سائنسی تحقیق کے تقاضے اور حکومتی سنجیدگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

19، تا 21 جولائی پاکستان اکیڈمی آف سائنس کے زیر نگرانی قومی سطح پر بائیو ٹیکنالوجی کانفرنس کا انعقاد ہوا تھا۔ جس میں قائد اعظم یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کے اساتذہ کے ساتھ ساتھ ملک کی دوسری یونیورسٹیز سے بھی متعلقہ شعبہ جات کے اساتذہ نے شرکت کی۔ ملک کے مایاناز سائنسدان ڈاکٹر عطاء الرحمن نے صدارت کی۔ وفاقی وزیر برائے سائینس و ٹیکنالوجی فواد چوھدری اور وفاقی وزیر برائے محکمہ موسمیات و قدرتی آفات زرتاج گل بطور مہمان مدعو تھے۔

دوسرے شرکاء میں پاکستان اکیڈمی آف سائنس کے صدر پروفیسر قاسم جان اور ایسوسیشن آف اکیڈمیز ایک سائنس سوساٹی ایشیاء کے صدر یو ہان، ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری اور متعلقہ شعبہ جات کے پروفیسرز صاحبان نے بائیو ٹیکنالوجی، مائیکرو بیالوجی اور بائیو کمیسٹری کے حوالے سے نئی سائنسی تحقیق، مذکورہ بالا سائنسی علوم کی اھمیت و افادیت، بائیو ٹیکنالوجی، مائیکرو بیالوجی اور بائیو کمیسٹری کو صنعتی سطح پر لے جانے، اور نئی تحقیق کے لئے راستے کھولنے کے حوالے سے بات کی۔

ڈاکٹر ضابطہ خان صاحب نے بائیو ٹیکنالوجی اور مائیکرو بیالوجی کے حوالے سے اپنے مقالات پیش کیے۔ کانفرنس میں میرے کزن عبد اللہ شاہ غازی اور میرے دوست مصباح الدین بھی مدعو تھے جو دونوں بایؤ ٹیکنالوجسٹ ہیں اور متعلقہ شعبہ میں تحقیقی کام سے وابستہ ہیں۔ ان کی بدولت، بطور ان کے مہمان کے، مجھے بھی اس علمی مجلس میں بیٹھنے کا موقع ملا۔

لیکن سائنس کے اس میدان میں ترقی اور اس میں نئی تحقیق کے حوالے سے حکومت کتنی سنجیدہ ہے اس کا پتا اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری صاحب سائنس کے مذکورہ میدان کی اھمیت اور اس میں تحقیق پر زور دے رہے تھے تو اس وقت کانفرنس کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اور وزیر موسمیات زرتاج گل خوش گپیوں میں مصروف تھے تو کبھی اپنے آئئی فونز پر سوشل میڈیا میں مصروف تھے۔ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری صاحب کے بار بار توجہ دلانے اور مخاطب کرنے پر بھی مہمانان خصوصی فیس بک اور ٹویٹر پر مصروف نظر آئے اور کانفرنس ختم ہونے کے بعد فارمیلیٹی پوری کرتے ہوئے اور کھانا تناول فرماتے ہوئے اسی شاہانہ انداز میں رخصت ہوئے۔

دوسری طرف متعلقہ شعبے کے طلباء اور گریجویٹس غیر یقینی حالات سے پریشان نظر آرہے ہیں۔ طلباء کا کہنا تھا کہ بائیوٹیکنالوجی، مائیکرو بیالوجی اور بائیو کیمسٹری کے شعبہ میں نہ تو حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے اور محکمہ ہائر ایجوکیشن کمیشن بھی سنجیدہ اقدامات اٹھانے سے گریزاں نظر آتا ہے اور نہ صوبائی پبلک سروس کمیشنز ہی کوئی قابل تعریف کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ طلباء اور نئے گریجویٹس کے بے چینی کی وجہ یہ ہے کہ نہ تو مذکورہ بالا شعبہ جات کے پبلک سروس کمیشن میں کوئی ویکینسی مشتہر کی جاتی ہے اور نہ ہی سکول و کالج کے سطح پر ان کو نوکری کی کوئی گنجائش ہے۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے اور جس سے حکومتی رویہ سمجھ میں آتا ہے۔ نہ تو حکومت زندگی کے اس اہم شعبہ میں تحقیق کی قائل ہے اور نہ ہی ملک کے تمام پبلک سروس کمیشنز میں ان اہم شعبوں کے لیے کوئی پوسٹ رکھی جارہی ہے۔

زندگی کی سائنس تمام شعبوں میں بائیو کیمیکل تحقیق پر انحصار کرتی ہے کیونکہ یہ زندگی کے نظاموں سے متعلق ہے۔ خواہ وہ حیوانات، نباتات یا خوردبینی مخلوق ہوں، یہ ان سب کے بارے میں معلومات کا اہم ذریعہ ہے۔ سائنس کی یہ شاخ ہمیں حیاتیاتی مالیکیولز اور زندگی کے عوامل میں ان کے کردار کے متعلق سمجھنے میں مدددیتی ہے۔ یہ بافتوں، اعضاء، اور جانداروں کے مطالعہ سے متعلق ہے، مختصراً اس شاخ کا علم تمام حیاتیات پر محیط ہے۔ مالیکیولر بائیالوجی، بائیو کیمسٹری کی ایک شاخ ہے جہاں ڈی این اے میں موجود موروثی پیغام کو زندگی کے عمل میں ترجمایا جا سکتا ہے۔ بائیو کیمسٹری، مالیکیولر بائیالوجی کے مطالعہ کا سامان مہیا کرتی ہے۔

بائیوٹیکنالوجی اطلاقی سائنسز کے میدانوں میں تیزی سے بڑھتا ہوا شعبہ ہے۔ اس میں حاصل کردہ علم کا اطلاق بیماریوں کی تشخیص اور علاج سے لے کر خوراک کی پیداوار میں اضافہ کرنے تک ہوتا ہے۔ انسانی زندگی پر اپنے ممکنہ اثر کی بنا پر اس شعبہ نے عوامی اور سائنسی دونوں قسم کے ایجنڈا میں اہمیت حاصل کر لی ہے۔

فی الوقت ہمارے پاس بائیو کیمسٹری اور بائیو ٹیکنالوجی کے متنوع شعبوں میں تحقیق کا بہترین تجربہ رکھنے والی فیکلٹی موجود ہے۔ شعبہ میں کام کا بہترین سازگار ماحول فراہم کیا جائے تا کہ ایسے سائنسدان پیدا کیے جا سکیں جو اپنے علم کا اطلاق معاشرہ پر کر یں۔ اس میں پڑھایا جانے والا نصاب باقاعدگی سے جدید تقاضوں کے مطابق بنایاجاتا ہے تا کہ زراعت، صنعت، طب اور ماحول کی ضروریات سے نمٹا جا سکے۔ کانفرنسز، سمپوزیم اور ورکشاپس کے ذریعہ شعبہ میں نئے علمی رُجحانات کا پتہ لگایا جاتا ہے۔ شعبہ کے اساتذہ اور طلبہ کی صلاحیتوں کے پیشِ نظر میں یہ بات وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ شعبہ ملکی ترقی میں اپنے حوالے سے بھرپور کردار ادا کرے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •