آدھے گھنٹے کا خدا – اردو کا شاہکار افسانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ آدمی اس کا پیچھا کر رہے تھے۔ اتنی بلندی سے وہ دونوں نیچے سپاٹ کھیتوں میں چلتے ہوئے دو چھوٹے سے کھلونوں کی طرح نظر آ رہے تھے۔ دونوں کے کندھوں پر تیلیوں کی طرح باریک رائفلیں رکھی نظر آ رہی تھیں۔ یقیناً ان کا ارادہ اسے جان سے مار دینے کا تھا۔ مگر وہ لوگ ابھی اس سے بہت دور تھے۔ نگاہ کی سیدھ سے اس نے نیچے کی طرف دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں اندازہ کیا۔ جہاں پر میں ہوں وہاں تک ان دونوں کو پہنچے میں چار گھنٹے لگیں گے۔

تب تک۔ ۔ ۔ اس نے پُر اُمید نگاہ سے گھوم کر اپنے اُوپر پہاڑ کی چوٹی کو دیکھا۔ ساردو پہاڑ کی بارہ ہزار فٹ اُونچی چوٹی اس سے اب صرف ایک گھنٹے کی مسافت پر تھی۔ ایک دفعہ وہ چوٹی پر پہنچ جائے پھر دونوں کے ہاتھ نہ آ سکے گا۔ ساردو پہاڑ کی دوسری طرف گڈیالی کا گھنا جنگل تھا جو اس کا دیکھا بھالا تھا۔ جس کے چپے چپے سے وہ اتنی ہی آگاہی رکھتا تھا جتنا اس جنگل کا کوئی جنگلی جانور رکھ سکتا ہے۔ اس جنگل کے خفیہ راستے، جانوروں کے بھٹ، پانی پینے کے مقام سب اسے معلوم تھے۔ اگر ایک دفعہ وہ ساردو پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گیا تو پھر اپنا پیچھا کرنے والوں کے ہاتھ نہ آ سکے گا۔ جب وہ چوٹی پر پہنچ جائے گا تو اسے دوسری طرف کی سرسبز ڈھلوانوں پر گڈیالی کا جنگل دکھائی دے گا اور جنگل سے پرے سرحد کا پل جسے ڈائنا میٹ لگا کر اُڑا دیا گیا تھا۔

گرے ہوئے پل کے اس پار اس کا اپنا دیس تھا۔ ایک بار وہ چوٹی پر پہنچ جائے۔ پھر اسے نیچے ڈھلوان کے گھنے جنگل کو طے کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔ اگر پل نہیں ہے تو کیا ہوا، وہ بہت عمدہ تیراک ہے۔ وہ گڈیالی ندی عبور کر کے اپنے دیس پہنچ جائے گا۔ اور چوٹی تک پہنچنے میں اسے صرف ایک گھنٹہ لگے گا اور وہ دونوں اس کے دشمن ابھی اس سے چار گھنٹے کی مسافت کے فاصلے پر تھے۔ ۔ ۔ نہیں وہ اسے نہیں پکڑ سکتے۔ وہ جوان ہے، مضبوط ہے اور چار گھنٹے ان سے پہلے چلا ہے۔

وہ اسے نہیں پکڑ سکتے۔ وہ ابھی اس چٹان پر پندرہ بیس منٹ بیٹھ کر دم لے سکتا ہے اور دور نیچے کھیتوں سے گزرتے ہوئے گھاٹیوں کی طرف آنے والے ان دونوں آدمیوں کو بڑے اطمینان سے دیکھ سکتا ہے جو اس کی جان لینے کے لئے آ رہے ہیں۔ وہ مسکرا بھی سکتا ہے، کیونکہ وہ ان سے بہت دور ہے۔ یقیناً اُنہوں نے اسے دیکھ لیا ہے۔ کیونکہ نیچے کے کھیتوں سے چوٹی تک اس طرف پہاڑ جس کے اُوپر وہ چل رہا ہے، بالکل ننگا ہے۔ بس چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں ہیں۔ سنہتے کی اور لال ٹینا کی جن میں آدمی چھپ بھی نہیں سکتا اور زمین سے لگی ہوئی پتلی چھدری گھاس ہے اور نیچی نیچی سیاہ چٹانیں۔ رات کی بارش سے بھیگی ہوئی اور پُرانی کالی پھسلواں۔ اس پُرانی کالی سے بند پانی کی بند پانی کی بُو آتی ہے اور بھر بھری مٹی پر قدم پھسلتے ہیں۔

اسے بہت ہوشیاری سے آگے کا فاصلہ طے کرنا ہو گا۔ جبھی تو اس نے فاصلے کو طے کرنے کے لئے جو آدھے گھنٹے میں بآسانی طے ہو سکتا ہے۔ ایک گھنٹہ رکھا ہے۔ بس اسے صرف اس بات کا افسوس ہے کہ وہ نیچے کے گاؤں سے بھاگتے وقت کیوں اپنی رائفل ساتھ نہ لا سکا۔ ۔ ۔ بھاگتے وقت اس نے رائفل وہیں چھوڑ دی۔ یہ ایک ناقابل معافی حادثہ تھا مگر اب کیا کیا جا سکتا تھا؟  اگر اس کے پاس اس وقت اپنی رائفل ہوتی تو وہ دونوں نیچے سے آنے والے اس قدر بے خوفی سے اس کا پیچھا نہیں کر سکتے تھے۔ وہ آسانی سے کسی چٹان کی اوٹ میں دبک کر کسی مناسب جگہ پر ان کا انتظار کر سکتا تھا اور اپنی رائفل کی رینج میں آتے دیکھ کر ان لوگوں کو گولی کا نشانہ بنا سکتا تھا۔

مگر وہ کیا کرے، اس وقت وہ بالکل نہتا ہے اور اب ہر لحظہ اس کی یہ کوشش ہو گی کہ وہ ان کی بندوق کی مار سے آگے چلتا رہے۔ اس نے تعاقب کرنے والوں کے پیچھے بھی دور تک کھیتوں کو دیکھا اور کھیتوں سے پرے سے آلوچے اور خوبانیوں کے درختوں سے گڑھے موگری کے گاؤں کو دیکھا۔ ایک لمحہ کے لئے اس کے دل کے اندر اُداسی کی ایک گہری سرخ لکیر کھینچتی چلی گئی۔ اس خنجر کی باریک اور تیز دھار کی طرح جس کا پھل اس وقت موگری کے دل میں پیوست تھا۔

موگری جو سیا کے پھولوں کی طرح خوبصورت تھی۔ کاشر کے لئے یہ ضروری ہو گیا تھا کہ وہ موگری کی جان لے لے چمکتی ہوئی گہری سیاہ آنکھوں والی موگری۔ انگاروں کی طرح دہکتے ہوئے ہونٹوں والی، انیس برس کی موگری وہ جب ہنستی تھی تو ایسا لگتا تھا گویا سیا کی ڈالیوں سے پھول جھڑ رہے ہیں۔ ایسی مہکتی ہوئی سپید ہنسی، اس نے کسی دوسری لڑکی کے پاس نہ دیکھی تھی، ہنسی جو سیا کے پھولوں کی یاد دلائے یا اچانک پر کھول کر ہوا میں کبوتری کی طرح اُڑ جائے اور وہ ذرا سے کھلے، ذرا اسے بند انگاروں کی طرح دہکتے ہوئے شریر ہونٹ۔

ان ہونٹوں پر جب وہ اپنے ہونٹ رکھ دیتا تھا تو اسے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اس کے خون کے بہاؤ میں چنگاریاں سی اُڑتی چلی جا رہی ہیں۔ جیسے جذبہ پگھل کر خون اور خون پگھل کر شعلہ اور شعلہ پگھل کر بوسہ بن گیا ہو۔ اور وہ پوری طرح موگری کے چہرے پر جھک جاتا تھا۔ اتنے زور سے کہ موگری کی سانس اس کے سینے میں رُکنے لگتی اور وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اس کے منہ پر طمانچے مارکر ہی اپنا چہرہ اس کے چہرے سے الگ کر سکتی تھی۔

”تم پاگل جانور ہو کہ کاشر“!
وہ ہانپتے ہوئے کہتی۔
”اور تم آگ ہو! “ وہ خود اپنے جذبے کی شدت سے ڈر کر ذرا پیچھے ہٹتا ہوا کہتا۔

”میرے گاؤں میں کوئی نہیں جانتا کہ میں ایک دشمن کے بیٹے سے پیار کرتی ہوں۔ “
”میرے سپاہیوں میں سے بھی کوئی نہیں جانتا کہ میں گڈیالی کے جنگل میں روز کسی سے ملنے جاتا ہوں۔ “

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

اس سیریز کے دیگر حصےخزاں سردی میں آتی ہے؟وہ بڈھا – راجندر سنگھ بیدی کا شاہکار افسانہ
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •