انچولی کے فنگر باؤلر اور بہاری وکٹ کیپر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم کراچی منتقل ہوئے تو رشتے دار بہت تھے لیکن میرا ہم عمر کوئی نہیں تھا۔ کزن کئی کئی سال بڑے تھے یا چھوٹے۔ مجھے محلے میں دوست بنانے میں مشکل پیش آئی۔ اظہار خالو کے بیٹے کاشف مدد کو آئے۔ وہ شام کو اپنے دوستوں کے ساتھ میدان میں کرکٹ کھیلتے تھے۔ انھوں نے مجھے ساتھ کھلانا شروع کردیا۔

اس وقت تک مجھے کرکٹ کا زیادہ شوق نہیں تھا۔ بولنگ کراتے ہوئے بازو نہیں گھومتا تھا۔ بیٹنگ آتی تو پہلی گیند پر آؤٹ ہوجاتا۔ لیکن فیلڈنگ اچھی کرلیتا تھا۔ کئی بار مشکل کیچ پکڑے اور داد وصول کی۔

کاشف بھائی اظہار خالو کے منجھلے بیٹے تھے۔ بڑے ارشاد بھائی تھے اور چھوٹا گڈو جس کا نام زوار حسین تھا۔ لیکن کاشف بھائی لاڈلے تھے۔ دکان کا نام بھی کاشف جنرل اسٹور تھا۔

خالو کے باقی دونوں بیٹے بھی کرکٹ کھیلتے تھے۔ گڈو مجھ سے دو تین سال چھوٹا ہوگا۔ وہ اچھی لیگ بریک بولنگ کرتا تھا اور انڈر فورٹین انڈر سکسٹین کرکٹ کھیلا۔ شادی کے بعد سویڈن منتقل ہوگیا۔ سلمان خان کی طرح ورزش کرکے جسم بنانے اور فیشن کرنے کا شوقین ہے۔ آئے دن نئے نئے ہئیر اسٹائل بنا کر، رنگ برنگے کپڑے پہن کر اور مہنگی مہنگی موٹر بائیکس پر چڑھ کر سیلفی کھینچتا ہے اور فیس بک فرینڈز کو جلاتا ہے۔

گڈو کو فیشن کا شوق ارشاد بھائی کو دیکھ کر ہوا ہوگا۔ ارشاد بھائی لڑکپن میں بالکل ایسے ہی تھے۔ دروغ بر گردن راوی، وہ انچولی میں واک مین کانوں پر لگا کر واک کرنے والے پہلے مین تھے۔ پرانی جینز، نئے جوگرز، آنکھوں پر سیاہ چشمہ، کانوں میں واک مین کی ٹونٹیاں، اس عالم میں وہ اپنی پیکو سائیکل پر محلے بھر میں گھومتے۔ مزاج جوش ملیح آبادی جیسا تھا۔ جوش صاحب نے اٹھارہ معاشقے کیے تھے، ارشاد بھائی نے انیس۔ اور سب کامیاب۔ کیونکہ خوبصورت گفتگو کرنی آتی تھی۔ انیسویں عشق کا نتیجہ مہلک نکلا۔ یعنی شادی پر منتج ہوا۔

ارشاد بھائی اب کینیڈا میں رہتے ہیں۔ پتا نہیں کرکٹ سے دلچسپی رہی یا نہیں۔ لیکن اپنے زمانے کے مشہور فنگر بولر تھے۔ یہ اصطلاح صرف ٹینس بال کرکٹ سے مخصوص ہے۔ فنگر بولر گیند کو اپنی انگلیوں سے ایسے دبا کر پھینکتا ہے کہ کبھی وہ آف بریک ہوجاتی ہے اور کبھی لیگ بریک۔ بولر جتنی تیز گیند پھینکتا ہے، بیٹسمین کے لیے گیند کو سمجھنا اتنا مشکل ہوجاتا ہے۔ میں نے انچولی میں دو بڑے فنگر بولرز دیکھے ہیں۔ میرا دوست زاہد گھوڑا اور ارشاد بھائی۔ زاہد بیٹنگ بھی تباہ کن کرتا تھا۔ میچ نہیں، پورا ٹورنامنٹ تن تنہا اپنی پرفارمنس سے جتوا دیتا تھا۔

ارشاد بھائی نے بھی بہت نام کمایا۔ ان کے دور میں ندیم موسیٰ کراچی میں ٹینس بال کا بڑا کھلاڑی تھا۔ اچھی بیٹنگ کرتا تھا اور عمدہ بولنگ۔ اس کی ٹیم شہر کے بڑے ٹورنامنٹس کھیلتی تھی۔ وہ ارشاد بھائی کو اپنے ساتھ کھلانے کے لیے لے جاتا تھا۔

فنگر بولر کا ایک مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ بیٹسمین ہی نہیں، وکٹ کیپر بھی اس کی بولنگ پر دھوکا کھا جاتا ہے۔ ارشاد بھائی کو خوش قسمتی سے ایسا وکٹ کیپر مل گیا جو ان کی بولنگ کو ریڈ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ یہ تھے ہمارے شکیل بھائی۔ سادات گراؤنڈ پر میچ ہوتے تھے۔ ارشاد بھائی گیند پھینکتے، بیٹسمین دھوکا کھا کر ناچتا۔ ادھر اس کا پیر کریز سے اٹھتا، ادھر شکیل بھائی اسٹمپ کرتے۔ بیٹسمین کو ہوش آنے سے پہلے امپائر کی انگلی اٹھ جاتی۔ تماشائی غل مچاتے۔ بہت بار یہ منظر دیکھنے کو ملا۔

شکیل بھائی خود اچھے کرکٹر تھے۔ انچولی نے جو دو چار اعلیٰ درجے کے کرکٹر پیدا کیے ہیں، وہ ان میں سے ایک تھے۔ چودہ پندرہ سال کی عمر میں کلب میچوں میں سنچری جڑ دیتے تھے۔ بدقسمتی سے وہ کسی اچھے سیلکٹر کی نظر میں نہیں آئے اور سفارش ان کے پاس نہیں تھی۔

شکیل بھائی بہاریوں کی گلی میں رہتے ہیں۔ ان کے والد شبیر خالو بھی ہمارے بابا کی طرح نیشنل بینک کے ملازم تھے۔ انکل ہمارے ساتھ ڈبو کھیلنے آتے۔ اچھا شاٹ کھیلتے تو اپنی تعریف خود کرتے، “میاں، دیکھو تو، کیا نرگسی شاٹ کھیلا ہے!”

شکیل بھائی خود بڑی کرکٹ نہیں کھیل سکے لیکن انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی بابو پر بہت محنت کی۔ بابو کا اصلی نام علی رضا ہے۔ وہ نہ صرف فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلا بلکہ انگلینڈ جاکر کلب کرکٹ کھیلنے کا موقع بھی ملا۔ شکیل اور بابو کے منجھلے بھائی اسد نقوی تھے۔ وہ ظالم بیٹسمین تھے اور سنجیدگی سے کرکٹ کھیلتے تو یقیناً آگے جاتے لیکن انھیں پاکستان میں رہنے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ 1992 میں ادھر عمران خان نے ورلڈکپ جیتا، ادھر وہ ملک سے نکلے اور سیدھے جرمنی پہنچے۔ ملک کا حال دیکھ کر ان کی دور اندیشی کو سلام کرتا ہوں۔

شکیل بھائی پر بھی نوجوانی میں بیرون ملک جانے کا بھوت سوار ہوا تھا۔ ان کا بچپن کا دوست علی منور امریکا جا کر سیٹ ہو گیا۔ اس نے کوئی چکر چلایا اور شکیل بھائی کو امریکا جانے کا موقع فراہم کیا۔ لیکن یہ سمجھا دیا کہ ڈائریکٹ فلائٹ لینا۔ ایک بار امریکا اتر گئے تو سب سنبھال لوں گا۔ لیکن شکیل بھائی کو دنیا گھومنے کا شوق تھا۔ انھوں نے ٹکٹ ایسا لیا کہ پہلے دبئی میں ٹرانزٹ ملے، پھر یونان میں، پھر۔۔۔

لیکن پھر کی نوبت نہیں آئی۔ یونان والوں کو ان کے نام پر یا صورت پر یا دستاویزات پر شک ہو گیا۔ ان سے کہا کہ واپس جاؤ اور نام یا صورت یا دستاویزات ٹھیک کرکے آؤ۔

شکیل بھائی خیر خیریت سے واپس انچولی پہنچ گئے۔ رات کو حسب معمول گلی کے نکڑ پر محفل جمی۔ دوست خاموش تھے کہ شکیل کا دل دکھا ہوا ہوگا۔ آج اس کا ریکارڈ نہیں لگانا چاہیے۔ اچانک شکیل بھائی نے کہا، “یار بہت عجیب سا لگ رہا ہے۔ تنگ تنگ گلیاں، چھوٹے چھوٹے گھر، کالے پیلے لوگ۔”

منوں پڑوں بھڑک اٹھے۔ ان کی طوطا ناک غصے سے سرخ ہوگئی۔ انھوں نے گرج دار آواز میں کہا، “ابے او بہاری! ڈیڑھ سو سال انچولی میں رہ کر ڈیڑھ دن میں اوقات بھول گیا۔” اس کے بعد دوستوں نے وہ باجا بجایا کہ ارشاد بھائی کی ناچتی گیندیں پکڑنے کے ماہر شکیل بھائی کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 179 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi