محبت میں بس تھوڑی احتیاط کسی کو کانو‌ں کان پتہ نہ چلے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن میں والدہ کہا کرتی تھی کوی بھی کام کرتے دھیان رکھو۔ اوپر رب کی ذات موجود ہے جو تمھاری شہ رگ سے بھی قریب ہے اور سب دیکھتا ہے جو تم کرتے اور حتی کہ سوچتے بھی ہو۔ مگر پھر گزرتے وقت کے ساتھ پتہ چلا کہ مسئلہ رب سے چھپانا نہیں بلکہ مقصود لوگوں سے ہے۔ اور وہ بھی بالخصوص جب معاملہ دل کا ہو۔

بس پھر کیا تھا محبوبہ کو رات کی تاریکی میں خارجی دروازے سے داخل کرنے سے لے کر حسین رات کے تمام عہد صبح کی بیدار ہوتی سپیدی کے ساتھ بحفاظت منزل مقصود تک پہنچانے تک گلی کی نکڑ کے میڈیکل سٹور سے تمام مانع سرگوشیوں تک، کبھی کسی کو کانو‌ں کان خبر نہ ہونے دی۔

خدا کا کیا ہے دو چار بار رو کے سجدہ کر لو مان ہی جاتا ہے 70 ماؤں سے زیادہ محبت جو کرتا ہے۔ مسئلہ تو ان کا ہے نہ جن کو ہماری محض چند چھوٹی چھوٹی محبتیں ہمارے کردار کا ڈھیلا پن نظر آتی ہیں۔ وہ تو یاوری قسمت جو اگر عمر بھر کی رفاقت کی سند بھی ان چھوٹی محبتوں میں ہی کہیں مل جاے تو سر پہ ”کلا“ طرہ امتیاز کی طرح سجائے جم غفیر کی ہمراہی میں حرف حرف قبولیت کا عندیہ دیتے کئی گزرے ملال ایسے دھو ڈالو کہ نشاں باقی نہ رہے۔ یاد رہے! حلال بس وہی ہے جو حلال دکھتا ہے۔ جس سے ہم ارد گرد کے بسنے والوں میں عزت دار کی مہر ثبت کیے شان سے جیئے جایئں۔ باقی ”جو رب جانت ہے وہ نیچے آکے تھوڑی بتاوت ہے“۔

دو چار مزارو‌ں پہ چادرچڑھا دو، کسی مسجد کو اضافی 100 یا 200 دے دو اور اگر مسئلہ زیادہ خراب تو کسی دن لگاتار 5 نمازیں پڑھ ڈالو، وہ غفور رحیم پردہ بھی رکھے گا اور معاف بھی کردے گا۔ وہ تو ہمارے معاملات کی پیچیدگی کو سمجھتا ہے نا۔ بس یہ لوگ جن کو ہماری ذرا سا دل پشوری کرنا بھی واجب الجہنم لگتا ہے۔ دین سے نابلد لوگ یہ بھی نہیں جانتے جو منازل معشوق کی باہم رضامندی سے ہوں گناہ تھوڑی ہوتے۔ اس کو تو عرف عام میں محبت کہتے۔ بس تھوڑی احتیاط کسی کو کانو‌ں کان پتہ نہ چلے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر نازیہ علی خان کی دیگر تحریریں
ڈاکٹر نازیہ علی خان کی دیگر تحریریں