جناب وزیراعظم، کیا ہر معاملے پر گل افشانی کرنا لازمی ہوتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم صاحب نے امریکہ میں فرمایا کہ طالبان اور القاعدہ کو پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی نے تربیت دی اور اسامہ بن لادن کے ساتھ فوج کے نچلے درچے کے افسران کے روابط تھے مگر اوپر کی قیادت بےخبر تھی جبکہ ایبٹ اباد کمیشن رپورٹ میں نے نہیں پڑھی۔ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ فوج میں ایک حصہ امریکی جنگ میں شمولیت پر مخالف تھا جس نے جنرل مشرف پہ حملے بھی کروائے۔

یہاں پر چند سنگین، حساس اور سنجیدہ نوعیت کے سوالات جنم لیتے ہیں اور عین ممکن ہے کہ عالمی سطح پر یہ پاکستان کے لیے مزید تنہائی اور مشکلات کا سبب بھی بن جائیں۔ اللہ نہ کرے۔

٭یہاں تک تو یہ بات درست ہے کہ پاکستان نے افغان جہاد کے دوران کھلے عام مجاہدین اور بعد میں طالبان کی مدد بھی کی اور روابط بھی رکھے مگر القاعدہ کا وجود تو بہت بعد میں عمل میں آیا ہے اور اس کا ظہور عرب دنیا سے ہوا ہے۔ 9 / 11 واقعے میں القاعدہ کے ملوث ہونے کا دعویٰ اور الزام ہے۔ اب اگر امریکہ اس مسئلے کو دوبارہ اٹھاتا ہے کہ ایک ”دہشت گرد تنظیم“ (ان کے نزدیک) کی تربیت کا اقرار کرکے پاکستان کا کردار بھی مشکوک ٹھہرا تو اندازہ ہے کیا ہوگا؟

* یہ بھی خطرناک ترین انکشاف ہے کہ فوج میں تقسیم موجود ہے اور نچلی سطح کے لوگ بالائی قیادت کے برخلاف کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

پاکستانی ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے یہی پروپگنڈہ کیا جارہا ہے کہ یہ ایک غیر ذمہ دار اور غیر محفوظ ملک ہے اور یہ ہتھیار شدت پسندوں کے ہاتھوں لگ سکتے ہیں۔ اگر خدانخواستہ یہ معاملہ شدت کے ساتھ اٹھایا جاتا ہے کہ فوج میں تقسیم موجود ہے اور ایک خودمختار شدت پسند گروہ کی موجودگی کی وجہ سے ایٹمی ہتھیار محفوظ نہیں ہے تو پاکستان کی پوزیشن کیا ہوگی؟

*اگر وزیراعظم نے ابھی تک ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ پڑھی ہی نہیں تو کس طرح اتنی بڑی بڑی باتیں کررہے ہیں؟ ان کی لاعلمی اور حساس معاملات کے حوالے سے بے توجہی اپنی جگہ تشویش ناک امر ہے۔

*اگر بنظر عمیق دیکھا جائے تو وزیراعظم پاکستان نے پاکستان آرمی اور اینٹلیجنس اداروں کو نہ صرف بین الاقوامی بلکہ پاکستانی عوام کی عدالت میں بھی لاکھڑا کیا ہے کیونکہ اسامہ بن لادن کی قضیے سے یہاں مکمل لاعلمی کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر واقعی اوپر کی قیادت اس حوالے سے بے خبر تھی تو یہ بھی خطرناک بات ہے اور اگر علم کے باوجود عوام سے غلط بیانی کی گئی تو یہ اور بھی تشویش ناک اور افسوسناک معاملہ ہے۔

وزیراعظم کی گل افشانیوں پر پاک فوج اور آئی ایس آئی کی خاموشی معنی خیز ہے۔ کیا ایک ملک کا وزیراعظم ملکی حساس اور نازک معاملات پر یونہی بولتا رہتا ہے؟ کیا قومی رازوں کا خیال رکھنا اپنی جگہ اہم ترین معاملہ نہیں ہے؟

بین الاقوامی سطح پر غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دار لوگ قابل بھروسا نہیں ٹھہرائے جاتے اور عملی اظہار اس کا یوں ہوتا ہے کہ کشمیر جیسے اہم، حساس اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پہ تسلیم شدہ مسئلے پر بھی ایک بڑی دنیا میں صرف 16 ممالک کی حمایت بھی نہیں مل پاتی!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •