بھگت سنگھ کیا ہمارا ہیرو نہیں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی تہذیب کی ہزاروں سالہ تاریخ طبقاتی کشمکش کی تاریخ ہے۔ اس کشمکش کے دوران کئی انقلابات اور بغاوتیں رونما ہوئیں۔ ان انقلابات اور بغاوتوں نے کئی بڑے ناموں کو جنم دیا۔ جن میں مارکس، لینن اورچی گویرا سر فہرست ہیں۔ انہی ناموں میں ایک نام بھگت سنگھ کا بھی ہے۔ بھگت سنگھ ایک سوشلسٹ تھے جو برطانوی سامراج کے خلاف نبردآزما تھے۔ بھگت سنگھ اٹھائیس ستمبر 1907 ء کو لائل پور (موجودہ فیصل آباد،پاکستان) کے ایک نواحی گاؤں بنگا میں پیدا ہوئے۔

جب بھگت سنگھ بارہ برس کے تھے تب تیرہ اپریل 1919 ء کو جلیا نوالاباغ میں انسانیت سوز سانحہ پیش آیا۔ اس سانحے میں ہزار سے زیادہ لوگ مارے گیے۔ اس واقعے سے بھگت سنگھ کو شدید صدمہ پہنچا یوں تحر یک آزادی ہند کا جذبہ مزید بڑھ گیا گویا جلتی پر تیل کا کام کیا۔ بھگت سنگھ نے پندرہ سال کی عمر میں نیشنل کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ یہاں پہ آکے ایک سچے انقلابی کی طرح پڑھنا بھی شروع کردیا اسی لیے سارا سارا دن کالج کی لائبریری میں مطالعہ کرنے میں گزار دیتے تھے۔

مسلسل مطالعے کی وجہ سے سترہ سال کی عمر تک وہ دانشورانہ بلوغت کو پہنچ چکے تھے اور مارکسزم کے بارے میں وسیع معلومات اور پختہ شعور رکھتے تھے۔ اسی شعور کی بدولت ہندوستان ریپبلکن ایسوسی ایشن (HRA) کی مرکزی کمیٹی سے طویل بحث و مباحثے کے بعد کمیٹی نے ان کی تجویز کی حمایت کی اور (HRA) کے نام کو بدل کر ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن ایسو سی ایشن (HSRA) رکھا۔ بھگت سنگھ کے کارناموں کے اور بھی دلچسپ پہلوہیں۔

بھگت سنگھ نے ساونڈر کو گولی مار کر ہلاک کردیا اور لالا لاجپت رائے کی موت کا بدلہ بھی لے لیا۔ ٹریڈ ڈسپیوٹ ایکٹ اور پبلک سیفٹی بِل کے خلاف اسمبلی میں بم پھوڑا اور گرفتاری دی تاکہ عدالت کے ذریعے انقلابی نظریات کی تشہیر کی جاسکے۔ جیل کے اندر قیدیوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے خلاف بھوک ہڑتال کی جو 36 دن تک جاری رہی اور آخر کار انگریز سرکار کو بھگت سنگھ اور ان کے ساتھی کامریڈزکے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور ان کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے گیے۔ ان کارناموں کی ہی بدولت بھگت سنگھ کی آواز پورے ہندوستان میں گونجنے لگی۔

اسی وجہ سے سیاسی قیادت اور عام نوجوان ورکروں میں بھی مکمل آزادی کی باتیں شروع ہوگئیں اور لوگ برطانوی ظلم و تشدد کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہوگئے۔ انگریز راج بھگت سنگھ کی مقناطیسی شخصیت سے واقف تھی اور انہیں ہندوستانی لینن سمجھتی تھی کیونکہ بھگت سنگھ پورے ہندوستان کو خواب غفلت سے بیدار کرنے پر ڈٹے ہوئے تھے۔ اسی خوف سے انگریز حکمران نے وقت سے پہلے اور بین الاقوامی روایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تیئس مارچ 1931 ء کو شام سات بجے پھانسی دی۔

بھگت سنگھ نے دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں، مختلف فلسفیوں اور انقلابیوں کو باقاعدگی سے پڑھا جن میں روسی انقلابی لیڈر ولادیمیر لینن، لیون ٹراٹسکی، کارل مارکس، میخائل باکونن اور برٹرنڈ رسل وغیرہ شامل تھے۔ اِن کے مطالعے سے ہی وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ مادرِ ہند کو صرف غیر ملکیوں سے آزاد کرالینا ہی کافی نہیں بلکہ اس سے زیادہ اہم جاگیرداروں کی استحصالی نظام کا خاتمہ ہے۔ انیس اکتوبر 1929 ء پنجاب سٹوڈنٹس کانفرنس کو لکھے گئے خط میں بھگت سنگھ کے بقول ”آج ہم نوجوانوں کو پستول اور بم اٹھانے کا نہیں کہتے۔ انہیں صنعتی علاقوں کے کروڑوں جھگیوں میں رہنے والوں اور دیہاتوں میں ٹوٹے پھوٹے کچے گھروں میں رہنے والوں کو جگاناہوگا تاکہ ہم آزاد ہوسکیں اور آدمی پر آدمی کے استحصال کا مکمل خاتمہ ہوسکے۔ “

ریڈکلف لائن کے اِس پار اور اُس پار کی تاریخ میں بھگت سنگھ کو وہ مقام نہیں دیا گیا جو اس کو دینا چاہیے۔ مطالعہ پاکستان اور تاریخ کی کتابوں میں پڑھائی جانے والی تاریخ میں اول تو بھگت سنگھ کا کہیں کوئی ذکر ہی دیکھنے کو نہیں ملتا اگر کہیں تھوڑا بہت ہے بھی سہی تو بس نام نہاد ہی ہے۔ بھگت سنگھ کے آج بھی ہم مقروض ہیں اوراگر بھگت سنگھ آج زندہ ہوتے تو اس قوم سے سوال پوچھتے کہ کیا پاکستان میں کسی اور مذہب سے تعلق رکھنے والا لیڈر یا ہیرو نہیں بن سکتا؟ کیا اِن کی قربانیاں اور کارنامے تاریخ کا حصہ نہیں بن سکتے؟ کیا اِن کو کافر اور غیر مسلم کہہ کر بحث کا اختتام کر دینا چاہیے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •