کاملہ شمسی کے لیے انعام سے بھی بڑا انعام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خبر گرم نہیں ہوئی۔ بھانت بھانت کے ٹی وی چینل ہیں جو ذرا ذرا سی بات کو بریکنگ نیوز کا نام دے کر ہمارے گھروں میں پہنچا دیتے ہیں۔ اپنے گھر والوں کی پسند کے مطابق میں نے بھی چینل ادل بدل کر دیکھا، کسی بھی سرخی میں اس کی گونج سنائی نہیں دی۔ خبر ملی بھی تو کہاں سے، وہ پرانی کہانیوں والی، ہزاروں سانپ زبانوں والی زنِ پیرسالہ فیس بک سے جہاں سے اسے حال ہی میں لندن واپس پہنچنے والے عامر حسین نے میرے نام سے ٹیگ کر دیا تھا، یعنی نتّھی کردیا تھا۔ وہ اس قسم کی براہ راست کارروائی کم ہی کرتے ہیں، اس لیے نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے گارجیئن اخبار کی خبر پڑھ ڈالی کہ ممتاز پاکستانی نژاد برطانوی ادیبہ کاملہ شمسی کو دیا جانے والا ادبی انعام اس پاداش میں واپس لے لیا گیا ہے کہ انھوں نے اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ میں حصہ لیا تھا۔

اخباری مضمون کے مطابق جرمن شاعرہ نیلی ساخش (Sachs) کے نام سے منسوب یہ انعام جرمنی کے شہر ڈورٹمنڈ کی طرف سے ایسے ادیب کو دیا جاتا ہے جس نے اپنی تحریروں کے ذریعے برداشت اور مفاہمت کی ترویج کی ہے اور عوام کے درمیان ثقافتی رابطے بہتر کرنے میں کردار ادا کیا ہو۔ کاملہ شمسی کو انعام کا حق دار ٹہرایا گیا تھا اس لیے کہ جیوری کے بقول وہ مختلف معاشروں کے درمیان پل تعمیر کرنے کا فریضہ انجام دے رہی ہیں۔

اس انعام کے حق دار ماضی قریب میں بہت سے نامور ادیب بھی رہے ہیں۔ مگر میری جہالت معاف کیجیے گا، میں نے اس سے پہلے اس انعام کا نام بھی نہیں سُنا۔ شاید آپ کہیں کہ میں ایسے کسی معاشرے میں رہتا ہوں جہاں تک اس قسم کے فلاحی پُل رسائی نہیں حاصل کرسکتے۔ بہرحال اب اس کی خبر ملی ہے تو اس اضافے کے ساتھ کہ کاملہ شمسی کو نام زد کرنے کے بعد قلم زد کیا جا رہا ہے۔

انعام کی جیوری کا وضاحتی بیان اخبار میں سامنے آگیا کہ ان کو پہلے یہ خبر نہیں تھی کہ انعام کی مستحق ٹہرائی جانے والی ادیبہ فلسطین کے بارے میں اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف بی ڈی ایس نامی تحریک کی حامی اور موئد رہی ہیں۔

بی ڈی ایس یعنی بائیکاٹ، مقاطعہ، افشائے راز اور پابندیوں کی یہ تحریک جس کا اصل نام Boycott, Divestiment, Sanctions ہے، اسرائیلی حکومت کی ان پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کررہی ہے جنھوں نے فلسطینی عوام کے حقوق غصب کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ جیوری نے الزام لگایا کہ شمسی نے اپنی کتابوں میں اسرائیل میں اشاعت کی اجازت بھی نہیں دی، اس لیے وہ مفاہمت کے خلاف ہیں۔

یہ بھی خوب ہے کہ انعام دینے والوں کو کاملہ شمسی کی بعض خوبیوں کے بارے میں علم ہو گیا اور ان کے بارے میں بعض اہم باتوں کی خبر دیر سے ہوئی۔ ان کو اندازہ نہیں ہوسکا کہ وہ ایسے الزامات کو چپ چاپ سہہ جانے والی اسامی نہیں ہیں۔

کاملہ شمسی نے بڑا مدلّل جواب دیا ہے۔ اخباری مضمون کے مطابق انھوں نے اس معاملے کو ’’برافروختگی‘‘ اور برہمی کا معاملہ قرار دیا۔ ان کے مطابق، یہ انتہائی افسوس اور صدمے کی بات ہے کہ اس طرح کی جیوری دبائو میں آکر اس ادیب سے انعام واپس لے لیے جو اپنے ضمیر کی آزادی اور اظہار کی آزادی کے مطابق سوچ رہا ہے۔

کاملہ شمسی نے یہ کہا کہ بی ڈی ایس تحریک جنوبی افریقہ کے بائیکاٹ کے نمونے پر مبنی ہے۔ اسرائیل کی حکومت فلسطین کے عوام کے خلاف تعصّب اور بربریت کا سلوک کررہی ہے، اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو برخود غلط کہنا ناانصافی اور شرم کی بات ہے۔

کاملہ شمسی نے اپنے بیان میں بڑے کانٹے کی بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ حال میں اختتام پذیر ہونے والےاسرائیلی انتخابات میں بنجمن نیتن یاہو نے تمام تر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ مغربی کنارے کا ایک تہائی علاقہ اسرائیل کے تصرف میں لے لیں گے۔ ان کے سب سے بڑے سیاسی مخالف نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ یہ منصوبہ تو دراصل ان کا تھا، سیاسی حریف نے ان کے منھ کی بات چھین لی۔ شمسی نے لکھا کہ اس سیاسی سیاق و سباق میں یہ بات افسوس ناک ہے کہ انعام مجھ سے ایسی تحریک کی حمایت پر چھین لیا گیا جو غیرجارحانہ اور پُرامن طریقوں سے اسرائیلی حکومت پر دبائو ڈالنا چاہتی ہے۔

افسوس کی بات ہے کہ جیوری نے کاملہ شمسی کا یہ بیان مصنفہ کی خواہش کو رد کرتے ہوئے شائع کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ ظاہر ہے کہ یہ آزادی اظہارکی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اسرائیل میں الیکشن کے بعد کی صورت حال کی خبر بھی ہمارے ہاں نہیں پہنچی ورنہ یہ بات بھی محل نظر ہے کہ اسرائیل کی خطرناک پالیسیاں دوسرےممالک کو بھی ارسال کی جانے لگی ہیں۔ جیسا کہ کشمیر میں جاری صورت حال کے بارے میں نشان دہی کی جارہی ہے کہ اس کے نمونے اور ترتیب اسرائیل کے فراہم کردہ ہیں۔

کاملہ شمسی کے بیان کو نظر انداز کرکے انعام کے منتظمین نے اپنے پائوں پر کلہاڑی مار لی۔ اس کے جواب میں جو ردعمل سامنے آیا ہے، اس کی توقع شاید ان کو نہیں ہوگی۔ عرب نژاد ناول نگار اہداف سوئیف نے اس کو ’’ایک نئے میک کارتھی ازم کا نمونہ‘‘ قرار دیا جو بین الاقوامی طور پر کارفرما ہوگیا ہے۔

اگلے دن کے اخباروں میں اس سے بھی نمایاں خبر سامنے آگئی کہ ڈھائی سو سے زیادہ ادیبوں نے اس انعام کی تنسیخ کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ یہ کھلا خط لندن ریویو آف بکس جیسے معروف جریدے میں شائع ہوا۔ اس کا حوالہ بڑا اہم معلوم ہوتا ہے کہ یہ بین الاقوامی رائے اور آج کی بنتی بگڑتی صورت حال کی اچھی طرح عکاسی کرتا ہے کہ ناول نگار کو اس کے ذاتی اور انفرادی سیاسی خیالات کی بنیاد پر سرزنش کرنا جرم سے کم نہیں۔ اسے آزادیِ اظہار پر حملہ سمجھا جائے گا۔ آج کی دنیا میں ادیب کے منصب اور اس سے وابستہ توقعات کو سمجھنے کے لیے کاملہ شمسی کی حمایت کا یہ معاملہ بڑا اہم معلوم ہوتا ہے۔ میں اس امید کے ساتھ اُن سطروں پر نظریں دوڑاتا ہوں کہ کاش اس کا کچھ اثر ہمارے ادبی ماحول پر بھی پڑے مگر ہمارے ارباب اختیار تو جیسے بھول ہی گئے ہیں کہ ادیب بھی کسی کا نام ہوتا ہے۔

ان ادیبوں نے اپنے خط میں سوال اٹھایا کہ ایسے ادبی انعام کا مطلب ہی کیا جو انسانی حقوق کی وکالت کے خلاف کام کرتا ہے اور آزادی اظہار کو پابند کر دینا چاہتا ہے۔ انھوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ان کے بغیر ادب اور ثقافت معنی سے عاری عیاشی بن کر رہ جائیں گے۔

اس خط پر دستخط کرنے والوں میں آج کے بڑے بڑے ادیب شامل ہیں__ ذرا ناموں کی کہکشاں پر نظر دوڑائیے__ نوم چومسکی، ارن دھتی رائے، جے ایم کوتسیا، یان مارٹل، ولیم ڈیلرمپل، مائیکل اونڈاچی اور بین اوکری۔ جلد ہی یہ فہرست بڑھ کر تین سو ادیبوں تک پہنچ گئی، آنے والے دنوں میں اس میں نہ جانے کتنے ادیبوں کے نام کا اضافہ ہو جائے گا۔

اس فہرست کو دیکھ کر خیال آیا کہ اس میں معروف ادیب سرسلمان رشدی کا نام شامل نہیں ہے ورنہ ناول نگار پر اس کے سیاسی خیالات کی وجہ سے ادبی انعامات کا راستہ بند ہونے کے خلاف بولنے والوں میں انھیں سب سے نمایاں ہونا چاہیے تھا۔ ممکن ہے وہ کاملہ شمسی جیسی ادیبہ کو اپنی توجہ کے لائق نہ سمجھتے ہوں۔ وہ اپنی رائے ظاہر کریں یا اخفا میں رکھیں، بہرحال ان کا حق ہے۔

اس کے برخلاف ایک اور منطقے سے بات کرتے ہوئے عامر حسین نے کاملہ شمسی کی اخلاقی ہمت اور استقامت کو قابل تحسین قرار دیا۔

مجھ سے اگر پوچھا جائے تو انعام کی جیوری کو کاملہ شمسی سے معافی کا خواست گار ہونا چاہیے۔ انھوں نے اظہار کی اسی جرأت آزما آزادی پر وار کیا جس کو ادبی انعام کے ہدف میں شامل کیا تھا۔ انھوں نے صرف کاملہ شمسی کی توہین نہیں کی بلکہ اپنی انفرادی سیاسی اور ثقافتی رائے رکھنے والے ادیب کی ذہنی و فکری صلابت پر حملہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی ظاہر کر دیا کہ آج کی دنیا میں اس انفرادی رائے کی قدر اہم تر ہے۔ ادبی انعام کے ذریعے اس آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔

میری آواز کاملہ شمسی کے حق میں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •