80 ہزار تصاویر، ویڈیوز اور ایک کروڑ ڈالر کی وصولی: بدھ مذہبی رہنماؤں سے سیکس کر کے پیسے بٹورنے والی خاتون گرفتار

پولیس ترجمان نے بتایا کہ تفتیش کاروں نے خاتون کے گھر کی تلاشی لی تو انھیں وہاں سے 80 ہزار سے زائد تصاویر اور ویڈیوز ملیں جنھیں وہ مبینہ طور پر بدھ بھکشوؤں کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کرتی تھیں۔

Read more

احسان فراموش: پیٹر پین کے مصنّف جیمز میتھیو بیری کی ایک کہانی

میں بیس سال سے اشرافیہ کے اس رئیسانہ اور منفرد کلب کا ممبر ہوں۔ باقی ممبران کی طرح مجھے بھی کبھی اس بات میں دلچسپی نہیں رہی کہ نچلے طبقے کے لوگ کیسے رہتے ہیں۔ یہ بیرے اور خانسامے کس طرح اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔ ولیم ایک طویل مدت سے ہمارے کلب میں بیرا گیری کر رہا تھا۔ مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ وہ نیچے باورچی خانے میں سوتا ہے یا رات کو گھر اپنے بیوی

Read more

سگمنڈ فرائڈ کے تیسرے لیکچر کی تلخیص اور ترجمہ

خواتین و حضرات! جب ہم نفسیاتی مریضاؤں کا علاج کر رہے ہوتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ مریضہ کے لاشعور میں دو متضاد طاقتیں بر سر پیکار ہوتی ہیں ایک طرف وہ طاقت ہوتی ہے جو لاشعور میں دبی اور چھپی یادوں اور باتوں کو شعور میں لانے کی کوشش کرتی ہے اور دوسری طرف وہ طاقت ہوتی ہے جو اس کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرتی ہے اور لاشعور میں چھپی اور دبی یادوں اور باتوں کو

Read more

والدین بچوں کو جنسی شعور دیں

دنیا میں بچے سب سے زیادہ والدین کے قریب ہوتے ہیں۔ جتنی قربت والدین اور بچوں کے رشتے میں ہوتی ہے اتنی قربت دنیا کے کسی رشتے میں نہیں ہوتی۔ اس اعتبار سے بچوں کی حفاظت کی ذمے داری بھی سب سے زیادہ والدین پہ عائد ہوتی ہے، خاص کر ماں پہ۔ ماں اگر بچے کے جسمانی تحفظ کی ذمے دار ہے تو اس کے جنسی تحفظ کی ذمے داری بھی اسے نبھانی چاہیے۔ ماں بچے کے کھانے پینے کا

Read more

اپنی بیٹی کو قتل کرنے والے ایک جوڑے کی الجھن، جھوٹ اور فریب سے بھرپور ڈرامائی زندگی کی کہانی

یہ کہانی کونسٹینس مارٹن اور مارک گورڈن کے ملاپ، پھر انتشار کا شکار ہونے اور بالآخر ایک سانحے پر جا کر ختم ہوئی۔ اس کا آغاز دوسری عالمی جنگ کے کچھ عرصے بعد ہوتا ہے۔

Read more

عینا آصف: ’فزیکل سین کرنا اچھا نہیں لگتا، پہلے سوشل میڈیا پر اپنے بارے میں کچھ بُرا پڑھ لیتی تو رونا شروع ہو جاتی تھی‘

جین زی سے تعلق رکھنے والی پاکستانی اداکارہ عینا آصف اس وقت اپنے ڈرامے ’پرورش‘ کی وجہ سے چھوٹے پردے پر چھائی ہوئی ہیں۔ ڈرامے میں کئی ایسے موضوعات اٹھائے گئے ہیں جو نہ صرف ان کی جینیریشن بلکہ والدین کے لیے بھی کافی سبق آموز ہیں۔

Read more

ظاہر پرستی کا رجحان اور ہمارے سماجی رویے

Virtue Signaling ایک ایسا رویہ ہے جس میں کوئی شخص اپنے کردار یا الفاظ کے ذریعے دوسروں کو یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ بہت نیک، با اخلاق یا اصولوں کا پابند ہے، خواہ اس کا رویہ اس کا عکس نہ ہو۔ یہ دکھاوے کی نیکی اکثر رواج، شہرت یا سماجی پذیرائی کے لیے اختیار کی جاتی ہے۔ ایسا طرزِ عمل مختلف معاشروں میں مختلف شکلوں میں نظر آتا ہے، اور ہمارے معاشرے میں بھی یہ انداز

Read more

بلوچستان میں پنجابی مسافروں کا قتل: سنگین انسانی المیہ اور پاکستان دشمنی

”میرا بیٹا بے گناہ تھا، اسے کیوں مارا گیا؟“ یہ دل دہلا دینے والے الفاظ ایک ایسی والدہ کے ہیں، جس کا بیٹا صرف اپنے والد کے جنازے میں شرکت کے لیے گھر لوٹ رہا تھا، لیکن شدت پسندی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ بلوچستان کے ضلع ژوب میں حالیہ دنوں ایک المناک واقعہ پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح افراد نے دو مسافر بسوں کو روک کر پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 افراد کو شناخت کے بعد الگ کر کے

Read more

عقل کا چراغ اور جذبات کی لو: انسان کی ہستی کا نگار خانہ

انسان کی تعریف صدیوں سے فلسفیوں اور شعراء کے لیے ایک گہرا سوال رہی ہے۔ ہم ایک طرف اپنی عقل، منطق اور سائنس سے کائنات کے رازوں کو فاش کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف جذبات کے سمندر میں غوطہ زن رہتے ہیں۔ محبت، نفرت، خوف، خوشی، اور غم کے رنگوں میں رنگے ہوئے۔ عقل کا چراغ اور جذبات کی لو انسانی ہستی کے بنیادی ستون ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک مکمل اور متوازن زندگی کے لیے ان دونوں قوتوں

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 47 : نئی شناسائیاں

” میرا یہ حکم ہے کہ جس طرح میں نے تم سے محبت رکھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔ اس سے بڑی محبت کوئی نہیں کہ کوئی اپنی جان اپنے دوستوں کے لیے دے۔“ یوحنا 15 : 12۔ 13 پارٹی کو عادل کی کوٹھی پر ہی رکھا گیا تھا اور اُس کا مقصد عارف کے دوستوں سے مریم کا تعارف کرانا تھا۔ عارف نے مشورہ دیا کہ کھانا شنگری لا چائینیز ریسٹورنٹ سے لیا جائے مگر کریم چاچا

Read more

شہری تنہائی بمقابلہ دیہی سادگی: ایک افسوسناک تضاد

کہتے ہیں انسان سماجی حیوان ہے، مگر وقت کے ساتھ ہم نے سماج کو، تعلق کو اور احساس کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ آج جدید شہروں کی چمک دمک، بلند و بالا عمارتوں، فلیٹس اور اپارٹمنٹس نے ہمیں سہولت تو دی، مگر ہم سے ہمارا خلوص، ہمارا رشتہ، اور ہمارا ”ہمسایہ“ چھین لیا۔ ایک دیہاتی گاؤں میں آج بھی جب کوئی فرد ایک دن گھر سے باہر نہ نکلے، تو اگلے دن اس کے دروازے پر کوئی نہ کوئی

Read more

چار مہینے اور منجمد زندگی۔ گزشتہ سے پیوستہ

ابو جان آپ کی آواز سننے کو دل ترستا ہے۔ ہم نے آپ کی وائس ریکارڈنگز اپنے پاس محفوظ کر کے رکھی ہوئی ہیں ان کو سن کر اور آپ کی تصاویر دیکھ کر زندگی گزار رہے ہیں۔ آپ نے ہم سب پر کتنی محنت کی اپ ہم سب کو اچھے اور مہذب انسان دیکھنا چاہتے تھے اور اللہ کے فضل سے آپ کا خواب پورا ہوا۔ ابو جان اولاد کا باپ کے ساتھ فطری پیار تو اپنی جگہ لیکن

Read more

چولستان میں برسات کی ایک شام

رحیم یار خاں کی گرمی ایک جسمانی بوجھ بنی ہوئی تھی، جو بے رحمی سے دبائے جا رہی تھی۔ وسیب میں جون، خاص طور پر وسیع و عریض چولستان ریگستان کے کنارے، عام طور پر ایک آگ کی بھٹی کی مانند ہوتا ہے۔ آج شام پھر، اچانک یہ ہوا۔ ایک شاندار، حیرت انگیز تبدیلی۔ پل بھر پہلے تک سفید آسمان یکایک تاریک ہو گیا۔ ایک ٹھنڈی، دھول بھری ہوا نے شہر میں گھوم کر بارش کا وہ واضح، پیغام پہنچایا۔

Read more

جامعات: آگے کی بات، لیکن کیسے؟

کچھ دنوں پہلے یونیورسٹی آف کمالیہ کے انٹرنیشنل مشاورتی بورڈ میں شمولیت کا دعوت نامہ ملا تو دلی خوشی ہوئی ایک تو وطن سے جڑے رہنے کا بہانہ دوسرا ٹوبہ ٹیک سنگھ کے لوگوں کا ایک قرض اتارنے کا موقع ہاتھ آیا، جوانی کے دنوں میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک بار ہاکی کھیلنے کا موقع ملا تھا اور اس وقت جو محبت ملی تھی آج تک اپنے آپ کو اس محبت کا مقروض محسوس کر رہا ہوں۔ ڈاکٹر یاسر

Read more

علی گڑھ یونیورسٹی، پیر صاحب پگارا اور خالو سید صبیح الحسن مرحوم

  رشو باجی کے دادا سید صفی الحسن زیدی مرحوم یو پی میں تحصیل دار اور مجسٹریٹ کے عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ ملازمت کے دوران مختلف اضلاع میں تبادلے معمول کا حصہ تھے۔ جس سے بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی تھی۔ بچوں کی تعلیم کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ ہوم ٹیوٹرز کا بندوبست کیا جاتا تھا۔ جو پانچ سے چھے گھنٹے بچوں کو گھر پر پڑھاتے تھے۔ بچوں کو تعلیم تو ہوم ٹیوٹر سے اچھی حاصل ہو جاتی

Read more

اندر کی اندھی گلیاں

ہمارے بیچ زندگی نہیں، ایک لمبی چیخ بسی ہوئی ہے، ایسی چیخ جو وقت کی گلیوں کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہے اور پھر سانسوں میں تحلیل ہو جاتی ہے۔ زینب مر گئی، کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ یوسف نے خودکشی کی، خبر اگلے دن اخبار کے نچلے حصے میں شائع ہوئی، اور پھر سب بھول گئے۔ لوگ مر رہے ہیں، مگر مرنے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں ؛ ان کے خواب مر جاتے ہیں، محبتیں دم

Read more

اناطولیہ کہانی: یشار کمال کا مزاحمتی استعارہ اور دیہی انسان کی ازلی تڑپ

اناطولیہ کہانی کو ترکی کے جنوبی علاقے چکروا کے تناظر میں تحریر کیا گیا ہے۔ اس ناول کو نہ صرف ترکی کے ادب کا ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ظلم کے خلاف مزاحمت اور کسانوں کی جدوجہد کی ایک علامتی داستان ہے۔ پہلی بار یہ ناول 1955 میں ترکیہ زبان میں شائع ہوا۔ انگریزی میں اس کا ترجمہ 1961 میں ایڈوارد رودیتی نے کیا جب کہ اسے اردو میں ڈھالنے کے فرائض نسرین

Read more

آئین کی حکمرانی، صرف خواب دیکھنا ہی کافی نہیں

مجھے برطانیہ آئے دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، اس دوران یہاں کے نظامِ عدل کو پرکھنے، پارلیمنٹ کی شفاف کارروائیوں کو دیکھنے اور اداروں کے باہمی توازن اور احترام کا مشاہدہ کرنے کا بارہا موقع ملا ہے۔ ہر بار میں دل ہی دل میں یہ ضرور سوچتا ہوں کہ کیا ہی اچھا ہو کہ پاکستان میں بھی آئین کی حکمرانی کا یہی معیار قائم ہو جائے۔ یہ خواہش محض ایک جذبۂ حسرت نہیں بلکہ ہر اس شخص

Read more

ہائے قیامت! چائے لاؤ ذرا، بہت بے حیائی ہے!

“خاندان چھوڑ گیا، بوائے فرینڈ ساتھ ہے؟ ہائے قیامت! چائے لاؤ ذرا، یہ تو پوری فلم ہے!” پاکستانی معاشرے کا وہ لائیو شو جس میں لڑکی کی خودمختاری سب سے بڑا جرم ہے آپ دیکھ رہے ہیں ایک ایسا لائیو شو — جسے کسی ٹی وی چینل نے نہیں، بلکہ ہمارا معاشرہ روز نشر کرتا ہے۔ جہاں ایک لڑکی کا بوائے فرینڈ، پورے محلے کی غیرت کو وائی فائی سے جوڑ کر ہلا دیتا ہے۔ پہلا سین: لڑکی اکیلی ہے…

Read more

خود سے ایک نامہ

دن کی روشنی دفتر کے شیشوں سے چھن کر علی کے چہرے پر پڑ رہی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں اجالا کہیں کھو چکا تھا۔ چائے کا کپ اس کے ہاتھوں میں تھرتھرا رہا تھا، جیسے کسی طوفانی رات میں درخت آخری بار لرز رہا ہو۔ کلائیوں میں ایک ایسی کسک تھی جو نہ زخم دکھاتی تھی، نہ دوا مانگتی، بس ہر رات خوابوں کی دہلیز پر بیٹھ کر اس کی نیند کو زہر کرتی رہتی۔ دفتر کے خاموش،

Read more

مونا لیزا کی مسکراہٹ جیسی بیٹیاں – مکمل کالم

انڈیا میں ایک بیٹی کو باپ نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا اور پاکستان میں ایک باپ نے بیٹی کی لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ دو خبریں ہر کچھ دیر بعد میرے سامنے آ جاتی ہیں، میں اِن کی تفصیل پڑھتا ہوں اور لرز اٹھتا ہوں۔ رادھیکا کی عمر پچیس سال تھی، وہ ٹینس کھیلتی تھی، اپنے علاقے میں ٹینس کی اکیڈمی بھی چلا رہی تھی، انسٹا گرام پر مقبول ہو رہی تھی، کچھ پیسے بھی

Read more

دسترخوان: تہذیب، روایت اور رشتوں کی زنجیر

دسترخوان ایک قدیم روایت جو صرف کھانے کے لیے بچھائے جانے والے کپڑے تک محدود نہیں، بلکہ مشرقی تہذیب کی جڑوں میں پیوست ایک علامت سمجھی جاتی تھی۔ وہ وقت تیزی سے رخصت ہو رہا ہے جب دستر خوان محبت، سلیقے اور خاندان کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا کرتے تھے۔ اس پر صرف کھانا نہیں بلکہ تعلقات، جذبات، قربتیں اور نسلوں کی تربیت رکھی جاتی تھی۔ جب دسترخوان بچھایا جاتا تھا تو اس کے گرد صرف خاندان کے افراد

Read more

معاصر روسی افسانوں کے اردو ترجمہ کے بارے میں

( اکادمی ادبیات کی جانب سے شائع کردہ اپنی کتاب منتروس کی منتخب کہانیاں جسے میں نے ”11 معاصر روسی افسانے نام دیا تھا ) روس میں کوئی امریکی ادارہ سائنسی لغات لکھوا رہا تھا۔ مجھ سے رجوع کیا تو میں نے فی لفظ زیادہ سے زیادہ معاوضہ طلب کیا تھا، جو وہ مان گئے تھے۔ بحث کے دوران یہی تاثر دیا گیا کہ اس کہنہ لغت کی درستی بھی کرنی ہے۔ میں نے حیاتیات سے متعلق لغت چن لی

Read more

ٹرمپ ماموں کے نام پاکستانی بھانجے کا خط

آداب عرض ماموں جان امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے اور نوبل انعام وصول کرنے کی تیاریاں زوروں پر ہوں گی۔ شاید سوٹ کے ساتھ وہی ٹائی پسند فرما رہے ہوں جس پر کبوتر کے بجائے ٹویٹر کا لوگو جگمگا رہا ہو تاکہ امن کی علامت بھی رہے اور سفارتکاری کی سچائی بھی۔ سنا ہے اب تقریریں کم اور ٹویٹس زیادہ ہو رہی ہیں۔ ماموں جان حکومت پاکستان نے جب آپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کیا تو

Read more

میں نے انسانیت کو سرحدوں سے آزاد پایا

ہم سیاست کر کر کے تھک چکے ہیں جس کو سنو۔ اصل میں، حقیقت میں۔ میں سمجھتا ہوں سارے فساد کی جڑ فلاں شخص ہے۔ اور میں ان سب کو اس طرح سمجھتا ہوں کہ جو ملک یا افراد یہ زہر کی گولیاں دوسروں کو مارنے کی توقع پہ دیے جا رہے ہیں یا چلائے جا رہے ہیں تو خاطر جمع رکھیں یہ دوسروں کو مارنے کی سوچ والا نسخہ سب سے پہلے آپ پہ اثر کرے گا۔ جو دوسروں

Read more

آذربائیجان میں پاکستانی سفیر سے ملاقات

آذربائیجان روانگی سے قبل میرا رابطہ آذربائیجان میں پاکستان کے سفیر محترم قاسم محی الدین صاحب سے ہوا۔ آپ ایک ماہر سفارت کار ہیں۔ آذربائیجان کے ساتھ ساتھ جارجیا میں بھی پاکستان کے سفیر ہیں۔ ماضی میں آپ واشنگٹن ڈی سی، کویت اور تہران میں بھی سفارتی فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔ ہم کسی اجنبی ملک میں جائیں تو راستوں سے متعلق آگاہی حاصل کرنا اور اپنی مطلوبہ جگہوں تک پہنچنا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے اس ضمن میں

Read more

خواب، محبت اور زندگی 46

شیما کرمانی کا فیصلہ کن ووٹ بہر صورت یہ واضح ہو گیا تھا کہ اب ہماری شادی کا خواب اس طرح سے پورا نہیں ہو گا جس طرح ہم نے سوچا تھا۔ ابی کو پہلے سے ہی اس علاقے کے بارے میں تحفظات تھے جہاں احفاظ کی رہائش تھی اور اب امی اور خالہ کے ان کے گھر جانے کے بعد اور احفاظ کے جذباتی ابال نے معاملہ اور بھی بگاڑ دیا تھا۔ لیکن میں ان سے شادی کے فیصلے

Read more

یہ ہم نے کس کو کھو دیا لوگو!

(مشہور عالم، محقق اور استاد سی ایم نعیم کی یاد میں) ابھی ابھی فیس بک پہ رضا رومی کی ایک بہت افسوسناک پوسٹ، شکاگو کی اہم ادبی علمی شخصیت پروفیسر سی ایم نعیم کے انتقال کے حوالے سے پڑھی۔ موت برحق ہے لیکن یقین سا نہیں آ رہا۔ ابھی جولائی کی چھ تاریخ کو ہی تو ان کی مختصر مگر بہت حوصلہ افزا میل موصول ہوئی جو انہوں نے میری بیٹی کی ہارورڈ سے گریجویشن کے وقت فلسطین کے حق

Read more

طلاق یافتہ عورت: خطرہ نہیں، ایک الگ سفر کی مسافر

سماجی حلقوں میں جب کوئی طلاق یافتہ عورت شامل ہوتی ہے تو اس پر مختلف قسم کے ردِ عمل آ سکتے ہیں۔ تجسس، ہمدردی، تعریف، یا بعض اوقات عدم تحفظ۔ اگرچہ ہم عمومی یا دقیانوسی خیالات سے گریز کرنا چاہتے ہیں، پھر بھی یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر بات کی جانی چاہیے۔ بعض خواتین طلاق یافتہ خواتین کے آس پاس غیر محفوظ کیوں محسوس کرتی ہیں؟ 1۔ ازدواجی رشتے کے عدم استحکام کا خدشہ اکثر خواتین کو یہ

Read more

حافظ ہارون الرشید سے برمنگھم میں ایک ملاقات

جمعیت علمائے اسلام کے سابق صوبائی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پنجاب اور ایک طویل عرصہ تک ضلعی سیکرٹری اطلاعات کی ذمہ داریاں نبھانے والے مولانا حافظ ہارون الرشید مہتمم دارالعلوم خدام الدین گاوٴں سلیم خان تحصیل حضرو ضلع اٹک ان دنوں برطانیہ کے نجی دورے پر ہیں اور غالباً یہ پہلا موقع ہے کہ وہ برطانیہ تشریف لائے ہیں۔ یوں تو ان کے بہت سے قریبی عزیز و اقارب، چچازاد بھائی اور ان بھائیوں کی اولادیں امریکہ، برطانیہ اور ہانگ کانگ

Read more

ستر لاکھ مردہ فالورز کے بیچ ایک زندہ تنہا لاش

میں اور منٹو ایک سائے دار گلی میں کھڑے تھے، جہاں شام کا غبار دھیرے دھیرے مدھم ہو رہا تھا۔ وہ شہر، جو کبھی زندگی کی گہما گہمی سے گونجتا تھا، آج ایک ایسے واقعے کی گونج سے بھرا تھا جو دل کو خون کے آنسو رلاتا ہے۔ ہم سامنے ایک خاموش فلیٹ کی طرف دیکھ رہے تھے جہاں ایک عورت کی لاش پڑی تھی، حمیرا اصغر کی۔ یہ وہی حمیرا تھی جسے ستر لاکھ لوگ سوشل میڈیا پر فالو

Read more

خاموشیوں میں ڈوبتا معاشرہ، تنہائی، بیٹیاں اور بکھرتے رشتے

گزشتہ دنوں چند المناک واقعات نے ہمیں نہ صرف چونکایا، بلکہ روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ کبھی سینئر اداکارہ عائشہ کی تنہائی میں بے بسی سے موت، کبھی نوجوان باصلاحیت لڑکی ثنا یوسف کا سفاکانہ قتل، کبھی فنکارہ حمیرا اظہر کی خاموش رخصتی، اور کبھی ایک ٹک ٹاک ویڈیو بنانے پر ایک معصوم بچی کی جان کا چلے جانا۔ یہ سب محض خبریں نہیں، بلکہ ایک مردہ ہوتے معاشرے کی گونجتی ہوئی آہیں ہیں۔ ہم ایک ایسے دور

Read more

میں نے انسانیت کو سرحدوں سے آزاد پایا

ہم سیاست کر کر کے تھک چکے ہیں جس کو سنو۔ اصل میں، حقیقت میں۔ میں سمجھتا ہوں سارے فساد کی جڑ فلاں شخص ہے۔ اور میں ان سب کو اس طرح سمجھتا ہوں کہ جو ملک یا افراد یہ زہر کی گولیاں دوسروں کو مارنے کی توقع پہ دیے جا رہے ہیں یا چلائے جا رہے ہیں تو خاطر جمع رکھیں یہ دوسروں کو مارنے کی سوچ والا نسخہ سب سے پہلے آپ پہ اثر کرے گا۔ جو دوسروں

Read more

جو نہیں ہے، وہ خوبصورت ہے

ہم نے دیکھا تو ہم نے یہ دیکھا جو نہیں ہے وہ خوبصورت ہے جون ایلیا نے یہ شعر چالیس سال پہلے کہا تھا، مگر ہم نے اسے آج تک زندہ رکھا ہے اور شاید ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔ کیونکہ یہ صرف ایک شعر نہیں، بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں کا عکاس ہے۔ ہم کسی کو اُس کے جانے کے بعد ہی کیوں یاد کرتے ہیں؟ اگر ہم اتنی ہی قدر زندگی میں کر لیں، جتنی موت کے بعد کرتے ہیں،

Read more

وہ مظلوم نہیں، بس تھکی ہوئی ہے

”خوش قسمت ہو تم، تمھارا شوہر باہر کماتا ہے“ یہ جملہ اکثر ان عورتوں کو سننے کو ملتا ہے جن کے شوہر بیرونِ ملک کام کے لیے گئے ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ جملہ حسد سے لبریز تعریفی لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی کہانی اکثر دکھ، تنہائی اور ذہنی اذیت سے بھری ہوتی ہے، خاص طور پر جب عورت سسرال کے گھر میں اپنے بچوں سمیت رہتی ہے۔ سسرال میں رہنے کا فیصلہ اکثر مالی مجبوری یا سماجی دباؤ

Read more

خواب، محبت اور زندگی 45

راجا پاکستانی کی انٹری رسم و رواج کے مطابق رشتہ مانگنے کے لئے احفاظ نے اپنے دوست حسن امام کی اہلیہ کو میرے والدین کے پاس بھیجا۔ اور اس کے بعد امی اور خالہ احفاظ کا گھر دیکھنے گئیں۔ اس ملاقات نے سب کچھ بدل دیا۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ یہ ملاقات قیامت ڈھا گئی۔ راجا ہندوستانی طرز کی نہیں بلکہ راجا پاکستانی طرز کی قیامت۔ احفاظ کا چھوٹا سا گھر محنت کش طبقے کے محلے میں واقع تھا۔

Read more

ٹاکسک پیرنٹنگ : کاش ماں باپ نئے سانچوں میں ڈھالے جائیں

  ہر نئی نسل کے بچوں کی تمنا خالد کاش ماں باپ نئے سانچوں میں ڈھالے جائیں (ڈاکٹر خالد سہیل) ”والدین“ ہمیشہ اولاد کا بھلا چاہتے ہیں۔ یہ معاشرے کا وہ جنرلائزڈ جملہ ہے جس سے والدین کی ہر طرح کی نا انصافی اور رویوں کی بدصورتی کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ماں باپ کے اتنے فضائل بیان کیے جاتے ہیں کہ اگر وہ اولاد کو تباہ کر دیں، ڈپریشن کا مریض بنا دیں تب بھی ان سے

Read more

گملا: جو گرے ہی نہیں وہ ٹوٹے کیسے؟

فجر کی نماز کے بعد لان میں تھوڑی چہل قدمی کے لئے گیا کہ اس دوران ایک صاحب نے لان میں آ کر پانی کی پھوہار سے لان کی ترو تازگی میں اضافہ کی خوبصورت کوشش شروع کی۔ اس کاوش سے ہریالی کی چمک دوبالا ہوئی۔ ہواؤں کی ٹھنڈک مشام جاں کو معطر کرتی اور روح کی تسکین کا باعث بنتی چلی گئی۔ کچھ دیر چہل قدمی کے بعد قریب ہی موجود ٹھنڈے پانی کے کولر سے ایک گلاس پانی

Read more

محب اور حسینہ

پریشان چوک کے بنچ پر بیٹھے وہ اپنے خیالات میں گم تھا کہ اچانک اس کی نظر اس لڑکی پر پڑی جو اتنی دیر سے اسے دیکھ رہی تھی۔ دونوں کی آنکھیں چار ہوتے ہی لڑکی شرما گئی اور جلدی جلدی اوپر کی جانب بڑھنے لگی۔ وہ عجیب کشمکش میں مبتلا ہو گیا اس کا دل کہہ رہا تھا کہ لڑکی اسے ہی دیکھ رہی تھی جبکہ دماغ خوش فہمی میں مبتلا ہونے سے گریز کر رہا تھا۔ اسی کشمکش

Read more

فینکس پروٹوکول

کرنل نادیہ حارث کی شخصیت میں گہرا سکوت رچا بسا تھا، جیسے اتھاہ سمندر اپنی تہہ میں آتش فشاں چھپائے بیٹھا ہو۔ اس کے چہرے کی سنگلاخ چٹانوں کے پیچھے آنکھوں کے آئینے میں ماضی کے زخم جھلملا رہے تھے۔ وہ فرمایا کرتی تھیں : ”جنگیں تلواروں سے نہیں، ضمیر کی سرزمین پر لڑی جاتی ہیں۔“ نادیہ کے بچپن پر جنگ نے اپنے سیاہ پر پھیلائے تھے۔ اس کے والد، لیفٹیننٹ ہارون، دشمن کی بارود کا نذرانہ بنے۔ وہ ایک

Read more

پروفیسر محمد اکرم: ایک باوقار استاد، مثالی والد اور سچے خادمِ علم

میرے والدِ محترم، پروفیسر محمد اکرم (مرحوم) ، اپنی ذات میں ایک مکمل اور باوقار شخصیت تھے۔ علم، خلوص، قربانی، دیانت اور انسانیت کی جیتی جاگتی مثال۔ مصر کے عظیم اور آفاقی شاعر، احمد شوقی نے کیا خوب فرمایا ہے قم للمعلم وفّہ التبجیلا کاد المعلم ان یکون رسولا ”اُٹھ، استاد کے احترام میں کھڑا ہو جا، اور اسے بھرپور تکریم دے، کیونکہ معلم ایسا عظیم منصب رکھتا ہے کہ گویا وہ ایک رسول ہی ہوتا ہے۔“ یہ عظمتِ استاد

Read more

سفر نامہ جاپان (10)

”پاکستان ہیروئن کی جنت“ ”لرزے ہے موج مَے تری رفتار دیکھ کر“ پروفیسر راجرز بتا رہے تھے : ”انسانی تاریخ کی طرح منشیات کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے۔ افیون، حشیش، ماری جوانا، کوکین، ہیروئن، ایل ایس ڈی۔ اس میں شراب کا ذکر نہیں ہو گا۔“ ” کیوں نہیں؟“ میں نے دل میں کہا یہی ایک نشہ ہے جس کے، جب زور سنبھالا ہے، ہم عادی ہو چکے ہیں۔ اس کا ذکر آتے ہی بن پیئے ہم پر نشہ چڑھ

Read more

سنگ مرمر کو دیکھنے کے دن

اسے یقین تھا کہ یہ چٹان اس کے حسین تصورات کا روپ دھارے گی۔ سرمئی دھنک اور سپیدی سے ابھرتی باریک سیاہ لکیروں میں خلط ملط شبیہ ظہور پذیر ہونے کو ترس رہی تھی۔ اس کے ہاتھ اوپر پڑی ٹیڑھی میڑھی سنگی چادر ہٹا دیں تو غیر واضح جسم سامنے آ جائے گا۔ مجسمے کا ایک ایک نقش اور خط اس کے دماغ میں محفوظ تھا۔ اس نے کاغذ پر بھی تین طرفہ شبیہ بنا لی تھی۔ چھینی ہتھوڑی سے

Read more

ناگہانی تا ناگہانی: طاہرہ کاظمی کی زبانی وجود، وبا اور کہانی

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی میری پسندیدہ ادیب ہیں۔ اس سے پیشتر میں ان کی کتابوں، ”کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ“ ، ”مجھے فیمینسٹ نہ کہیو“ اور ”جتی“ پر اپنی گزارشات پیش کر چکا ہوں۔ ”ناگہانی تا ناگہانی“ ایک ناولٹ، دو خطوط اور کچھ کہانیوں پر مشتمل ہے۔ ادب، محض الفاظ کی آرائش نہیں، ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہم اپنی ان دیکھی صورتوں، انجانی کیفیات اور غیر فہم ناگہانی سچائیوں کا عکس دیکھ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا

Read more

جوانوں کو پیروں کا استاد کر

ادارے عمارتوں کا نام نہیں بلکہ ان کا نام افرادی قوت سے ہوتا ہے ؛ یہ وہی قوت ہے جو گمنام جگہوں کو ارفع مقام تک پہنچا دیتی ہے ؛ افرادی قوت کی تیاری کے لیے اعلیٰ ادب، عظیم اقدار اور معیاری نظامِ تعلیم ضروری ہوتا ہے۔ علم و ادب کے سکے کو کون نہیں جانتا ہے؟ اور یہ کہاں نہیں چلتا ہے؟ مشہور عربی مقولہ ہے : ”الادب یرفع الخامل“ ترجمہ: ”ادب (علم) گم نام کو بلند مقام پر

Read more

پاکستان کا انقلابی ضمیر کون؟

یہ مردِ آہن سنہ 1928 ء میں ہوشیار پور، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد پاکستان میں آباد ہوئے۔ ان کی شاعری نے ان کو جنوبی ایشیا کے بے باک عوامی شاعر طور پر منوا لیا۔ ان کے الفاظ محض شعر نہیں بلکہ مزاحمتی نعرے تھے جو ملک بھر کے اسکولوں، عدالتوں، جیلوں، اور احتجاجی اجتماعات میں گونجتے تھے۔ وہ صرف ایک شاعر ہی نہیں، بلکہ ایک طاقتور سیاسی آواز تھے۔ انہوں نے پاکستان کے عام شہریوں

Read more

رقص میں ہے سارا جہاں

میرے ایک دوست جو پاکستان نیوی میں ہیں۔ مجھے ان کے پاس منوڑہ کراچی جانے کا اتفاق ہوا تو بات رقص پر چل نکلی وہ کہنے لگے سمندر بھی رقص کرتا ہے۔ میں نے پوچھا وہ کیسے؟ تو انہوں کہا آئیں آج آپ کو دکھاتے ہیں۔ اس روز چاند کی چودہویں رات تھی۔ وہ مجھے لے کر لائٹ ہاؤس کے قریب بیٹھ گئے جہاں چاندنی کی روشنی میں چھوٹی چھوٹی لہریں نظر آ رہی تھیں۔ انہوں نے کہا دیکھیں جوں

Read more

تخلیقی اقلیت کا فکری جائزہ

تصنیف: ڈاکٹر خالد سہیل ترجمہ: نعیم اشرف تبصرہ : محمد آصف رانا دنیا میں ہر دور میں ایسے افراد پیدا ہوتے آئے ہیں جو معمول کی زندگی جینے سے انکار کرتے ہیں۔ وہ ان راستوں پر نہیں چلتے جو سماج، مذہب، ریاست یا روایت ان کے لیے متعین کرتی ہے۔ یہ لوگ وہی کرتے ہیں جو ان کا ضمیر، فہم اور تخیل انہیں کرنے پر مائل کرتا ہے۔ ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب ’تخلیقی اقلیت‘ ان ہی فکری باغیوں کی

Read more

خواب، محبت اور زندگی 44

محبت کے رنگوں کی برکھا نئے اخبار کا پہلے سے مارکیٹ میں قدم جمائے ہوئے مقبول اخباروں سے ٹکر لینا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ احفاظ بے حد ذہنی دباؤ میں رہتے تھے۔ چین کی خالص غذاؤں اور آلودگی سے پاک ہواؤں سے چہرے پر آنے والی سرخی کراچی کی آلودگی، ملاوٹ والی غذا اور کام کے دباؤ کی وجہ سے غائب ہونا شروع ہو گئی تھی۔ ان کا پارہ چڑھنے میں دیر نہیں لگتی تھی۔ وہ اپنے غصے کے

Read more

سگمنڈ فرائڈ کے پانچ لیکچر

سگمنڈ فرائڈ نے انیس سو نو 1909 میں امریکہ میں جو پانچ لیکچر دیے تھے اور انہیں جرمن زبان میں رقم کیا تھا۔ ان لیکچرز کا انگریزی ترجمہ انیس سو سترہ 1917 میں پہلی بار چھپا تھا۔ میں ان لیکچرز کا ترجمہ اور تلخیص آپ کی خدمت میں قسط وار پیش کرنا چاہتا ہوں۔ سگمنڈ فرائڈ کے تحلیل نفسی کے بارے میں پہلے لیکچر کی تلخیص اور ترجمہ خواتین و حضرات! یہ میرے لیے نیا اور حیران کن تجربہ ہے

Read more

تہوار

مہابھارت کوروؤں اور پانڈوؤں کی لڑائی کی رزمیہ داستان ہے۔ یہ دو لاکھ چرنوں (مصرعوں ) اور ایک لاکھ اشلوکوں کے ساتھ دنیا کی طویل ترین نظم ہے۔ اٹھارہ لاکھ لفظوں پر مشتمل مہاربھارت یونانی شاعر ہومر کی اوڈیسی اور ایلیاڈ سے بھی اٹھارہ گنا زیادہ بڑی ہے۔ اس کے اولین مولف لافانی مہا پُرش وید ویاس ہیں جنہوں نے دنیا کی قدیم ترین مذہبی کتب میں شامل ویدوں کی تدوین بھی کی تھی۔ مہابھارت ہندومت کے مرکزی ارکان میں

Read more

اصلاحی تنقید: مسلم لیگی شناخت کا تحفظ یا زوال کا زینہ؟

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک کارکن کی حیثیت سے، میں نے ہمیشہ اپنی تحریروں اور کالمز میں اپنی جماعت پر تنقید کو ایک ذمہ داری کے طور پر اپنایا ہے۔ یہ تنقید کبھی تنقید برائے تنقید نہیں رہی، بلکہ ہمیشہ اصلاح کے جذبے سے کی گئی۔ یہ وہ سبق ہے جو ہمیں ہماری قیادت، بالخصوص میاں محمد نواز شریف، نے سکھایا کہ حق بات کے لیے ڈٹ کر مقابلہ کیا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، آج کچھ لوگ اس

Read more

چار مہینے اور منجمد زندگی

ابو جی آپ کو ہم سے دور ہوئے چار مہینے ہو گئے ہیں۔ اب دل بہت اداس ہے۔ آپ کیسے ہیں ابو جان؟ آپ کی نئی زندگی کیسی ہے؟ ہم سب ٹھیک ہیں۔ آپ تو جانتے ہیں نہ ہم کبھی آپ کے بغیر چار دن بھی نہیں رہے تھے اب کیسے جی پائیں گے۔ چار مہینے سے جو ہم گزار رہے ہیں یہ زندگی تو نہیں ہے۔ آپ کے ساتھ گزارا ہوا وقت ساری زندگی کا حاصل ہے ان یادوں

Read more

ناظم آباد کی عزاداری۔ ایک روح پرور روایت کا نوحہ

ماہِ محرم کی غم گسار ساعتیں سراپا الم بن کر شہر پر سایہ فگن ہیں، اور ایسے میں اگر ناظم آباد کی عزاداری کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ اس متبرک خطے کی تاریخ و تہذیب سے چشم پوشی کے مترادف ہو گا۔ بزرگوں کی زبانی سنا کرتے تھے کہ اگر انچولی کی مجالس و ماتم لکھنؤ کی تہذیبی جھلک پیش کرتے تھے، تو ناظم آباد کی عزاداری میں امروہہ کی معنویت اور حزن کی شائبہ ہوا کرتی تھی۔

Read more

خوش فہمی کا پنجرہ: جہاں مرد کی طاقت اس کا سب سے بڑا بوجھ بن جاتی ہے

ہمارے معاشرتی شعور میں یہ بات ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن چکی ہے کہ یہ سماج مرد کے قبضے میں ہے، جہاں عورت ایک مظلوم اور بے بس مخلوق ہے جو اس کے ظلم و ستم کا شکار ہے۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جس سے انکار ممکن نہیں، مگر اس تصویر کا ایک اور رخ بھی ہے جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ یہ تصویر اس مرد کی ہے جو خود اسی نظام کا ایک قیدی ہے، ایک

Read more

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ

کوئی بھی معاشرہ کامل اور پرفیکٹ نہیں ہوتا۔ اسے بہتر کرنے، سنوارنے اور قابل رشک بنانے کے لئے محنت درکار ہوتی ہے اور سماج کے سارے طبقات مل کر اپنی حیثیت کے مطابق اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ بہت سی رکاوٹوں کے باوجود بہتری اور ترقی کا یہ سفر جاری رہتا ہے۔ مگر نہ جانے کیوں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جس سماج کا ہم حصہ رہے ہیں وہاں یہ سفر کسی جگہ آ کر رک سا گیا ہے۔ کسی

Read more

کربلا۔ تہذیب کا مستقبل

(ایک انسان دوست معاشرے کی تشکیل کے لئے دی جانے والی قربانی) پاکستان کے مشہور فلسفی، دانشور، ادیب اور صحافی سید محمد تقی نے 1980 میں کربلا۔ تہذیب کا مستقبل کے عنوان سے ایک کتاب لکھی تھی۔ 2024 میں سمیرا نقوی نے اس کا انگریزی ترجمہ کیا اور لائٹ سٹون نے اسے 2025 میں شائع کیا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ تقی صاحب بائیں بازو کی اقدار میں یقین رکھتے تھے جن کے لئے افکار و اعمال میں علم کی

Read more

عاشورہ کی دھڑکتی روح سے رواداری کی بازگشت

ہر سال جب محرم کے غمگین دن طلوع ہوتے ہیں، میرا ذہن ماضی کے سفر پر نکل پڑتا ہے۔ نہ صرف امام حسین علیہ السلام اور واقعہ کربلا کے عالمگیر غم کی طرف، بلکہ خاص طور پر احمد پور شرقیہ کی خاک آلود گلیوں، قدیم بوہڑ (امام بارگاہ) کے سائے، اور کٹرہ احمد خان کی پرانی دیواروں کی طرف۔ یہیں میرے دادا کی جڑیں ہیں، جہاں میرے خاندان کی کہانی عاشورہ کی گہری اور روادار ثقافت سے جُڑی ہے جو

Read more

نہ میں ماں اور نہ میں بیٹی ہوں

کتنی عجیب بات ہے کہ اس معاشرے میں تالیاں بجانے والے ہاتھوں کی آواز تو سب کو سنائی دیتی ہے، مگر ان ہاتھوں کی کہانی کوئی نہیں سنتا۔ ہماری گلیوں بازاروں میں رنگ برنگی ساڑھیوں میں لپٹے، کاجل میں ڈوبی آنکھوں والے یہ خواجہ سرا جب تالی بجاتے ہیں تو لگتا ہے جیسے پورا سماج ان کی بے بسی پر قہقہہ لگا رہا ہو۔ ان کی ہنسی، ان کا ناچ، ان کی مانگے تانگے کی دعائیں دراصل ہماری اجتماعی بے

Read more

تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول۔ قسط نمبر 15

چلتے چلتے وہ رک گیا۔ جھک کر نگاہ اس نے اپنے پاؤں پر ڈالی۔ آج یہ کچھ زیادہ ہی گندے ہور ہے تھے۔ پیچھے خالی دھان کے پانی سے بھرے کھیتوں سے جو گزر آیا تھا۔ باڑی (مکان) اب قریب ہی تھی۔ بائیں ہاتھ میں پکڑی جوتے کی جوڑی دیکھ کر اس کا خوشگوار موڈ ایک ہی دم خراب ہو گیا۔ جُو کے کنارے بیٹھ کروہ غصے سے خود سے بولا: اتنے سالوں کا ہو گیا تو ڈھنگ کا جوتا

Read more

سمندر، جزیرے اور جدائیاں

پچاس کی دہائی میں سمندر کے ذریعے پاکستان سے برطانیہ جانے کا سفر شروع ہو گیا تھا بلکہ اس سے بھی قبل برصغیر پاک و ہند کے افراد بحری جہازوں میں ملازم ہو کر برطانیہ پہنچتے۔ ان میں سے کچھ واپس لوٹ آتے اور کچھ وہیں آباد ہو جاتے تھے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانیہ کو اپنے ملک کی تعمیر نو کے لیے سستی افرادی قوت کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس نے اپنی نو آبادیوں سے رابطہ کیا۔

Read more

جنگ، فکشن اور محمد حمید شاہد کا ماسٹر اسٹروک

یہ تجسس اور تحیر کی کیفیت تھی، جسے میں نے ناول ”جنگ میں محبت کی تصویر نہیں بنتی“ کے خاتمے پر محسوس کیا۔ جذبات کی فراوانی اور ایک توانا احساس کہ یہ جو صاحب ہیں محمد حمید شاہد، یہ دراصل موجودہ اردو فکشن کے مضبوط ترین جوازوں میں سے ایک ہیں۔ یہ ہمیں خبر دیتے ہیں کہ آج کا اردو فکشن کیا ہے؟ اسے کیسا ہونا چاہیے؟ اور اس میں کتنے امکانات ہیں؟ برسوں قبل ”مٹی آدم کھاتی ہے“ سے

Read more

کہاں گئے وہ لوگ“ اور عباس اطہر”

”کہاں گئے وہ لوگ؟“ عباس اطہر کے کچھ کالموں کا مجموعہ ہے۔ اگر ان کالموں کو بغور اور صاف دل سے پڑھا جائے تو یہ مکمل طور پر بلھے شاہ کے اس مصرع کی تفسیر ہیں کہ ”کیہہ جاناں میں کون؟“ ۔ یادِ رفتگاں پر مشتمل یہ تمام تحریریں ایسی ہیں کہ ان کی خواندگی کے دوران بار بار احمد مشتاق کا مندرجہ ذیل شعر جیسے یاد آ کر رک سا جاتا ہے۔ رہ گیا مشتاق دل میں رنگِ یادِ

Read more

کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی جمہوریت اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں؟

ڈاکٹر خالد سہیل کا ڈاکٹر سارہ علی کو خط محترمہ و معظمہ ڈاکٹر سارہ علی صاحبہ! آپ عالمی سیاست میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں اور آپ کی موجودہ صورت حال پر گہری نظر ہے اس لیے میں نے سوچا کہ میں اپنے مشاہدات آپ سے شیئر کروں اور پھر آپ کی رائے پوچھوں تا کہ ’ہم سب‘ کے قارئین ہم دونوں کے آرا پڑھ سکیں۔ جب سے اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے

Read more

خواب، محبت اور زندگی 43

پہلی نظر، پہلا اثر First Glimpses، First Sparks شوکت صدیقی صاحب نے ابتدا میں مساوات کا دفتر کراچی کی شارع فیصل پر رومی مسجد کے پاس رائٹرز گلڈ کے دفتر میں بنایا تھا اور وہیں پہلی مرتبہ میں نے اپنے میگزین ایڈیٹر یعنی احفاظ کو دیکھا۔ مختصر سے انٹرویو کے بعد انہوں نے مجھے اپنی میگزین ٹیم میں شامل کر لیا۔ میں پہلے سے ہی ان کی شخصیت سے مرعوب تھی کیونکہ میں جانتی تھی کہ وہ حال ہی میں

Read more

موت اور قیامت کے عمومی تصورات

اپنے گزشتہ مضمون میں ہم نے زندگی اور حیات ابدی پر طبع آزمائی کی مقدور بھر کوشش کی تھی۔ قارئین اور دوست احباب نے اس بارے بہت اچھا فیڈ بیک یا رائے سے بھی نوازا جو کہ ایک خاص یا علمی محبت کی علامت ہے۔ اپنی اس خاص محبت کی وجہ سے ہمارے بہت سے قارئین اور احباب نے ناچیز کو ایک عالم یا دانشور ٹائپ کی کوئی چیز سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ ہماری تمام احباب سے دست بستہ

Read more

سنہرا پاکستان: 1960 سے 1975 کا خواب نما دور

پاکستان کی تاریخ میں 1960 سے 1975 کا دور ایک ایسا سنہرا باب ہے جو آج بھی بزرگوں کی باتوں، پرانی فلموں، ریڈیو کی گونجتی آوازوں اور پرانی تصویروں میں زندہ ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب ملک ترقی کی جانب بڑھ رہا تھا، جب ثقافت، فن اور معاشرتی رشتے اپنی بہترین صورت میں موجود تھے۔ پاکستان نہ صرف ایک ابھرتی ہوئی معیشت تھا بلکہ ایک زندہ دل قوم کا آئینہ بھی۔ اس دور میں صدر ایوب خان کے پانچ

Read more

ایکو فیمینزم: عورت، فطرت اور وجودی بقا کا مکالمہ

ایکو فینیزم جسے ماحولیاتی نسائیت کہا جاسکتا ہے۔ ایک فکری تحریک ہے جو عورتوں اور فطرت کے استحصال کے بارے میں معلومات دینے کے ساتھ آواز بلند کرتی ہے۔ اس نظریے کی بنیاد یہ تصور ہے کہ پدرشاہی نظام نے صدیوں سے نہ صرف عورت کو تسلط میں رکھنے کی کوشش کی ہے، بلکہ اسی طاقت ور ذہنیت نے قدرتی ماحول کو بھی ذاتی مفاد، استحصال اور قابض رویوں کے تحت برباد کر ڈالا۔ یہ نظریہ عورت اور فطرت کو

Read more

سنو اذان تو سمجھو حسینؑ زندہ ہے

ہمارے والد بزرگوار ایک بہت بڑے عاشق رسول و اہل بیت تھے وہ اس کا اظہار بھی کرتے تھے اور اسے اپنے لیے زندگی کا سب سے بڑا اعزاز بھی قرار دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ میرے بعد میرے کسی عہدے، مرتبہ، اعزازت پر فخر نہ کرنا صرف اس بات پر فخر کرنا کہ تمہارے باپ کے دل میں پوری زندگی عشق رسول و اہل بیت موجزن رہا جو عشق رسول و اہل بیت میں دنیا سے جائے وہ

Read more

اجرک نمبر پلیٹ پر اعتراض کیوں؟ یہ ثقافت ہے، سیاست نہیں

سندھ حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ کہ صوبے میں گاڑیوں کی نئی نمبر پلیٹس پر اجرک کا ڈیزائن شامل کیا جائے، ایک خوش آئند قدم ہے۔ یہ نہ صرف سندھ کی قدیمی تہذیب و ثقافت کی نمائندگی ہے بلکہ دنیا کے کئی مہذب معاشروں کی طرح، اپنی مقامی شناخت کو اجاگر کرنے کی ایک خوبصورت کوشش بھی ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جیسے ہی یہ خبر سامنے آئی، خاص طور پر کراچی کے کچھ حلقوں نے

Read more

رخشندہ نوید اپنی شاعری کے آئینے میں

میرے لیے آج سے کوئی پچیس سال قبل فلیٹیز ہوٹل کے ہال میں فخر زمان کی زیرصدارت منعقد ہو نے والی ایک شاعری کے مجموعے ”پھر وصال کیسے ہو“ کی تقریب رونمائی میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ نئے لہجے اور تازگی کی خوشبو میں مہکتی شاعری کو سراہوں یا اس کی خالق جو ایک پر کشش موہ لینے والی شخصیت نام جس کا رخشندہ نوید تھا کو اس کے اس نئے فکری احساس پر خراج پیش

Read more

پاکستان پریس کلب برمنگھم (رجسٹرڈ) کی تنظیم نو اور میٹ دی پریس

پاکستان پریس کلب برمنگھم (رجسٹرڈ) کا ایک اجلاس گزشتہ دنوں منعقد ہوا جس میں پرانے اور نئے ممبران نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور باہمی اتفاق رائے سے سال 2025۔ 2026 کے لئے پریس کلب کی تنظیم نو کی گئی۔ پاکستان پریس کلب برمنگھم 2021 سے رجسٹرڈ ہے اور برطانیہ میں آباد پاکستانی صحافیوں کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد پاکستان اور پاکستانی صحافت کا مثبت چہرہ متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ سنجیدہ صحافیوں کو ایک

Read more

عمر رسیدہ شہریوں کے لیے میرپور شہر ایک جنگل

No country for old man مشہور امریکی ناول نگار کارمیک مکارتھی کے 2005 میں چھپنے والے ناول کا نام ہے جس پر 2007 میں ہالی ووڈ میں فلم بھی بنی۔ اس فلم کو سال کی بہترین فلم سمیت چار آسکر ایوارڈ ملے۔ ”بوڑھے مردوں کے لیے کسی ملک میں جگہ نہیں“ یہ ایک سوال ہے کہ کیا دنیا میں واقعی اچھائی اور برائی کے درمیان توازن موجود ہے۔ ناول کے مرکزی کرداروں میں پولیس افسر ایڈٹام بیل ملک میں اخلاق

Read more

خواب، محبت اور زندگی (42) 

نارتھ ناظم آباد کراچی میں ان ہی دنوں کراچی میں ناظم آباد سے آگے ایک نیا پوش علاقہ بنا تھا جو نارتھ ناظم آباد کہلاتا تھا۔ ہمارے والدین نے وہاں ایل بلاک میں ایک مکان خرید کر ہم بچوں کو وہاں بھیج دیا۔ خدا کی بستی کے مصنف شوکت صدیقی صاحب اور سب رنگ ڈائجسٹ کے شکیل عادل زادہ بھی وہیں رہتے تھے۔ موجودہ انتہائی کمرشلائزڈ اور پرہجوم نارتھ ناظم آباد کو دیکھ کر کوئی یقین نہیں کرے گا کہ

Read more

ویٹیکن

حال ہی میں مری میں اپنی تربیتی نشست مکمل کرنے کے بعد ، مجھے اسلام آباد/راولپنڈی کیتھولک ڈایوسیس کے آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ یہ ملاقات نہایت خوشگوار اور بامقصد رہی۔ اس موقع پر آرچ بشپ نے مجھے اپنی تازہ تصنیف ”ویٹیکن“ کا تحفہ پیش کیا، جو میرے لیے ایک قابل فخر بات ہے۔ مطالعے کے بعد میں اس کتاب کا مختصر تعارف اور اپنی رائے پیش کر رہا ہوں تاکہ قارئین اس اہم

Read more

سندھ میں اجرک نمبر پلیٹس: چند معروضات

اس وقت جب کہ ملک متعدد سیاسی و معاشی مسائل بلکہ بحرانوں میں مبتلا ہے اس دوران میں پولیس کی وردی کی تبدیلی، نوٹوں کے نئے ڈیزائن کا اجراء اور گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی تبدیلی جیسے اقدام وقت اور وسائل کا یقینی زیاں ہیں۔ تاہم اس قسم کے اقدامات حکومتوں کی طرف سے گاہے بہ گاہے بلکہ وقت بے وقت جاری رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک حکومت سندھ کی طرف سے نئی نمبر پلیٹس کے اجراء کا حکم

Read more

ظاہری شان کا فریب

وہ خطبہ جو انسانیت کا ضمیر تھا آج نصابی حوالہ بن کر رہ گیا۔ پیغام بھول گیا اور رسمیں نبھاتے نبھاتے زوال کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرے۔ میری ایک درد بھری پکار پہ پلیز خاموش نہ رہنا، ساتھ دینا، جو لوگ مجھے ذاتی طور پہ جانتے ہیں وہ میری التجا پہ ضرور عمل کریں جو نہیں جانتے اور مجھ ناچیز کی فریاد کو وہ اہمیت نہیں دیتے وہ اپنے دل و دماغ میں وہ آخری خطبہ ضرور زندہ کریں

Read more

“سید کاشف رضا کی شاعری کا تیسرا پڑاؤ: ”گلِ دوگانہ

شاعری کے ساتھ سید کاشف رضا کا تعلق تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے اور اس تعلق کی نوعیت نے نہ صرف انتہائی سنجیدہ ہے بلکہ پیچیدگی اور گہرائی کی حامل بھی ہے۔ شاعری اس کے لیے محض لفظوں کے انبار، کھوکھلی نرگسیت کے اظہار اور داخلی جذبات و احساسات کی بھرمار نہیں ہے بلکہ ایک منفرد اسلوب ِ حیات ہے۔ اسی لیے وہ قلم سے قرطاس پر محض مصرعے سیدھے نہیں کرتا بلکہ شاعری کے ساتھ ایک

Read more

اپنی دوست سکوگاگ جھیل سے سگمنڈ فرائڈ کی باتیں

آج کینیڈا میں موسم گرما کا پہلا دن ہے۔ سورج کی روشنی میں کسی مہربان کے جذبات کی گرمی موجود ہے۔ میں سکوگاگ جھیل سے ملنے آیا ہوں۔ یہ جھیل میری دیرینہ دوست ہے جو میرے گھر سے تیس میل شمال میں رہتی اور بہتی ہے۔ میں ہر سال گرمیوں کے موسم میں اس سے ملنے آتا ہوں اور اس کے قریب ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اس کے ساتھ ایک سہ پہر گزارتا ہوں۔ میں نے پچھلے چالیس

Read more

ننھے فواد کی مسکراہٹ

  ”صاحب! میرا فواد مرجھا گیا ہے۔ کوئی دیکھنے والا نہیں۔ کوئی سننے والا نہیں۔“ زندگی بعض اوقات ایسی گتھیاں بُن دیتی ہے جنہیں صرف آنسوؤں سے سلجھایا جا سکتا ہے۔ ہرے بھرے باغوں میں بھی کبھی کبھار خزاں اتر آتی ہے اور ماں کی ممتا سے محروم بچے کے لیے تو پوری کائنات ہی سنسان صحرا بن جاتی ہے۔ ایسے ہی کسی دن جب شہر کی عدالت کے در و دیوار پر ویرانی اور امید کی کشمکش بکھری ہوئی

Read more

ریڈیو پاکستان لاہور کے پروگرام منیجر سلیم بزمی صاحب سے ایک بات چیت (چوتھی اور آخری قسط )

    اختر حسین اکھیاں کا پہلا فلمی گیت ” سلیم صاحب! مجھے موسیقار سجاد طافو نے بتایا کہ اختر حسین اکھیاں صاحب نے فلم ’پاٹے خان‘ ( 1955 ) میں محض 18 سال کی عمر میں میڈم نورجہاں کو گوایا تھا۔ کیا کبھی انہوں نے اس بارے میں آپ کو بتایا؟“ ” جی ہاں! یہ بالکل صحیح بات ہے اکھیاں صاحب نے خود مجھے بتایا کہ میری اٹھارہ اُنیس سال کی عمر تھی جب مجھے پہلی فلم ’پاٹے خان‘

Read more

خواب، محبت اور زندگی 41

حصہ سوم: محبت اس حصہ میں ذکر ہو گا احفاظ سے میری ’فلمی قسم کی‘ شادی کا۔ شادی کے بعد کے ابتدائی ہنگامہ خیز اور پر آشوب سالوں کے حوالے سے بائیں بازو اور خاص طور پر صحافی احباب میں دو فلموں کا تذکرہ رہتا تھا۔ ایک تو ہالی ووڈ مووی THE WAY WE WERE تھی جس میں رابرٹ ریڈ فورڈ اور باربرا اسٹیئرسینڈ نے کام کیا تھا۔ دونوں مرکزی کرداروں کے نظریات مختلف تھے۔ فلم میں رابرٹ ریڈ فورڈ

Read more

خاموش سسکیاں اور بوجھل دیواریں

پاکستانی معاشرہ بظاہر روایات، عزت، غیرت اور محبت کا امین کہلاتا ہے، لیکن اسی معاشرے کے اندر لاکھوں عورتیں روزانہ ایسے نفسیاتی، جسمانی اور جنسی تشدد سے گزرتی ہیں، جس کا ذکر کرنا بھی گناہ سمجھا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے، یہ تشدد صرف جسم پر نہیں، بلکہ ذہن، وقار اور شناخت پر بھی کیا جاتا ہے۔ خواتین پر تشدد اور ہراسانی کا یہ معاملہ اب فرد یا خاندان کی سطح سے نکل کر ایک قومی مسئلہ بن چکا ہے، جسے

Read more

المبزراہ پارک العین ( یو اے ای)

العین میں واقع المبزارہ پارک، جسے گرین مبزارہ پارک بھی کہا جاتا ہے، ایک ایسا دلکش مقام ہے جو قدرتی حسن، فطری سکون اور جدید سہولیات کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ یہ پارک شہر العین کے جنوب میں جبلِ حفیث کے دامن میں واقع ہے اور تقریباً 3.3 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ المبارہ پارک ان چند مقامات میں سے ایک ہے جو نہ صرف مقامی افراد بلکہ سیاحوں کے لیے بھی یکساں طور پر

Read more

قدیم لکھنؤ اور عزاداری

  ‎قدیم ہندوستان میں اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا کہ لکھنؤ ایک دل فریب اور گراں قدر تہذیب کا منبع نور سمجھا جاتا تھا۔ اس تہذیب نے گفتار و تکلم میں نئے اسلوب روشناس کروائے ہماری قدیم تاریخ اور تہذیب پر منضبط کتابیں لکھی گئیں اور حالات و واقعات کو قید کیا گیا لیکن ہندوستان کی تاریخ میں دلی والوں نے اپنی معاشرت کے بارے میں اچھا خاصا ذخیرہ محفوظ کیا لیکن لکھنؤ والوں نے اپنی روایت اور

Read more

کیا پاکستانی اداکاروں کو بھارتی فلموں میں کام کرنا چاہیے؟

حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم سردار جی 3 کا ٹریلر، جس میں پاکستان کی ابھرتی ہوئی اداکارہ ہانیہ عامر اور بھارت کے مشہور گلوکار و اداکار دلجیت دوسانجھ مرکزی کرداروں میں ہیں، ایک بار پھر اس پرانے مگر اہم سوال کو زندہ کر گیا ہے : کیا پاکستانی اداکاروں کو بھارتی فلم انڈسٹری کے ساتھ کام کرنا چاہیے جب دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی و ثقافتی فضا اتنی کشیدہ ہے؟ یہ ٹریلر پاکستان اور پنجابی بولنے والے عالمی

Read more

جام صاحب کا ناکستان: ایک ادبی حماقت نامہ

جام صاحب کی ایک کوالٹی ہے، وہ یہ کہ آپ کی ناک ایسی نایاب چیز ہے جو شاید نیشنل جیوگرافک والوں کی ڈاکیومنٹری کی فہرست میں بھی آپ کو نہ ملے۔ آپ ارد گرد کی خوشبو ایسے سونگھ لیتے ہیں جیسے پاکستانی الیکشن سے پہلے نتائج۔ اگر کوئی چیز کہیں سو کلومیٹر دور بھی کیوں نہ ہو رہی ہو، تو جام صاحب کی ناک کو فوراً وائی فائی کے سگنلز موصول ہو جاتے ہیں۔ اگر مختلف موبائل نیٹ ورکس والے

Read more

اسرائیل امریکہ جارحیت ؛ کیسے کیسے پیکروں کی شان زیبائی گئی

آج کی سائبر اور سپر سانک جنگوں کے حالات جس طرح تیز رفتاری سے بدلتے ہیں ’اسی طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے مزاج کے بارے میں کوئی پیشگوئی کرنا آسان نہیں۔ دایاں دکھا کے بایاں مارنا‘ ٹرمپ کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ جنگ بندی سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دعوؤں کی نفی اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں ہر ملک کی خود مختاری کے تحفظ کی یقین دہانیوں کو اپنے پاؤں تلے روندتے ہوئے ایران کی

Read more

خداداد صلاحیت

ہمارے جاننے والوں میں ایک نام میر خداداد صاحب کا بھی ہے جن کو قدرت نے مانگنے کی ایسی صلاحیت دے رکھی ہے کہ لوگ اسے خداداد صاحب کی خداداد صلاحیت کہتے ہیں، مگر اُن کے مانگنے کا طریقہ روایتی نہیں بلکہ ذرا منفرد قسم کا ہے۔ ابھی چند دن پہلے کا قصہ ہے کہ مجھے اپنے ساتھ ایک ہوٹل میں کھانا کھلانے لے گئے۔ وہاں جاکر پہلے تو مجھے شاندار کھانا کھلایا۔ میں ہر چند کہتا رہا کہ اتنے

Read more

المبزارہ پارک العین۔ قدرتی حسن اور سکون کا امتزاج

العین میں واقع المبزارہ پارک، جسے گرین مبارہ پارک بھی کہا جاتا ہے، ایک ایسا دلکش مقام ہے جو قدرتی حسن، فطری سکون اور جدید سہولیات کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ یہ پارک شہر العین کے جنوب میں جبلِ حفیث کے دامن میں واقع ہے اور تقریباً 3.3 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ المبزارہ پارک ان چند مقامات میں سے ایک ہے جو نہ صرف مقامی افراد بلکہ سیاحوں کے لیے بھی یکساں طور پر

Read more

میاں شمس الحق، مالاکنڈ کا ابھرتا ہوا لکھاری

میں مئی 2024 ء میں پاکستان سے واپس برطانیہ آ رہا تھا۔ دبئی میں میرا دو ڈھائی گھنٹے کا سٹے تھا۔ وہاں پہ میں ائرپورٹ میں موجود میکڈونلڈ میں امریکانا کافی سے چسکے لے رہا تھا کہ وٹس اپ پر ایک پیغام ملا ”کہ میں آپ کے گھر کے باہر کھڑا ہوں اور آپ کو اپنی لکھی ہوئی کتاب دینا چاہتا ہوں۔“ اس نے جب دوسرے پیغام میں اپنا تعارف کیا تو یہ جان کر مجھے بے حد خوشی ہوئی

Read more

زمین بنجر، اولاد بے ثمر

چاندنی راتوں میں جب دیہات کی سنسان گلیوں پر خاموشی اترتی تھی، تب بوڑھے پیپل کے درخت تلے بیٹھے بزرگ کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ زمین اور اولاد ایک جیسی ہوتی ہے ؛ دونوں کو محبت، محنت اور دعا سے سینچو تو وہ سایہ دیتی ہیں، ثمر بخشتی ہیں۔ لیکن کبھی کبھی زمین بنجر ہو جاتی ہے اور کبھی کبھی اولاد۔ جب زمین بانجھ ہو تو فصلیں نہیں اگتیں، مگر جب اولاد کنجر ہو تو عزتیں مٹی

Read more

اردو ادب کا ارتقا، نئے زاویے

اردو ادب کے ارتقا پہ بات کریں اور اس میں اکیسویں صدی تک کے ادب کی بات کریں تو ہمیں اس کو قیام پاکستان کے وقت سے دیکھنا ہو گا کیونکہ تقسیم ہند ہوتے ہی جو سب سے پہلے ہوا، وہ یہ تھا کہ دونوں طرف کہانی و شاعری کے موضوعات بدل گئے۔ کچھ لاشعوری طور پہ ایسا ہوا تو شعوری طور پہ وہی تحریر پڑھی جا رہی تھی جو حالات ہو گئے تھے۔ دونوں طرف تاریخ کی بڑی ہجرت

Read more

خواب، محبت اور زندگی 40

باب ششم: بائیں بازو کی تحریک کا تنقیدی جائزہ شاید کچھ قارئین کے لئے یہ قسط بوریت کا باعث بنے لیکن اپنی آپ بیتی کو آگے بڑھانے سے پہلے میں یہاں اپنے تجربات کی روشنی میں آج کل کے نوجوانوں کے لئے بائیں بازو کی تحریک کا تنقیدی جائزہ لینا چاہوں گی۔ ویسے بھی میری ذاتی زندگی بائیں بازو کی تحریک سے عملی طور پر جڑی رہی ہے اور میں دونوں کو الگ کر کے نہیں دیکھ سکتی۔ سبق 1

Read more

معاشرے میں مرد کا استحصال اور جنسی گھٹن

عمومی طور پر اس معاشرے کو ”مرد کا معاشرہ“ کہا جاتا ہے اور یہی تاثر دیا جاتا ہے کہ عورت ایک انتہائی مظلوم مخلوق ہے جو مرد کی زیادتیوں اور اس کے ظلم و ستم کا شکار ہے۔ اس پدر سری سماج نے عورت کے حقوق غصب کر لیے ہیں اور اسے محض خدمت کرنے اور بچے پیدا کرنے کی مشین بنا دیا گیا ہے۔ عورت پر ظلم و ستم کی داستانیں کچھ اس انداز میں پیش کی جاتی ہیں

Read more

ڈھوکاں ساہیاں (منڈی بہا الدین) کی مٹی سے ابھرتی تاریخ

تاریخ وہ آئینہ ہے جس میں ہم اپنے ماضی کی جھلک دیکھتے ہیں۔ بعض اوقات یہ آئینہ مٹی کے نیچے چھپا ہوتا ہے۔ جب کبھی کسی تجسس سے بھرے دل کی جستجو اسے کھوجنے کی کوشش کرتی ہے تو کئی راز کھلتے ہیں اور ایک راز اس وقت کھلا جب منڈی بہاءالدین کے نواحی علاقے ڈھوکاں ساہیاں کی پراثر مٹی نے ایک غیرمعمولی تاریخی اثاثہ زمانے کی نظروں کے سامنے پیش کیا۔ کشان سلطنت کے عظیم بادشاہ کنشکا اوّل کا

Read more

فیض کی ’نقش فریادی‘ کے پشتو نقوش

ڈاکٹر محمد اقبال کے مطابق ’خون جگر کے بغیر تمام نقش ناتمام ہیں مگر بعض نقوش رنگِ ثبات رکھنے کے باعث مداومت کے خوگر ہو جاتے ہیں۔ اردو شعری روایت میں فیض احمد فیض کا اسلوب اور موضوعاتی امتیاز و تخصص اتنا مسحورکن اور متنوع ہے کہ مرورِ ایام کے ساتھ ساتھ مزید نکھر کر سامنے آتا ہے۔ آپ کا حلقہ اثر جغرافیائی سرحدوں سے ماورا ہے۔ آپ کے خاص لفظیاتی نظام اور اسلوب نے ایک عہد کو متاثر کیا

Read more

خواب، محبت اور زندگی (39)

A Practical Marriage Pledge یونیورسٹی کی تعطیلات میں ممتاز اور میں ٹرین کے ذریعے سکھر اور شکارپور اپنے گھروں کو جایا کرتے تھے۔ الیکشن میں کامیابی کے بعد جب ہم چھٹیوں میں گھر جا رہے تھے تو ہمارا ایک کلاس فیلو بھی اسی کمپارٹمنٹ میں سفر کر رہا تھا۔ وہ سکھر اپنے دادا سے ملنے جا رہا تھا۔ سارا راستہ وہ ہمارے ایک لیفٹسٹ کامریڈ دوست کی سفارش کرتا رہا جو بقول اس کے سر تا پا میری محبت میں

Read more

بچوں کا ادب اور جان کے دشمن

ایک زمانہ تھا جب ہمارے گھر میں بچوں کا اخبار ’پھول اور کلیاں‘ ، ماہنامہ پھول، تعلیم و تربیت اور بچوں کی دنیا جیسے ادبی رسائل باقاعدگی سے آیا کرتے تھے۔ جس دن اس اخبار یا رسالے نے آنا ہوتا، ہماری نظر اور ہمارے قدم صبح سے ہی گھر کے مرکزی دروازے کا طواف شروع کر دیتے۔ آج ہمہ وقت موبائل فون کی دنیا میں گم رہنے والے اس ڈیجٹل عہد کے بچے اس خوشی کی سرشاری کو کبھی محسوس

Read more

منٹو کو پڑھنا ضروری، کیوں؟

میں سوال نہیں پوچھ رہی بلکہ میں طنز کر رہی ہوں۔ جی ہاں ایک ایسا معاشرہ جہاں آئے دن غیرت کے نام پر عورتیں بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کی جاتی ہیں۔ ان سے محبت کا مطلب ان کی جان کا مالک بننا ہے، جب چاہا ختم کر دی، وہاں منٹو کو پڑھ کر فضول میں اپنا وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔ یہ سوال اٹھانے کا خیال مجھے اس لیے آیا کہ آج کل سوشل میڈیائی کھاتوں پر ایک

Read more