جنرل اسمبلی میں تاریخی خطاب اور ملک کے اندرونی مسا ئل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان کا جمعہ کو اقوام متحد ہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب واقعی تاریخی نوعیت کا تھا۔ بہت عرصے بعد کسی پاکستانی لیڈر نے عالمی سطح پر اتنی صراحت کے سا تھ مسئلہ کشمیر بیان کیا ہو گا۔ قریبا ً پچاس منٹ کے خطاب میں جو مقرر کردہ پندرہ منٹ سے زیادہ تھا انھوں نے اقوام عالم کے سامنے بھارتی وزیراعظم مودی کے ہند وتوا کو بے نقا ب کیا۔ اپنی تقریر میں ریاست مدینہ کے بارے میں اپنانکتہ نگاہ بیان کیا لیکن تقریر میں سے سب سے اہم بات دنیا کے لیے وارننگ تھی کہ کشمیری عوام دو ماہ سے آ رٹیکل 370 کی تنسیخ کے بعد لاک ڈاؤن اورکرفیو میں صعوبتیں کاٹ رہے ہیں اس کے علاقا ئی اور عالمی سطح پر کیا مضمرات ہو سکتے ہیں انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر معاملات خراب ہوئے تودنیا کو ہولناک نتائج سے نبردآزما ہونا پڑے گا۔

 خان صاحب کی تقریر کا سب سے اہم نکتہ یہ تھا اگر بھا رت نے پاکستان کے خلاف جا رحیت کی تو پاکستان کو اپنے دفاع کے لیے آخری حد تک جاناپڑے گا گویا کہ پاکستان ایسی صورتحال میں نیوکلیئر آ پشن بھی استعمال کر سکتا ہے۔ اقوام عالم کو چونکانے کے لیے خان صاحب کے اس بیان سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا لیکن ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کے لیے نہیں ڈرانے کے لیے ہوتے ہیں اور ان کا ممکنہ استعمال تباہی کا را ستہ ہے لیکن بھارت خود اور اقوام عالم کشمیر کے بارے میں بے حسی کا مظاہرہ کرکے پاکستان کو دیوار کے ساتھ لگا رہے ہیں۔

 کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہم کیونکر اسے تج کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم اور ان کی ٹیم نے نیویارک میں ایک ہفتے قیام کے دوران کشمیر کے معاملے میں انتہائی جارحانہ اور جامع سفارتکاری کی لیکن اس کے باوجود ترکی، ملائیشیا اور چین کے سوا کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے خان صاحب کی ذاتی طور پر خاصی پذیرائی کی لیکن بالآخر یہ کہہ کر جان چھڑالی کہ دونوں ملک آپس میں بات چیت کر کے معاملات سلجھائیں۔

 امریکی معاون نا ئب وزیر خارجہ برائے وسطی ایشیا ایلس ویلز نے محض یہ بیان دینے پر اکتفا کیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں پابندیاں فوری طور پر ختم کرکے گرفتار افراد کو رہا کرے، لیکن کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کے بارے میں کو ئی بات نہیں کی اوروہ ایسا کیونکر کرتیں جبکہ ٹرمپ اسرائیل کی طرف سے فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کے زبردست حامی ہیں۔ خان صاحب کو یقیناً یہ احساس ہوا ہو گا کہ اس ضمن میں دنیائے اسلام بالخصوص خلیجی ممالک کی بادشاہتوں کی بے حسی خاص طور پر افسوسناک ہے۔

 یقیناً ہما ری اپنی پوزیشن کمزور ہے اور ہم ان ممالک کے اقتصا دی انجکشن کے مرہون منت ہیں اور امریکہ نے ایف اے ٹی ایف اور آ ئی ایم ایف کی تلوار ہمارے سر پر لٹکا رکھی ہے۔ وزیراعظم وطن واپس پہنچ چکے ہیں انھیں اپنی اندرونی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا پڑے گی پاکستان اند رونی طور پر اس وقت جتنا بٹا ہو اہے، شاید اس سے پہلے کبھی نہ تھا۔ معیشت کی حا لت یہ ہے، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، وزیراعظم عمران خان کی درآمد شد ہ اکنامک ٹیم خود کو شاباش اور وزیراعظم کو مبا رکباد دے کر دعویٰ کرتی ہے کہ ہم نے پاکستان کا اقتصا دی بحران حل کر لیا ہے اور اب معاملات درست سمت کی طرف جا رہے ہیں لیکن ماہرین معیشت اور بین الاقوامی اقتصادی ادارے ہماری معیشت کے حوالے سے اچھی خبریں نہیں دے رہے۔

 عام آدمی اور کاروباری وتجارتی حلقے جن گوناگوں مسائل میں الجھے ہو ئے ہیں اس سے صا ف ظاہر ہوتا ہے کہ بات بن نہیں رہی اور معاملات گھمبیر ہیں۔ اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے ٹریڈ اینڈڈویلپمنٹ (UNCTAD) کی 2019 ء کی رپورٹ کے مطابق اس امر کے باوجود کہ چین، سعودی عرب اور آ ئی ایم ایف سے ملنے والے بڑے بڑے قرضوں سے شاید فوری طور پر تو خطرہ ٹل گیا ہولیکن پاکستان کا اقتصا دی بحران جوں کا توں ہے اور پاکستان اس وقت بڑے اقتصادی بحران سے دوچار ہے کیونکہ شرح نمو نصف ہو چکی ہے، ادائیگیوں کے توازن کی حالت بری ہے۔

 روپیہ خاصی حد تک گر چکا ہے اور بین الاقوامی قرضے بہت زیادہ ہیں اور مزید بڑھ رہے ہیں۔ اگرچہ رپورٹ کے مطابق ایشیائی ملکوں کی معیشت روبہ زوال ہے لیکن کسی کو ایسی بحرانی کیفیت کا سامنا نہیں جیسا پاکستان کو ہے۔ یو این سی ٹی اے ڈی کی اس رپورٹ پر مہر تصدیق ایشیائی ترقیاتی بینک کی تازہ رپورٹ نے بھی ثبت کردی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق رواں برس میں شرح نمو 2.8 فیصد رہے گی جوجنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے اور افراط زر 12 فیصد ہو گا جو جنوبی ایشیا کے 8 ملکوں میں سب سے زیادہ ہے۔

 اس رپورٹ میں جسے عرف عام میں ’ایشین ڈویلپمنٹ آؤٹ لک‘ کہا جاتا ہے نے اپنی گزشتہ رپورٹ کے مقابلے میں پاکستان کی اقتصادیات کے اندازوں میں نمایاں کمی کی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2018۔ 19 ء کے ما لی سال میں جو 30 جون کو ختم ہوا اقتصادی بحالی کے کچھ نہ کچھ شواہد نظر آئے جن میں بجٹ خسارے اور اقتصادی حوالے سے بعض بنیادی کمزوریوں پر قابو پانے کی کوشش کی گئی۔ اس میں بجٹ خسارے میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور آ ئی ایم ایف کے سا تھ معاہد وں کی وجہ سے معاملات سدھرنے کی امید کا بھی اظہار کیا گیا تھا لیکن سا تھ ہی سا تھ رپو رٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2019۔20ء میں بجلی، گیس کی قیمتوں، ٹیکسوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کی بنا پر مہنگائی میں 12 فیصد اضا فہ ہو گا۔ اپریل 2019 ء میں ایشیائی ترقیاتی بینک نے مہنگائی کی شرح میں اضافے کا اندازہ 7 فیصد لگایا تھا لیکن اعدا دوشمار تو جھوٹ نہیں بولتے، جنوبی ایشیاکے ممالک میں پاکستان کی 2.8 شرح نمو کا اند ازہ افغانستان سے بھی کم لگایا گیاہے جو رپورٹ میں 3.5 فیصد بتائی گئی ہے اور بنگلہ دیش جسے دنیا اور سابق مغربی پاکستان کے حکمران ہمیشہ پاکستان پر بوجھ سمجھتے تھے کی شر ح نمو 8 فیصد ہے جوجنو بی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔

 بھارت کی شر ح نمو کم ہو کر 7.2 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ مالدیپ اور نیپال کی شر ح نمو کا اندازہ 6 فیصد لگایا گیا ہے۔ گویا گزشتہ تین برس سے جن میں تحریک انصاف کی حکومت کا ایک سالہ دور بھی شامل ہے پاکستان کی اقتصادی ترقی روبہ زوال رہی۔ عام آدمی تو بڑھتی ہوئی مہنگا ئی، بے روزگاری، کساد بازاری کے بوجھ تلے پس رہا ہے لیکن متوسط اور اس سے اوپر والے طبقے کا حال بھی پتلا ہو گیاہے۔ آ ٹو سیکٹر کو ہی لے لیں۔  ہنڈاگاڑیاں بنانے والی ہنڈا اٹلس کارلمیٹڈ نے مارکیٹ میں مانگ کم ہو نے کی وجہ سے ستمبر میں صرف گیارہ دن فیکٹری کھلی رکھی جبکہ اگست میں صرف تیرہ دن فیکٹری میں کام ہوا۔ سوزوکی کا حال کم قیمت ہونے کی بنا پر نسبتاً بہتر ہے۔ بڑے اوردرمیانے صنعتی یونٹس کی پیداوار کم ہونے سے متعلقہ صنعتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ مانگ کی کمی کی بنا پر گاڑیوں کے پرزے بنانے والے بھی یقیناً متاثر ہو نگے۔ ملک میں تعمیراتی سرگرمیاں کم ہونے سے سیمنٹ سیکٹر کا بھی یہی حال ہے، محض یہ کہہ کر کہ پچھلی حکومت بیڑہ غرق کرگئی تھی جان نہیں چھڑائی جا سکتی۔

 لگتا ہے پاکستان کی معیشت ایسے گرداب میں پھنس گئی ہے جس سے نکلنے کا کو ئی فوری راستہ نظر نہیں آرہا اوریہ کو ئی اچھی خبر نہیں ہے۔ وزیراعظم نے کل کا بینہ کا اجلاس بھی طلب کر رکھا ہے۔ امید ہے کہ مبارک سلامت کے کورس کے بعد وہاں حقیقی مسائل پر بھی غور وخوض کیا جا ئے گا۔ ملک میں سیاسی صورتحال بھی کچھ اچھی نہیں ہے۔ مولانافضل الرحمن نام نہاد ”آزادی ما رچ“ کرنے پر تلے ہو ئے ہیں اور اس کے باوجود کہ دیوار سے لگی اپوزیشن اس میں شر کت سے گریزاں ہے۔

 حکومت اپنی پالیسیوں کے ذریعے اپوزیشن لیڈروں کو خود دھکادے رہی ہے کہ جا ؤ جو کرنا ہے کر لو۔ غالباًحکومت کو بعض حلقوں نے یہ یقین دلایا ہے کہ کچھ نہیں ہو گا، ہم مولانا فضل الرحمن کامارچ نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن اگر مہنگا ئی اور بے روزگاری سے تنگ عوام بھی سڑکوں پر نکل آئے توحالات قابو سے باہر ہو جائیں گے اور ایسی بپھری ہوئی صورتحال کو سنبھالنا بہت مشکل ہو گا۔ سابق وزیراعظم شا ہد خاقان عباسی نے چندروزقبل نیب عدالت میں اپنی پیشی کے موقع پر جو باتیں کہیں وہ قابل غور ہیں۔

میڈیا سے باتیں کرتے ہو ئے عباسی صاحب کا مطالبہ تھا کہ ان کے خلا ف ٹرائل ٹیلی ویژن پر لائیو دکھایا جا ئے۔ عدالت میں انصاف نہیں ہو رہا، ملک کو بنانا ریپبلک بنا یا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں 18 جولائی کو بغیر وارنٹ کے گرفتار کیا گیا اور ان کا ”قصور“ یہ ہے کہ انھوں نے ایل این جی ٹرمینل بنوا کر قومی خزانے کو ایک ٹر یلین روپے کا فائدہ پہنچایا لیکن نیب کے مطابق انھوں نے قومی خزانے کو 1.54 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔

انھوں نے کہا کہ بطور وزیر پٹرولیم وقدرتی وسائل ان کا فرض منصبی تھا کہ وہ ایسے موقع پر جب ملک میں گیس کی شدید قلت تھی ایسی پالیسیاں بناتے اور ان پر عمل درآمد کرتے لیکن یہ سب کچھ احتساب کے نام پردباؤ ڈالنے، دھمکیاں دینے، بدنام کرنے کے لیے سیا سی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں ہیں۔ شاہدخاقان عباسی نے دعویٰ کیا کہ ”پولیٹیکل انجینئرنگ“ ہو رہی ہے، مفتاح اسما عیل اور عمران الحق جنہیں اسی کیس میں نیب نے گرفتار کر رکھا ہے انتہائی مقتدر شخصیات ہیں لیکن ان پر محض وعدہ معاف گو اہ بننے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ شا ہدخاقان عباسی کو تلا جا سکے۔

 اگرشاہد خاقان جو اچھی شہرت کے سیاستدان ہیں اور بلا کم وکاست بات کرتے ہیں کی بات میں تھوڑی سی بھی صداقت ہے تویہ احتساب کے نام پر انتقام کب تک چلے گا؟ خان صاحب اگر واقعی با اختیار وزیراعظم ہیں توانھیں ان باتوں کا نوٹس لے کر اندرونی طور پر ملک میں صورتحال بہتربنانے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ ان کی موجودہ پالیسیاں نیا پاکستان بنانے کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

بشکریہ: روز نامہ 92 نیوز

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •