روس کی ریل گاڑیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روس میں دوطرح کی ریل گاڑیاں ہیں جن میں سے ایک قسم کو ”فرمنّے پوئزد“ یعنی فرم کی ریل گاڑی کہا جاتا ہے۔ یہ گاڑیاں علیحدہ کمپنیوں کے زیرانصرام ہوتی ہیں چنانچہ ان گاڑیوں میں سروس بہتر ہوتی ہے۔ سٹاپ کم ہوتے ہیں مگرکرایہ زیادہ۔ البتہ دوسری قسم کی ریل گاڑیاں بھی اپنی صفائی، کارکردگی اور سہولت میں کچھ کم نہیں ہوتیں۔

گاڑی کی روانگی سے پہلے ہر ڈبے کے باہروردی میں ملبوس مستعد ڈبہ بان خاتون یا مرد کھڑے ہوتے ہیں جوہرشخص کے ٹکٹ کی پڑتال کرتے ہیں اورانہیں اپنے ڈبے میں آنے پرخوش آمدید کہتے ہیں۔ عین وقت پرگاڑی کی روانگی سے تیس سیکنڈ پہلے ڈبہ بان دروازہ بند کر لیتے ہیں اورریل گاڑی چل پڑتی ہے۔ ہرڈبے میں پانی گرم کرنے کا ایک بڑا سا آلہ لگا ہوتا ہے جس سے مسافر، گاڑی کی روانگی کے چند منٹ بعد استفادہ کر سکتے ہیں۔

ڈبے تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک کو ”پلس کارت“ کہا جاتا ہے جس میں تمام نشستیں لیٹنے کے لیے ہوتی ہیں لیکن پورے ڈبے میں انہیں ایک دوسرے سے ڈھانپنے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا یعنی سب سب کو دیکھ سکتے ہیں۔ ایسے ڈبے کی نشستوں کا کرایہ سب سے کم ہوتا ہے۔ دوسری قسم کے ڈبوں کو ”کوپے“ والے ڈبے کہا جاتا ہے جن میں ایک جانب کھڑکیوں کے ساتھ تقریباً ڈیڑھ فٹ چوڑا کاریڈور ہوتا ہے جس میں قالین نما دری بچھی ہوتی ہے۔ ہر تین کھڑکیوں کے بعد ایک فولڈنگ نشست ہوتی ہے جسے باہر کا نظارہ کرنے والا شخص تھک جانے کی صورت میں بیٹھنے کی خاطر استعمال کر سکتا ہے۔

کاریڈور کے دوسری جانب چارچاربرتھوں والے کیبن ہوتے ہیں جن کا دروازہ بند ہو سکتا ہے اور اندر سے مقفل کیا جا سکتا ہے۔ دروازے کے عقب میں قد آدم آئنیہ ہوتا ہے۔ دروازے کے اطراف میں اوپروالی برتھوں سے تھوڑا سا اوپر کرکے ہک لگے ہوتے ہیں جن کے ساتھ ہرجانب ہینگرآویزاں ہوتے ہیں تاکہ ہرمسافراپنے اپنے کپڑے ان پرلٹکا سکے۔ کھڑکی کی جانب برتھوں کے درمیان ایک محکم جڑی ہوئی میزہوتی ہے جس پر کھانے کا سامان، چائے وغیرہ رکھے جا سکتے ہیں۔

اس پر میز پوش بچھا ہوتا ہے اورمصنوعی پھولوں سے سجا ایک گلدان بھی دھرا ہوتا ہے۔ کھڑکی کے آگے ایک مصنوعی چمڑے سے بنا پردہ ہوتا ہے جس کو کھینچ کرنیچے لگے ہک میں اٹکایا جا سکتا ہے یوں باہر سے روشنی نہیں آتی۔ اس روشنی بند شیلڈ کے آگے کپڑے سے سیے دو پردے آویزاں ہوتے ہیں جو ادھرادھر کیے جا سکتے ہیں۔ ہربرتھ کے سرہانے دیوارمیں لیمپ نصب ہوتے ہیں جنہیں چھت پر لگی ٹیوب لائٹس بجھائے جانے کے بعد حسب ضرورت روشن کیا جا سکتا ہے۔ نیچے کی برتھوں کو اوپراٹھائیں توان کے نیچے بنے صندوقوں میں اپنا سامان محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ دروازے کے اوپر کاریڈور کی چھت پر کھلنے والا ایک بڑا سا خانہ ہوتا ہے جس میں چار کمبل دھرے ہوتے ہیں، ضرورت پڑنے پروہاں اضافی سامان بھی رکھا جا سکتا ہے۔

ریل گاڑی چل پڑنے کے پندرہ بیس منٹ بعد ڈبہ بان خاتون یا مرد سب مسافروں سے چائے کی طلب بارے پوچھتے ہیں۔ اثبات میں جواب پانے پردھات کے بنے ہوئے کنڈے والے منقش گلاس دانوں میں رکھے شیشے کے گلاسوں میں چائے پیش کر دیتے ہیں اورچارچاربسکٹوں کا پیکٹ بھی۔ رات نو بجے کے بعد وہ ہرمسافرکو گدے پربچھانے کی خاطردھلی ہوئی استری شدہ چادر، اسی طرح کی دوسری چادر کمبل کے نیچے لگانے کے لیے، تکیے کا غلاف اورایک چھوٹا تولیہ دیتے ہیں جو پلاسٹک کے تھیلے میں بند ہوتے ہیں۔ چائے اوربسکٹوں کی قیمت توٹکٹ کی قیمت میں شامل ہوتی ہے مگربسترکے کمپلکس کے لیے قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

ہر ڈبے کے آخر میں دونوں دروازوں کے بیچ کی جگہ سگریٹ نوش لوگوں کے لیے مخصوص ہوتی تھی (گذشتہ چند سالوں سے بند جگہوں پرسگریٹ نوشی یکسرممنوع قراردی جا چکی ہے )۔ درمیان کا دروازہ جو دوسرے ڈبے میں جانے کی خاطر کھولا جا سکتا ہے کے دونوں اطراف میں ایش ٹرے نصب ہوتی تھی۔ اس مقام سے ڈبے کی جانب کے جھولنے والے دروازے کے ساتھ ٹوائلٹ ہوتا ہے اوراسی حصے میں ایک جانب کوڑا پھینکنے کی خاطر بند ڈبہ لگا ہوتا ہے۔ اس کے اوپر 220 وولٹ بجلی کا ایک پلگ ہوتا ہے جس میں مسافراپنا الیکٹرک شیورلگا کراستعمال کرسکتے ہیں۔ گاڑی کے شہر سے نکلنے اورداخل ہونے سے آدھ گھنٹہ پہلے ٹوائلٹ مقفل کر دیے جاتے ہیں۔

تیسری قسم کے ڈبے ”ایس وے“ والے ہوتے ہیں، جس کا مطلب خصوصی اہمیت کا حامل بنتا ہے۔ ایسے کیبنوں میں صرف دوبرتھ ہوتے ہیں۔ اوپربرتھ نہیں ہوتے۔ دو برتھ نسبتاً چوڑے ہوتے ہیں۔ سروس مزید بہترہوتی ہے۔ ایسے کیبن عموماً جوڑے استعمال کرتے ہیں یا کاروباری افراد۔ یہاں سے پورے یورپ کوریل گاڑیاں جاتی ہیں اوراب تو ایسی ریل گا ڑیاں بھی چلنے لگی ہیں جن کے کرائے ہوائی جہازوں کے کرائے سے زیادہ ہیں۔ ان میں شاندارغسل خانوں کے علاوہ ٹی وی، ویڈیو، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ تک کی سہولتیں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •