حُسینیّت کا عَلَم سدا سَربلند رہے گا

تحریر: مقصود گل ترجمہ: یاسر قاضی محرم الحرام کا مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اسی مہینے ایک قافلہ اپنے پیارے نانا کی سرزمین، مدینۂ منورہ کو چھوڑ کر دَشتِ کرب و بلا کی طرف روانہ ہوا تھا۔ اس مختصر قافلے کے سردار، جگر گوشۂ رسول ﷺ، ابنِ بتُول، جانثارِ حیدر، حضرت امام حسین علیہ السلام تھے، جن کا مقصد صرف اور صرف یہ تھا کہ حق و صداقت کی حفاظت کی جائے اور نانا کی جلائی ہوئی شمعِ دین

Read more

”رقصِ وجداں“ : ساحر راہُو کا آٹھواں مجموعۂ کلام

ساحر راہُو دورِ حاضر کے سندھی زبان کے نمائندہ شاعر ہیں اور غزل کی صنفِ سُخن ان کی پہچان ہے۔ ان کی شاعری کے 7 مجموعہ ہائے کلام اس سے پہلے شائع ہو کر ادبی حلقوں میں مقبولیت پا چکے ہیں۔ جن میں سے ایک مجموعۂ کلام اردو میں بھی ہے۔ ان کی طبع شدہ شاعری کی کتب کی تفصیل کچھ یوں ہے : 1۔ خواب کھتُھوریٔ چند (خواب، خوشبو اور چاند) 2۔ سانوری شام (سانولی شام) 3۔ ”نینڑ سجدے

Read more

معتبر سندھی شاعر، عالم و محقق ڈاکٹر عطا محمّد حامی

پچھلے دنوں 3 جون 2025 ء کو سندھی زبان کے قادر الکلام شاعر، معتبر عالم، محقق، معلم، سیاستدان، سماجی کارکن، سچل سرمست کے شارحین میں سے ایک اہم شارح اور مترجم، پروفیسر ڈاکٹر عطا محمد ”حامی“ کے انتقال کو 43 برس مکمل ہوئے۔ ان کی یاد میں ”حامی یادگار کمیٹی“ کی جانب سے اس شام سچل اکیڈمی خیرپور کے آڈیٹوریم میں ان کی برسی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں مقامی ادباء و شعرا نے ان کے فن، فکر اور

Read more

سندھی ادب و ثقافت کی ہمہ جہت شخصیت: ایاز عالم ابڑو

ادب اور ثقافت کے مختلف شعبوں میں بے شمار کام کرنے کے باوجود، ان کی عادت میں شور مچانا شامل نہیں۔ وہ محفلوں کے شوقین کبھی نہیں رہے۔ اگر کسی قریبی دوست کے اصرار پر کسی تقریب میں شرکت کرتے بھی ہیں تو خاموشی سے کسی کونے میں بیٹھ جاتے ہیں، اور بات کرنے کے بجائے سننے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی خاموشی سے بس کام کیا ہے، اور ہمیشہ ان کے کام کی خوبصورتی نے

Read more

اس کا نام (سندھی افسانہ)

  تحریر: طارق عزیز شیخ مترجم: یاسر قاضی آج بک شیلف میں سے کسی کتاب کو ڈھونڈتے ہوئے وہی ڈائری ہاتھ لگ گئی، جو کسی زمانے میں میرے دل کا حال میرے قلم سے اپنے سینے میں سمو لیتی تھی۔ ان صفحات کو دیکھ کر پڑھنے لگا تو جیسے اپنے دورِ رفتہ کو اپنے اندر میں جاتا ہوا محسوس کرنے لگا۔ ایک ہی لمحے میں کئی برس پیچھے چلا گیا۔ میرے حافظے میں ماضی کی مٹی کو جھاڑ پھونک کر

Read more

سندھ کے معروف لوک گلوکار: فقیر امیر بخش

تحریر: شیخ عزیز ترجمہ: یاسر قاضی سندھی موسیقی کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کی ماہیت کسی اور خطے کے نظامِ موسیقی سے مستعار لی ہوئی ہے، بجا نہ ہوگا۔ کیونکہ سندھی موسیقی کی ترتیب اور اندازِ پیشکش کچھ اس قسم کا ہے، کہ اس کو کُلی طور پر لوک موسیقی میں بھی شامل نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی اس کو خالصتاً کلاسیکی موسیقی میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ اس کی جگہ پر اُسے باآسانی

Read more

ایک تصویر۔ کئی عنوان

مقتدرہ سندھی زبان یعنی سندھی لینگویج اتھارٹی حیدرآباد کی جانب سے سندھی زبان کی بنیادی تربیت کا آن لائن کورس جاری ہے۔ جس میں ملک خواہ بیرونِ ملک سے ایسے دلچسپی رکھنے والے طلبہ و طالبات یہ کورس اپنے گھروں میں بیٹھ کے کر رہے ہیں، جن کی مادری زبان کوئی اور ہے اور وہ سندھی زبان کو اپنی ثانوی زبان کے طور پر سیکھنا چاہ رہے ہیں۔ اس کورس کے دوسرے بیچ کی کلاسیں جاری ہیں۔ جس میں پی

Read more

آخری دو اشک: جاوید عباسی کا سندھی افسانہ

افسانہ نویس: جاوید عباسی مترجم: یاسر قاضی ولُو ہیروئنچی مر گیا۔ پُورے محلے میں ولُو کی موت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ محلے والوں کے چہروں پر ولُو کی بیوی بختاور کے لیے ہمدردی اور بے چارگی کے مشترکہ تاثرات پھیل گئے۔ ولُو جس کو اس کے پڑوسی کافی عرصے سے ”ہیروئنچی۔ ہیروئنچی۔“ کے نام سے پکار کر، اسے اپنی نفرت اور ناپسندیدگی کا احساس دلاتے رہتے تھے، اس ہیروئنچی کے بچھڑنے

Read more

47 میں قائم ہونے والا ملک اور سکھر بیراج کا بہہ جانے والا گیٹ نمبر 47

’لائیڈ بیراج سکھر‘ دریائے سندھ پر واقع ملک کا طویل ترین بیراج ہے اور دنیا میں اپنی نوعیّت کا سب سے بڑا آبپاشی نیٹورک ہے۔ کیونکہ اس بیراج کی بدولت سندھ اور بلوچستان کی تقریباً 82 سے 83 لاکھ ایکڑ زمین آباد ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے یہ دنیا کا سب سے بڑا آبپاشی کا نظام وضع کرنے والا بیراج مانا جاتا ہے۔ یہ بیراج پورے ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈّی کی حیثیت رکھتا ہے، جو 9 ہزار

Read more

چاند کے ليے عنقريب الگ ٹائم زون کا تعيّن

”ناسا“ ، چاند کے لیے الگ ٹائم زون کا تعین کرنے جا رہا ہے۔ جس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہی کہ بہت جلد چاند پر آمدورفت کا ایک ہجوم لگنے والا ہے اور ہمیں جلد ہی چاند پر وقت کے ایک درست اور جامع نظام (ٹائم کِیپنگ سسٹم) اور ایک مشترکہ گھڑی کی ضرورت پڑنے والی ہے، تاکہ وہاں جانے والے مشنز (مُہموں ) کو مربوط بنایا جا سکے اور ان کو پیش آنے والی ممکنہ آفات سے

Read more

محقق شیخ عزیز کی رقم کی گئی ”سندھ کی محلاتی داستانیں“

”یہ داستانیں، محض کہانیاں نہیں، جو کسی کہانی نویس یا افسانہ نگار کے ذہن کا اختراع ہو یا کسی محروم دماغ کے خوش کن مستقبل کی خواہش کا پرتو ہوں۔ بلکہ یہ کہانیاں وہ واقعات ہیں، جن کو اسی طرح بیان کیا گیا ہے، جس طرح وہ وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ البتہ ماضی کے داستان گو اساتذہ کی طرح ان واقعات میں انداز بیان کو اسی طرح تبدیل کیا گیا ہے کہ ان واقعات میں تخیل کے ساتھ ساتھ زبان

Read more

سندھی لسانیات کے اہم عالم ڈاکٹر مرلی دھر جیٹلی کی وفات

حیدرآباد (سندھ) میں پیدا ہونے والے، سندھی زبان و ادب کے نامور اور معتبر عالم، دانشور، محقق، ماہرِ لسانیات، استاد اور دہلی یونیورسٹی کے زبانوں کے شعبے میں سندھی سیکشن کے سابق سربراہ، پروفیسر ڈاکٹر مرلی دھر کشنچند جیٹلی، پير 3 جولائی کو 93 برس کی عمر میں دہلی (بھارت) میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔   ڈاکٹر مرلی دھر جیٹلی نے 7 نومبر 1930ء سندھ کے دوسرے بڑے شہر حيدرآباد کی مشہور ‘مُکھی گلی’ میں کشنچند جيٹلی نامی ايک

Read more

مہتاب اکبر راشدی کا مجموعۂ مضامین ”منہنجی سوچ، منہنجو قلم“ (میری سوچ میرا قلم)

ملک کی معروف دانشور اور ثقافتی شخصیت مہتاب اکبر راشدی کو پاکستان ٹیلی وژن کے 1970 ء اور 1980 ء میں شہرت پانے والی مایۂ ناز میزبان کی حیثیت سے تو اس دور کے ناظرین میں سے ہر خاص و عام پہچانتا ہے، مگر ان کی دوسری اہم شناخت ایک منجھی ہوئی قلمکارہ کی ہے، جو متعدد نثری کتب کی مصنفہ بھی ہیں، جن کی کتب میں سے اکثر پچھلے ایک عشرے میں شائع ہوئی ہیں۔ نثر ان کا کلیدی

Read more

بھوکی: نذیر قاضی کا مونولاگ افسانہ

تحریر: نذیر قاضی مترجم: یاسر قاضی مجھے یقین تھا تم آؤ گے تم ضرور آؤ گے کچھ شکوے، کچھ شکایتیں لے کر، اور تم آ گئے۔ تمہیں آنا نہیں چاہیے تھا۔ آنے سے قبل تمہیں سوچنا چاہیے تھا کہ تم کہاں آ رہے ہو۔ میرے پاس؟ مگر میں تمہاری کیا لگتی ہوں؟ تمہارا میرے ساتھ کیا تعلق؟ میں اب اپنے صفو کی ہوں۔ اپنے پیارے صفو کی۔ ابھی ایک ہفتہ قبل ہی وہ مجھے اپنی جیون ساتھی بنا کر لے

Read more

ماہتاب محبوب کے دو مختصر افسانے

جب بھی کوئی المیہ سندھی گیت ریڈیو سے بجتا تھا، تو چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ شرطیں لگایا کرتی تھی کہ ”دیکھنا! ابھی امی رونے لگیں گی۔“ اور جب اس کی ماں کی آنکھوں سے اپنے برسوں کے بچھڑے واحد بھائی کو یاد کرتے ہوئے اشکوں کی لڑیاں بہنے لگتی تھیں، تو انہیں ہنسی آ جاتی تھی۔

”دیکھا! ؟ امی رو پڑیں! بھلا گانے میں ہے کیا کہ ایسے رونا آ جائے؟“
اسے اپنی ماں کی یہ ”عادت“ انتہائی عجیب اور مضحکہ خیز لگتی تھی۔ ان کو بھلا سکھوں دکھوں کی کیا خبر!

Read more

بچے برائے فروخت: مقصود گل کا مختصر افسانہ

کراچی کے ریگل چوک کے فٹ پاتھ پر ادھیڑ عمر کا ایک شخص اور ایک عورت، دو معصوم کم عمر بچوں کو ٹوکریوں میں بٹھائے اپنے آگے رکھے بیٹھے تھے اور آوازیں دے رہے تھے : ”بچے لے لو! بچے لے لو!“ خاتون کا چہرہ مرجھایا ہوا اور مایوس تھا، لیکن مرد اپنی مایوسی اور درد پر اپنی مصنوعی مسکراہٹ کا پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ لوگوں کے ہجوم میں سے ایک گاہک بولا: ”کتنے کے! ؟“

Read more

سنسرشپ کی زنجیریں اور عالمی یوم آزادیٔ صحافت

’اخبار‘ کی اصطلاح اگرچہ 17ویں صدی سے رائج ہوئی، لیکن جرمنی میں اس طرح کی اشاعتیں 16ویں صدی سے شائع ہونا شروع ہو گئی تھیں، جنہیں آج کی تعریف کے مطابق ’اخبار‘ کہا جا سکتا ہے، کیونکہ وہ تواتر سے شائع ہونے والی خبروں پر مشتمل اشاعتیں تھیں۔ 1605ء میں اسٹراسبرگ میں ناشر ’جوہان کیرولس‘ ( 1575ء۔ 1634ء) کے توسط سے جرمن زبان میں شائع ہونے والی اس اشاعت کو عام طور پر ’دنیا کا پہلا اخبار‘ سمجھا جاتا ہے،

Read more

اپنے قریۂ ولادت کی مختصر تاریخ پر مقصود گل کی لکھی کتاب

سندھ کے نامور قادر السخن شاعر، عالم، دانشور، صحافی، کالم نویس، محقق، بچوں کے ادیب اور حضرت سچل سرمست کے کلام کے شارح اور مترجم، مقصود گل، 15 اپریل 1950 ء کو سندھ کے علمی، ادبی و ثقافتی حوالے سے انتہائی زرخیز خطے لاڑکانے کے تاریخی شہر رتودیرو میں پیدا ہوئے اور کم و بیش 65 برس کی عمر پا کر، 14 فروری 2015 ء کو ”روشنیوں کے شہر“ میں ہم سے بچھڑے۔ وہ شاعر ابن شاعر ابن شاعر تھے۔

Read more

معروف شاعرہ اور محقق، نائلہ گل ”سپنا“ قاضی کی سسئی کی مذکورہ حیات کے حوالے سے تحقیق

27 جنوری کا دن ہر برس، سندھ کی جواں مرگ شاعرہ، نثر نویس، استاد، خطاط، مدیر، ماہر تعلیم اور کمپئر، پروفیسر نائلہ گل ”سپنا“ قاضی کے بچھڑنے کی دکھدائک یاد ساتھ لاتا ہے۔ سندھی کے نامور شاعر، مقصود گل کی سب سے بڑی اولاد اور دختر واحد، نائلہ گل (متخلص: ”سپنا“ ) 8 دسمبر 1977 ء کو پیدا ہوئیں اور چار برس قبل 27 جنوری 2019 ء کو محض 41 برس کی عمر میں سندھ سے بچھڑیں۔ سپنا کی ادب

Read more

معروف سندھی شاعر لعل محمد لعل کا صد سالہ یوم پیدائش

تحریر: ڈاکٹر انور ”فگار“ ہکڑو ترجمہ: یاسر قاضی اس برس 21 جنوری کا دن سندھی زبان کے مقبول برجستہ شاعر، نثر نویس اور مدیر لعل محمد ”لعل“ احمر کے صد سالہ یوم پیدائش کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ شکارپور کے مشہور شاعر لعل محمد ”لعل“ ولد داد محمد دایو 21 جنوری 1923 ء کو پیدا ہوئے۔ شکارپور ہائی اسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور سی اینڈ ایس کالج شکارپور سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کرنے کے

Read more

غم زياده خوشی، قلِيل ملی“ ــ سندھی کے قادرالکلام شاعر ــ لعل محمّد ”لعل“

سندھی زبان کے جہان سخن میں روایتی شاعری کے دور کے چند نمائندہ شاعروں میں اپنی پیدائش کے لحاظ سے شمالی سندھ سے متعلق، لعل محمد ”لعل“ کا نام ان منفرد شاعروں میں سرفہرست ہے، جس کا کلام اپنے بھرپور لہجے کے باعث پڑھنے میں بھی لطف دیتا ہے تو اپنے پیغام کے لحاظ سے بھی دیرپا اور گہرا ہے۔ جنہوں نے قیام پاکستان سے قبل اپنی قلمی خدمات کا آغاز کیا اور اپنی کم و بیش چھ دہائیوں پر

Read more

دانشور شيخ عزيز کی انگريزی کتاب: ”چنگ: وادی مہران کا ساز“

سندھ کے معروف علمی و ادبی خانوادے سے متعلق شخصیت شیخ عزیز، تین زبانوں میں اپنی خدمات انجام دینے والے اس ملک کے باصلاحیت اور ہمہ جہت صحافی، صاحب قلم، محقق، ماہر موسیقی اور کئی کتب کے مصنف گزرے ہیں، جو 9 دسمبر 1938 ء کو حیدرآباد سندھ میں پیدا ہوئے اور 80 برس کی عمر میں 4 سال قبل، 7 اکتوبر 2018 ء کو، اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔ جو صحافی کی حیثیت سے روزنامہ ’کاروان‘ حیدرآباد کے

Read more

جواں مرگ سندھی صحافی و افسانہ نويس ــ حضُور بخش ”آزاد“ جتوئی

سندھ کے ادبی خواہ صحافتی منظرنامے میں اپنی خدمات اور تخلیقی صلاحیتوں کی بدولت رنگ بھرنے والوں میں حضور بخش ”آزاد“ جتوئی کا نام سندھ میں احترام اور محبت سے لیا جاتا ہے۔ جن کو اس برس 26 اگست کو ہم سے بچھڑے 13 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ آزاد جتوئی کی پیدائش ضلع لاڑکانے کے چھوٹے سے قصبے ’محراب پور‘ میں 4 مارچ 1956 ء کو اللہ بخش جتوئی کے گھر میں ہوئی۔ ان کا پیدائشی خاندانی نام ’حضور

Read more

کراچی کے فریئر ہال کا نيا تعمير ہونے والا دروازہ

تحرير: عارف حسن ترجمہ: یاسرقاضی معروف ماہر فن تعمیر، مارئی مظہر نے حال ہی میں سوشل میڈیا کے ذریعے کراچی کے باشندوں کو آگاہ کیا ہے کہ کراچی کے فریئر ہال گارڈن کے لیے ایک نیا دروازہ ڈیزائن کیا گیا ہے، جو آج کل زیر تعمیر ہے۔ انہوں نے تصویروں اور خاکوں کے ذریعے اس بات کی نشاندہی بھی کی ہے کہ یہ دروازہ کراچی کی ”ایمپریس مارکیٹ“ کے بعد کراچی کے شاید اس سب سے اہم تاریخی مقام کے نظارے

Read more

فنکار گلی، ’بسکنگ‘ اور موسیقی کا عالمی دن

کراچی کی ’فنکار گلی‘ اب خواب ہوئی۔ کیونکہ اس کا وجود ریڈیو پاکستان ہی کے دم سے تھا۔ جب 28 اکتوبر 2007 ء کی صبح بندر روڈ کراچی (جو اب ’ایم۔ اے۔ جناح روڈ‘ بن چکی ہے۔ ) پر واقع ریڈیو پاکستان کی گنبد والی اصل پرانی عمارت کے اسٹوڈیو نمبر 14 میں عین اس وقت آگ لگی، جب وہاں سے بچوں کا ہفتہ وار پروگرام براہ راست نشر ہو رہا تھا، اس کے بعد سے ریڈیو پاکستان، گلشن اقبال

Read more

سیاروں کے ایک نظام کی حالیہ موت

معروف خلائی دوربین ”ہبل“ کے ذریعے حالیہ مشاہدات کے بعد تصدیق کی گئی ہے کہ، خلا میں ایک ستارے کی موت نے اس کے سیاروں کے نظام کو اس قدر پرتشدد طریقے سے درہم برہم کر دیا ہے، کہ پیچھے رہ جانے والا ’مردہ ستارہ‘ ، جسے ”سفید بونا ستارہ“ (وائٹ ڈوارف) کہا جا رہا ہے، اس حادثے کے بعد نظام کے اندرونی خواہ بیرونی، دونوں حصوں سے مسلسل ملبہ نکال رہا ہے۔ اور اسے محققین، سیاروں کی جانب سے

Read more

ہمارے نظام شمسی کے 155 چاند

  پہلے ہم سنا کرتے تھے کہ ”فلاں کے محفل میں آنے سے چار چاند لگ گئے۔“ جب یہ چار چاند والا محاورہ کچھ زیادہ ہی عام ہو گیا، تو بھاؤ ڈالنے کے لیے کہا جانے لگا کہ ”فلاں کی آمد 14 چاندوں کی مانند ہے۔“ جب یہ اصطلاح بھی گھس پٹ گئی، تو پھر کہا جانے لگا کہ ”آج تو پوری کہکشاں ہی زمین پر اتر آئی ہے۔“ وغیرہ۔ مگر اگر سائنسی حقائق کو جانتے ہوئے کوئی کسی کو

Read more

‘بهنبهور کے مسافر’ اور ‘تهر کے عاشق’ عبدالقادر منگی کی رحلت

پیشے کے لحاظ سے سرکاری بیوروکریٹ۔ ’پیشن‘ کے لحاظ سے ثقافت و تاریخ و تہذیب و تمدن، زبان و ادب کے شیدائی۔ اس سے وابستہ حقیقی خدمت گزاروں کے خدمتگار۔ ادبی شناخت کے لحاظ سے نثر نویس، نثری مرتب، مصنف، لوک کرداروں سے متعلق تحقیق کرنے والے محقق اور کالم نویس۔ مزاجاً: ایک درویش اور دانشور۔ عادتاً: دوست مزاج، دوست نواز، ملنسار اور ہر کسی کے کام آنے والے۔ نمایاں خدمات کے لحاظ سے ادب، اور ثقافت سمیت تمام فنون

Read more

نامعلوم فضائی و خلائی مظاہر پر مزيد تحقيق کی تیارياں

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے۔ ’نیشنل ایروناٹکس اینڈ سپیس ایڈمنسٹریشن‘ (المعروف ”ناسا“ ) ، نامعلوم فضائی مظاہر ( ”ان آئیڈنٹیفائڈ ایریل فینامنا“ / ’یو اے پیز‘ ) کی نوعیت اور ماخذ کی جانچ کرنے کے لیے اس برس کے موسم خزاں میں شروع ہونے والی ایک جامع تحقیق کے لیے ایک باصلاحیت تحقیقی ٹیم تشکیل دے رہا ہے، جو آسمان/ فضا میں ایسے واقعات و اجسام کا سائنسی نقطۂ نظر سے مشاہدہ کرے گی، جو نہ کسی بھی قسم کے ہوائی

Read more

ساگر، شاعر اور سمندروں کا عالمی دن

شاعر، امریکی ریاست ہوائی کے دارالحکومت، ’ہونولولو‘ کی خوبصورت بیچ ’وائی کیکی‘ پر سر شام بیٹھا، ہوائی کی دلپذیر ہواؤں میں پیسفک کے عمودی خط کو گھورتے ہوئے، جاوید اختر کا گیت ”ساگر کنارے۔ دل یہ پکارے۔ تو جو نہیں، تو میرا کوئی نہیں ہے۔“ گنگنا رہا ہے۔ اور پس سہ پہر بحرالکاہل کی چست لہروں پر پڑنے والی ٹیڑھی روشنی کی واپسی میں بننے والی ترچھی کرنیں، اس کی آنکھوں کو چندھیا رہی ہیں۔ کہ اچانک اس کا دھیان

Read more

7 جون: غذا کی حفاظت کا عالمی دن

تحریر: نصرت سکندر | ترجمہ: یاسر قاضی 7 جون کا دن، ہر سال اقوام متحدہ کی جانب سے ’عالمی یوم غذائی حفاظت (ورلڈ فوڈ سیفٹی ڈے )‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ دور کوئی بھی ہو، خوراک کی زیادہ سے زیادہ حفاظت کو یقینی بنانا، صحتمند زندگی کے لیے بے حد اہم ہے۔ اس سال، اس دن کو ”محفوظ غذا۔ اچھی صحت“ کے ’مرکزی خیال‘ (تھیم) کے تحت منایا جا رہا ہے۔ یہ دن انسانی صحت کے لیے غذائیت

Read more

اتنا سنّاٹا کیوں ہے بھائی

رسی جل گئی، مگر بل نہیں گیا۔ راج گیا۔ تخت و تاج گیا۔ اقتدار گیا۔ مگر خود پسندی اور نرگسیت کا یہ عالم ہے کہ اپنے آپ کو ناقابل متبادل (ان ڈسپینسیبل) سمجھے جانے کے تصور میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ رسی کا بل نہیں جا رہا، مسئلہ یہ ہے کہ اس کی اس قدر ہرزہ سرائی پر ان حلقوں کو سانپ کیوں سونگھا ہوا ہے، جن کو ان کو بہر

Read more

چھوڑ آئے ہم وہ گلياں“ ـ معروف گلُوکار کے کے بھچڑ گئے

”خدا جانے کہ میں فدا ہوں۔ خدا جانے میں مٹ گیا۔“ ، ”تو ہی میری شب ہے، صبح ہے۔“ ، ”تو جو ملا، لو ہو گیا میں قابل۔ تو جو ملا، تو ہو گیا سب حاصل۔“ ، ”آنکھوں میں تیری عجب سی عجب سی ادائیں ہیں۔“ ، ”ابھی ابھی زندگی شروع ہے، ابھی ابھی تھم جانے کی بات!“ ، ”دل عبادت کر رہا ہے، دھڑکنیں میری سن! تجھ کو میں کر لوں حاصل، لگی ہے یہی دھن۔“ جیسے انگنت گیت، جو کہیں نہ کہیں چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے ہماری روز مرہ کی زندگی میں سماعتوں سے ٹکراتے رہتے ہیں، اور ان میں سے متعدد نغمے ہماری کیفیات کے ترجمان بھی ہوتے ہیں، ان کے گانے والا برصغیر کا منفرد جواں عمر گلوکار ہم سے اچانک بچھڑ گیا۔

Read more

اچھے ”خادم اعلیٰ“، اچھے ”خادم اعظم“ کیوں نہیں پا رہے؟

کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ کہ جس دن شہباز حکومت نے لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی لگانے کا اصولی فیصلہ کیا، اسی دن حفیظ شیخ ’درآمد‘ ہو کر کراچی کے ہوائی اڈے پر اترے اور ”خاص لوگوں“ کے حفاظتی حصار میں ٹرمنل سے ’برآمد‘ ہوئے، جس سے تاثر یہی قائم ہوا، کہ انہیں کسی ”خاص کام“ انجام دینے کے لیے ایک بار پھر ’صاحبان اختیار‘ نے بلوایا ہے، کیونکہ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ’جھنڈے والی

Read more

مریخ پر دریافت ہونے والا دروازہ: غار یا گزرگاہ؟

یہ تصور برسوں سے مسلسل ہمارے بحث کا موضوع رہا ہے کہ ذہین زندگی یا کسی بھی طرح کی زندگی دوسرے سیاروں پر موجود ہو سکتی ہے؟ کچھ کا دعویٰ ہے کہ یہ ممکن ہے کہ ماورائے زمین مخلوقات کی کائنات میں کسی نہ کسی کونے میں موجودگی ہو۔ امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ”ناسا“ (نیشنل ایروناٹکس اینڈ سپیس ایڈمنسٹریشن / قومی انتظامیہ برائے ہوا بازی اور خلائی تحقیق) نے ایسے آثار کی تلاش کی کوشش کرنے کے لیے بے شمار

Read more

حکومت کا پریشان کُن آغاز

تحرير: مليحہ لودهی ترجمہ: ياسر قاضی اس وقت عمران خان کا مقصد پارلیمانی اور سیاسی نظام کو متاثر کرنا اور حکومت کو قبل از وقت انتخابات پر مجبور کرنا ہے۔ سڑکوں پر نکلنے اور عوامی ریلیاں نکالنے کی ان کی غیر پارلیمانی مہم حکومت پر دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے، جب تک کہ وہ خود باز نہ آئیں، یا اسٹیبلشمنٹ مداخلت نہ کرے۔ وہ جن بڑی اور پرجوش ریلیوں سے خطاب کر رہے ہیں، اس نے انہیں اس راستے پر

Read more

اس تیری گلی میں اے دلبر! ہر اک کاسہ قربان ہوا ”: سچل سرمستؒ کا عرس

یہ حقیقت بلاشبہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حضرت سچل سرمست جیسے بسیار گو اور ہمہ جہت شاعر پر ان کی فکری بلندی کے مقابلے میں تحقیقی کام بالکل تھوڑا ہوا ہے۔ ان کی ذات، زندگی اور پیغام کے اب بھی انگنت پہلو ایسے ہیں، جنہیں ابھی آشکار ہونا ہے۔ ان پہلوؤں کو افشا ہونے میں کتنا وقت لگے گا، یہ کہنا بہت مشکل ہے۔ بیسویں صدی، حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے پیغام کی اشاعت، نشر و تشہیر

Read more

سینیئر شاعر و طبلہ نواز۔ غلام محمد عرف ’گلامو وفا‘ سے ملاقات

پچھلے دنوں 18 مارچ کو، رات گئے کراچی آرٹس کونسل میں ہونے والے ایک ادبی فیسٹیول میں کئی رنگارنگ زبانوں کا مشاعرہ منعقد ہوا، جس میں، میں قطعی طور پر مدعو نہیں تھا، لیکن یوں سر راہ سندھی کے نامور شاعر، نور چشم احمد سولنگی (جو اس مشاعرے میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کر رہے تھے ) نے اس مشاعرے میں شرکت کے لئے اصرار کیا۔ میں احمد کو انکار نہ کر سکا اور مجبوراً وہاں جا نکلا اور مشاعرے کے پنڈال میں ایک کونے میں جا بیٹھا۔

Read more

چہروں کے ’گل‘ ہزارہا ناچیں نگاہ میں ”۔ نامور شاعر اور عالم، مقصود گل کا 72 واں یوم پیدائش

آج سندھ کے منفرد مزاحمت نگار اور رومان نویس شاعر، عالم، دانشور، مترجم، حضرت سچل سرمست رحہ کے شارح، کالم نویس، بچوں کے ادیب اور اپنی ذات میں ادارہ ساز اور شخصیت ساز شیریں مزاج شخص، ’مقصود گل‘ ( 1950 ء۔ 2015 ء) کی سالگرہ کا دن ہے، جو آج سے 72 برس قبل، اس حسین سرزمین سندھ کے لاڑکانے ضلع کے خوبصورت شہر رتودیرو میں، اپنے دور کے منجھے ہوئے سندھی شاعر، استاد، تعلیم دان، صحافی اور سماجی کارکن، قاضی عبدالحی ”قائل“ سرشاری کے گھر، 15 اپریل 1950 ء کو سنیچر کے روز پیدا ہوئے، جو ہجری تقویم کے لحاظ سے 27 جمادی الثانی 1369 ہجری کی تاریخ تھی۔

Read more

قادر الکلام شاعر و مترجم ’آذر‘ نایاب صدیقی بدایونی کی 18 ویں برسی

سندھی ادب، موسیقی خواہ دیگر سماجی علوم کے میدان میں یہ بات کوئی ان ہونی، نئی یا حیران کن نہیں رہی، کہ ایسے تخلیق کاروں نے بھی سندھ کی مانگ سجائی ہے، جن کی مادری زبان سندھی نہیں رہی۔ اگر ہم سر اور سنگیت کی دنیا میں دیکھیں تو ہمیں سندھ میں پیدا ہونے والے گوالیار گھرانے کے ہر فرد سے لے کر (بشمول استاد منظور علی خاں، فتح علی خاں، وحید علی اور رجب علی) ، سینگار علی سلیم

Read more

جديد سياسی حروف تہجی اور نئی سياسی لغت

  ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت ہو خواہ اپوزیشن، دونوں کی بے یقینی سے بھرپور صورتحال دیدنی ہے، جس کو دیکھ کر ان کی پریشانی کے عالم کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ رہی بات عوام کی، تو ان کا ’خواص‘ نے، بالخصوص صاحبان اقتدار نے ہمیشہ ہی سے خون چوسا ہے۔ چاہے وہ ’پرانا پاکستان‘ ہو یا پھر ’نیا پاکستان‘ ! تو یہ تو ان کو بھی یقین ہے کہ ان کے حالات بدلنے والے نہیں ہیں۔

Read more

امر پیرزادو کی کتاب: ”بابا۔ انور پیرزادو“

  ”مجھے کبھی یہ آئیڈیا پسند نہیں آیا کہ اولاد یا والدین اپنے سلیبریٹی یا مشہور شخصیت والدین، یا والدین اپنے سلیبریٹی اولاد کے بارے میں کتاب لکھیں۔ پھر چاہے وہ ارنسٹ ہیمنگوے یا عاصمہ جہانگیر یا فیض احمد فیض یا ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹیاں، یا شیخ ایاز یا رسول بخش پلیجو کے بیٹے ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ ایسا کرنے سے نہ ہی والدین، اور نہ ہی وہ اولاد، جن پر وہ کتاب لکھی جا رہی ہے، کے

Read more

دریائے سندھ کی ڈولفن کی سیٹیلائٹ ٹیگنگ

  جنوبی امریکا اور ایشیاء کے کچھ علاقوں میں تازہ پانیوں میں تیرنے والا ایک انوکھا اور خوبصورت جاندار، ہمیشہ سے دنیا بھر کی توجہ کا مرکز رہا ہے، جو مچھلی بھی نہیں ہے، لیکن صاف پانیوں کی شان ہے۔ جسے ہم سب ’ڈالفن‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ ڈالفن کو، زمین کی قدیم ترین مخلوقات میں گنا جاتا ہے۔ کچھ حیاتیاتی ماہرین کے خیال میں ڈالفن کا شمار شارک اور سمندری کچھوے کے خاندان میں ہوتا ہے۔ ڈالفن عام

Read more

مختلف حوالوں سے دنیا کے منفرد اور دلچسپ ممالک

  یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا میں 7 براعظم (کانٹینینٹس) ہیں۔ ان میں ایشیا، دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ آبادی والا براعظم ہے، جبکہ آسٹریلیا (جسے ’اوشینا‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ) سب سے چھوٹا اور سب سے کم آبادی والا براعظم (براحقر) ہے۔ افریقہ دنیا کا وہ براعظم ہے، جس میں سب سے زیادہ یعنی 54 ممالک ہیں، جبکہ براعظم جنوبی امریکا میں سب سے کم ممالک ہیں۔ جن کی تعداد 12

Read more

10 مارچ۔ پہلی بار منایا جانے والا خواتین ججز کا عالمی دن

  رواں برس 2022 ء سے، انصاف اور عدلیہ کے شعبے میں دنیا بھر میں خواتین کی مناسب نمائندگی کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے، اور اس امر پر زور دینے کی غرض سے، اقوام متحدہ، 10 مارچ کو ہر سال ”خواتین ججز کے عالمی دن“ کے طور پر منانے کا آغاز کر رہا ہے۔ یہ سچ ہے کہ عام زندگی میں خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باوجود، فیصلہ سازی کرنے والے عہدوں پر ان کی نمایاں طور پر

Read more

مادری زبانوں کا عالمی دن اور انسانی شخصیت کی تعمیر میں ’ماں۔ بولی‘ کا کردار

  ہر سال 21 فروری کا دن، دنیا بھر میں لسانی اور ثقافتی تنوع اور کثیر اللسانی کو فروغ دینے کے لئے ”مادری زبانوں کے عالمی دن“ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد مادری زبانوں کا تحفظ اور فروغ ہے۔ لسانی تنوع ہمیشہ سے ہماری تہذیب کے بنیادی ستونوں میں سے ایک رہا ہے۔ دنیا کے تقریباً 200 ممالک میں مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف قومی ثقافتوں سے وابستہ لوگ، 21 فروری کو مادری زبانوں کے

Read more

مقصود گل کا مجموعۂ کلام ”رت بھنا رابیل“ (لہو لہان گل ہائے یاسمین)

  14 فروری 2022 ء کو سندھ اور سندھی زبان کے منفرد لہجے کے صاحب طرز شاعر، نثر نویس، عالم، دانشور، محقق، مترجم، کالم نویس، صحافی، بچوں کے ادیب، ماہر تعلیم اور مصنف، مقصود گل کو بچھڑے 7 برس پورے ہو رہے ہیں۔ ان کی پیدائش سندھ کے تاریخی ضلع لاڑکانے کے ”رتودیرو“ نامی شہر میں 15 اپریل 1950 ء کو، سندھ کے نامور اور قادر الکلام شاعر، ادیب، عالم، تعلیم دان، صحافی، مدرس اور سماجی کارکن، قاضی عبد الحیی

Read more

ریڈیو کا عالمی دن اور معاشرتی تغيّرات سے بے نياز ہمارا ریڈیو

  اقوام متحدہ کی جانب سے ہر برس 13 فروری کو ”ریڈیو کے عالمی دن“ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن بہت دیر میں منایا جانے لگا۔ شاید اقوام متحدہ کو ریڈیو جیسے اہم اور اس عام آدمی کے میڈیم کی اہمیت کا احساس بہت دیر میں ہوا، اور یہ دن اب سے محض 12 سال قبل 2011ء سے منایا جانے لگا۔ اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونیسکو) کی جانب سے ہر سال اس دن

Read more

چینی سال نو 4720 اور چینی کیلنڈر۔ ’نونگلی‘

  یکم فروری 2022 ء کو نئے چینی سال کا آغاز ہوا۔ آپ سب کے لئے یہ نیا چینی سال مبارک ہو۔ ایک حالیہ اندازے کے مطابق، اس وقت دنیا بھر میں تقریباً چالیس کیلنڈرز استعمال ہو رہے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کا استعمال مذہبی تاریخوں کے تعین کے لئے کیا جاتا ہے۔ (جو کیلنڈرز معدوم ہو چکے ہیں، ان کی تعداد الگ ہے۔ ) زیادہ تر جدید ممالک اپنی سرکاری سرگرمیوں کے لئے ’عیسوی کیلنڈر‘ ہی کا

Read more

آج سوچا تو آنسو بھر آئے۔ لتا جی سے بعد از وفات تصوراتی انٹرویو

  لتا دیدی بچھڑ گئیں؟ کروڑوں دلوں کی آواز ان دلوں سے جدا ہو گئی؟ ان کروڑوں دلوں میں ایک معمولی اور خستہ دل میرا بھی ہے، جن کے لئے یہ خبر اب بھی ناقابل یقین ہے۔ یہ معمولی ذہن بھی ان اذہان میں سے ایک ہے، جس کی وادیوں کے کونے کونے سے لتا دیدی کے ہزاروں گیتوں جی بازگشت گونج رہی ہے اور تا دم آخر گونجتی رہے گی۔ اور اس کے بعد والی حیات میں بھی اگر

Read more

سندھ کے موزارٹ۔ استاد نیاز حسین کی تیسویں برسی

سروں کی ملکہ، عابدہ پروین کی آواز میں گائی ہوئی حکیم ناصر کی مشہور زمانہ غزل ”جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے۔“ ہو، یا انہی کی آواز میں ابن انشا کا کلام ”کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا تیرا۔“ ، ظہیر وارثی کی آواز میں گائی ہوئی ناصر کاظمی کی غزل ”دیواروں سے باتیں کرنا اچھا لگتا ہے۔“ ہو یا رجب علی کی آواز میں مصطفیٰ زیدی کا کلام ”کوئی ہم نفس نہیں ہے،

Read more

نین کھلے تو اوجھل ”سپنا“ – نائلہ گل قاضی کی تیسری برسی

27 جنوری کا دن، سندھ کی جواں مرگ شاعرہ، نثر نویس، استاد، ماہر تعلیم اور کمپیئر، پروفیسر نائلہ گل ”سپنا“ قاضی کی یاد لے کر آتا ہے، جو آج سے 3 برس قبل، محض 41 برس کی عمر میں سندھ سے بچھڑ گئی اور اپنے پیچھے ادب خواہ تعلیم کا ایسا نامکمل سفر چھوڑ گئی، جس راستے پر ابھی انہیں کئی دہائیوں تک چل کر، سندھ کی پہچان بن کر عالم آشکار دانشور بننا تھا۔ سندھ میں انگنت شخصیات کی

Read more

دیرپا قومی شعور کے لئے تدریسی ڈھنگ بدلنے کی ضرورت

  پوری دنیا میں 24 جنوری کا دن ”تعلیم کے عالمی دن“ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہم جیسے ممالک میں یہ دن روزانہ کی بنیاد پر منایا جانا چاہیے اور تعلیم کے فروغ کے لئے روزانہ، ہفتہ وار، ماہوار، ششماہی اور سالانہ بنیاد پر ہدف مقرر کر کے ان پر عمل کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔ پاکستان، دنیا میں تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال میں سرمایہ کاری کے لحاظ سے 164 ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان، روانڈا

Read more

سندھ کو چشم نو سے دیکھنے کی ضرورت

تحریر:  نصیر میمن ترجمہ: یاسر قاضی ون یونٹ کے سیاہ دور سے لے کر اب تک، سندھ مسلسل سیاسی اور ثقافتی تحریکوں کا مرکز رہی ہے۔ یہاں سندھی زبان کے فروغ و نفاذ، سندھی میں ووٹر لسٹوں کے اجراء، سندھی زبان میں تدریس وغیرہ جیسے معاملات کے حوالے سے مسلسل تحرک رہا۔ ون یونٹ مخالف تحریک نے سیاسی ہلچل کو، ثقافتی ایجنڈا کے ساتھ جوڑے رکھا۔ جس کی بدولت سندھی قوم پرستی، عارضی مسائل و معاملات تک محدود رہنے کے

Read more

سکّھر بیراج کی تعمیر کو نوے برس مکمل ہو گئے

13 جنوری کے دن، ‘لائیڈ بیراج سکھر’ المعرُوف سکهر بيراج کی تعمير و افتتاح کو 9 دہائياں مکمّل ہو رہی ہیں اور یہ دن سکھر بيراج کی 90 ویں سالگرہ کا دن ہے۔ ‘لائیڈ بیراج‘، سندھ کے تیسرے بڑے شہر، سکّھرکے قريب (سکّهر اور روہڑی کے درميان) دریائے سندھ پر واقع ملک کا طويل ترين بیراج ہے، جسے پاکستان کے نظامِ آبپاشی کا فخر کہا اور سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ دنیا میں اپنی نوعیّت کا سب سے بڑا واحد آبپاشی نیٹورک

Read more

برداشت: ابن آدم کی معدوم ہوتی ہوئی شناختی علامت

16 نومبر: ”برداشت اور رواداری کے عالمی دن“ کی مناسبت سے ”رواداری اور برداشت، ہماری دنیا کی ثقافتوں کے بھرپور تنوع، ہمارے اظہار کی صورتوں اور انسانیت کے سلیقوں کا احترام، قبولیت اور اعتراف ہے۔“ (رواداری کے اصولوں کا اعلامیہ) ہر سال 16 نومبر کو ”برداشت اور رواداری کا عالمی دن“ منایا جاتا ہے۔ جسے ”اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم“ (یونیسکو) نے 1995 ء میں عدم برداشت کے خطرات کے بارے میں عوام میں آگاہی پیدا کرنے

Read more

نوبل پرائز کے حوالے سے کچھ اہم سکینڈلز

نوبل پرائز سب سے پہلے 1901 ء میں دیا گیا تھا اور اس کے بعد سے یہ دنیا کے ”سب سے اہم اور باوقار ایوارڈ“ کی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ تاہم، اس کی تمام تر شان و شوکت کے باوجود، کچھ مخصوص حالات و واقعات کے باعث، نوبل انعامات کی کچھ نامزدگیاں اور کچھ نوازشات، سکینڈلز اور بدنامی سے مبرا بھی نہیں رہیں۔ یہ اعزاز جیتنے والے سینکڑوں میں سے کچھ شخصیات، مفادات کے تصادم یا کچھ اور وجوہات

Read more

سندھی کے باکمال افسانہ نویس، شوکت حسین شورو کا تعزیت نامہ

سندھی زبان و ادب کے مقبول کہانی گر اور ڈرامہ نویس، شوکت حسین شورو، کورونا کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے، اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ جس سے سندھی جہان ادب میں اداسی کی لہر چھائی ہوئی ہے، اور ان کی رخصت کو سندھی فکشن کا بہت بڑا نقصان سمجھا جا رہا ہے۔ شوکت حسین شورو کی پیدائش، 4 جولائی 1947 ء کو سندھ کے ضلع ٹھٹھہ کے تعلقہ سجاول کے ایک چھوٹے سے گاؤں، گوٹھ حاجی

Read more

روشنیوں کا جشن۔ دیوالی

’دیوالی‘ یا ’دیپاولی‘ ہندو مذہب سے متعلق افراد کے سب سے بڑے جشن اور مذہبی تہوار ہی نہیں، بلکہ صدیوں سے بر صغیر پاک و ہند کے ایک سماجی تہوار کی حیثیت بھی رکھتا آیا ہے، جسے اس خطے میں رہنے والے مختلف عقائد کے لوگ خوشی کے جشن کے طور پر مناتے ہیں، اس میں شامل ہوتے ہیں، یا کم از کم اس کی مبارکباد کا تبادلہ ضرور کرتے ہیں۔ دیوالی کو ہندی زبان میں ’دیوالی‘ اور ’دیپاولی‘ ،

Read more

بہتر شہر، بہتر زندگی

اکتیس اکتوبر ـ ”شہروں کے عالمی دن“ کی مناسبت سے دنیا بھر کے شہر، مسلسل آب و ہوا سے متعلقہ آفات مثلاً: سیلاب، خشک سالی، سطح سمندر میں اضافے، گرمی کی لہروں (ہیٹ ویوز) ، تودے گرنے (لینڈ سلائیڈنگ) اور طوفانوں کے اثرات کا شکار ہو رہے ہیں۔ مستقبل قریب میں، ساحلی سیلاب سے دنیا کے کم از کم 130 بندر گاہی شہر متاثر ہونے کی توقع ہے اور اس وقت غیر رسمی شہری بستیوں میں ایک ارب لوگ خاص

Read more

ماحولیاتی تبدیلیوں کے مصائب اور لاڑکانہ

تحقیق اور تحریر: نصرت سکندر / ترجمہ: یاسر قاضی۔ ماحولیاتی تبدیلیوں میں عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) ، فضائی آلودگی، آبی آلودگی، قدرتی وسائل کا تیزی سے خاتمہ، بڑے پیمانے پر جنگلات کا خاتمہ، دنیا کے مجموعی درجۂ حرارت میں اضافہ، مسلسل برساتوں کا ہونا (جن سے سمندر کی سطح میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے اور یہ اضافہ اور اس اضافے سے ساحلی علاقوں کو درپیش خطرات بھی باعث فکر ہیں۔ ) ، پینے اور آبپاشی کے مقاصد کے

Read more

سندھ کے نقاش اور 4 مارچ واقعے کے اہم کردار قاضی خضر حیات کا تعزیت نامہ

سندھ، کچھ افراد کو ان کی انفرادی کارکردگی کی بنا پر پہچانتی ہے، تو کچھ علمی و ادبی خانوادوں کو ان خاندانوں کے متعدد افراد کی ہمہ جہت غیر معمولی خدمات کی وجہ سے عزت دیتی ہے۔ قاضی خضر حیات، جنہیں سندھ، ایک نامور اور باصلاحیت مصور، خطاط، کاشی کار، سول انجنیئر اور 4 مارچ کی سندھی سٹوڈنٹ جدوجہد کے حوالے سے یادگار بنے ہوئے قومی دن کے اہم کردار کے طور پر پہچانتی ہے، بھی ایسے ہی علمی اور

Read more

فارسی کے معتبر عالم، ڈاکٹر خضر نوشاہی: ”وہ جو ہم تم میں نہیں، خاک میں پنہاں ہو کر۔۔۔“

پاکستان کے فارسی کے عظيم عالم، دانشور، شاعر اور مترجم، ڈاکٹر خضر نوشاہی بھی سُوئے عدم کُوچ کر چلے۔ اور ملک کے دبستانِ فارسی میں ایک گہرا خلا چھوڑ گئے۔ 
 
ڈاکٹر خضر نوشاہی، 30 مارچ 1952ء کو پنجاب میں ضلع شیخوپورہ کے علاقے ”چنبھل“ میں عبدالکریم عبّاسی نوشاہی کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کے والد، خانوادہء نوشاہیہ کے ممتاز صُوفی اور پنجابی زبان کے شاعر تھے۔ خضر صاحب نے میٹرک کا امتحان، گورنمنٹ ہائی اسکول اجنیانوالہ سے 1969ء میں پاس کیا۔ اسی دوران

Read more

دلوں کے دیوداس، اداکارِ اعظم کا آخری سلام

دلیپ کمار۔ برصغیر کی سلور اسکرین کے ایک دور نہیں بلکہ، ایک ’مکتب فن‘ کا نام۔ جنہوں نے پورے 44 برس، پہلے مشترکہ ہندوستان اور بعد ازاں بھارت کے سنیما پر اپنے انتہائی منفرد انداز سے نہ صرف راج کیا، بلکہ ایسے ”سپر اسٹار“ کی حیثیت سے اپنا لوہا منوا کر، پرفارمنس کا ایک مشکل ”بنچ مارک“ مقرر کیا، کہ ان کے بعد آنے والے متعدد فلمی ستارے، ”سپر اسٹار“ کا درجہ پانے کے باوجود ان کے مقام کو چھو نہیں سکے۔ اور دلیپ کمار، جیسے ’اعلیٰ اداکاری‘ کا استعارہ بن گئے۔ 11 دسمبر 1922 ء کو پشاور کے قصہ خوانی بازار کے نواح میں محلہ خداداد میں واقع، ہندکو بولنے والے، ایک اعوان پٹھان خانوادے میں جنم لینے والے محمد یوسف خان، بدھ، 7 جولائی 2021 ء کو ممبئی میں 98 برس، 6 ماہ، 26 دن کی عمر پا کر، اپنے ان گنت مداحوں کی آنکھوں میں اشک سجا کر، عدم کے راہی ہوئے۔

Read more

يکم جولائی: جب 169 برس قبل سندھ سے ايشيا کا پہلا ڈاک ٹکٹ جاری ہوا

  يکم جولائی نہ صرف مالی سال کا پہلا دن ہُوا کرتا ہے، بلکہ 1948ء میں ”بنک دولتِ پاکستان“ (اسٹیٹ بنک آف پاکستان) کے قیام اور 1970ء میں ”ون يُونٹ“ کے سیاہ دور کے اختتام سميت، کئی اور اہم قومی اور بين الاقوامی واقعات کے رُونما ہونے کا دن بھی ہے۔ اِن اہم تاریخی واقعات ميں سرِّ فہرست ايک واقعہ یہ بھی ہے کہ يکم جولائی ہی کے روز، 169 برس قبل، سندھ سے ہندوستان ہی نہیں، برِّصغير ہی نہیں، بلکہ ايشياء

Read more

ہمارے انکل سرگرم ہم سے روٹھ گئے!

ستر، 80 ء اور 90 ء کی دہائیوں میں پاکستان میں پیدا ہونے والے بچوں کی تربیت میں جہاں ان کے والدین اور اساتذہ کا اہم کردار رہا، وہیں اس دور کے ذرائع ابلاغ کے کچھ پروگراموں کا بھی بہت بڑا عمل دخل رہا۔ جن کی جانب سے سکھائی ہوئی مثبت باتوں کے نقوش، تاعمر ان کی شخصیت پر قائم و دائم رہیں گے۔ یوں تو عالمی سطح پر ”جنریشن۔ ایکس“ کو اب تک کی خوش قسمت ترین نسل کہا جا رہا ہے، جس نے تغیرات اور ٹیکنالوجیکل ارتقا کا جو انقلاب دیکھا ہے، وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آیا، مگر ہمارے وطن میں پنپنے والی وہی ”جنریشن۔

Read more

مقصودگل کا نونہالوں کے لئے کہانیوں کا سندھی مجموعہ: ”ہٹھیلی ہرنڑی“ (مغرور ہرنی)۔

سندھی ادب کے ماضی قریب میں مقصودگل کا نام اور ادبی مقام کسی بھی رسمی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ آپ شاعر ابن شاعر، ابن شاعر کی حیثیت سے سندھی کے ساتھ ساتھ اردو کے قادرالکلام اور صاحب طرز سخنور کی حیثیت سے تو اپنی پہچان رکھتے ہی ہیں، مگر ساتھ ساتھ ایک منجھے ہوئے مترجم، محقق، صحافی، مدیر، کالم نویس، افسانہ نویس، حضرت سچل سرمستؒ کے شارح اور بچوں کے ادیب کی حیثیت سے بھی جانے پہچانے جاتے ہیں۔

Read more

پک اینڈ ڈراپ (افسانچہ)

”سنیں!“ ”جی! آپ کو سننے کے لئے ہی مسلسل منتظر ہوں۔ آپ نہ جانے کہاں رہ گئیں، اتنی دیر سے۔ آپ کا فون مسلسل آف جا رہا تھا۔“ ”جی۔ معذرت عزیز من! سفر میں فون کی چارجنگ ساتھ چھوڑ گئی تھی۔ اسی لئے فون آف ہو گیا تھا، مگر میرا دھیان مسلسل آپ ہی کی جانب اٹکا ہوا تھا۔ کہ کہیں آپ واپس نہ چلے گئے ہوں۔ بقول گلزار صاحب کے : کوئی اٹکا ہوا تھا پل شاید وقت میں

Read more

شاہ عبد اللطیف بھٹائی ؒ کا چار سال قبل تخلیق شدہ مجسمہ

ایک دور تھا، جب مجسمہ سازی کو دنیا کے باقی خطّوں کی طرح دُنیا کے یہاں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، اور قیامِ پاکستان سے قبل موجودہ پاکستان کی جغرافیائی حدُود میں آنے والے کئی شہروں کے چوراہوں پر مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو خراج پیش کرنے کے لئے مُختلف خوبصورت مجسمّے نصب ہوا کرتے تھے، جو فنِ مجسمہ سازی کی اعلیٰ مثال اور یہاں کے مصوّروں کی فنّی

Read more

کل اور کسی نام سے آ جائیں گے ہم لوگ

دو برس بیت گئے۔ ہم خبروں میں عموماً ’’اچانک بچھڑ گئے” کے الفاظ تو روزانہ پڑھتے رہتے ہیں، مگر یہ تو واقعتاً اچانک ہی بچھڑ گئی اور ایک درد لادوا دے گئی۔ کیونکہ اس کے یوں اچانک اور ناگہانی جانے کا کسی کو گمان تک بھی نہ تھا۔ ایک طرف ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے یہ دو برس گزرنے میں کوئی وقت ہی نہیں لگا کہ ایک اور برس 2021ء کا 27 جنوری آن کھڑا ہو گیا۔ دوسری

Read more

پیر کا جن اور ڈاکٹر کا انجکشن (سندھی افسانے کا ترجمہ)

ثمینہ بینچ سے اٹھ کر اس مریضہ کی والدہ کی طرف بڑھ آئی، جس نے معصوم نگاہوں سے بغیر پوچھے اسے بتایا۔ جیسے ثمینہ ان چیخوں کی وجہ پوچھنے کے لیے اس کے پاس آئی ہو۔

”بیٹا۔ نل کے قریب سرسوں کا پیڑ ہے۔ گاؤں میں، یہ وہاں ننگی نہاتی پھرتی ہے۔ سایہ ہو گیا ہے اس پر۔“
”سایہ؟“ ثمینہ نے مارے حیرت کے پوچھا۔
”اس کو ایک ’جن‘ چمٹا ہے بیٹی!

گاؤں کے مولوی اشرف نے بھی بہت کوشش کی۔ جتنی اس کے بس میں تھی۔ بہت دم درود کیامگر کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ ہر ماہ کے پہلے پیر کی رات کو ’جوسب شاہ جیلانی‘ کی درگاہ پر بھی پوری پوری رات حاضری دے کر آئے ہیں۔ مگر بیٹا! ایک دھیلے کا فرق نہیں پڑا۔ اس کا جن تو بولتا بھی ہے۔

Read more

منفرد شاعر و صحافی، قاضی عبدالحئی قائل کی حیات و خدمات پر لکھی سندھی کتاب

16 دسمبر 2020 ء کا دن، سندھ کے منفرد شاعر، ادیب، صحافی، عظیم مدرس، تعلیم دان و سماجی کارکن، قاضی عبدالحئی ”قائل“ سرشاری کے 103 رے یوم پیدائش کے حیثیت سے ان کی یاد ساتھ لایا، جو ایک سو تین برس قبل، 16 دسمبر 1917 ء کو لاڑکانے ضلع کی زرخیز زمین کے رتو دیرو نامی قصبے سے متعلق، اس دور کے سندھی، عربی اور فارسی کے معروف شاعر، قاضی عبدالحق ”عبد“ کے گھر (والد کی ان دنوں سندھ کے ضلع جیکب آباد کے ”ٹھل“ نامی شہر میں تعیناتی کے باعث) ٹھل میں پیدا ہوئے، اور 23 جولائی 1989 ء کو مکۂ معظمہ میں، حج ادا کرنے کے بعد ، اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور وہیں ”جنت المعلیٰ“ کے شہر خموشاں میں سپرد خاک ہوئے۔

Read more

جبار آزاد منگی کی سندھی میں ریڈیو اسکرپٹس کی کتاب: ”ایٔ عشق جو آواز“ (یہ عشق کی آواز)

مختلف زبانوں کے نثر میں ایسے قلم کاروں نے، جن کا تعلق ریڈیو یا ٹیلی وژن سے رہا ہے، اپنے لکھے ہوئے اسکرپٹس کو کتابوں کی صورت میں ترتیب دے کر طبع کروایا ہے، تا کہ وہ گفتگو، جو ایک بار نشر ہو کر ہوا میں اڑ گئی، وہ محفوظ ہو سکے اور اس میں شامل تحقیق، مستقبل کے محققین کے لئے حوالے کے طور پر بھی کام آ سکے۔ ورنہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے پاس خود اپنے یادگار ترین پروگراموں کی نہ ریکارڈنگز محفوظ ہیں، نا ہی ان کے اسکرپٹ۔

کہنے کو تو پاکستان ٹیلی وژن کے تمام مراکز کے اندر اسکرپٹ لائبریری موجود ہیں، مگر ان کا احوال یہ ہے کہ مجھے جب کبھی جس کسی ٹیلی وژن پروگرام کا اسکرپٹ درکار ہوتا ہے، تو وہاں دستیاب نہیں ہوتا۔ ریڈیو پاکستان کے آرکائیوز کا احوال تو نا ہی پوچھیں! جہاں کہنے کو تو تمام صوبائی دار الحکومتوں کے ریڈیو اسٹیشن پر ”سنٹرل پروڈکشن یونٹ“ (مرکزی ادارۂ پیش کش) قائم ہیں، جن کا کام، نا صرف ریڈیو پاکستان کے تمام اسٹیشنوں کے لئے موسیقی اور گفتگو کے پروگرام، خواہ فیچرز بنا کر انہیں فراہم کرنا ہے، بلکہ اپنے اپنے خطے کے صوتی اثاثے کو محفوظ کرنا بھی ہے۔

Read more

شیخ عزیز: تین زبانوں کے منجھے ہوئے منفرد صحافی، محقق و مصنف

اس ملک میں صحافی تو بہت پیدا ہوئے ہیں، جن میں سے کئی ایک عظمت کے رتبوں پر بھی فائز ہوئے، مگر شیخ عزیز صاحب جیسے کثیر اللسانی، با صلاحیت اور ہمہ جہت صحافی، صاحب قلم، محقق، ماہر موسیقی اور کئی کتب کے مصنف کی صحافیانہ و قلمی خدمات کو یہ ملک ہرگز با آسانی فراموش نہیں کر سکتا۔

نامور و ممتاز صحافی اور قلم کار، شیخ عزیز نے، 9 دسمبر 1938ء کو سندھ کے دوسرے بڑے شہر اور سندھ کے ثقافتی دار الحکومت، حیدر آباد میں آنکھ کھولی۔ شیخ عزیز کا تعلق ایک علمی و ادبی خانوادے سے تھا۔ ان کے ایک بھائی، شیخ محمد اسمٰعیل، سندھی زبان و ادب کے معروف محقق تھے، جب کہ دوسرے بھائی، شیخ محمد ابراہیم، معروف براڈ کاسٹر گزرے ہیں، جو ریڈیو پاکستان حیدر آباد اور کراچی سے اپنے دور کے ڈرامے کے معروف پروڈیوسر کے طور پر جانے پہچانے گئے، اور دونوں اسٹیشنز کے ”پروگرام مینیجر“ بھی رہے۔

Read more

کشن چند بیوس: سندھی جدید شاعری کے نقیب کارواں

ہر زبان کے شعری ادب کی طرح سندھی زبان کا ادب بھی لوک، کلاسیکی، روایتی اور جدید ادب کی تقسیم سے مختلف دلپذیر رنگوں بٹا ہے، جن تمام اصناف اور ادوار میں سندھی ادب کا دامن، زرخیز تخلیقات سے بھرنے والے قلمکاروں کی فہرست بہت طویل ہے۔ سندھی ادب میں جدید ادب، بالخصوص شاعری کا آغاز، تقسیم ہند سے بھی بہت پہلے ہو چکا تھا۔ اگر یوں کہا جائے تو ہرگز مبالغہ نہ ہوگا، کہ بیسویں صدی اپنے آغاز کے

Read more

انگریز سامراج کے لیے ڈراؤنا خواب: شہید روپلو کولہی

1875 ء تا 1947 ء، برطانوی راج کے خلاف مشترکہ ہندوستان میں بیشمار چھوٹی بڑی تحاریک آزادی چلیں، جن میں سے ہم آزادیٔ ہندوستان کا ذکر کرتے ہوئے صرف ’سب سے بڑی سیاسی تحریک‘ کا ہی ذکر کیا کرتے ہیں، جبکہ ایسی بیشمار مصلح گوریلا تحریکوں کا ذکر نہیں کرتے، جن کا مقصد اور جن کی منزل بھی انگریز سے آزادی حاصل کرنا تھی۔ ان میں سے کچھ تحریکیں تو ’گوریلا جنگ‘ کا درجہ رکھتی ہیں، جن جنگوں کا ذکر تاریخ میں تو واضح طور پر ملتا ہے، مگر ہم اپنے نصاب میں اس کو جگہ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں، جس کی وجوہات متعدد ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب ہم ان تحاریک کے ذکر سے نسلوں کو دور رکھتے ہیں، تو ان تحریکوں میں اپنی جان کا نذرانہ دینے والے لاتعداد ہیروز سے متعلق بھی اپنی نسلوں کو نابلد رکھنے کا قصد کرتے ہیں، جو ہماری جانب سے ان سپوتوں کے ساتھ نہیں، بلکہ اپنی نسلوں کے ساتھ کی ہوئی زیادتی ہے۔

Read more

شہید موسیقی: ماسٹر مدن جسے ساڑھے 14 برس کی عمر میں زہر دیا گیا

اسے بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ ۔ ۔ اسے اور اس کے فن کی عظمت اور قد کاٹھ جاننے والے زیادہ تر لوگ یا تو اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے، یا پھر موسیقی کا ذوق رکھنے والے محدود حلقوں کا حصہ ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مشرق سے زیادہ مغرب میں موسیقی کے شائقین کے وہاں اسے جانا پہچانا جاتا ہے۔ اپنی وفات کے وقت، بظاہر فقط ساڑھے 14 برس کا ایک بچہ۔ ۔ ۔ مگر فن کا

Read more

کشور کمار: ایک دلنشیں آواز، ایک مدھر سرگوشی

4 اگست 2019 ء برصغیر کے عظیم فنکار، کشور کمار کا 91 واں یوم پیدائش ہے، اور جب لفظ ’فنکار‘ استعمال کیا جا رہا ہے، تو اس سے مراد صحیح معنوں میں وہ فنکار ہے، جو بہ یک وقت گلوکار بھی تھے، تو اداکار بھی! گیت نگار بھی تھے، توموسیقار بھی! فلموں کے پروڈیوسر بھی تھے، تو مکالمہ نگار بھی! جن کا تقریباً 41 سالہ فنی کیریئر اتنے تنوع سے بھرپور ہے، جس کی نظیر ہمارے خطے ہی نہیں، بلکہ

Read more

زرار پیرزادو کے منفرد سندھی کالمز کی کتاب: ”نوٹ کرنڑ جہڑیوں گالھیوں“ (نوٹ کرنے جیسی باتیں )

سندھ کے سندھی زبان میں خدمات انجام دینے والے نامور اور منفرد صحافی اور قلمکار، بلکہ ”صحافی ابن صحافی“ ، زرار پیرزادو، تعلیمی لحاظ سے تو ”ماہر آثار قدیمہ“ (آرکیالاجسٹ) ہیں، مگر عملی میدان میں وہ 90 ء کی دہائی سے سندھی صحافت سے عملی طور پر وابستہ ہیں۔ وہ سیماب مزاج ہرگز ہیں، جس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ اپنے کم و بیش تین دہائیوں پر مشتمل مکمل صحافتی کیریئر میں فقط ایک ہی اخبار

Read more

مولوی حاجی احمد ملاح: قرآن مجید کے منظوم سندھی مترجم

سندھی ادب کا ”سنہرا دور“ تو کلہوڑا دور حکومت ( 1719 ء تا 1788 ء) کو کہا جاتا ہے، لیکن ”سومرا دور حکومت“ ( 1050 ء تا 1351 ء) وہ اہم ترین دور ہے، جو سندھی زبان کے تحریری ادب کا نقطۂ آغاز ہے، جہاں سے ہمیں سندھی زبان میں تحریری ادب کی اولین نشانیاں ملتی ہیں۔ البتہ صدری ذرائع سے سندھی ادب، نثر خواہ نظم میں اس سے بھی قدیم ہے۔ سومرا دور حکومت اس حوالے سے بھی اہم

Read more

غلام مصطفیٰ عباسی: تیرا تذکرہ برسوں رہے گا۔۔۔

کسی بھی خطے کی تاریخ کے مطالعے سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ معاشروں کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر خدمات انجام دینے والی، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق اہم معروف شخصیات کے ساتھ ساتھ ایسے ان گنت گمنام کرداروں اور کارکنوں کا بھی ہاتھ رہا ہے، جو بے لوث انداز میں اپنا کام کرتے رہتے ہیں، لیکن آج ان کو انفرادی طور پر سے یاد نہیں کیا جاتا۔ وہ جس جس تحریک کا حصہ رہے، وہ وہ تحاریک

Read more

سید عبداللہ شاہ لکیاری۔ ایک نظریاتی سیاستدان، ایک کامیاب وزیر اعلیٰ

آج ہم سندھ کے بہادر، مدبر اور اپنے فیصلوں پر اٹل رہنے والے، نامور سیاستدان اور سندھ کے سابق وزیراعلیٰ، سید عبداللہ شاہ کا ذکر کر رہے ہیں۔ سید عبداللہ شاہ لکیاری، 1934 ء میں، سابقہ ضلع دادو اور موجودہ ضلع جامشورو کے تعلقہ سیوہن میں ’باجارہ‘ نامی گاؤں میں، مشہور زمیندار، سید مراد علی شاہ کے گھر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم باجارہ ہی میں حاصل کی، جبکہ میٹرک کا امتحان دادو کے گورنمنٹ پائلٹ ہائی اسکول

Read more

تاریخ کا ادراک، کرائے کے مورخ اور گالی بریگیڈ فورس

قلم اٹھاتا ہوں تو معاشرتی اور سماجی معاملات پر رائے دینے کا ارادہ ہوتا ہے مگر چاہتے، نہ چاہتے بھی، نگارش کے کسی نہ کسی موڑ پر تاریخ کی گلیوں تک بھٹک نکلتا ہوں۔ شاید یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مجھ سمیت ہم میں سے کوئی بھی اپنے آپ کو تاریخ سے علیحدہ نہیں کر سکتا، گویا ہمارا حال خواہ مستقبل ہمارے ماضی سے ہی جڑا ہوا ہے۔ اس کی ایک نظیر یہ بھی ہے کہ ہم ان

Read more

ایدھی صاحب کا تذکرہ۔ قلب بہ قلب، دہن بہ دہن

چار برس قبل، 8 جولائی 2016 ء کو 88 برس کی عمر میں ہم سے بچھڑنے والے عبدالستار ایدھی صاحب کے طبعی طور پر ہم سے جدا ہونے کا دکھ فقط اس قوم ہی کا نہیں، بلکہ پوری انسانیت کا دکھ بن کر سامنے آیا تھا، جس کا اظہار پوری دنیا نے بھرپور انداز میں کیا اور یہ اظہار جاری ہے اور جاری رہے گا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ایدھی صاحب کی زندگی، عمل سے تعبیر تھی۔ 8 جولائی

Read more

14 جون: خون عطیہ کرنے والوں کا عالمی دن

14 جون کا دن خون کا عطیہ دینے والوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی تو خون بہانے کے علاوہ پریمی کو ”اصیل عاشق“ ہی نہیں مانتے۔ وہ خون، جو زندگی کی علامت ہے۔ ۔ ۔ جو جب تک رگوں میں دوڑتا ہے، ان کو رباب بنائے رکھتا ہے، تو زندگی بولتی ہے۔ ۔ ۔ گاتی ہے۔ ۔ ۔ رنگ بکھیرتی ہے اور ایسی ہلچل مچائے رکھتی ہے، کہ عرش والے بھی حیرت

Read more

خالی پیٹ، آدھی دنیا اور غذائی تحفظ کا عالمی دن

کیا ستم ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال 1.3 ارب ٹن کھانا ضائع ہوتا ہے، جس کی مالیت ایک کھرب امریکی ڈالرز بنتی ہے۔ اس ضائع شدہ غذا کا روزانہ کے حساب سے تخمینہ لگایا جائے، تو مجموعی طور پر سیر شکم دنیا، یومیہ 35 لاکھ ٹن خوراک ضائع کر رہی ہے، جس کی مالیت کا یومیہ تخمینہ 2 ارب 73 کروڑ امریکی ڈالرز یعنی 4 کھرب 47 ارب پاکستانی روپوں سے بھی زیادہ ہے۔ اگر سمجھنے کی غرض

Read more

تکون (سندھی افسانے کا اردو ترجمہ)۔

”زری، یہ پتھر جب پانی سے لہر اور لہر سے دائرہ بناتا ہے، تب مجھے یہ خیال آتا ہے کہ جب زندگی کے اس بحر عمیق میں انسان اپنا جسم چھوڑتا ہے، تب کوئی بھی لرزش پیدا نہیں ہوتی۔ کوئی بھی لہر کسی دوسری لہر کو نہیں ہلاتی اور زندگی کا کوئی بھی مسئلہ، دائرہ بن کر نہیں گھومتا۔“

”توبہ، آخر تمہیں ہوا کیا ہے۔ تم مجھے یہاں اس لیے لائے تھے کہ میں یا تو بیٹھی تمہارا منہ تکتی رہوں اور تم لہریں گنتے رہو، یا پھر میں بیٹھ کر تمہاری تقریریں سنتی رہوں۔“

”یہی تو بات ہے زری، تم مجھ سے مطمئن نہیں ہو۔ مجھ سے کوئی بھی مطمئن نہیں ہے۔ مگر یقین مانو کہ میں بھی کسی سے مطمئن نہیں ہوں۔ ۔ ۔ سوائے ایک ہستی کے، جس سے لاپروا ہو کر میں خود کو جیسے دوسری الجھنوں میں الجھا دیتا ہوں۔ اگر وہ ہستی میری الجھن ہو تو میں ان دوستی کے مسائل کی طرف توجہ ہی نہ دوں۔“

Read more

پروفیسر ڈاکٹر عطا محمد ”حامی“ ۔ شخصیت اور ادبی خدمات

3 جون کو سندھ اور سندھی کے ممتاز شیریں بیاں شاعر، محقق، عالم، مترجم اور حضرت سچل سائیں ؒ کے شارح، پروفیسر ڈاکٹر عطا محمد ”حامی“ کو ہم سے بچھڑے 38 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ اس دار فانی سے ہر کسی نے کوچ کر جانا ہے اور یہاں کسی نے باقی نہیں رہنا، مگر جو لوگ اپنے حصے کا کام ایمانداری اور جانفشانی سے کر گزرتے ہیں، وہ اپنی عمروں سے زیادہ جیتے ہیں۔ سندھی علم اور ادب کی

Read more

ردا (سندھی افسانے کا اردو ترجمہ)

تحریر: تنویر عباسی – ترجمہ: یاسر قاضی میں نے اسے پہچانا ہی نہیں۔ اس میں میرا قصور نہ تھا۔ وہ واقعی کافی بدل چکا تھا۔ ملا بھی برسوں بعد تھا۔ اس کے گالوں میں کھڈے پڑ گئے تھے۔ بال اجڑے سے تھے، جن میں شاید کئی دنوں سے اس نے تیل نہیں ڈالا تھا۔ اس کا رنگ، دھوپ میں پڑے کسی پتے کی طرح جھلس گیا تھا۔ اس کے کپڑے بھی میلے ہوگئے تھے۔ جن کے اندر سے پسینے میں

Read more

رسول حمزہ توف: ”داغستان“ سے محبت کا اصل نسخہ جاننے والا

میرے ساتھ اس کا پہلا تعارف فیض صاحب نے کرایا، جب انٹرنیٹ والے گورکھ دھندے سے بہت پہلے فیض کی کتابوں میں ان کی نظموں کے منظوم تراجم پڑھے۔ فیض صاحب کے قلم سے کیے ہوئے یہ تراجم، نہ فقط اصل شاعر کی شاعرانہ عظمت کا بیان تھے، بلکہ ان نظموں میں فیض صاحب کی اپنی دانشورانہ نکہت بھی شامل تھی اور ساتھ ساتھ یہ تراجم فیض صاحب جیسے بڑے شاعر کی جانب سے اپنے ہمعصر ایک دوسرے بڑے اور

Read more

شبنم گل کا سندھی مجموعۂ کلام ”درد جی لے“

شبنم گل سندھی کی معروف و منفرد افسانہ نویس، ناول نگار، کالم نویس، شاعرہ اور دانشور کے طور پر پچھلی کم و بیش تین دہائیوں سے اپنی منفرد و ممتاز پہچان رکھتی ہیں۔ گوکہ شبنم بنیادی طور پر ایک فکشن نگار ہیں، مگر شاعری کے میدان میں بھی انہوں نے برسوں سے قلم آزمایا ہے، اور قارئین خواہ نقاد کی توجہ بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ ان کی شاعری کی پہلی کتاب ”آخری لفظ“ کے عنوان سے شایع

Read more

جب ٹیگور اور دیگر کے نوبل پرائز چوری ہوئے۔۔۔

اس دنیا میں شاید ہی کوئی شریف شخص چوروں کے ہاتھوں کی کارستانی سے محفوظ رہا ہو! ہر کسی کو اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی چھوٹے یا بڑے چوروں کی مصیبت سے نبرد آزما ہونا ہی پڑتا ہے، مگر یہاں ذکر ایک بعد از وفات چوری کی ہو رہی ہے، جو بھی کسی عام شخص کی نہیں، بلکہ مشہورعالم بنگالی و انگریزی شاعر، اسکالر، مصور، ڈرامہ نویس، تھیئٹر اداکار و ہدایتکار، شانتی نکیتن میں ”وسوا بھارتی“ جیسی عظیم درسگاہ

Read more

اوریانا فلاچی۔ تند و تیز انٹرویو کرنے والی بے لاگ صحافی

”مجھے آپ سے اس ’چادر‘ کے بارے میں بہت ساری باتیں پوچھنی ہیں۔ مثال کے طور پر: یہ وہی چادر ہے، جس کو پہننے کے لیے مجھے زبردستی پابند کیا گیا۔ ۔ ۔ جب میں آپ سے انٹرویو کرنے آ رہی تھی اور جس کو پہننے کے لیے آپ ایرانی خواتین کو زبردستی مجبور کر رہے ہیں۔ ۔ ۔ میں صرف اس ظاہری کپڑے کے ٹکڑے کی بات نہیں کر رہی، بلکہ یہ کپڑا جس پابندی کو ظاہر کر رہا تھا، میرا اشارہ اس طرف ہے۔ میرا مطلب ہے کہ آپ کے انقلاب کے بعد، امتیازی طور پر فقط ایرانی خواتین کو یہ پردہ کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ وہ مردوں کے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھ نہیں سکتیں، وہ ان کے ساتھ دفاتر میں کام نہیں کر سکتیں۔ وہ کسی سمندر میں یا سوئمنگ پول میں مردوں کے ساتھ تیر نہیں سکتیں۔ ان کو ہر کام یہ برقعہ پہن کر مردوں سے علیحدہ کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ ۔ ۔ بائی دی وے، مجھے یہ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ یہ برقعہ پہن کر پیراکی کیسے کی جا سکتی ہے؟“

یہ انتہائی تند و تیز سوالات، ”نتائج“ کی فکر کیے بغیر 1979 ء میں ایران کے دارالحکومت ’تہران‘ میں ایران کے پہلے سپریم لیڈر، روح اللہ موسوی۔ آیت اللہ خمینی سے ان کے مشہور ایرانی انقلاب کے فوراً بعد، معروف و دلیر اطالوی صحافی، اوریانا فلاچی نے (جن کو ”اوریانا فلاشی“ بھی کہا جاتا ہے ) بڑی جرات، بہادری اور صحافتی اعتماد سے کر رہی تھیں، جس انٹرویو کے لیے انہیں اس وقت کے ایرانی سرکاری حکام کی جانب سے برقعہ پہن کر آنے کے لیے پابند کیا گیا تھا۔

Read more

چابیاں

”آپ نے گھر کی چابیاں کہاں رکھی ہیں؟“ فریحہ نے اپنے شوہر سے پریشانی میں پوچھا۔ ”یاد نہیں۔ ۔ ۔ ڈریسنگ ٹیبل پر ہی ہوں گی ، جہاں رکھا کرتا ہوں۔“ عرفان نے، جو گھر کے لاؤنج میں بیٹھا کتاب پڑھنے میں مصروف تھا، بیوی کی گھبراہٹ کی طرف دھیان نہ دیتے ہوئے، تسلی اور یقین کے ساتھ، نیم توجہی سے جواب میں گویا ہوا۔ ۔ ۔ اس کی نظریں کتاب کے اسی صفحے پر ہی رہیں۔ ۔ ۔ ”وہاں

Read more

مائیکل فیراڈے : ہر زمانے کا بڑا سائنسدان

’سر آئزک نیوٹن‘ ( 1642 ء۔ 1726 ء) اور ’البرٹ آئن سٹائن‘ ( 1879 ء۔ 1955 ء) انسانی تاریخ کے انتہائی اہم اور بڑے آدمی ہیں، جو عالم انسانیت کو اس وقت حاصل بہت ساری آسائشوں میں سے بیشتر بنیادی اوضاع کو دریافت کرنے والے ہیں۔ ان دونوں غیر معمولی ذہین لوگوں کے درمیان والے عرصے میں دنیائے سائنس کا ایک تیسرا بڑا آدمی بھی پیدا ہوا، جس کو تاریخ ”سر مائیکل فیراڈے“ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ یہ

Read more

1943 ء میں سندھ اسمبلی میں منظور ہونے والی قرارداد پاکستان

15 اگست 1947 ء، بمطابق 27 رمضان المبارک 1366ھ، بروز جمعة الوداع، پاکستان وجود میں آیا اور اس برس 27ویں رمضان کی رات ہم نے پاکستان کے وجود کو ہجری تقویم کے لحاظ سے پون صدی مکمل کی۔ ان 75 برسوں میں ہم نے کیا کھویا، کیا پایا۔ ۔ ۔ یہ تو ایک طویل موضوع اور بحث ہے، جس پر لگ بھگ تمام فاضل قلمکار اپنے خیالات کا وقتاً فوقتاً اظہار کرتے رہتے ہیں، مگر تاریخ قیام پاکستان میں کچھ

Read more

رلی۔ سندھی ثقافت کی اہم اور قدیم علامت

تحریر: اسحٰق سمیجو
ترجمہ: یاسر قاضی

”رلی“ ، جس کو انگریزی میں ”کوئلٹ“ جبکہ سندھی میں ”رلی“ یا ”رلہی“ کہا جاتا ہے، صدیوں سے سندھ کی پہچان بنی ہوئی ایسی ظاہری علامات میں سے ایک ہے، جس کو دیکھتے ہی اس خطۂ یکتا کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے۔ یہ صرف کپڑے کے مختلف ٹکڑوں کو اقلیدسی شکل میں ترتیب سے کاٹ کے آپس میں جڑی ہوئی، قد آدم سے تھوڑی سی بڑی ایک ضخیم چادر ہی نہیں، جس کو مختلف تہوں میں سی کر، اوڑھنے خواہ بچھانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، بلکہ یہ تاریخ کا ایک ایسا حسین تسلسل بھی ہے، جو اس سرزمین کی تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف صورتوں میں نظر آتا ہے اوراس خطے کے صدیوں سے تہذیب یافتہ لوگوں کے ساتھ اس کے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔

Read more

مہدی حسن سے 21 برس پرانی ایک یادگار ملاقات

1996 ء میں شہنشاہ غزل، مہدی حسن پر ہونے والے فالج کے پہلے اٹیک کے بعد وہ عملاً گانے سے دور چلے گئے اور آج سے 8 برس قبل 13 جون 2012 ء کو وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ گو کہ فالج کے اس پہلے اٹیک کے بعد ان کی اکا دکا غزلیں ریکارڈ کی گئیں، مگر ان کی موسیقی کی دنیا کے لیے جتنی بھی خدمات تھیں، وہ اس سے پہلے ہی انجام دی جا چکیں۔

Read more

حق موجود سدا موجود (حضرت سچل سائیں ؒ کا 199 ویں سالانہ عرس)۔

معروف صوفی شاعر حضرت سچل سائیں ؒ کے ایک سندھی شعر کا ترجمہ ہے :
مجھ میں تم ہو، تجھ میں میں ہوں
بالکل اسی طرح اے میرے محبوب! جیسے بادل میں آسمانی بجلی ہوتی ہے۔

اب ایک بیت، ان کے پیش رو، شاعر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کا بھی پڑھ لیں (جو خود سچلؒ کے بارے میں کہہ کر گئے تھے کہ ”جو فکر کی دیگچی ہم نے چڑھائی ہے، اس کا ڈھکن سچلؒ اتاریں گے۔“ ) :

”اے میرے محبوب! اپنا تیر کمان میں ڈال کر مجھے نشانہ مت بنا!
کیونکہ مجھ میں تو تو ہے، ایسا نہ ہو کہ تیرا تیر تجھی کو گھائل کر دے ”

Read more