شاہ عبد اللطیف بھٹائی ؒ کا دو سال قبل تخلیق شدہ مجسمہ

ایک دور تھا، جب مجسمہ سازی کو دنیا کے باقی خطّوں کی طرح دُنیا کے یہاں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، اور قیامِ پاکستان سے قبل موجودہ پاکستان کی جغرافیائی حدُود میں آنے والے کئی شہروں کے چوراہوں پر مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو…

Read more

چار دُشنام [ سندھی افسانے کا اردو ترجمہ ]۔

( افسانہ نگار: جبّار آزاد منگی | ترجمہ: یاسر قاضی ) آج مجھے دو جرائم کا فیصلہ سُنانا ہے۔ آج مجھے انصاف کرنا ہے۔ ایک قتل کا جرم، جس جرم میں ایک غریب کسان ملزم ہے، جس کے بیل کی ٹکر سے گاؤں کے سرغُنے کا بیٹا ہلاک ہو گیا ہے۔ ملک کے قانون نے…

Read more

اندر میں ابلیس

وہ بہت معزز، شریف اور نیک مرد کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔ مُحلّے کی مسجد کا پیش امام تھا۔ اس کے چہرے پر سیاہ ریش کے زیادہ تر بال کچھ سفید بالوں کے ساتھ نمایاں تھے۔ سر پر سفید جالی والی ٹوپی پہنتا تھا، جبکہ اس کے کندھوں پر رومال رکھا ہوتا تھا۔ پڑوس کے لوگ دین کے تمام معاملات و مسائل اسی سے پوچھنے آیا کرتے تھے۔ جمعے کی نماز سے پہلے والی اس کی تقریر اکثر طویل ہُوا کرتی تھی، جس میں وہ اکثر جنّت اور دوزخ کے موضوع کا ذکر کیا کرتا تھا۔ حاضرین اس کی تقریر سے بیحد متاثر ہوا کرتے تھے۔ اس کا کردار بظاہر ایک بزرگ اور معلم والا تھا۔ ہر کوئی اس پر اندھا اعتماد کیا کرتا تھا۔

Read more

جنابِ والا، ٹُول بکس خالی ہے

18  اگست 2018ء سے لے کر ہم عوام کو اور بھلے انگنت مصائب و مسائل و مشکلات کا سامنا رہا ہو، جِینا اجیرن ہو گیا ہو، تنخواہ میں گزارا ہونا مشکل ہوگیا ہو، کئيوں کے روزگار تک چِهن گئے ہوں، یا اور کسی معاشی یا معاشرتی افتاد کا سامنا ہو، مگر ایک مزہ ضرور ہے…

Read more

بہرُوپیا

( سندھی افسانے کا اردو ترجمہ ) تحریر: ڈاکٹر ایاز قادری ترجمہ: یاسر قاضی شکیلہ کا ہاتھ آہستہ آہستہ اپنے بالوں کی طرف بڑھا۔ اس کی چوٹی میں گلاب کا تازہ کِھلا ہوا پُھول ظلمات میں نُور کی کرنوں کی طرح چمک رہا تھا۔ اس نے اپنے بالوں سے گلاب کو کھینچ کر نکالا۔ آہستہ آھستہ…

Read more

پیرپَٹھوؒ

برِصغیر ہندوپاک، بزرگانِ دین کی آماجگاہ رہا ہے۔ یہاں اسلام ہی نہیں، بلکہ دیگر کئی مذاہب کے بزرگان، صدیوں سے نیکی کے پیغام کو عام کرنے کے لئے اپنی زندگیاں وقف کرتے رہے۔ افسوس ہے کہ ہمارے پاس اپنے خطے میں جنم لینے والے یا باہر سے آکر یہاں وفات پانے اور مُستقل طور پر…

Read more

ڈاکٹرجارج ابراہم گریئرسَن۔ برِصغیر کی لسانیات کا محسن

ویسے تو سندھی ادب و ثقافت کے فروغ کو نظر میں رکھتے ہوئے سُومرا دورِ حکومت کے بعد کلہوڑا دورِ حکومت کو سُنہرا دور کہا جاتا ہے، جس نے ہمیں حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ جیسا شاعری کا خاورِ درخشاں دیا، لیکن اس کے باوجود سندھی زبان کے گرامر، ادب اور بذاتِ خود رسم الخط…

Read more

قومی اداروں کا زوال۔ فکر کس کو ہے؟

بد قسمتی سے ہمارے یہاں دیگر بے شمار باتوں اور اصطلاحات کی طرح لفظ ”قومی“ کے بھی صحیح معنی اور تعریف مروج نہیں ہے۔ ہم لفظ ”قومی“ (کے جُز کی بجائے اُس) کی ضد ”صوبائی“ یا ”علاقائی“ سمجھتے ہیں، جبکہ مختلف صوبوں اور خطّوں میں بسنے والے انسان بھی اپنی الگ الگ قوم کی حیثیت رکھتے ہیں، جو سب مل کر ”پاکستانی قوم“ کو تشکیل دیتے ہیں۔ بالکل اُسی طرح، جس طرح بحیثیت ”پاکستانی ثقافت“ کوئی چیز وجُود نہیں رکھتی، بلکہ پاکستان کے مختلف خطوں، علاقوں اور صوبوں کی ثقافتیں ملک کر وہ گلدستہ بناتی ہیں، جس کو ہم ”پاکستانی ثقافت“ کہتے ہیں۔

Read more

دریائے سندھ کی سیر کا پہلا راقم، انگریز جاسُوس الیگزینڈر برنس

دریائے سندھ کا وجود صدیوں سے ہے۔ اس کی تاریخ یقیناً اتنی ہی پرانی ہے، جتنی نمکین (سمندری) پانی سے ہمارے سیّارے کے خشک حصّے نمودار ہونے کی تاریخ۔ دریائے سندھ کے کناروں پر آباد ہونے والی ہماری تہذیب (وادیء سندھ کی تہذیب) دنیا کی چار قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ ہماری تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اس کے بیشتر حصّے سے لاعلم ہیں۔ (یاد رہے کہ ’تاریخ‘ کی تعریف یہ ہے کہ ’جو کچھ بِیت چکا ہے‘ ، نہ یہ کہ ’اس بپتا میں سے جو کچھ قلمبند کیا جا چکا ہے یا جو کچھ ہم جانتے ہیں۔‘ )

Read more

راہِ نجات

[ سندھی افسانے کا اردُو ترجمہ ]
تحریر: نجم عبّاسی
ترجمہ: یاسر قاضی

وہ خیالوں کے طُوفان سے پیچھا نہیں چُھڑا پا رہا تھا۔ اس نے اُٹھ کر ریڈیو لگایا۔ اور اُس کی آواز بلند کر دی۔ مگر اس کے کان، باہر کی آواز کی جانب مُتوجّہ نہیں ہو پائے۔ وہ نہانی تذبذُب کی سرگوشیاں سن رہے تھے۔

Read more