عمران خان کی تقریر مغربی عوام کے لئے تھی یا پاکستانی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا وجہ ہے کہ عمران خان کی تقریر پر لوگ اتنے جذباتی ہو رہے ہیں؟ خوب مخالفت بھی کی جا رہی ہے اور حمایت بھی۔ بلکہ حمایت کرنے والے تو اس حد تک پہنچے ہوئے ہیں کہ تقریر پر تنقید کرنے والوں کو پاکستان دشمن اور اسلام مخالف قرار دیتے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک اچھی تقریر تھی، اچھے موضوعات کا ذکر کیا، لیکن اس میں دنیا کو بہت زیادہ متاثر کرنے والی کیا بات تھی؟ کیا یہ ان تقریروں میں سے ایک تھِی جو تاریخ کا دھارا بدل دیتی ہیں یا ان میں سے تھی جو سن کر بھلا دی جاتی ہیں؟ آئیے اس تقریر پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ اس میں چار اہم موضوعات کو زیر بحث لایا گیا تھا۔

ماحولیات

کیا بڑی صنعتی قوموں نے اس تقریر میں کوئی ایسی بات پائی جو پہلے انہیں نہیں پتہ تھی؟ عمران خان نے اپنے درخت لگانے کے منصوبے کا ذکر کیا، اسے بین الاقوامی پریس نے اپنی رپورٹنگ کا حصہ بنایا، مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کے اسلام آباد کو پلاسٹک بیگ فری کرنے کے منصوبے کی کامیابی کا ذکر کرتے اور یہ عزم ظاہر کرتے کہ یہ منصوبہ باقی ملک میں پھیلایا جائے گا تاکہ پاکستان اس بڑے خطرے کا سدباب کرنے میں اپنا کردار ادا کرے جو ہماری زمینیں، دریا اور سمندر تباہ کر رہا ہے۔

دوسرا اہم پوائنٹ گریٹا تھنبرگ کا ذکر ہونا چاہیے تھا۔ سنہ 2013 اور 2015 میں ملالہ یوسفزئی کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقاریر کے بعد کسی تقریر کو اتنی زیادہ اہمیت نہیں دی گئی جتنی گریٹا تھنبرگ کی تقریر کو دی گئی ہے۔ گریٹا کی عمر محض سولہ سال ہے اور وہ ماحولیات کے لئے ایک توانا آواز بلند کرنے کی وجہ سے بہت اہمیت حاصل کر گئی ہے۔ اس کا نام نوبل انعام کے لئے بھیجا گیا ہے اور اگر وہ اس برس یہ انعام جیت لیتی ہے تو وہ نوبل انعام پانے والی کم عمر ترین ہستی بن جائے گی۔

عمران خان کو چاہیے تھا کہ گریٹا تھنبرگ کا ذکر اپنی تقریر میں کرتے، اس کی تحسین کرتے، خواہش ظاہر کرتے کہ وہ پاکستان میں آئے اور ماحولیات کے لئے اس کے مشن کی ہر ممکن حمایت کا یقین دلاتے۔ گریٹا نے ماحول تباہ کرنے کے الزام میں پانچ ممالک پر اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوق اطفال کے تحت مقدمہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ماحول کو تباہ کر کے یہ ممالک بچوں کے لئے زندگی کی ضمانت دینے والی شق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ان ممالک میں ارجنٹائن، برازیل، فرانس، ترکی اور جرمنی شامل ہیں۔ گریٹا نے کہا ہے کہ اس نے امریکہ، چین اور سعودی عرب کا نام اس لئے شامل نہیں کیا کیونکہ ان ممالک نے اس کنونشن پر دستخط نہیں کیے ہیں۔

اس کے باوجود، جرمنی کی چانسلر اینگیلا مرکل نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر گریٹا تھنبرگ سے خاص طور پر ملاقات کی اور اس موقعے کی تصویر جاری کی گئی۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ایسی ہی ایک ملاقات اور تصویر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی بھی ہوتی اور گریٹا ان کے ماحول دوست اقدامات کی تعریف کرتی۔ لیڈر کا کام موقعے سے فائدہ اٹھا کر اپنا اور اپنے ملک کا اچھا امیج بنانا ہوتا ہے۔ یہ بہترین موقع تھا۔

آف شور کمپنیاں اور ٹیکس ہیون

کیا یہ بنائے ہی اس مقصد کے لئے نہیں گئے تھے کہ ادھر سرمایہ کھینچا جائے۔ کیا بنانے والوں کے ذہن میں کرپشن کا پیسہ نہیں تھا؟ جب پیسے کی بات آئے تو اخلاقیات کو کوئی ملک نہیں دیکھتا ہے۔ ویسے بھی ان سے فائدہ اٹھانے والوں میں ہمارے ملک کی بہت کرپٹ اور بہت نان کرپٹ دونوں قسم کی ہستیاں موجود ہیں اور مغرب اس کا نفع لے رہا ہے۔ اسے اس موضوع میں اس وقت تک کوئی دلچسپی نہیں ہے جب تک یہ اس کے مفادات کے لئے خطرہ نہیں بن جاتا۔

اسلاموفوبیا

کیا مغرب دولت اسلامیہ (داعش) اور القاعدہ کی دہشت گردی کو مذہب سے الگ کر کے دیکھ سکتا ہے؟ کیا یہ تنظیمیں اسلام کے نام پر دہشت گردی نہیں کر رہی ہیں؟ اب تو ہمارے ہاں بھی جمعے اور عید کی نماز پر عام مذاق چلتا ہے کہ مسجد میں امام کے علاوہ کسی دوسری سمت سے اللہ اکبر کا نعرہ سنائی دے تو زمین پر گر جائیں۔

کیا برطانیہ اور سویڈن وغیرہ جیسے ممالک میں بھی میں جو اسلامی نوگو ایریاز بنائے جا رہے ہیں ان کی وجہ سے پھیلنے والا اسلاموفوبیا محض باتوں سے ختم کیا جا سکتا ہے یا مسلمانوں کو اپنے اعمال ہر توجہ دینی ہو گی؟ کیا اعمال کے متعلق کوئی تلقین کی گئی ہے؟ بہتر ہوتا کہ مغرب میں رہنے والے مسلمانوں کو بھی نصیحت کی جاتی کہ وہ ان ممالک کے قانون اور اخلاقیات کا احترام کریں اور ادھر امن پسند شہریوں کی طرح رہیں، نفرت کی بجائے محبت کا پرچار کریں۔ ایسی باتیں کی جاتیں تو مغربی عوام انہیں دلچسپی سے سنتے۔

اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے کے لئے جو انگریزی چینل قائم کرنے کا اعلان عمران خان، مہاتیر محمد اور رجب طیب ایردوان نے کیا ہے، کیا وہ کھل کر بات کر سکے گا؟ بی بی سی یا سی این این تو چھوڑیں، کیا وہ الجزیرہ کی طرح بھی بات کر سکے گا؟ ان تینوں ممالک میں پریس پر ریاستی جبر موجود ہے، ایسے میں وہ کیسے ایک ایسا چینل بنا سکتے ہیں جسے غیر جانبدار سمجھ کر دنیا دیکھے؟

کشمیر میں بھارتی مظالم

مسلمانوں پر بھارتی مظالم کا سن کر دولت کے پجاری کفار کا دل تو کیا نرم ہونا ہے ہمارے ملک کے سب سے اہم دوستوں میں سے ایک یعنی سعودی بھی بھارت میں ایک کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ معاملہ صرف یہ ہے کہ دنیا صرف اسی کی تقریر غور سے سنتی ہے جس کے پاس دولت یا طاقت ہو۔ اسی وجہ سے ٹرمپ کی احمقانہ ٹویٹ بھی اہم قرار پاتی ہے اور عمران خان کی اہم تقریر بھی سنی ان سنی کر دی جاتی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ عمران خان بھی پیلٹ گن سے متاثرہ کشمیری بچوں اور بھارت کے خلاف احتجاج کی تصاویر اسی طرح پیش کرتے جیسے رجب طیب ایردوان نے اسرائیل اور مہاجرین کے حوالے سے دکھائی تھیں۔ بہرحال اس تقریر نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کا حوصلہ جس طرح بڑھایا ہے اس پر داد بنتی ہے۔ مزید تفصیل کے لئے باخبر کشمیری صحافی ارشاد محمود صاحب کا آج کا کالم دیکھیں۔

وزیراعظم عمران خان کی تقریر میں جن عزائم اور جذبات کا اظہار کیا گیا ہے، ان کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر کیا کیا جا رہا ہے؟ تبدیلیاں مربوط منصوبہ بندی سے آتی ہیں الفاظ سے نہیں۔ اگر یہ موضوعات اہم ہیں تو پاکستان نے ان پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے کیا لائحہ عمل تیار کیا ہے؟ پانچ سالہ اور دس سالہ منصوبہ کیا ہے؟ کیا کشمیر کے بارے میں آگہی کے لئے مغرب میں کوئی مہم پلان کی گئی ہے؟ کیا ماحول کے بارے میں پالیسی واضح ہے اور اہداف مقرر کیے گئے ہیں؟

جہاں تک اسلام اور مسلمانوں کا ذکر ہے، اس موضوع پر رجب طیب ایردوان سے بڑھ کر کوئی لیڈر تقریر نہیں کرتا ہے۔ بہترین الفاظ، اعلیٰ انداز اور سننے والوں کو ویسے جذباتی اور متاثر کرنے کا ہنر کسی دوسرے لیڈر کے پاس نہیں ہے۔

عمران خان کی تقریر کو اگر مغربی عوام کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ان کے لئے اس میں کوئی خاص اہم چیز نہیں تھی۔ ماحولیات اور کشمیر میں انسانی حقوق کے معاملے اور ظلم کو اگر مغربی عوام کو فوکس کر کے ان کی سوچ کے مطابق پیکیج تیار کیا جاتا تو اس کا اثر زیادہ ہوتا۔ ہاں پاکستانی عوام کو اس تقریر نے متاثر کیا ہے۔ شاید تقریر کا فوکس یہی تھے۔ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے مغربی عوام کو فوکس کیا جاتا تو زیادہ مناسب ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1195 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar