اِس موج کے ماتم میں، روتی ہے بھنور کی آنکھ

اقدار کی پاسداری اقوام کا فرض ہُوا کرتی ہے اور اقوام، افراد سے بنتی ہیں۔ فرد کی تربیت میں جہاں حسب و نسب کے ساتھ ساتھ اُس کی سنگت و صحبت کار فرما رہتی ہے، وہیں جس دور میں وہ جی رہا ہوتا ہے، اُس دورکے حالات و واقعات بھی اُس کی شخصیت پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ جینیاتی ماہرین تو یہ تک بھی کہتے ہیں کہ کسی بھی فرد کی عادات و اتوار میں کوئی قوی عادت یا جبلّت اُس کے ددھیال یا ننھیال کی بیسویں پُشت تک سے بھی اُس پر بدرجہء اُتم اثر انداز ہو سکتی ہے، تو کبھی اُس کے فوری والدین کی بھی کوئی عادت اُس میں نہ ہو، یہ بھی عین ممکن ہے۔

Read more

صحیح اور غلط کی تکرار

ویسے تو صحیح اور غلط کا تضاد اوریہ تکرار بہت قدیم ہے، یقینًا اُتنی ہی قدیم، جتنی یہ کائنات۔ صحیح اور غلط کی کسوٹی دور کی لحاظ سی بھی بدلتی رہتی ہے، تو ہر دور میں فرد سے فرد تک بھی اُس کی تعریف بدلتی رہتی ہے۔ عمُومی طور پر ”صحیح“ اور ”غلط“ کی تعریف وہی صحیح سمجھی جاتی ہے، جو لوگوں کی اکثریت کی لئے قابلِ قبول ہو۔ کچھ مثالیں ایسی بھی ملتی ہیں، جہاں پر کوئی غلط چیز اکثریت کے لئے قابلِ قبول ہوتی ہے، اس لئے وہ ”معیار“ بن جاتی ہے۔

Read more

”خوشیوں کے باغ“ سے گِرا ہوا اداس پُھول۔ ڈاکٹر انور سجّاد

ایک اور کمال کا ذہن، ہماری بے حسی کی بھینٹ چڑہ گیا۔ ہم نے ایک اور ورسٹائل، متنّوع کلاکار گنوا دیا۔ جس نے اپنے فن کے کئی رخوں پر مشتمل رنگوں سے ان گنت اداروں خواہ افراد کے بھاگ سنوارے، ہم نے تو اسے کافی عرصہ قبل، ان کے جیتے جی ہی مار دیا تھا اور اب تو وہ اپنی طبعی سانسیں بھی پوری کر کے ہم سے بچھڑ گئے۔ ڈاکٹر انور سجّاد بھی رخصت ہوگئے۔ وہ اسی پائے کے فکشن قلمکار، افسانہ نویس، ڈراما نگار، ناول نگار، اداکار اور صداکار تھے، جس لیول کے لوگوں کے نام کے ساتھ مغربی دنیا میں ”دی“ کا لفظ لگایا جاتا ہے، جو ”انجمن“ قرار دی جانے والی شخصیات ہوا کرتی ہیں، جن کے جینے کے تمام اخراجات برداشت کرنا، وہاں کی ریاست کے ذمّے ہوا کرتا ہے اور ان کی سانسیں ان پر بوجھ نہیں ہوتیں۔ مگر ہمارے یہاں ہر دوسرا فنکار اپنے جیون کی آخری سانسیں، ڈاکٹر انور سجّاد کی طرح کسمپرسی میں لے کر، بے یارومددگار چلا جاتا ہے۔

Read more

چُوڑیاں

حسبِ معمُول وہ سودا لینے گئی۔ اُس دن چھ آنے نہ جانے کیسے بچ گئے۔ سوچنے لگی کہ ان چھ آنوں سے کیا خریدوں۔ چلتے چلتے، اُس کی نظر، راستے کے کونے پر بیٹھے ایک سرخی پوڈر فروش کی صندوق پر پڑی۔ اُس صندُوق کے اُوپر طرح طرح کی رنگین چُوڑیاں رکھی ہوئی تھیں۔ اس نے اپنی ویران کلائیوں کی طرف دیکھا، جو کئی دنوں سے چُوڑیوں سے محروم تھیں۔ اس نے چُپ چاپ اپنے لئے چھ چُوڑیاں خریدیں اور گھر چلی آئی۔ گھر پہنچ کر، اُس نے اپنے بیٹے کو، جو اس کے کندھے پر ہی سو چکا تھا، چارپائی پر لیٹایا اور خود بیٹھ کر اپنی کلائیوں کو دیکھنے لگی۔ سوچنے لگی کہ جب اس کا شوہر اس کی چوڑیاں دیکھے گا، تو وہ ضرُور خوش ہوکر اُس سے ان چُوڑیوں کے بارے میں دریافت کرے گا۔

Read more

کرکٹ کا بارہواں عالمی میلہ

انگلنڈ اور ویلز کے میدانوں پر دنیا کا بارہواں کرکٹ ورلڈ کپ جمعرات، 30 جون سے شروع ہو چکا۔ ہر چار برس بعد منعقد ہونے والا یہ ورلڈ کپ، گزشتہ بار 2015 ء میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں منعقد ہوا تھا۔ 1975 ء میں برطانیہ ہی سے ورلڈ کپ کے انعقاد کا شروع ہونے والا سفر، 44 برس بعد پھر برطانیہ پہنچا ہے۔ برطانیہ اس بار پانچویں مرتبہ ورلڈ کپ کی میزبانی کر رہا ہے۔ پہلے تینوں عالمی کرکٹ کپ تواتر کے ساتھ ( 1975 ء، 1979 ء اور 1983 ء میں ) برطانیہ کی زیرِمیزبانی منعقد ہوئے، جو صرف انگلنڈ ہی کے مختلف کرکٹ میدانوں میں کھیلے گئے، جبکہ اس کے بعد 1999 ء میں جب برطانیہ نے چوتھی بار ورلڈ کپ کی میزبانی کی، تو اس کے میچز صرف انگلنڈ ہی میں نہیں، بلکہ ’ویلز‘ (جو برطانیہ ہی کی ریاست ہے ) سمیت یورپ کے دیگر تین ممالک آئرلینڈ، نیدرلینڈز اور اسکاٹ لینڈ میں بھی کھیلے گئے۔

Read more

اور سندھ کے دوسرے پہاڑ (The Mount of Pub) کوہِ پب

ایک بار، سندھ میں ضلع جامشورو میں سہون شریف کے قریب ’لکی‘ اور ’کِھیرتھر‘ کے پہاڑی سلسلے کے دامن سے براستہ سڑک گاڑی میں گزرتے ہوئے، تخلیقی رو میں بہتے ہوئے ایسے ہی یہ بات ذہن میں آئی تھی، کہ اگر پہاڑوں اور پہاڑی سلسلوں کی زبان ہوتی، اور اُن سے اِس زمین پر گُزرنے…

Read more

چاند اور روٹی

[ سندھی افسانے کا اردو ترجمہ ] (افسانہ: علی بابا | ترجمہ: یاسر قاضی)تب میں بہت چھوٹا تھا۔ مُجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے۔ ایک دن میری ماں بہت پریشان تھی۔ میں صبح سے بُھوکا تھا۔ ہمارے گھر کا سارا راشن ختم ہوگیا تھا۔ صبح کو ماں نے مُجھے ایک باسی روٹی کا ٹکڑا، بکری کے کھارے دُودھ کے ساتھ کھانے کو دیا تھا اور سَر پر شام آن پہنچی تھی۔ بُھوک کے مارے میرا پیٹ کَٹ رہا تھا۔ ماں نے مُجھے پڑوسن سے ادھار آٹا مانگنے کے لئے بھی بھیجا، مگر وہاں سے بھی انکار ہی پلے پڑا تھا۔ اماں پورا دن اپنی مِیٹھی اور لطیف باتوں سے میرا دل بہلاتی رہی، جن سے تھوڑی دیر کو میری بھوک کا احساس کچھ کم ضرور ہُوا۔

Read more

تذکرہء اولیائے سندھ

ویسے تو برِّصغیرکی سرزمین، اولیاء اور صُوفیوں کی دھرتی سمجھی جاتی ہے، مگر سرزمینِ سندھ بھی اپنے سینے میں لاکھوں لعلوں کو بَسائے ہوئے ہے، جنہوں نے امن اور یگانگت کے پیغام کی تروِیج سے، مُحبّت اور اخوّت کا درس عام کیا اور لوگوں کے دلوں سے نفرتوں کو دھویا۔ آج کی اس مختصر نوشت…

Read more

قابلیت اور ذہانت میں فرق

ملک کے معروف دانشور اور عالم، آغا سلیم صاحب بڑی پتے کی بات کہا کرتے تھے کہ ”کوئی دور تھا، جب لوگوں کے پاس“ شعور ”تھا۔ اس کے بعد ہمارا (ان کا) دور آیا، جس میں ایک سطح کم ہوئی اور شعورمند لوگ تو کم ہوگئے، البتہ باعلم اور عالم لوگ پھر بھی تھے۔ یعنی لوگوں کے پاس علم باقی رہ گیا۔ مگر اب آپ لوگوں (ہمیں مخاطب ہوتے ہوئے کہا کرتے تھے ) کا دور آیا ہے، جس میں بس معلومات (انفارمیشن) ہی رہ گئی ہے۔ تم لوگ (ہم لوگ) معلومات کے پیچھے دوڑتے رہتے ہو۔

Read more

سچل سائیں میرا

سندھ کی اساسی شاعری کے انتہائی اہم شاعر اور بعض روایات کے مُطابق، حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ کے بقول اُن کی چڑھائی ہوئی دیگچی کا ڈھکنا اُتارنے والے، حضرت سچل سرمستؒ کا 198 واں عُرسِ مُبارک، پیر، 20 مئی ( 14 رمضان المُبارک) اور منگل، 21 مئی ( 15 رمضان المُبارک) کوضلع خیرپُور کے تعلقہ گمبٹ میں واقع، اُن کے آبائی مسکن، ’درازا شریف‘ (جس کو ہم جیسے طالب العلم ’درِراز‘ بھی کہتے ہیں ) میں منایا جا رہا ہے۔(یہاں پر میں ’روایتی جوش و خروش‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کرُوں گا، جو اس قسم کے مواقع کو رپورٹ کرتے ہوئے، تقریباً تمام اخبارات اور چینلز کا ایک روایتی (اسڻیریو ڻائپ) جُملہ ہُوا کرتا ہے ) ، کیونکہ مجھے ہر برس اس ’روایتی‘ جوش و خروش میں بھی بتدریج کمی ہی نظر آتی ہے۔ میں تو زیادہ سے زیادہ گذشتہ 2 دہائیوں سے اس میلے کی تقریبات کو دیکھنے کا شرف حاصل کررہا ہُوں، اس ضمن میں جو لوگ اس سے بھی پہلے سے اس میلے کو دیکھتے آرہے ہیں، اُن کا تجربہ شاید میرے مشاہدے سے بھی زیادہ تلخ ہو۔

Read more