اندر میں ابلیس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

[ سندھی افسانے کا اردو ترجمہ ] تحریر: طارق عزیز شیخ مترجم: یاسر قاضی۔

وہ بہت معزز، شریف اور نیک مرد کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔ مُحلّے کی مسجد کا پیش امام تھا۔ اس کے چہرے پر سیاہ ریش کے زیادہ تر بال کچھ سفید بالوں کے ساتھ نمایاں تھے۔ سر پر سفید جالی والی ٹوپی پہنتا تھا، جبکہ اس کے کندھوں پر رومال رکھا ہوتا تھا۔ پڑوس کے لوگ دین کے تمام معاملات و مسائل اسی سے پوچھنے آیا کرتے تھے۔ جمعے کی نماز سے پہلے والی اس کی تقریر اکثر طویل ہُوا کرتی تھی، جس میں وہ اکثر جنّت اور دوزخ کے موضوع کا ذکر کیا کرتا تھا۔ حاضرین اس کی تقریر سے بیحد متاثر ہوا کرتے تھے۔ اس کا کردار بظاہر ایک بزرگ اور معلم والا تھا۔ ہر کوئی اس پر اندھا اعتماد کیا کرتا تھا۔

بعد از نمازِ فجر جب مسجد، نمازیوں سے خالی ہو جایا کرتی تھی، تو تھوڑی ہی دیر میں وہ مسجد، مدرسے کی شکل اختیار کر جایا کرتی تھی۔ بچّے ناظرہ قرآن کی تعلیم لینے آیا کرتے تھے۔ وہ بچّوں کے ساتھ انتہائی سنجیدگی سے پیش آیا کرتا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے اس کے روپ میں اچانک کوئی جلالی کردار ظاہر ہو جاتا تھا۔ بچّے چُونکہ بہت حساس ہُوا کرتے ہیں۔ ڈر کی صورت میں روتے بھی جلدی ہیں، تو چپ کرانے پر مسکرانے بھی جلدی لگ جاتے ہیں۔

امام صاحب کے مزاج اور انداز کو بھی بچّے اسی طرح سمجھ چکے تھے، جو اس کی آنکھ کے اشارے پر اُٹھتے بیٹھتے تھے۔ امام صاحب کی رہائش اسی مسجد سے مُتصل ایک چھوٹے سے حُجرے میں تھی جس کے ایک کونے میں اس کا چھوٹا سا باورچی خانہ بھی تھا، جہاں وہ ان ناظرہ پڑھنے والے بچّوں سے درس کے بعد اپنے برتن مَنجھوایا کرتا تھا۔

ایک دن امام صاحب کے پاس بہت ہی تھوڑے بچّے قرآن پاک پڑھنے کے لیے آئے تھے۔ اس نے صبح صبح تیز بارش ہو جانے کی وجہ سے بچّوں کو چُھٹی دے دی تھی، مگر ایک بارہ تیرہ برس کی بچّی ”نسیم“ کو چھٹی نہیں دی۔ جب بچّی نے دیکھا کہ کوئی بھی بچّہ مسجد میں نہیں ہے، تو اس نے خود بھی امام صاحب سے جانے کی اجازت مانگی۔ امام صاحب نے اسے کہا:

”ٹھیک ہے۔ روز کی طرح برتن دھو دو، پھر تیری چُھٹی! “

بچّی حُجرے کے کونے میں برتن دھونے کے لیے زمین پر پڑی ہوئی چھوٹی سی تپائی پر ابھی بیٹھی ہی تھی، کہ امام صاحب کی نیّت، معصوم بچّی پر خراب ہوئی۔ برستی بارش میں بھی تیزی آ گئی۔ بچّی کو یکایک ڈر نے گھیر لیا۔ جیسے اُس نے کسی انجانے خطرے کو اپنی طرف آتے دیکھ لیا تھا۔ اس کو اس سے پہلے کبھی بھی کسی سے اس قدر ڈر محسوس نہیں ہوا تھا، جیسے اس وقت اسے لگ رہا تھا۔ بچّی اچانک چونک کر تپائی سے اُٹھ کھڑی ہوئی تو اُس کی پیٹھ امام صاحب سے ٹکرائی، جو پتہ نہیں کب سے اُس کے سر پر آن کھڑا تھا اور اس کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔

بچّی کو مولوی کا لمس شدید اجنبی اور بُرا لگا۔ اس کو زندگی میں پہلی مرتبہ کسی مرد کا وجود اس قدر بُرا، وحشت انگیز اور خوفناک لگا تھا، ورنہ نسیم اپنے باپ سے دن میں کئی مرتبہ گلے لگ کر سکون حاصل کیا کرتی تھی اور اپنے ابُو کی بانہوں میں تو اسے ایسا لگتا تھا، جیسے وہ کسی محفوظ قلعے کے حصار میں آ گئی ہو۔

امام نے بچّی کو ایک بازو سے پکڑ کر اپنے بستر کی طرف کھینچنے کی کوشش کی، تو بچّی اس سے گھر جانے کا پُر زور مطالبہ کرنے لگی۔ اس حیوان صفت آدمی نے بچّی کو آنکھ دکھاتے ہوئے چُپ چاپ اس کی بات ماننے کو کہا۔ بچّی ناں چاہتے ہوئے بھی ڈر کے مارے امام کے ساتھ اس کی چارپائی پر بیٹھی اور اس کے ہاتھ بدنیتی اور بے حیائی سے بچّی کے جسم پر پھرنے لگے۔ اس کے سخت اور مضبوط ہاتھ بچّی کے نازک اور ناتواں جسم اور ہڈیوں میں جیسے چُبھنے لگے۔

امام نے اس طفلِ نازک کو اپنی شہوت کا نشانہ بنانے کی نیّت سے اپنے نفس کی تعمیل ابھی شروع ہی کرنا چاہی، تو بچّی نے اپنے آپ کو چُھڑانے اور اس جانور سے دُور ہونے کے لیے اپنی پوری طاقت لگائی، مگر اس زہریلے آدمی نے اسے ڈانٹ کر جھٹک دیا، اور پکڑ کر بچّی کو اپنی گود میں بٹھایا۔ وہ پوری طرح امام کی جکڑ میں قابو تھی۔ بچّی نے چیخ کر اس سے خود کو چُھڑانے کی اور زیادہ پُر زور کوششیں شروع کیں، جس پر اس درندھ صفت انسان نے بچّی کے منہ پر ہاتھ رکھا اور ایک بار پھر اس کارِجبر میں کامیاب ہونے کی کوشش میں جُٹ گیا۔

اس نے اپنی طاقت کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے، اپنے نفس کی بھوک کو مٹانا چاہا، بچّی مجبور تھی، اور کچھ نہیں کر پا رہی تھی، جیسے بھیڑیے کے منہ میں ہرن کے بچّے کا شکار ہونے جا رہا تھا۔ نسیم نے کمزور ہونے کے باوجود اس بُرائی سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے مزاحمت کی اور اس وحشی انسان کی انگلیوں کو اپنے دانتوں سے کاٹا۔ امام نے اپنا ہاتھ جھٹک کر بچّی کے دانتوں سے چُھڑایا تو بچّی نے پہلے سے زیادہ بلند آواز میں زور زور سے چیخنا اور چِلّانا شروع کر دیا۔

عین اُسی وقت باہر گلی میں کچھ لوگوں کی آواز سنائی دی، تو بچّی کی سانس میں سانس آئی۔ ایک لمحہ ہی گزرا تھا کہ اچانک امام کے خِلوت خانے کے دروازے پر دستک ہوئی۔ بچّی، مولوی کی گود سے ایک دم لپک کر اُچھلی، اور خود کو چھڑوا کر کمرے کے دروازے کی طرف دوڑی۔ یہ سب اس قدر یکایَک ہوا کہ امام بچّی کو پکڑ نہ سکا۔

پیچھے امام اپنے کپڑے سنبھالتا دروازے تک پہنچا اور بچّی کو بازُو سے پکڑا تاکہ وہ دروازہ نہ کھول سکے، مگر بچّی اتنی دیر میں دروازے کی کنڈی کھول چکی تھی اور باہر کھڑے لوگ امام کا اصل مکروہ چہرہ دیکھ چکے تھے۔

بچّی بحفاظت اپنے گھر پہنچی اور امام، جُوتوں کی دُرگت کے بعد پولیس اسٹیشن۔
( 7 جولائی 2019 ء کو ہری پور میں پیش آنے والے دل کو لرزا دینے والے واقعے کے پس منظر میں لکھا ہوا افسانہ)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •