جنابِ والا، ٹُول بکس خالی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

18  اگست 2018ء سے لے کر ہم عوام کو اور بھلے انگنت مصائب و مسائل و مشکلات کا سامنا رہا ہو، جِینا اجیرن ہو گیا ہو، تنخواہ میں گزارا ہونا مشکل ہوگیا ہو، کئيوں کے روزگار تک چِهن گئے ہوں، یا اور کسی معاشی یا معاشرتی افتاد کا سامنا ہو، مگر ایک مزہ ضرور ہے کہ روز ایک نیا تماشہ دیکھنے کو ضرور ملتا ہے- صبح نہیں تو شام، اسمبلی کے اندر نہیں تو اسمبلی سے باہر، کابینہ کے اجلاس میں نہیں تو کسی پریس بریفنگ میں، کسی تقريب سے خطاب کرتے ہوئے نہیں تو کسی ٹی وی ٹاک شو میں “ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے—“

کبھی فوّاد چودھری صاحب 55 روپے فی کلومیٹر ہیلی کاپٹر چلا کر عوام کو بھی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کا مشوره دیتے ہیں، تو کبھی فيصل واوڈا، ایک مہینے کے اندر عوام کے نوکريوں تلے دب جانے کی پیش گوئی کر دیتے ہیں اور یہ خوشخبری سنا کر ہمیں تو پاگل ہی کر دیتے ہیں کہ، عنقريب پان والا مزدور، سبزی فروش، پھل فروش اور ڻھیلے والا، حکومت کی منّت و سماجت کرے گا کہ “از راہِ خدا مجھ سے ٹیکس لے لو!” کبھی مراد سعيد اسمبلی کے چلتے ہوئے اجلاس میں کسی پر جھپٹ پڑتے ہیں اور ان ہی کے اپنے ساتھی ان کو پکڑ پکڑ کر بٹھانے کی ناکام کوشش کر رہے ہوتے ہیں، کبھی آپ کی اسمبلی میں لفظ “سلیکٹڈ” بولنے پر تو پابندی لگ جاتی ہے، مگر آپ کی ايک وفاقی وزير کی جانب سے حزبِ اختلاف کے کسی سينيئر سياستدان کو “اسٹُوپڈ” کہنے پر وہ لفظ حذف تک نہیں کیا جاتا-

کبھی اپنے ہی ملک میں کرکٹ کے سب سے بڑے میلے میں شریک ہونے والے کھلاڑیوں کو “ريلُو کٹے” کا خطاب ديا جاتا ہے، تو کبھی آپ کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات لوگوں کو “دو ٹکے کے” کہہ کر اپنی فرعونيت کا مظاہرہ کرتی ہیں- کبھی ہمارے وزيرِاعظم خود اقوامِ متحده جیسے دنيا کے سب سے بڑے بين الاقوامی فورم پر پاکستان کی جانب سے “القاعده” کی تربيت کرنے جیسا غير ذميدارانہ بیان دیتے ہیں، تو کبھی اعلان فرما دیتے ہیں کہ “ہم ترکی اور ملائيشيا کے ساتھ مل کر ‘بی بی سی’ کی طرز کا ٹیلی ویژن چينل شروع کرنے جا رہے ہیں— اور وہ بھی جلد!” (يعنی دلہن اور وہ بھی چاند سی—)

حکومت کو تیرہ ماہ ہو گئے اور ان تیرہ ماہ میں ایک جائز تنقيد جو اپوزيشن کے ساتھ ساتھ میڈیا، غير جانبدار ناقدين، تجزیہ کاروں اور دیگر تمام حلقوں سے ہمہ وقت ہوتی رہی ہے کہ “خان صاحب، اب آپ کنٹینر پر نہیں کھڑے، کہ آپ کسی کے بارے میں کوئی بھی غير ذمہ دارانہ بيان دے دیں گے اور آپ کی بات کو نظر انداز کر ديا جائے گا- کچھ بھی ہو، جیسے تیسے کر کے اب آپ ملک کے وزيرِاعظم بن گئے ہیں اور اب آپ کا ایک معمولی ترین فقرہ بھی آپ کا نہیں، آپ کے ملک کا بیانيہ ہے، اس لیے اب آپ کو ایک ایک جملہ سوچ سمجھ کر بولنا ہوگا-

اور دوسری بات یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آپ صرف اپنی جماعت کے وزيرِاعظم نہیں ہیں، بلکہ ملک کی ہر چهوٹی بڑی جماعت سميت پاکستانی عوام کے ہر ایک فرد کے وزيرِاعظم ہیں اور ہر ایک پاکستانی کی نہ صرف ترجمانی کرنا آپ کا فرض ہے، بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلنا بھی آپ کی اوّلين ذمہ داریوں میں شامل ہے-“

اب یہ نیا “ہوائی فائر” آپ نے چھوڑ کر تالیاں تو بجوا لیں، مگر یہ ہوا میں محل بنانے کا آپ کو مشوره کس نے دیا تھا؟ کہ آپ ایک نیا ٹی وی چينل بنائیں گے اور وہ بھی تُرکی اور ملائيشيا کے ساتھ مل کر، جہاں پر پریس اور میڈیا کا حشر کيا ہے، یہ آپ اپنے لاتعداد معاونينِ خصوصی اور بيشمار مشيروں کی فوج ظفرِ موج میں سے کسی ایک پڑھے لکھے رکن سے پوچھ لیتے- ملائيشيا میں میڈیا کی پابندیوں کا عالم یہ ہے کہ وہاں پر کئی صحافی اپنا پیشہ تبدیل کر چکے ہیں- وہاں کا ہر اخبار اور چينل مہاتیر حکومت کا بھونپُو بنا ہوا ہے، ایسا نہیں کرتے تو انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے-

ترکی میں انگنت صحافی (جنہوں نے حاليہ پاور کی تبدیلی پر فتح الله گولن کی حمایت میں رپورڻنگ يا تبصرے کئے تھے-) لاپتہ ہیں اور نامعلوم مقامات پر رکھے گئے ہیں، جبکہ 15 جولائی 2016ء کے بعد 231 صحافی سلاخوں کے پیچھے ہیں- وہاں کا ہر چينل وہاں کا “پی ٹی وی” بنا ہوا ہے- ایسے ملکوں کے ساتھ مل کر آپ ‘بی بی سی’ کی طرز کا چينل بنانے جا رہے ہیں، جو دنيا کے سامنے “اسلاموفوبیا” کے رد میں ہمارا کيس پیش کرے گا-

وزيرِ اعظم صاحب خود بڑا عرصہ برطانیہ میں رہ چکے ہیں۔ امید ہے کہ انہیں معلوم ہوگا کہ ‘بی بی سی’ برطانوی سرکار کی فنڈنگ پر چلتا ہے (اور ایک بھی اشتہار نشر نہیں کرتا) اور اسی برطانوی حکومت کا سب سے بڑا ناقد ہے، جس پر تنقید کی اُسے کھلی اجازت ہے، اور یہی مغرب کی آزادی اظہار کا حسن ہے- ہماری حکومت سے ایک حفيظ الله نیازی صاحب کے تبصرے تو ہضم نہیں ہوتے، کہ ان کی تھوڑی سی تنقید پر ان کے کسی بھی ٹاک شو میں نظر آنے پر ‘پیمرا’ کے ذريعے پابندی لگوا دی جاتی ہے-

اپوزيشن کی کوئی رہنما اگر منڈی بہاؤالدين میں لاکھوں لوگ جمع کر لیتی ہے، تو آپ کو اس قدر خطرہ لاحق ہو جاتا ہے کہ نہ صرف وہ جلسہ نشر کرنے پر پابندی لگ جاتی ہے، بلکہ کئی دنوں تک اس رہنما کا نام تک آن ايئر لینا جُرم بن جاتا ہے- حکومت تب تک سکھ کا سانس نہیں لیتی، جب تک وہ رہنما جیل نشین نہیں ہو جاتی- پریس اور آزادی اظہار پر قدغن کی اس حد تک قائل حکومت ‘بی بی سی’ کی طرز کے چينل کا اجراء کرے گی، اور وہ بھی ترکی اور ملائيشيا کے ساتھ مل کر، جو آزادی اظہار پر آپ سے بھی کہیں زیادہ “مہربان” ہیں-

اور اسی ترکی کے ساتھ مل کر آپ خالد بن ولید اور طارق بن زياد جیسے اسلام کے عظيم کرداروں پر فلمیں بنائیں گے، جن کے ہمارے چينلز پر ڈبنگ کے بعد نشر ہونے والے عام گھریلو ڈراموں میں 30 فیصد مناظر سنسر کر کے نشر کرنا پڑتے ہیں اور باقی 70 فیصد مناظر پر مشتمل ڈراموں کے منفی اور ہماری سوسائٹی سے متصادم موضوعات سے اس معاشرے میں کس قدر خلفشار پھيل رہا ہے، اس کو ناپنے والی دوربین آپ کے پاس شاید نہ ہو!

تو جنابِ والا! آپ کا اب کی بار والا لطیفہ تو سابقہ تمام لطیفوں سے سبقت لے گیا- اور اس پر داد دینے کا دل چاہا، مگر یہ بھی بتانا ضروری ہے، کہ آپ اندھیرے میں جس ڻُول بکس میں ہاتھ ڈال کر سامانِ شہرت کے متلاشی ہیں، وہ ڻُول بکس خالی ہے-

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •