سائنسی تحقیق کے تقاضے اور حکومتی سنجیدگی

19، تا 21 جولائی پاکستان اکیڈمی آف سائنس کے زیر نگرانی قومی سطح پر بائیو ٹیکنالوجی کانفرنس کا انعقاد ہوا تھا۔ جس میں قائد اعظم یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کے اساتذہ کے ساتھ ساتھ ملک کی دوسری یونیورسٹیز سے بھی متعلقہ شعبہ جات کے اساتذہ نے شرکت کی۔ ملک کے مایاناز سائنسدان ڈاکٹر عطاء…

Read more

بھٹو کو ہنری کسنجر کی دھمکی کا ماجرا

میزبان شخص نے مہمان کی ساری بات تسلی سے سننے کے بعد مہمان سے الٹا سوال کیا کہ آپ ہی میرے دوست ہیں آپ ہی مجھے مشورہ دیں کہ مجھے اس صورتحال میں کیا کرنا چاہیے؟مہمان کے ہونٹوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ آئی اور وہ بولا کہ دیکھیں مسٹر۔ سفارت اور اقتدار کے کھیل میں اصول کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں کوئی کسی کا دوست نہیں ہوا کرتا۔ اور اس بات کو آپ بہتر سمجھتے ہیں کہ میں تو ایک میسنجر ہوں باقی فیصلہ کیا کرنا ہے اس بابت اگر رہنمائی درکار بھی ہے تو آپ کو مشورہ اپنے مشیروں سے کرنا چاہیے۔میزبان نے پھر مسکراتے ہوئے شائستہ لہجے میں کہا کہ دیکھیں میں آپ کو اپنا دوست سمجھتا ہوں اور اس بابت آپ ہی سے مشورے اور رہنمائی کا طلبگار ہوں۔

Read more

کالعدم تنظیمیں اور ریاستی اقدام کا عینی شاہد

جب ہم اپنے اسکول پہنچے تو ایک عجیب منظر دکھائی دیا۔ ہر طرف پولیس اہلکار مسلح کھڑے تھے کچھ سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار بھی تھے ان میں سے چند ایک جو ہم جانتے تھے جو اکثر ہمارے اساتذہ کے ساتھ اور اس ادارے کے منتظمین کے ساتھ آتے جاتے تھے۔ ہمارے اکثر دوست پہلے تھوڑے سے پرشان ہوئے لیکن جلد ہی ان میں وہ جذبات غالب ہو گئے کہ ہم نے ان سے کئی گنا طاقت ور دشمن جا مقابلہ کرنا ہے۔ دروازوں پہ تالے لگے ہوئے تھے اور اوپر سے سفید کپڑے پہ لال رنگ کی مہر بھی سبت تھی۔غیر مقامی اساتزہ میں سے کوئی بھی موجود نہیں تھا البتہ مقامی ایک استاد محترم موجود تھے۔ جو بچوں کو حوصلہ دے رہے تھے۔ مجھے آج بھی صحیح یاد ہے کہ ہماری آنکھوں میں ایک قہر تھا کہ ان پولس والوں کو ختم کر دیں انہون نے امریکہ کی غلامی کرتے ہوئے ہمارے اسکول کو بند کر دیا تھا۔ ہمارا دل چاہتا تھا کہ ہم ان پولیس والوں پہ حملہ کر دیں حلا نکہ ہم بہت چھوٹے اور ناتواں بھی تھے۔ مگر معاذ اور معوذ رضی اللہ عنہ کی بہادری ہمارا جوش بڑھارہی تھی۔

Read more

سر زمینِ بے آئین کے مجرم محافظ

ساہیوال میں ریاستی دہشتگردی کے المناک واقعے نے روح تک کو لرزا کے رکھ دیا ہے اس جانگسل سانحے پر بھی ماضی میں پیش آنے والے سانحات کی طرح ہر آنکھ اشکبار رہی۔ ہمارے حرفِ تسلی و ہمدردی ہمارے احتجاج ہماری مذمت اپنی جگہ درست  مگر یہ سب اس سانحے سے متاثرہ یتیم بچوں کے…

Read more

ایوانِ عدل اور اٹھتا دھواں

کسی بھی معاشرے کی تباہ حالی اور خوشحالی میں عدلیہ کی ترجیحات اور عادل کے چلن کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے ـ باشعور افراد اس بات سے آگاہ ہیں کہ ایوانِ عدل کی سب سے بڑی ذمہ داری اور اولین ترجیح عوام کو فوری انصاف مہیا کرنا ہے اگر اس ذمہ داری کا محلف…

Read more