آل راؤنڈر دانشور اور عوام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


\"tanveer یہ دیس اس لحاظ سے واقعی نرالا ہے کہ یہاں آل راؤنڈرز بکثرت پائے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کسی ملک کی شرح تعلیم جانچنی ہے تو وہاں کے دانشوروں کی تعداد کو دیکھا جائے جس قدر زیادہ ہوں گے اس معاشرے میں شرح تعلیم اسی قدر بلند ہوگی۔

ہمارے ہاں المیہ ہے کہ جتنے زیادہ دانشور ہیں اتنا ہی معیار تعلیم کا بیڑہ غرق ہوچکا ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ دانشور زیادہ ہیں شرح تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔

مشاہدے میں یہی آیا ہے کہ ہمارے ہاں کے زیادہ عوام چونکہ آل راؤنڈر ہوتے ہیں جو کہ سوائے اپنے کام کے زندگی کے ہر شعبے میں یکساں مہارت رکھتی ہے۔ اسی طرح دانشور بھی آل راؤنڈر ہوتے ہیں۔ جو کہ بیک وقت سیاستدان، معاشیات دان، ماہر سماجیات، فلسفی، نجومی، مورخ، تاریخ دان، سائنسدان، عالم، مفتی وغیرہ وغیرہ جیسے اہم عہدوں پر زبردستی فائز ہونے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ ان تمام علوم کے حوالے سے ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ جیسے ان سے زیادہ کسی کو معلوم ہی نہیں ہے۔ اس مقصد کے لئے ہر قسم کی مبالغہ آرائی سے کام لینا ان کا وطیرہ ہوتا ہے۔

کئی واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں، ہمارے ایک اور انتہائی قابل احترام دانشور صیب نے تاریخ کے بخیے اکھاڑتے ہوئے حسین احمد مدنی کو علامہ محمد اقبال سے پہلے ہی دنیا سے روانہ کرا دیا حالانکہ حضرت مدنی علامہ اقبال کے وصال کے بعد بھی کافی عرصہ زندہ رہے لیکن چونکہ تاریخ دان کا فریضہ خود دانشورصاحب انجام دے رہے تھے اس لئے سب چلتا ہے کہ مصداق انہوں نے لپیٹ دیا اور خوب داد سمیٹی۔ ان کی وال پر واہ واہ کے کمنٹس سے اندازہ ہوا کہ آل راؤنڈر عوام تاریخ سے کس قدرواقفیت رکھتے ہیں۔

ایک دلچسپ واقعہ گوش گزار کرنا چاہوں گا کہ ایک صاحب نے امام غزالی کے حوالے سے ایک قول نقل کیا اور اس پر استقامت سے ڈٹ گئے۔ دلائل کے انبار لگا دیے، کتاب کا حوالہ صفحے کا حوالہ سند سب بیان کردی۔ اب معاملہ یہ تھا کہ جناب عقل تسلیم نہ کرتی تھی کہ امام غزالی ایسی بات کرسکتے ہیں کہ کیوںکہ تواتر کے ساتھ ان کی کتب کا مطالعے کرتے چلے آرہے ہیں لہٰذا ایک فریم سیٹ رکھ چھوڑا ہے کہ امام صاحب کا اسلوب کیا ہے اور وہ کس تناظر میں اور کس حد تک رائے دے سکتے ہیں۔ بس پھر کیا تھا تلاش شروع کی کہ امام صاحب کی متنازع تصنیف کو کھنگالاجائے اور واقعی اس کتاب میں ایسا لکھا بھی تھا لیکن عقل پھر بھی نہ مانی۔ تو ان کے ایک شاگرد تھے جنہوں نے امام غزالی کے تمام کتب کا ترتیب کے ساتھ ایک ہی کتاب میں مختصراً تعارف کرایا تھا اس کتاب میں دیکھا تو امام صاحب کی تصانیف میں ایسی کوئی کتاب موجود ہی نہیں تھی۔ اب اس سے بڑھ کر بددیانتی کیا ہوگی کہ امام غزالی سے من گھڑت کتاب منسوب کرکے عام عوام میں تقسیم کر دی جائے اور تاریخ کو بالکل ہی مسخ کر دیا جائے۔

چونکہ ہم نے طے کر رکھا ہے کہ ہم ہر شعبے میں یکساں مہارت رکھتے ہیں اس لئے رویت ہلال کو بھی نہیں بخشتے دانشواران ملت کا بس نہیں چلتا کہ علما کے پینل کو نکال باہر کریں اور ماہر فلکیات بن کر چاند کو مغرب سے برآمد کرا لیں۔

جہاں تک دین کا معاملہ ہے اس میدان میں بھی ہم کسی سے پیچھے کیوں رہیں۔ ہم نے اگر حدیث نہیں پڑھ رکھی تو کیا ہوا جناب ابھی گوگل کیا اور پھر اپنے مطلب کا مفہوم دے کر شئیر کر دیا کہ اسلام تو یہ کہتا ہے ان ملاؤں نے کچھ اور بنا رکھا ہے یہاں تک کہ دیتے ہیں کہ ملاؤں کا اسلام اور ہے، اصلی اسلام اور ہے۔ اب اس پر خوب واہ واہ بھی ہوتی ہے۔ مولویوں کو خوب لتاڑا جاتا ہے حالانکہ کوئی بھی حدیث کا حوالہ نہیں دیکھتا، اس کی سند نہیں دیکھتا اور نہ ہی تواتر والا معاملہ چیک کیا جاتا ہے۔ اب مدعے کی بات تو یہ ہے کہ دل کا آپریشن ماہر قلب کو ہی کرنا چاہیے اگر ماہر نفسیات سے کرائیں گے تو اگلے جہاں پہنچ جائیں گے۔ علمائے دین جن کی ساری عمر ہی اسلامی قواعد و ضوابط کو سمجھنے میں گزری ہے ان کو ملا کہہ کر سائیڈ لائن کر دینا اور گوگل کی بنیاد پر عالم بن کر دینی مسائل پر بحث کرنا سراسر جہالت پر مبنی فعل ہے، جس کا کام اسی کو ساجھے۔ ہاں کسی مضمون پر مہارت ہے عبور ہے دلائل سے جواب دے سکتے ہیں تو سو بسم اللہ ضرور لب کشائی کریں لیکن جب ایسا نہ ہو تو کسی کو گمراہ کرنے سے خاموشی بہتر ہے۔

اسی طرح دیگر اہم امور پر بھی بات کرنا عام ہے۔ باقاعدہ تبصرے اور تجزئیے کیے جاتے ہیں۔ اس دیس کا میں کیا حال سناؤں جن لوگوں نے صرف اردو ادب پڑھ رکھا ہوتا ہے، لغت میں طاق ہوتے ہیں، لفاظی کے ماہر ہوتے ہیں وہ بھی دفاع سے لے کر خارجہ امور پر اپنی ماہرانہ رائے دیتے پائے جاتے ہیں۔ اب جہاں لڑنا ہوتا ہے وہاں شعروشاعری کی محفل سجالی جاتی ہے۔

آخر میں صرف اتنا کہ سچ ضرور بولیں لیکن سچ بولنے سے زیادہ اس کے اثرات اہمیت رکھتے ہیں اگر آپ کے سچ سے قوم کا مورال گرتا ہے اگر آپ کا سچ مایوسی کا باعث بن سکتا ہے تو ایسے سچ سے پرہیز لازم ہے کہ دنیا امید پرقائم ہے امید دیجئے حوصلہ دیجئے امن بہت ضروری ہے مگر عزت نفس بھی مجروح نہ ہو۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply