ساحر لدھیانوی کا باورچی

پرکالا پروڈکشن کے دو حصے دار تھے ’داؤد مکرانی اور سندر بس جانی۔ دونوں بے حد چلتے پرزے تھے اور ہرجیت کمار اور آرادھنا کو لے کر ایک فلم بنا رہے تھے۔ یہ جوڑی ان دنوں فلم انڈسٹری میں اعلیٰ درجے کی جوڑی سمجھی جاتی تھی۔ پرکالا پروڈکشن کا دفتر بے حد شاندار تھا لیکن داؤد اور سندر کا ذاتی کمرہ جو دفتر کے بالکل آخر میں تھا سب سے شاندار تھا اور اسے بہت کم لوگوں نے دیکھا تھا۔

Read more

آدھے گھنٹے کا خدا – اردو کا شاہکار افسانہ

وہ آدمی اس کا پیچھا کر رہے تھے۔ اتنی بلندی سے وہ دونوں نیچے سپاٹ کھیتوں میں چلتے ہوئے دو چھوٹے سے کھلونوں کی طرح نظر آ رہے تھے۔ دونوں کے کندھوں پر تیلیوں کی طرح باریک رائفلیں رکھی نظر آ رہی تھیں۔ یقیناً ان کا ارادہ اسے جان سے مار دینے کا تھا۔ مگر وہ لوگ ابھی اس سے بہت دور تھے۔ نگاہ کی سیدھ سے اس نے نیچے کی طرف دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں اندازہ کیا۔

Read more

کرشن چندر کا لازوال افسانہ: ان داتا

وہ آدمی جس کے ضمیر میں کانٹا ہے (ایک غیر ملکی قونصل کے مکتوب جو اس نے اپنے افسر اعلیٰ کو کلکتہ سے روانہ کیے ) 8 اگست 1943 ء کلایو اسٹریٹ، مون شائین لا۔ جناب والا، کلکتہ، ہندوستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ ہوڑہ پل ہندوستان کا سب سے عجیب و غریب پل ہے۔ بنگالی قوم ہندوستان کی سب سے ذہین قوم ہے۔ کلکتہ یونیورسٹی ہندوستان کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے۔ کلکتہ کا ”سونا گاچی“ ہندوستان میں

Read more

کنواری – کرشن چندر کا افسانہ

اب میگی اور پام اور ماسٹر جی (ماسٹر متین احمد) کا تگڈم بن گیا تھا۔ تینوں برآمدے کے دوسرے کونے میں الگ سے جا کر بیٹھتے تھے تاش کھیلتے تھے اور ہر وقت تین شریر بچّوں کی طرح مسرور اور مگن نظر آتے تھے۔ آپس میں ان کی کیا باتیں ہوتی تھیں یہ تو ہم نہیں جان سکے۔ البتہ اتنا ضرور احساس ہونے لگا کہ ان تینوں میں گاڑھی چھَن رہی ہے۔ ماسٹر جی جو پہلے صرف میگی پر اپنی پوری توجّہ صرف کرتے تھے اب میگی کے اصرار کرنے پر پام پر بھی کسی قدر اپنی توجّہ دینے لگے۔ آہستہ آہستہ یوں ہو گیا کہ تعلقات برابر کے ہو گئے۔ ماسٹر جی اپنی آدھی توجّہ میگی اور آدھی توجّہ پام کو دیتے تھے اور کسی طرف ڈنڈی نہ مارتے تھے۔ بہت دنوں تک یہ سلسلہ چلا پھر ہولے ہولے غیر شعوری طور پر پام کی طرف پلڑا جھکتا چلا گیا۔ کیونکہ پام ساٹھ برس کی تھیں اور میگی اسی برس کی۔ پام کے چہرے پر جُھرّیاں بہت کم تھیں اور پام کسی قدر زندہ دل تھی، اور کیسے عمدہ لطیفے سناتی تھی۔ میگی کی روح بلاشبہ پام سے بہتر معلوم ہوتی ہے مگر جسم کو جدھر سے دیکھو ہڈیاں سی نکلی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ اور پام تو بالکل گرم پانی کی بھری ہوئی ربڑ کی بوتل کی طرح آرام دہ معلوم ہوتی ہے اور شریر پام پلڑا اپنی طرف جھکتے دیکھ کر غریب ماسٹر کو اور بھی اکسانے لگی۔ اور اپنی سہیلی کی ساری خاطر و مدارت بھول کر اسے جلانے پر تل گئی۔

Read more

پانی کا درخت: کرشن چندر

جہاں ہمارا گاؤں ہے اس کے دونوں طرف پہاڑوں کے روکھے سوکھے سنگلاخی سلسلے ہیں۔ مشرقی پہاڑوں کا سلسلہ بالکل بے ریش و برودت ہے۔ اس کے اندر نمک کی کانیں ہیں۔ مغربی پہاڑی سلسلے کے چہرے پر جنڈ، بہیکڑ، املتا، ساور، کیکر کے درخت اگے ہوئے ہیں۔ اس کی چٹانیں سیاہ ہیں لیکن ان سیاہ چٹانوں کے اندر میٹھے پانی کے دو بڑے قیمتی چشمے ہیں، اور ان دو پہاڑی سلسلوں کے بیچ میں ایک چھوٹی سی تلہٹی پر

Read more

 نئے بھارت میں کرشن چندر کا ممنوعہ افسانہ: جامن کا پیڑ

رات کو بڑے زور کا جھکّڑ چلا۔ سیکریٹریٹ کے لان میں جامن کا ایک درخت گر پڑا۔ صبح جب مالی نے دیکھا تو اسے معلوم ہوا کہ درخت کے نیچے ایک آدمی دبا پڑا ہے۔

مالی دوڑا دوڑا چپڑاسی کے پاس گیا۔ چپراسی دوڑا دوڑا کلرک کے پاس گیا۔ کلرک دوڑا دوڑا سپرنٹنڈنٹ کے پاس گیا۔ سپرنٹنڈنٹ دوڑا دوڑا باہر لان میں آیا۔ منٹوں میں درخت کے نیچے دبے ہوئے آدمی کے گرد مجمع اکٹھا ہوگیا۔

’’بے چارا! جامن کا پیڑ، کتنا پھل دار تھا۔ ‘‘ ایک کلرک بولا۔

’’اور اس کی جامنیں کتنی رسیلی ہوتی تھیں۔ ‘‘ دوسرے کلرک نے یاد کرتے ہوئے کہا۔

’’میں پھلوں کے موسم میں جھولی بھر کے لے جاتا تھا۔ میرے بچے اس کی جامنیں کتنی خوشی سے کھاتے تھے۔ ‘‘ تیسرا کلرک تقریباً آبدیدہ ہو کر بولا۔

’’مگر یہ آدمی؟‘‘

سب کے سب آبدیدہ ہوگئے۔

Read more

پنڈت نہرو اور قائد اعظم جناح کے نام ایک طوائف کا خط

مجھے امید ہے کہ اس سے پہلے آپ کو کسی طوائف کا خط نہ ملا ہو گا۔ یہ بھی امید کرتی ہوں کہ آج تک آپ نے میری اور اس قماش کی دوسری عورتوں کی صورت بھی نہ دیکھی ہو گی۔ یہ بھی جانتی ہوں کہ آپ کو میرا یہ خط لکھنا کس قدر معیوب ہے اور وہ بھی ایسا کھلا خط مگر کیا کروں حالات کچھ ایسے ہیں اور ان دونوں لڑکیوں کا تقاضا اتنا شدید ہے کہ میں

Read more