قائد اعظم، مہاتما گاندھی اور دونوں کی ناخلف اولاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خوشونت سنگھ نے ایک بار لکھا کہ ” ہم ہندوستانیوں کو یہ بات ملحوظ خاطر رکھنی چاہیے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان سے ہمارے تعلقات استوار ہوں، تو ہمیں ان کے لیڈروں کا احترام سیکھنا ہو گا ۔ ہمارے لیے مہا تما گاندھی کی جو اہمیت ہے ، پاکستانیوں کے نزدیک وہی اہمیت قائد اعظم کی ہے”.

آنجہانی خوشونت سنگھ نے اپنے ہم وطنوں کو جو نصیحت کی اس کا اطلاق پاکستانیوں پر بھی برابر ہوتا ہے کہ ہمیں بھی ہندوستان کے ان سیاسی رہنماؤں کا احترام سیکھنا ہو گا جو ان کے قومی ہیروز ہیں۔ پاکستان میں ہندوستان کی آزادی کے سب سے بڑے ہیرو مہا تما گاندھی کے بارے میں کیا کچھ نہیں کہا جاتا۔ اس کے لیے فقط پاکستان کے اس نام نہاد پڑھے لکھے طبقے کو ہی لے لیں جو بزعم خود تاریخ سے آگاہی کا دعویدار ہے جس نے گاندھی جی کے بارے میں ایسی ایسی گل افشانیاں کر رکھی ہیں کہ گاندھی جی کا مجموعی تاثر ایک چالاک، مکار اور بہروپیے کی صورت میں ذہن میں ابھرتا ہے۔ اس ملک میں برصغیر میں جدو جہد آزادی کے حالات و واقعات پر ایک مخصوص ذہنیت نے گاندھی جی کی شخصیت کو ایسی صورت میں ابھارا ہے کہ جس میں وہ اسلام دشمن اور پاکستان دشمن کے روپ میں نظر آتے ہیں۔

بلاشبہ گاندھی جی پاکستان کے قیام کے مخالف تھے اور ان کی سیاسی جد وجہد ایک اکھنڈ بھارت کے قیام کے لیے تھی۔ قائد اعظم اور گاندھی جی کے سیاسی اختلافات تھے اور دونوں کے برصغیر کے مستقبل کے بارے میں خیالات و نظریات بھی مخالف سمتوں میں بہتے رہے لیکن کیا دونوں نے ایک دوسرے کی اس صورت میں تضحیک و توہین کی جس کا تاثر ہندوستان اور پاکستان میں ایک دوسرے کے بانیان ملک کے بارے میں پائے جاتے ہیں؟ ایسا ہرگز نہیں تھا ۔ سیاسی نظریات میں شدید نوع کا اختلاف رکھنے کے باوجود کم از کم قائد اعظم نے گاندھی جی کو کبھی بھی تضحیک آمیز انداز میں مخاطب نہیں کیا اور نا ہی ان کی وضع قطع اور بودو باش پر کبھی کوئی رکیک جملہ کسا۔ گاندھی جی نے بھی جناح صاحب کو ہمیشہ عزت و تکریم سے مخاطب کیا۔

قائد اعظم کو گاندھی جی کی بجائے توہین آمیز ناموں سے تو خود مسلمانوں نے پکارا جو ان کے نظریات سے اختلاف میں اس حد تک گر گئے کہ انہیں”کافر اعظم” تک قرار دیا۔ قائد اعظم اور مسلم لیگ سے جماعت احرار کو سخت اختلاف تھا اور وہ اس اختلاف میں اس قدر بڑھے کہ ایک احراری مولوی مظہر علی اظہر نے قائد اعظم کی محترمہ رتی بائی سے شادی پر انہیں ایک نہایت بےہودہ شعر کی صورت میں تضحیک کا نشانہ بنایا جسے دہرانا بھی بدتہذیبی کے زمرے میں شمار ہو گا ۔

اسی طرح قائد اعظم کی تخلیق پاکستان کو بھی مذہبی جماعتوں نے تنقید کا کچھ یوں نشانہ بنایا کہ جماعت اسلامی نے اسے ‘ناپاکستان” قرار دیا اور مولانا حسین مدنی کی جمعیت علمائے ہند نے اسے پلیدستان کے نام سے پکارا۔

دوسری جانب گاندھی جی کو بھی ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے سخت مخاصمت کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے بارے میں توہین آمیز گفتگو سے بات بڑھتے بڑھتے ان کے قتل تک جا پہنچی جو ایک ہندو انتہا پسند نتھو رام گوڈسے کے ہاتھوں ہوا۔ گاندھی جی کے قتل کا موجب ان کا پاکستان کو اثاثوں اور وسائل میں جائز حق دینے پر ان کے مطالبے پر ہوا جس کے لیے انہوں نے بھوک ہڑتال تک کی۔

گاندھی جی نے ایک بار قیام پاکستان کے سیاسی زعماء کے بارے میں کہا کہ “جناح اسٹیس مین ہے۔ لیاقت علی خان سیاسی شخص ہے اور حسین شہید سہروردی لیڈر ہے”. گاندھی جی کی حسین شہید سہروردی کے لیے ستائش کے پس پردہ دونوں کا مل کر مغربی بنگال میں ان کمیونل فسادات کی آگ کو بجھانا ہے جس میں گاندھی جی اور سہروردی نے شانہ بشانہ ہو کر فسادات کی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

برلا ہاؤس دہلی میں اپنے قیام کے بعد گاندھی جی مشرقی پنجاب میں فسادات کی آگ کو بجھانے کے لیے دورے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے کہ وہ ایک ہندو انتہا پسند کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔ قائد اعظم کی دعوت پر گاندھی جی پاکستان کے دورے کے لیے تیار ہو گئے تھے اور اگر ان کا قتل نہ کیا جاتا اور یہ دورہ ہو جاتا تو شاید دشمنی اور عناد میں لتھڑے ہندوستان اور پاکستان کے باہمی تعلقات مختلف ہوتے۔

گاندھی جی کے قتل پر قائد اعظم کا تعزیتی پیغام خود اس بات کا مظہر ہے کہ دونوں کے نظریاتی اختلاف کے باوجود احترام کا جذبہ اپنی جگہ برقرار تھا۔ ہندوستان کی بد قسمتی کہ وہاں گاندھی جی جیسی مہان شخصیت کو مسلمانوں اور پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھنے پر صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے اور ہندو انتہا پسندانہ نظریات کو اس طرح فروغ ملتا ہے کہ اج آر ایس ایس کا نظریہ ہندوستان کے سیکولر وجود کو چھلنی کر رہا ہے۔ پاکستان کی بھی یہ بدقسمتی ٹھہری کہ قائد اعظم کے ترقی پسند اور جمہوری آدرشوں کی بجائے یہاں انتہا پسندانہ اور آمرانہ سوچ و فکر کو پنپنے کا موقع ملا۔ جب یہ ملک قائد اعظم کے نظریات کی بجائے ایوب خان، شیر علی خان، جنرل ضیاء، مولانا مودودی، مشرف اور طالبان کی سوچ تلے سسکتا رہا ہو تو پھر یہاں قائد اعظم کے نظریات کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ پھر بھلا کوئی خاک گاندھی جی کی شخصیت کا احترام کرنا سیکھے گا۔ پاکستانی اور ہندوستانی دونوں ناخلف اولادیں ہیں جو اپنے بابائے قوم اور باپو کے نقش پا پر چلنے کی بجائے تعصب کے غبار میں کھو گئیں، غیروں کے کہنے میں آ کر اپنی قسمت اور راہ دونوں کھوٹی کر چکی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •