے تو پھر کیا کیا جاسکتا ہے؟

Read more